حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کےقبولیتِ دعا کے واقعات
تقریر بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۶ء
جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کےلیے توجہ فرماتا ہے تو سنّت اﷲ يہ ہے کہ اُس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے ميں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اُس امر کے ہو جانے کےلیے مصروف کرتا ہے۔ تب اُس مردِ فانی کی دُعائيں فيوضِ الٰہی کو آسمان سے کھينچتی ہيں اور خد اتعالیٰ ايسے نئے اسباب پيدا کر ديتا ہے جن سے کام بن جائے۔ يہ دُعا اگرچہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر درحقيقت وہ انسان خدا ميں فانی ہوتا ہے اور دُعا کرنے کے وقت ميں حضرتِ احديّت و جلال ميں ايسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اُس وقت وہ ہاتھ، اُس کا ہاتھ نہيں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ يہی دُعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے۔ اوراس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پَردوں ميں مخفی ہے۔ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)
اِس وقت آپ کے سامنے ’’حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ٰبنصرہ العزیز کے قبولیت دعا کے واقعات ‘‘ کے موضوع پر کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ اس عنوان میں سب سے اہم لفظ ’’خلیفۃ المسیح ‘‘ہے۔ اور اس کے صحیح مفہوم اور مقام و مرتبہ سے آگاہ ہونابہت ضروری ہے۔
اللہ تعالی ٰنے ہم احمدیوں کو جس امامت سے نوازا ہے، یہ کوئی عام پیر و مرشد یا گُرو یاسوامی و مہاتما یا اچاریہ یا پروہت کی طرح کی مذہبی لیڈرشپ نہیں ہے۔ نہ ہی یہ کوئی تنظیمی یا سیاسی عہدہ ہے۔
بلکہ یہ وہ مقدّس، آسمانی و روحانی منصبِ خلافت ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن مجید کی سورت النور کی آیت ۵۶ میں فرمایا ہے۔
اوریہ وہی موعود خلافت ہے جس کے بارہ میں ہمارے سید و مولیٰ، خاتم النبیین، حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْہَاجِ النَّبُوَّۃ‘‘ کے مبارک الفاظ میں آخری زمانے میں امت محمدؐیہ میں قائم ہونے کی بشارت عطا فرمائی تھی۔
قرآن مجید کی سورۃالجمعہ کی ا ٓیات تین و چار میں اللہ تعالیٰ نےآخرین میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس بعثت روحانی کی خبر دی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ کامل اور عاشقِ صادق حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعے سے پوری ہوئی اور ایک دفعہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی بعثت ثانیہ کے ذریعے آپؐ کے فیوض و برکات کا دروازہ کھولا گیا۔
حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام نے اس مضمون پر اپنی کئی تحریرات اور فرمودات میں بہت ہى پُر معرفت اور بصىرت افروز روشنى ڈالى ہے۔ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’آىت اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ مىں ىہ بھى اشارہ ہے کہ جىسا کہ ىہ جماعت مسىح موعود کى صحابہ رضى اﷲ عنہم کى جماعت سے مشابہ ہے، اىسا ہى جو شخص اس جماعت کا امام ہے وہ بھى ظلّى طو رپر آنحضرت صلى اﷲ علىہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘ (اىّام الصلح۔ روحانى خزائن جلد ۱۴صفحہ۳۰۷)
حضور علیہ السلام کےاس ارشاد سے حضرت مسىح موعود علىہ السلام کے بعد جارى ہونے والى خلافتِ حقّہ کى عظمت اور اس کے اعلىٰ و ارفع مقام کا بھى پتہ چلتا ہے کہ ىہ خلفاء ، بروزِ محمد صلى اللہ علىہ و سلم کے خلفاء ہىں اور ان کا تعلق حضرت مسىح موعود علىہ السلام کے توسّط سے آنحضرت صلى اللہ علىہ و سلم کے ساتھ ہے۔
