حضرت مسیح موعودؑ کے کارہائے نمایاں(قسط اول)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۲۵ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے کارناموں کے مضمون پر روشنی ڈالی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
جتنے انبیاء بھی آئے وہ بھی سب دنیا کو یہی کہتے رہے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرواور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراؤ۔پس یہی وہ بہت بڑا کام ہے جس کے لیے انبیاء دنیا میں آتے رہے ہیں۔ یا یوں کہو کہ نبیوں کے بڑے بڑے کاموں میں سے یہ ایک بڑا کام ہے جسے وہ دنیا میں آ کر کرتے ہیں
تشهد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
مَیں نے پچھلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے ان کاموں میں سے ایک کام بتایا تھا جسے علماء نہیں کر رہے تھے اوراگرکوئی علماء میں سے کربھی رہے تھے تووہ وہی تھے جو قرب نبوت کی وجہ سے ایک نبی کی شعاؤں کو اپنے قلب میں جذب کر رہے تھے۔ آج میں ایک دوسرا کام بتاتا ہوں کہ وہ بھی سینکڑوں سالوں سے بغیر کیے پڑا تھا۔ علماء اسے دیکھتے تھے لیکن باوجود دیکھنے کے اسے کرتے نہیں تھے۔ اس کے نتائج دیکھ رہے تھے۔ لیکن یا تو وہ اس کی اصلاح کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے یا اگر اصلاح کی طرف توجہ کرتے تھے تو ایسی طرح کہ وہ اَور بھی خراب ہو جاتا تھا۔ اور یہ وہ کام ہے جس کے لیے قرآن کریم بتاتا ہے کہ انبیاء آئے اور
وہ توحید کا مسئلہ ہے۔
شروع سے لے کرآخرتک قرآنِ کریم کو پڑھ جاؤ۔ اس میں کوئی بھی رکوع ایسا نہیں ملے گا جس میں اگر تفصیلاً نہیں تواجمالاً اوراگراجمالاً نہیں تو اشارۃً شرک کا ردّ نہ کیا گیا ہو۔ اور
جتنے انبیاء بھی آئے وہ بھی سب دنیا کو یہی کہتے رہے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔اور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراؤ۔
پس
یہی وہ بہت بڑا کام ہے جس کے لیے انبیاء دنیا میں آتے رہے ہیں۔ یا یوں کہو کہ نبیوں کے بڑے بڑے کاموں میں سے یہ ایک بڑا کام ہے جسے وہ دنیا میں آ کر کرتے ہیں۔
جہاں یہ ایک بڑا کام ہے۔ وہاں یہ ایک نہایت ضروری کام بھی ہے۔ کیونکہ
اگر لوگ خدا تعالیٰ کے متعلق یہ یقین کرنے والے نہ ہوں کہ وہ واحد ہے اور اس کے کاموں میں، اس کی طاقتوں میں اوراس کی صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر دنیا میں ایمان پیدا بھی نہیں ہو سکتا۔
اور دنیا اس طرح امن میں بھی نہیں رہ سکتی۔ جس طرح کہ خداتعالیٰ کو واحد ماننے سے رہ سکتی ہے۔اسے پھر خدا کے ساتھ نہ وہ محبت ہو سکتی ہے جو ہونی چاہیے اور نہ ہی اس قدر خوف اس کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی وجہ سے برائیوں سے بچے اورنیکیوں کے کرنے کی حرص اس میں پیدا ہو۔
پس نبیوں کا بڑا اورپہلا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ خدا کے متعلق دنیا کو یہ یقین کرا دیں کہ وہ جو کچھ ہے اکیلا ہی ہے ۔اس کے ساتھ کوئی اَورساتھی نہیں۔ یا اس جیسا کوئی اَور خدا نہیں۔ کیونکہ
نبیوں کے دنیا میں آنے کی بڑی غرض یہی ہوتی ہے کہ وہ خدا کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلا دیں۔
اوردنیا جو شرک کی راہ پرجا رہی ہے اسے اس سے ہٹا کرتوحید کی سڑک پرچلا دیں۔
دوسرا کام خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق ہوتا ہے۔اور وہ یہ ہوتا ہے کہ
