مکتوب ایشیا (اگست و ستمبر ۲۰۲۶ء)
براعظم ایشیا کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
جنوب مشرقی ایشیا میں سیلاب
ستمبر کے آخری ہفتے میں جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک شدید بارشوں، سیلاب، دریاؤں میں طغیانی اور لینڈسلائیڈنگ سے متاثر ہوئے۔ ASEAN کے اے ایچ اے سینٹر کے مطابق خطے میں جو قدرتی آفات رپورٹ ہوئیں، ان میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، طوفان اور شدید ہواؤں کے واقعات شامل ہیں۔ متاثرہ ممالک میں کمبوڈیا، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام نمایاں ہیں۔ اس عرصے میں تھائی لینڈ سب سے زیادہ نمایاں سیلابی بحران کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔شدید بارشوں کے باعث بنکاک کے کئی علاقے زیرِ آب آگئے اور شہر کا نکاسیٔ آب کا نظام مفلوج ہو گیا۔ ۲۸؍ستمبر کی رپورٹ کے مطابق سیلاب نے ساڑھے ۸لاکھ سے زیادہ گھروں کو متاثر کیا جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔ بنکاک میں صرف دو تین دن کے دوران تقریباً ۳۲۰ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو ستمبر کے پورے مہینے کی معمول کی بارشوں کے قریب تھی۔ تقریباً ۸۰ ہزار افراد سیلابی علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے جبکہ ۵ہزار ۹۰۰ سے زیادہ افراد۲۳۴؍امدادی مراکز میں منتقل کیے گئے۔ حکومت نے متاثرہ آبادی تک خوراک پہنچانے کے لیے موبائل کچن اور کشتیوں کا استعمال شروع کیا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق سیلاب سے ملک کو کم از کم گیارہ ارب باہٹ (تقریباً ۳۲۷ ملین ڈالر) کا معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے، اگرچہ یہ تخمینہ مزید بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیاہے ۔
کمبوڈیا بھی شدید بارشوں اور اچانک سیلاب سے متاثر ہوا۔ اے ایچ اے سینٹر کے مطابق صوبہ Battambang کے تمام ۱۴؍شہروں/اضلاع اور ۷۱؍کمیونز میں سیلاب آیا۔ تقریباً ۱۹؍ہزار ۲۹۱ مکانات، ۲۱ہزار ۸۰۷خاندان اور حکومتی ڈھانچے کی ۷۸۰ تنصیبات متاثر ہوئیں، جبکہ ۸۵۶؍خاندانوں کے تین ہزار افراد کو محفوظ علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ تقریباً ۳۵ہزار ۶۱۲ ہیکٹر چاول کی فصل بھی متاثر ہوئی، جس سے زرعی معیشت اور غذائی تحفظ پر دباؤ بڑھ گیا۔
انڈونیشیا میں بھی ستمبر کے دوران متعدد صوبوں میں مقامی سطح پر سیلاب رپورٹ ہوئے۔ آچے، شمالی سماٹرا، مغربی سماٹرا، لامپونگ، وسطی سولاویسی اور دیگر علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی بڑھ گیا۔ Solok میں ۲۱؍ستمبر کو آنے والے اچانک سیلاب کے نتیجے میں دو افراد ہلاک، چار زخمی ہوئے جبکہ تقریباً ۴۵۳ افراد بے گھر ہوئے۔ متعدد مکانات اور سرکاری و عوامی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ ملائیشیا میں پاہانگ اور کیلانتان کے علاقوں میں سیلاب کے باعث خاندانوں کو عارضی امدادی مراکز میں منتقل کرنا پڑا۔ فلپائن میں بھی ستمبر کے دوران شدید بارشوں اور طوفانی موسم کے باعث بعض علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار رہا۔ نیووا ایجا اور دیگر علاقوں کے لیے مقامی سطح پر سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کی وارننگز جاری کی گئیں۔ ویتنام میں ستمبر کے تیسرے ہفتے میں مختلف صوبوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، طوفان اور شدید ہواؤں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ لام ڈونگ، وِن لونگ، ڈونگ نائی، کاماؤ، نغے آن اور گیا لائی سمیت متعدد علاقوں میں موسمی آفات کا اندراج کیا گیا۔
شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات
ستمبر میں شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کا سلسلہ جاری رکھا، جس سے کوریا میں سلامتی کی صورتحال پردنیا کی دوبارہ توجہ مرکوز ہوگئی ہے ۔ ۱۲؍ستمبر کو شمالی کوریا نے وونسان کے علاقے سے متعدد مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل مشرقی سمندر کی طرف داغے، جنہوں نے تقریباً ۲۵۰؍کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جنوبی کوریا اور امریکہ نے لانچوں کی نگرانی کی جبکہ جاپان کے ساتھ بھی معلومات کا تبادلہ کیا گیا۔۲۰؍ستمبر کو شمالی کوریا نے تقریباً تین گھنٹے کے اندر دو مزید مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل چلائے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق پہلا میزائل وونسان سے تقریباً ۴۵۰ کلومیٹر تک گیا، جبکہ دوسرا میزائل ۶۰۰ کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک پہنچا۔ جاپان کی وزارتِ دفاع نے بھی دونوں لانچوں کو بیلسٹک میزائل قرار دیا اور بتایا کہ میزائل جاپان کے زون سے باہر سمندر میں گرے۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ایک نئے جنگی ہتھیار کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا، جبکہ جاری کی گئی تصاویر میں Hwasongpho-11Ma-1 کا نام اور پرواز کا ڈیٹا دکھائی دیا۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے ہائپرسونک گلائیڈ ٹیکنالوجی سے متعلق ممکنہ جدید ورژن قرار دیا، تاہم اس کی مکمل تکنیکی صلاحیتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ پیانگ یانگ ان تجربات کو اپنی دفاعی اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے کا حصہ قرار دیتا ہے۔ شمالی کوریا نے خاص طور پر امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ یا کثیرملکی فوجی مشقوں پر اعتراض کیا ہے اور ان مشقوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ستمبر کے میزائل تجربات بھی ایسے ہی فوجی مشقوں کے بعد سامنے آئے۔ جنوبی کوریا نے میزائل تجربات پر قومی سلامتی کے اجلاس منعقد کیے اور شمالی کوریا سے میزائل سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ شمالی کوریا کے مسلسل میزائل تجربات کا براہِ راست اثر جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کی علاقائی دفاعی منصوبہ بندی پر پڑتا ہے۔ تینوں ممالک میزائلوں کی نگرانی، ریڈار اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ دوسری طرف پیانگ یانگ کا مؤقف ہے کہ وہ بیرونی فوجی دباؤ کے مقابلے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کر رہا ہے۔ یوں میزائل تجربات خطے میں فوجی تیاری، دفاعی تعاون اور جوابی عسکری سرگرمیوں کے تسلسل کا باعث بن رہے ہیں۔
فلپائن میں فیری حادثہ ۔۷۷؍افراد ہلاک
فلپائن میں ایک مسافر و مال بردار فیری میں آگ لگنے کا المناک حادثہ پیش آیا، جس میں بڑی تعداد میں مسافر ہلاک یا لاپتا ہوگئے ۔ MV June Aster نامی یہ فیری ۸؍ستمبر کو منیلا سے پالاون کے سیاحتی علاقے کورون کے لیے روانہ ہوئی اور ۹؍ستمبر کو کورون کے قریب سمندر میں اس میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے وقت اس بحری جہاز پر مسافروں کے علاوہ عملہ بھی موجود تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر کارگو ہولڈ سے شروع ہوئی اور تیزی سے پوری کشتی میں پھیل گئی۔
فلپائن کوسٹ گارڈ کی فلپائنی میڈیامعلومات کے مطابق فیری پر ۱۲۸؍افراد موجود تھے۔ ان میں سے ۷۷؍افراد ہلاک، ۴۳؍زندہ بچائے گئے جبکہ ۸ افراد لاپتا تھے۔
حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائی شروع کی گئی۔ فلپائن کوسٹ گارڈ، فوج، مقامی ماہی گیروں اور دیگر امدادی ٹیموں نے سمندر میں تلاش اورریسکیو کا کام کیا۔ زندہ بچ جانے والے بعض افراد نے بتایا کہ آگ تیزی سے پھیلی اور کچھ مسافروں نے جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ حادثے کی حتمی وجہ ستمبر کے آخر تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ سے قبل کارگو ہولڈ کے قریب ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی تھی۔ جہاز میں گاڑیاں اور عمومی کارگو بھی موجود تھا۔ حکام نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ کس وجہ سے لگی اور ہنگامی صورتِ حال میں جہاز کے عملے نے حفاظتی طریقۂ کار پر کس حد تک عمل کیا۔
ایران ،امریکہ اور خلیجی کشیدگی
ستمبر کے آخر تک ایران، امریکہ اور خلیجی خطے کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار رہی۔ موجودہ صورتحال میں اصل تنازعہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہا ، بلکہ آبنائے ہرمز، خلیجی ممالک، یمن، بحیرۂ احمر اور عالمی توانائی کی ترسیل بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بجائے ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں، جبکہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ ۲۴؍ستمبر کو سامنے آنے والی خبر رساں ایجنسیوں کی معلومات کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کرنے والے اہلکاروں نے ایک ایسے مرحلہ وار معاہدے پر بات کی ،جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے جبکہ امریکہ ایران پر عائد بحری و اقتصادی دباؤ میں کمی کر سکتا ہے۔ ۲۸؍ستمبر تک دونوں فریق ثالثوں کے ذریعے ایک نئے جنگ بندی منصوبے پر بھی بات کر رہے تھے۔ ایران کی تجویز میں جنگ بندی، امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی میں نرمی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے بدلے جوہری مذاکرات کی بحالی شامل تھی۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی شرائط پر اختلاف برقرار رہا۔