اِس بات پر جہاں ہمىں اللہ تعالىٰ کا بہت شکر گزار ہونا چاہیے وہاں خلافت کے ساتھ اپنے رابطہ اور تعلق مىں اس عظىم مرتبہ و مقام کو ہمىشہ اپنے سامنے رکھنا بھى بہت اہم اور ضرورى ہے۔
اللہ تعالىٰ ہم تمام مبائعىن خلافت کو اس نکتۂ معرفت کو ہمىشہ اپنے سامنے رکھنے اور خلافت حقّہ اسلامىہ احمدىہ کےارفع و اعلیٰ مقام کا حقىقى عرفان عطا فرماتے ہوئے اس کےساتھ اخلاص و وفا اور محبت و اطاعت کا مضبوط تعلق قائم کرنے کى توفىق بخشے۔
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مُضطر بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے۔ ان میں مومن بھی شامل ہیں اور غیر مومن بھی۔اور یہ بھی کہ وہ متقین کی دعاؤں کو خاص طور پر شرف قبولیت بخشتا ہے۔
لیکن خدا تعالىٰ جنہىں منصبِ نبوّت و خلافت پر فائز فرماتا ہےچونکہ وہ اپنے زمانہ مىں، اپنے دَور مىں سب سے زىادہ متقى و راستباز اور خدا تعالىٰ کے سب سے زىادہ مقرب وجود ہوتے ہىں، وہ اپنے عہد مىں اپنے تعلق باللہ مىں سب سے فائق ہونے کى وجہ سے اس مقام پر ہوتے ہىں کہ ان کى دعاؤں کو خاص طور پراور غیر معمولی طور پر اور بکثرت شرف قبولىت عطا کىا جاتا ہے۔
منصبِ نبوّت ىا منصبِ خلافت پر متمکن کیے جانے کی وجہ سے کیونکہ ان کے ذمہ دوسروں کى تربىت و اصلاح اور تزکىہ کا کام ہوتا ہے اس لیے ان کى دعاؤں کى مقبولىت کو اَور بھی زیادہ بڑھاىا جاتا ہے۔ اور دنىا دىکھتى ہے کہ ان کے نور اور حسن مىں اىک غىر معمولى چمک پىدا ہو گئى ہے اور ان کے فىوض و برکات کى کثرت اور دعاؤں کى غىر معمولى اور بکثرت قبولىت سے حىرت انگىز اعجازى نشانات ظاہر ہوتے ہىں۔
خلفاءِ کرام افراد جماعت کے دکھوں اور تکلىفوں پر کس طرح مُضطرب اور بے چین ہو کر ان کےلیے دعائىں کرتے ہىں، ان کىفىات کا علم تو صرف اُنہىں ہی ہے ىا اللہ تعالىٰ کو جو عالم الغیب و الشہادۃ ہے۔
تاہم حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کے ایک ارشاد مبارک سے کسى حد تک ان جذبات کا اور اس ہمدردى و غمخواری اور محبت کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ کىا جا سکتا ہے جو خلىفۂ وقت کے حسّاس دل مىں اپنى جماعت کى ترقی اور بہبود کےلیے موجزن ہوتی ہے۔
حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز نے جرمنی میں ہی اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۶ جون ۲۰۱۴ء مىں فرماىا: ’’خلىفۂ وقت کا تو دنىا مىں پھىلے ہوئے ہر قوم اور ہر نسل کے احمدى سے ذاتى تعلق ہے۔ ان کے ذاتى خطوط آتے ہىں جن مىں ان کے ذاتى معاملات کا ذکر ہوتا ہے۔ ان روزانہ کے خطوط کو ہى اگر دىکھىں تو دنىا والوں کےلیے اىک ىہ ناقابل ىقىن بات ہے۔ ىہ خلافت ہى ہے جو دنىا مىں بسنے والے ہر احمدى کى تکلىف پر توجہ دىتى ہے۔ ان کےلیے خلىفۂ وقت دعا کرتا ہے۔
کون سا دنىاوى لىڈر ہے جو بىماروں کےلیے دعائىں بھى کرتا ہو۔ کون سا لىڈر ہے جو اپنى قوم کى بچىوں کے رشتوں کےلیے بے چىن اور ان کےلیے دعا کرتا ہو۔ کون سا لىڈر ہے جس کو بچوں کى تعلىم کى فکر ہو۔… جماعت احمدىہ کے افراد ہى وہ خوش قسمت ہىں جن کى فکر خلىفۂ وقت کو رہتى ہے کہ وہ تعلىم حاصل کرىں۔ ان کى صحت کى فکر خلىفۂ وقت کو رہتى ہے۔ رشتے کے مسائل ہىں۔
غرض کہ کوئى مسئلہ بھى دنىا مىں پھىلے ہوئے احمدىوں کا چاہے وہ ذاتى ہو ىا جماعتى اىسا نہىں جس پر خلىفۂ وقت کى نظر نہ ہو اور اس کے حل کےلیے وہ عملى کوشش کے علاوہ اللہ تعالىٰ کے حضور جھکتا نہ ہو۔ اس سے دعائىں نہ مانگتا ہو۔ مَىں بھى اور مىرے سے پہلے خلفاء بھى ىہى کچھ کرتے رہے۔