دنیا میں یہ ایمان پیدا کر دیں کہ خدا کے سوا اَورکوئی معبود نہیں۔ اگر عبادت کے لائق کوئی ہے تو وہ وہی ایک ذات ہے جس نے دنیا کو پیدا کیا۔ انسانوں کو بنایا۔ اور پھران کی ضروریات کے سامان مہیا کیے۔
پس حضرت آدم علیہ السلام سے لے کررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر بھی انبیاء گزرے ہیں سب کی تعلیم کے اندرایک یہی مسئلہ ملے گا جو نہایت اہم ہے کہ
خدا پر یقین لاؤاوراسے ایک سمجھو۔
چونکہ خدا کو ایک وہی جانے گا جو اسے مانتا ہے اس لیے انبیاء خدا تعالیٰ کو منواتے بھی ہیں اور کئی طرح کے دلائل پیش کرکے دنیا پراسے ظاہربھی کرتے ہیں۔اور جب دنیا اس بات پر ایمان لے آتی ہے کہ واقعی کوئی خدا ہے جو اس سب کاروبار کا مالک ہے تو پھر وہ اس کی وحدانیت منواتے ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف میں یہی نقطہ مرکزی ہے۔ اوراسی پرسارے انبیاء کام کرتے ہیں۔ اوراسی کے اندرسب کچھ آجاتا ہے۔ کیونکہ
یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جس کے بغیرنہ ایمان پیدا ہوسکتا ہے اورنہ روحانیت پیدا ہو سکتی ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب میں جانے کی کوئی امید ہی نہیں پیدا ہو سکتی۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواس کے متعلق اس قدر جوش تھا کہ آپﷺ کے مخالف بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپﷺ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت خدا ہی خدا پکارتے تھے۔ چنانچہ فرانس کا ایک مؤرخ لکھتا ہے۔ اور خواہ کچھ کہواورکوئی بھی الزام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پرلگاؤ۔ لیکن مجھے توایک بات ایسی اس میں نظرآتی ہے کہ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے کسی شخص میں دیکھی نہیں گئی۔ اوروہ یہ ہےکہ جس وقت سے اس نے نبوت کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت سے لے کر موت کے وقت تک ایک ہی لفظ اس کی زبان پر رہا اور وہ اللّٰہکا لفظ تھا۔ گویا اسے ایک دھن تھی۔ اور جنون تھا کہ خدا کو منوانا ہے اور اسے دنیا میں ظاہر کرنا ہے۔
پس وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کے اس کام کو جنون کہتے ہیں کہ آپﷺ ہر وقت خدا کہتے رہے وہ بھی اس بات کے تو قائل ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اہم بڑا اور پہلا کام خدا کو اورخدا تعالیٰ کی وحدانیت کو منوانا تھا۔
یہ جنون ہی سہی مگریہ وہی چیز ہے کہ اس جنون کے رکھنے والے کو بعد کے لوگوں نے کامل سمجھا اور اگر کامل نہ سمجھا تو کم سے کم اتنا تو یقین کیا کہ ایسا شخص برا نہیں ہوسکتا جو دن رات خدا خدا کرتا رہے۔ اوراس کواس کی وحدانیت کو اوراس کی صفات کو منوانے کی دھن میں ہر وقت لگا رہے۔ بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو دیکھ کریہ معلوم ہوتا ہے کہ
آپﷺ کی اورتمام انبیاء کی دنیا میں آنے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ شرک مٹائیں اورخدا تعالیٰ کو منوائیں۔ اس کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلادیں۔ اسی کام کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام بھی مبعوث ہوئے۔