سعودی عرب اور ایران سے منسلک عراقی مسلح گروہوں کی کارروائیوں نے کشیدگی کو مزید پیچیدہ کیا۔ ۱۴؍ستمبر کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے ساتھ ہونے والی متوقع بات چیت بھی ملتوی ہوگئی۔ یہ بات اہم ہے کہ سعودی عرب اس بحران میں خاص طور پر حساس پوزیشن رکھتا ہے۔ یمن میں حوثی تحریک کی سرگرمیوں اور سعودی علاقوں پر حملوں نے ریاض اور تہران کے درمیان موجود اختلافات کو دوبارہ نمایاں کردیاہے۔ ستمبر میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے دفاعی اقدامات اور امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی رابطے بڑھالیے۔
بھارت اور نیپال میں شدید بارشیں اور سیلاب
ستمبر کے آخر میں بھارت اور نیپال کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں، دریاؤں میں طغیانی کی وجہ سے سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ دونوں ممالک میں سیلاب کی صورتحال ایک دوسرے سے بھی منسلک ہے، کیونکہ نیپال سے آنے والے دریاؤں کے پانی میں اضافے کا اثر بھارت کی شمالی ریاستوں، خصوصاً اتر پردیش اور بہار پر پڑتا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق بھارت میں کم از کم ۵۶؍افراد ہلاک اور نیپال میں ۱۴؍افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں ممالک میں متعدد افراد لاپتا اور زخمی ہیں۔ بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش شدید بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔
اسی طرح نیپال میں شدید بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ ۴۹؍اضلاع میں سیلاب کے خطرات کے بارے میں انتباہ جاری کیا گیا۔ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم ۱۴؍افراد ہلاک اورگیارہ لاپتا ہوئے، جبکہ درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا۔ بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام بھی کئی علاقوں میں متاثر ہوا۔ نیپال میں اس سال اگست کے آخر میں آنے والے بھوٹے کوشی دریا کے تباہ کن سیلاب نے پہلے ہی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ نیپالی حکومت کے مطابق اس آفت کے بعد ستمبر میں بھی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں جاری رہیں۔ ۸؍ستمبر تک حکام نے ۱۳؍ہزار ۵۸۳؍افراد کو ریسکیو کیا تھا، جبکہ ایک ہزار ۳۵۳؍لاشیں برآمد کی جا چکی تھیں اور تقریباً پانچ ہزار ۳۰۰؍افراد لاپتا تھے۔
سیلاب نے دونوں ممالک میں گھروں، سڑکوں، پلوں، بجلی کے منصوبوں، مواصلاتی نظام اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ دیہی علاقوں میں فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات سے مقامی آبادی کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ نیپال میں صورتحال خاص طور پر مشکل رہی کیونکہ حالیہ سیلاب نے پہلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کی بحالی کی کارروائیوں کو مزیدخراب کیا۔ UNICEF نے بھی متاثرہ بچوں اور خاندانوں کے لیے پانی، صفائی، حفظانِ صحت اور دیگر ہنگامی ضروریات کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
چین،بھارت تعلقات میں بہتری کے اشارے
۲۰۲۶ء میں چین اور بھارت کے تعلقات میں بتدریج بہتری کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ یہ بہتری خاص طور پر ۲۰۲۰ء کے سرحدی تنازع کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ سفارتی رابطوں، سرحدی مذاکرات، عوامی روابط اور اقتصادی تعاون میں اضافے کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم سرحدی مسئلہ، تجارتی عدم توازن اور باہمی اعتماد کی کمی اب بھی اہم چیلنجز ہیں۔۱۲؍ستمبر کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے نئی دہلی میں BRICS سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی اہم علامت سمجھی گئی، کیونکہ دونوں راہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ بھارتی حکومت کے مطابق دونوں راہنماؤں نے باہمی احترام اور مفادات کو تعلقات کی بنیاد بنانے پر زور دیا۔چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق شی جن پنگ نے چین اور بھارت کو شراکت دار قرار دینے اور طویل المدتی تناظر میں تعلقات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ چینی مؤقف کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط دوبارہ بحال ہوئے ہیں اور باہمی تجارت بھی نئی بلند سطح تک پہنچی ہے۔ تعلقات میں بہتری کا ایک اہم پہلو ہمالیائی سرحدی تنازع پر مذاکرات کا دوبارہ فعال ہونا ہے۔ ۲۵؍اگست کو بیجنگ میں چین اور بھارت کے خصوصی نمائندوں کے درمیان سرحدی مسئلے پر ۲۵ویں دور کے مذاکرات ہوئے۔ دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے، سرحدی انتظام بہتر بنانے اور مستقبل میں حد بندی کے معاملے پر مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکتوب افریقہ(اگست ۲۰۲۶ء)