مَىں نے اىک خاکہ کھىنچا ہے بے شمار کاموں کا جو خلىفۂ وقت کے سپرد خدا تعالىٰ نے کئے ہىں اور انہىں اس نے کرنا ہے۔ دنىا کا کوئى ملک نہىں جہاں رات سونے سے پہلے چشمِ تصوّر مىں مَىں نہ پہنچتا ہوں اور ان کےلیے سوتے وقت بھى اور جاگتے وقت بھى دعا نہ ہو۔ ىہ مَىں باتىں اس لیے نہىں بتا رہا کہ کوئى احسان ہے۔ ىہ مىرا فرض ہے۔ اللہ تعالىٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر مَىں فرض ادا کرنے والا بنوں‘‘۔ (خطبہ ٔ جمعہ فرمودہ ۶؍جون۲۰۱۴ء بمقام جرمنى)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ کے زیرِ سیادت دنیا بھر میں دعوت الی اللہ، تمکنتِ دین، اشاعتِ اسلام، جماعت احمدیہ مسلمہ کی ترقی و استحکام، خدمت خلق اور بنی نو ع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے جو متعدد تحریکات اور عظیم الشان مہمّات نہایت کامیابی اور کامرانی سے جاری ہیں، اُن سب کے پیچھے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تدابیر حسنہ اور پُرشفقت راہنمائی کے ساتھ ساتھ آپ کی شب و روز کی درد مندانہ دعائیں بھی کار فرما ہیں۔
اللہ تعالیٰ جس طرح حضور انور کی دعاؤں سے معاندین اور منافقین کے مکر و فریب، ان کےجماعت کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ اور ان کی ریشہ دوانیوں، فتنہ انگیزیوں اور مکروہ اور مفسدانہ منصوبوں سے جماعت کو محفوظ رکھتے ہوئے، اُن کے شر واپس اُنہی پر لَوٹاتا اور ان کی تمام معاندانہ کارروائیوں کے علی الرغم، جماعت احمدیہ مُسلمہ کو مسلسل ترقیات اور عظیم الشان روحانی فتوحات سے نوازتا ہے، اس کی بے شمار مثالیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔
عام طور پر افراد جماعت کو بہت سے انتظامی معاملات میں درپیش مشکلات اور پھر ان کے دُور ہونے کے بارہ میں تفصیلات کا علم نہیں ہوتا۔ لیکن کبھی کبھی احبابِ جماعت کے اِزدیادِ ایمان کے لیے بطور نمونہ کے ایسے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اگرچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ تو ساری جماعت کے لیے، جماعت کے تمام پروگراموں کی کامیابی کے لیے دعائیں کرتے ہی ہیں۔ تاہم عہدیدارانِ جماعت اور افرادِ جماعت کا بھی عام طور پر یہ طریق ہے کہ جماعتیں یا ذیلی تنظیمیں جب کوئی پروگرام بنائیں خواہ وہ تبلیغی پروگرام ہوں یا تربیتی، یا کوئی بھی اہم معاملہ درپیش ہو، یا کسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہو، یا مخالفین کی طرف سے کسی شرارت کا خطرہ ہو تو جہاں وہ خود دعاؤں اور صدقات سے کام لیتے ہیں، وہاں وہ حالات کا ذکر کر کے اپنے پیارے امام ا یّدہ اللہ سے خصوصیت سے دعاؤں کے طالب ہوتے ہیں کیونکہ وہ بارہا اس بات کا مشاہدہ اور تجربہ رکھتے ہیں کہ کس طرح حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی مستجاب دعاؤں سے اعجازی طور پر ان کی تمام مشکلات دور ہوتیں اور ان کے پروگرام نہایت کامیابی سے انجام پاتے اور ان کے شیریں ثمرات عطا ہوتے ہیں۔
اس تقریر کےلیے میں نےبطور نمو نہ حضور انور ایّدہ اللہ کی زبان مبارک سے بیان فرمودہ واقعات میں سے ہی چند ایک کا انتخاب کیا ہے جو کم و بیش حضور ایّدہ اللہ ہی کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے جلسہ سالانہ یو کے ۲۰۰۹ء کے موقع پر اپنے خطاب میں بتایا کہ لائبیریا میں منروویا کے ایک اہم علاقے میں جماعت نے سکول کے لیے جگہ خریدی جس کی قیمت ۵۰ ہزار امریکن ڈالر تھی۔ وکیل کے توسّط سے ساری کارروائی ہوئی اور جگہ جماعت کے نام رجسٹر ہوئی۔لیکن چند روز کے بعد کورٹ سے سمن موصول ہوا جس کی بنیاد اس پر تھی کہ جس شخص نے یہ جگہ ہمیں بیچی ہے وہ اس بات کا مجاز نہیں ہے اور اس کی فیملی کے دوسرے افراد نے اس کے خلاف مقدمہ کیا ہے۔ بڑی پریشانی ہوئی کہ جماعت کی اتنی بڑی رقم لگی ہے اور ہمارا سکول ایک لمبے عرصے کے بعد اپنی ذاتی جگہ پر منتقل ہوا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ جس جج کے پاس مقدمہ تھا اس کو مخالف پارٹی نے بڑی رقم دے کر خرید لیا ہے۔