جس وقت حضرت مسیح موعودؑ معبوث ہوئے۔ آپؑ کے آنے سے پہلے شرک ایسا پھیل گیا تھا کہ توحید گویا کبھی دنیا میں آئی ہی نہ تھی۔ اورآپؑ کے ذریعے خدا نے پھر توحید قائم کی۔ خدا تعالیٰ کی محبت مسلمانوں کے دلوں سے اٹھ گئی تھی۔ نہ صرف وہ ایمان اس پر نہیں رہا تھا۔ جوآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا تھا بلکہ لوگ اسے چھوڑ کراَوروں کی پرستش میں لگے ہوئے تھے۔ اس کی وحدانیت کو بھی بھلا بیٹھے تھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تشریف لائے تو آپؑ نے خدا کے حکم کے ماتحت سعید روحوں کوصراط مستقیم دکھلایا۔ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ڈال دی۔ اورشرک سے ہٹا کراس کی طرف لگا دیا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی توحید کو دنیا میں پھیلا دیا۔
اوراب جب تک مسلمان کہلانے والے آپؑ کے بتائے ہوئے طریق پر نہیں چلیں گے۔اوراپنے خیالات اوراعتقادات کی اصلاح نہ کریں گے تب تک اس شرک سے نکل کر جس میں وہ پھنسے ہوئے ہیں۔ توحید پر قائم نہیں ہو سکیں گے۔
غرض دنیا آپ کے آنے سے پہلے طرح طرح کے شرکوں میں پھنسی ہوئی تھی۔ اور تواورخود مسلمان بھی اس سے نہیں بچے ہوئے تھے۔ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے لگ گئے تھے۔ کوئی نہیں تھا جو انہیں سیدھا راستہ دکھاتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معبوث ہو کرشرک سے بچنے کا طریقہ بتایااورخدا تعالیٰ کی توحید کودنیا میں قائم کیا۔
ممکن ہے کوئی کہہ دے وہابی بھی تھے جو شرک مٹا رہے تھے۔ قبروں کی پرستش سے روکتے تھے۔ قبروں پر دیے جلانے سے منع کرتے تھے۔ مُردوں سے حاجتیں طلب کرنے اور مرادیں مانگنے کے خلاف تھے۔ پھر حضرت مرزا صاحب کی شرک کے خلاف آواز بلند کرنے میں کیا خصوصیت ہوئی؟ لیکن یہ کہنے والے اتنا نہیں سوچتے کہ اگروہابیوں کے اس قسم کے خیال اس بات کی دلیل ہو سکتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تو پھر ایک عیسائی کے لیے یہ گنجائش ہے کہ وہ کہہ دے تاریخوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کئی آدمی تھے جوتوحید کی تعلیم دیتے تھے۔ پس جب ان سے پہلے بھی توحید کی تعلیم دینے والے موجود تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں کیا خصوصیت ہوئی۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے توحید کی تعلیم دینے والوں میں سے حضرت عمرؓ کے چچا تھے جو بتوں کی پرستش سے ہٹا کر لوگوں کو خدا کی پرستش کے لیے کہتے تھے۔ اورانہیں اس پر گھمنڈ بھی تھا کہ میں توحید کی تعلیم پھیلا رہا ہوں۔ اگر خدا نے نبی بنانا ہوتا تو مجھے بناتا۔ اس کا جو جواب عیسائیوں کے لیے ہوگا وہی جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہمارا ہے۔ اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی باوجود توحید کے تعلیم دینے والوں کے ہوتے ہوئے حقیقی طور پرتوحید کے تعلیم دینے والے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی باوجود ان لوگوں کے موجود ہونے کے ( اگر ان کے متعلق یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ توحید کی تعلیم دیتے تھے) حقیقی طور پر تعلیم توحید دینے والے تھے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ مولوی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عیسائیوں کے اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکیں گے۔ اس لیے وہ جواب بھی میں خود ہی دے دیتا ہوں۔
(جاری ہے)