حضور ایّدہ اللہ فرماتے ہیں کہ امیر صاحب نے یہاں مجھے بھی ساری صورتحال لکھی۔ اب دیکھیں پھر خدا تعالیٰ نے خلیفۃ المسیح کی دعا سے کس طرح رُخ پلٹا ہے۔ حضور انور نے بتایا کہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ جج بدل گیااور نیاجج جو آیا وہ ایک دن بیمار ہو کر ہمارے کلینک میں آیا۔ اس نے ڈاکٹر صاحب سے ذکر کیا کہ میری Table پر آپ کے مشن کی ایک فائل ہے جو میں نے پڑھی ہے۔ خواہ مخواہ آپ کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ آپ وکیل سے کہیں کہ کیس فالو اَپ کرے۔مَیں عارضی طور پر اس کورٹ میں ہوں۔ اور امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک روز مخالف پارٹی کے کچھ افراد ان کے پاس مشن ہاؤس میں آئے جو ایک مصیبت میں گرفتار تھے اور امیر صاحب سے مدد کی درخواست کی اور کہا کہ ہم مشن کے خلاف مقدمہ واپس لے لیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے خود عدالت میں بیان دیا کہ وہ یہ مقدمہ واپس لے رہے ہیں اور آئندہ کبھی اس پراپرٹی کے بارے میں جماعت سے کوئی تنازعہ نہیں کریں گے۔
خلیفۃ المسیح کی دعائیں کس طرح غیر معمولی اور اعجازی طور پر جماعت کی مشکلات کو دور کرنے کا موجب ہوتی ہیں، یہ اس کی ایک مثال ہے۔ ایسے بہت سارے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
حضورایّدہ اللہ نے جلسہ سالانہ یُو کے ۲۰۱۸ء کے موقع پر اپنے خطاب میں بتایا کہ ارجنٹائن میں پہلی دفعہ باقاعدہ مشن ہاؤس کا قیام عمل میں آیا اور باقاعدہ مبلغ کا تقرر ہوا تو وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ پہلے ایک جگہ مشن ہاؤس کے لیے بات چلی تھی لیکن مکمل نہ ہو سکی۔ Land Lady نے وہ جگہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ہم نے مشن ہاؤس کے لیے بہت سی جگہیں دیکھیں لیکن مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔ وہاں چونکہ پہلی مرتبہ مشن کا آغاز ہو رہا تھا اس لیے لوگ انکار کر دیتے تھے۔ اس کی وجہ سے پریشانی بھی تھی اور دعائیں بھی ہو رہی تھیں۔ وہاں کے مبلغ حضور انور کی خدمت اقدس میں وہ ساری صورتحال بیان کر کے دعا کے لیے لکھتے رہتے تھے۔
اور پھر ان دعاؤں کا اعجاز یہ ظاہر ہوا کہ کچھ ہی عرصے کے بعد اُسی خاتون مالکہ نے جس نے پہلے انکار کر دیا تھا خود رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ شدید بیمار ہو گئی ہے اس لیے وہ جلد از جلد اس جگہ کو کرائے پر دینا چاہتی ہے۔ کہنے لگی کہ میں نے آپ سے رابطہ اس لیے کیا ہے کہ میرا دل کہتا ہے کہ آپ نیک اور شریف لوگ ہیں۔ چنانچہ جتنی قیمت پہلے طے ہوئی تھی اس سے بہت سستی قیمت پر جگہ دینے کے لیے وہ تیار ہو گئی۔ اس کے بعد جو بہت ساری دیگر قانونی روکیں تھیں وہ بھی اللہ کے فضل سے دُور ہوتی چلی گئیں اور اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت ہوئی اور وہاں باقاعدہ مشن ہاؤس چاہے کرائے پر ہی ہے لیکن باقاعدہ جماعت کے نام ہو گیا ہے۔
اسی طرح حضور ایدہ اللہ نے جلسہ سالانہ یو کے ۲۰۱۱ء کےموقع پر اپنے خطاب میں بتایا کہ واشنگٹن شہر میں دو مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ (تبلیغی)فلائر تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا تو اس سے ہفتہ قبل ہی ایک دفعہ شدید برف باری کی اور دوسری دفعہ بارش اور آندھی کی، شدید طوفان کی پیشگوئی تھی۔ چنانچہ وہاں کے جو منتظمین تھے انہوں نے حضور ایّد ہ اللہ کی خدمت اقدس میں دعا کی درخواست کی اور فیکسز کیں اور دعاؤں کے ساتھ کام شروع کیا۔
حضور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے اللہ تعالی ٰنے فضل فرمایا۔ وہ طوفان بھی ٹل گیا اور ان کے وہ تمام پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ ہوئے۔ایسے بہت سے واقعات بھی مختلف مقامات پر ہو تے رہتے ہیں۔
۲۰۰۴ء مىں افرىقہ کے دورہ کے دوران جب حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز نائىجرىا سے بىنن پہنچے اور مشن ہاؤس آمد ہوئى تو عصر کا وقت تھا۔ شدىد موسلا دھار بارش ہورہى تھى۔ نماز کےلیے صحن مىں مارکى لگائى گئى تھى جو چاروں طرف سے کھلى تھى اور بارش کى وجہ سے وہاں نماز پڑھنا محال تھا۔ بلکہ کھڑا ہونا بھى مشکل تھا۔ حضورباہر تشرىف لائے اور نماز کے بارہ مىں درىافت فرماىا۔ امىرصاحب نے عرض کى کہ اس وقت تو شدىد بارش ہے اور نماز کےلیے باہر مارکى لگائى ہوئى ہے لىکن بارش کى وجہ سے مشکل ہورہى ہے۔حضورانور نے آسمان کى طرف نظر اٹھائى اور فرماىا’’ دس منٹ بعد نماز پڑھىں گے‘‘۔ اس کے بعد حضورانور اندر تشرىف لے گئے۔ ابھى دو تىن منٹ ہى گزرے تھے کہ ىکدم بارش تھم گئى۔ آسمان صاف ہوگىا۔ دىکھتے ہى دىکھتے دھوپ نکل آئى اور اسى مارکى کے نىچے نماز کا انتظام ہوگىا۔ مقامى احباب اس نشان پر بہت حىران ہوئے کہ ىہاں بارش شروع ہوجائے تو کئى کئى گھنٹے جارى رہتى ہے۔ حضورنے دس منٹ فرمایا تو ىہ تىن منٹ مىں ہى ختم ہوگئى اور نہ صرف ختم ہوئى بلکہ بادل بھى غائب ہوگئے۔
اسى طرح کىنىڈا کے دورہ کے دوران جب کىلگرى مسجد کا سنگ بنىاد رکھا جانا تھا تو اىک روز قبل امىرصاحب کىنىڈا نے حضورانور کى خدمت مىں عرض کى کہ موسمى پىشگوئى کے مطابق کل ىہاں کا موسم شدىد خراب ہے۔ بڑى شدىد بارش ہے اور طوفانى ہوائىں ہىں۔ اور کل صبح مسجد کے سنگ بنىاد کی تقریب ہے۔ مہمان بھى آرہے ہىں۔ امىرصاحب نے دعا کى درخواست کى۔اس پر حضورانور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز نے کچھ دىر توقّف فرماىا اور پھر فرماىا ’’ جس مسجد کا سنگ بنىاد ہم رکھنے جارہے ہىں وہ بھى خدا کا ہى گھر ہے اور موسم بھى خداکے ہاتھ مىں ہے۔ اس لیے اس کو خدا پر چھوڑ دىں۔ اللہ فضل فرمائے گا۔‘‘
چنانچہ اگلے روز صبح بارش کا کوئى نام و نشان نہىں تھا۔ بڑا خوشگوار موسم تھا۔ سنگ بنىاد کى تقرىب ہوئى۔ قرىباً دو گھنٹے کا پروگرام تھا۔ تقرىب سے فارغ ہوکر حضورانور واپسى کےلیے جب اپنى کار مىں بىٹھے تو کار کا دروازہ بند ہوتے ہى شدىد بارش شروع ہوگئى اور ساتھ تندوتىز ہوائىں چلنے لگىں جو پھر مسلسل تىن چار گھنٹے جار ى رہىں۔ توىہ اىک نشان تھا جو حضورانور کى دعاسے وہاں ظاہر ہوا اور ہرشخص کا دل اس نشان کو دىکھ کر اللہ تعالىٰ کی حمد سے لبریز تھا۔
جلسہ سالانہ یو کے ۲۰۰۹ء کے موقع پر اپنے خطاب میں حضور ایّدہ اللہ نے بینن کے Dasa ریجن میں جماعت کی شدید مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ امیر صاحب بینن نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ یہاںسعید ُواُساکا نامی ایک شخص مخالفین مُلّا ؤں کا سرغنہ تھا۔ اس نے ایک پلان بنایا کہ تمام اماموں کی Dasa میں میٹنگ کرے اور فیصلہ کر کے احمدیت اس علاقے میں جڑ سے اکھاڑ دی جائے۔ چنانچہ یہ گاؤں گاؤں جا کر احمدیوں کو دھمکانے لگا اور غیر احمدیوں کو اس میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار کرنے لگا۔ انہیں بھی یہی دھمکی دیتا کہ اگر کوئی اس اہم میٹنگ میں نہ شامل ہوا تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ تو احمدی احباب اس علاقے کے بہت پریشان تھے کہ ایک اور بڑا فساد اٹھنے والا ہے اور اکثر گاؤں تو ایسے تھے جو ایک دو سال پہلے کے نو مبائعین پر مشتمل تھے۔ امیر صاحب نے ساری صورتحال حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی خدمت میں لکھی اور خاص طور پر دعا کی درخواست کی۔
اب دیکھیں کس طرح خلیفۂ وقت کی دعاؤں سے حالات پلٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کیسے نشان دکھاتا ہے۔ حضور انور نے بتایا کہ اللہ کی تقدیر ظاہر ہوئی اور جس دن میٹنگ تھی اس سے ایک دن قبل یہی سرغنہ سعیدُو اُساکا سڑک پر کھڑا تھا کہ گزرتی ہوئی ایک تیز رفتار گاڑی سے اس کی ٹکّر ہوئی اور ٹانگ ٹوٹ گئی اور تین ماہ کے لیے پلستر لگ گیا۔ یوں اس کی وہ میٹنگ تو ختم ہو گئی۔ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی تمام احمدی، غیر احمدی سارے یہ کہنے لگے کہ یہ احمدیت کی مخالفت کا نتیجہ ہے۔ تو اس طرح سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے حیرت انگیز نشانات دکھاتا ہے۔
حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز نے ۲۰۰۵ء کے جلسہ سالانہ قادىان مىں شامل ہونے کا جب ارشاد فرماىا تو اس خوشخبرى کے ساتھ ہى قادىان سے پورے جلسہ کو MTA پر Live نشر کرنے کى غرض سے کوششىں شروع ہوگئىں۔ اس وقت کے ناظر صاحب اشاعت قادیان بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان سے UPLINKکرنے والى کمپنىوں سے رابطہ کىا گىا۔
پروگرام کرنے کے سلسلہ مىں سب سے اہم مرحلہ Broadcasting منسٹرى سے اجازت حاصل کرنا تھا۔ اس غرض کےلیے ماہ جولائى مىں ہى درخواست دى گئى اور اجازت حاصل کرنے کى مسلسل کوشش کى جاتى رہى۔ انتہائى کوشش کے باوجود وہ دن آ پہنچا جب حضور انور اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز دہلى تشرىف لے آئے۔ اور حضور انور اىّدہ اللہ تعالىٰ کے قادىان روانہ ہونے مىں صرف اىک دن باقى تھا اور ابھى تک اجازت نامہ ہاتھ نہ آىا تھا اور نہ ہى کوئى امىد دکھائى دىتى تھى۔ یہ۱۴؍دسمبر کا دن تھا اور ۱۵؍دسمبر کو حضور انور قادىان تشرىف لے جا رہے تھے۔ ۱۶؍دسمبر کو پہلا خطبہ جمعہ قادىان سے Live نشر ہونا تھا۔
جب حضور انور اىّدہ اللہ تعالىٰ کى خدمت مىں ىہ معاملہ رکھا گىا تو حضور انور اىّدہ اللہ تعالىٰ نے انہیں طلب فرماىا اورفرماىا کہ وہ اس وقت تک قادىان نہ جائیں جب تک پروگرام Live کرنے کى اجازت نہىں ہو جاتى۔ اور فرماىا کہ دعا بھى کرىں اور ساتھ کے ساتھ رپورٹ دىتے جائىں۔حضور انور اىّدہ اللہ نے دعا کے ساتھ انہیں رخصت کىا۔
ناظر صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب دوبارہ ہوم منسٹرى سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے INSAT کی ڈپٹى ڈائرىکٹر سے رابطہ کےلیے کہا۔ اُن سے بات کى تو اُنہوں نے ىہ خوشخبرى سنائى کہ ہوم منسٹرى سے ہمىں فون آ گىا ہے کہ اجازت دے دى جائے تا ہم ابھى اُن کى طرف سے چٹھى نہىں آئى ہے۔ چٹھى کے آنے پر کارروائى ہوگى۔
فوری طور پر حضور انور کى خدمت مىں ىہ خوشى کى خبر پہنچائى گئی۔ شام پانچ بجے کے قرىب INSAT مىں اجازت نامہ دىنے کى چٹھى بھى آ گئى۔ جس پر ۱۴؍ دسمبر۲۰۰۵ء کى تارىخ درج تھى اور بفضلہٖ تعالىٰ مورخہ ۱۵؍ دسمبر ۲۰۰۵ء کو ہمىں اجازت نامہ بھی مل گىا۔ اجازت نامہ ملنے مىں جن دشوارىوں کا سامنا کرنا پڑا، حضور انور نے بھى اس سلسلہ مىں اپنے خطاب مىں ذکر فرماىا تھا۔ الغرض ۱۶ دسمبر کا دن وہ مبارک دن ہے جب قادىان سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ کی مبارک آواز میں ساری دنیا نے ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے ذریعہ براہ راست خطبہ جمعہ سنا۔اور پھر اللہ تعالىٰ کے فضل سے قادىان سے جلسہ سالانہ کے تىنوں دنوں کا پروگرام Live نشر ہوا۔ اسى طرح حضور انور اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کے پانچ خطبات جمعہ اور اىک عىد کا خطبہ Live نشر ہوا۔
دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کے ذریعے سے انجام پانے والے کام اور ان میں خارق عادت برکت اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں غیر معمولی قبولیت نصیب ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ اُس قادر و مقتدر ، سمیع و مجیب خدا نے ہی تو انہیں منصب خلافت پر فائز فرمایا ہے اور وہی ان کا حامی و مددگار ہے۔
خلافت خامسہ کے مبارک عہد میں آپ کی آسمانی اور روحانی سیادت میں جماعت کو جو عالمی ترقیات نصیب ہوئیں اور ہو رہی ہیں ان کا شمار ممکن نہیں۔
۲۰۰۳ء میں جب اللہ تعالی ٰنے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کو منصب خلافت پر متمکّن فرمایا تو اُس وقت تک دنیا کے ۱۷۶ ممالک میں جماعت کا نفوذ ہوا تھا۔ اب یہ تعداد ۲۲۰ ہو چکی ہے۔
۲۰۰۳ء تک ۵۷؍زبانوں میں مکمل قرآن مجید کے تراجم شائع ہوئے تھے، اب یہ تعداد ۷۹؍ہو چکی ہے۔ ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے آٹھ چینلز کام کر رہے ہیں۔ کئی ممالک میں ایم ٹی اے کےنہایت اعلیٰ درجہ کے سٹوڈیوز قائم ہوچکے ہیں۔ افریقہ اور یورپ میں متعدد ریڈیو اسٹیشنز کے ذریعے اشاعتِ اسلام کا کام ہو رہا ہے۔ جرمنی میں ہی عربی، جرمن اور ٹرکش زبانوں میں احمدیہ ریڈیو پر پروگرام نشر ہو رہے ہیں۔
مختلف ممالک میں کئی ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے ہسپتال اور کلینک کام کر رہے ہیں۔ ہیومینٹی فرسٹ اور احمد یہ آرکیٹیکٹس اینڈ انجنیئرز ایسوسی ایشن اور مختلف ممالک کی ذیلی تنظیموں کے ذریعے بہت سے بہبود انسانی کے پراجیکٹ نہایت کامیابی سے جاری ہیں۔ اور جماعت کے تحت یتامیٰ کی خبر گیری اور مستحقین کی امداد اور خدمت انسانیت کے بہت سے کام ہو رہے ہیں۔
تحریک جدید، وقف جدید، نظام وصیت اور صدقات و خیرات اور دیگر بہت سی تحریکات میں عالمگیر جماعت شاندار مالی قربانیاں پیش کرتے ہوئے نئی رِفعتوں کو چُھو رہی ہے۔
مساجد کی تعمیر، نئی جماعتوں کے قیام، مبلغین کی تیاری کے لیے مختلف ممالک میں جامعات احمدیہ کا قیام، مختلف زبانوں میں قرآن مجید، احادیث، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کی کتب اور دیگر اسلامی لٹریچر اور ان کے تراجم اور اشاعت اور تبلیغی اور تربیتی لٹریچر کی تیاری اور تقسیم، جماعتی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے مخالفین اسلام و احمدیت کے اعتراضات کے جوابات اور حقیقی اسلامی تعلیم سے لوگوں کو آگاہی دینے کا کام بہت وسعت اختیار کر چکا ہے۔ اسی طرح ملک ملک میں ذیلی تنظیموں کے اجتماعات اور جماعت کے جلسہ ہائےسالانہ ہر پہلو سے ترقی پذیر ہیں۔
آپ کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ جرمنی، خدمت اسلام اور خدمت انسانیت اور قربانی کے ان تمام میدانوں میں دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کرنے اور مسابقت فی الخیرات میں امتیازی مقام رکھنے والی جماعتوں میں سے ہے۔
مثال کے طور پر ۲۰۰۳ء میں خلافت خامسہ کے آغاز پر جرمنی میں مشن ہاؤسز اور مراکز نماز کی تعداد ۷۴تھی جو اَب ۹۷؍ہو چکی ہے۔اُس وقت جرمنی میں احمدیہ مساجد کی تعداد ۴۸؍تھی جو اَب ۸۸ہو چکی ہے۔ تحریک جدید اور وقف جدید میں شاملین کی تعداد اور پیش کردہ مالی قربانی میں کئی گُنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہونے والے مَرد و زن کی تعداد ۳۱ہزار تھی۔ جبکہ گذشتہ سال ۲۰۲۵ء میں یہ تعداد ۴۶ ہزار سے زائد تھی۔
مختصرًا یہ کہ خلافتِ خامسہ کے مبارک عہد میں باغِ احمد کے ہر شجر کی، ہر شاخ اس طرح پھولی اور پھلی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کے شیریں اَثمار سے لَدی ہوئی ہے۔
چمنستانِ احمدیت پر یہ جو بہار آئی ہوئی ہے اور اس کی سرسبزی اور شادابی اور اس کے حسن و رعنائی میں یہ روز افزوں اضافہ یونہی تو نہیں ہو رہا۔ اس کے پیچھے ہمارے پیارے امام، حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی شبانہ روز کی محنت اور پُرسوز اور متضرعانہ دعائیں ہیں جن کی قبولیت کے نتیجے میں ملک ملک اور قریہ قریہ جماعت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید کے نشانات بارش کی طرح برس رہے ہیں اور جماعت احمدیہ عالمگیر کوحیرت انگیز ترقیات نصیب ہو رہی ہیں۔
رات بھر پگھلا دعا میں اشک اشک اس کا وجود
تب کہیں یہ صبح نکلی ہے چمن پہنے ہوئے
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی مستجاب دعاؤں سے صرف افراد جماعت ہی نہیں بلکہ غیر احمدی اور غیرمسلم بھی فیض یاب ہوتے ہیں اور خلافت احمدیہ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے حیرت انگیز نشانات کے ظہور کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ایسے واقعات بھی بے حد و حساب ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کا احاطہ کیا جا سکے۔
پھر وہ ہزارہا مخلص، وفادار، اطاعت شِعار احمدی مرد اور عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان جو حضور ایّدہ اللہ سے ذاتی طور پر براہ راست یا خطوط اور پیغامات یا دیگر ذرائع سے رابطہ رکھتے اور اپنے روزمرّہ کے معاملات میں حضور ایّدہ اللہ تعالی ٰسے دعاؤں کے طالب ہوتے ہیں، اُن میں سے ہر ایک کے پاس حضور ایدہ اللہ کی دعاؤں کی قبولیت اور ان کے نہایت مبارک اثرات و ثمرات پر مشتمل بہت سے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات ہیں۔ کیونکہ اکثر ایسے واقعات بالکل ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں اس لیے عام طور پر ان کا تذکرہ بھی محدود حلقے تک ہی ہوتا ہے اور بہت کم واقعات ریکارڈ پر آتے ہیں اور جو ریکارڈ پر آتے ہیں یا کہیں شائع ہو جاتے ہیں وہ بھی اتنے زیادہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک واقعہ ایسی دلچسپ اور ایمان افروز تفصیلات لیے ہوئے ہے کہ ان میں سے چند کا انتخاب کرنا اور اس مختصر سے محدود وقت میں ان کا ذکر کرنا بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔کوشش کرتا ہوں کہ اختصار کے ساتھ چند واقعات آپ کی خدمت میں پیش کروں۔
افرىقہ کے ملک Niger مىں ہمارے ایک مربى صاحب سخت بىمار ہو گئے۔ ان کے Brain مىں clot آنے کى وجہ سے بىمارى اس حد تک بڑھ گئى کہ وہ قومہ مىں چلے گئے۔ اسى حالت مىں تىن چار دن گزر گئے۔ ان کى صحت کے بارہ مىں حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىّدہ اللہ کى خدمت مىں روزانہ رپورٹ پىش ہوتى۔ حضورانور ان کى کامل شفاىابى کےلیے دعائىں کر رہے تھے۔ اىک روز حضورانور نے فرماىاکہ ان کواىک ہومىوپىتھى دوائى فورى طور پر دى جائے۔ چنانچہ ہمساىہ ملک بورکىنافاسو سے ہمارے اىک ڈاکٹر ىہ دوائى لے کر وہاں پہنچے اور خود انتہائى نگہداشت کے وارڈ مىں جاکر ىہ دوائى ان کے ہونٹوں پر لگائى۔ ڈاکٹر صاحب بىان کرتے ہىں کہ جونہى دوائى ان کے ہونٹوں پر لگائى تو ان کے جسم نے حرکت کى۔ پھر کچھ دىر بعد آنکھىں کھول دىں اور اگلے روز وہ پورى طرح ہوش مىں آگئے اور اٹھ کر بىٹھ گئے۔
ملک الجزائر سے تعلق رکھنے والى اىک نو احمدى خاتون نے حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ سے ملاقات مىں اپنى والدہ کى کىنسر کى بىمارى کےلیے دعا کى درخواست کى جس پر حضورانور نے فرماىا کہ ’’اللہ تعالىٰ صحت دے گا اور فضل کرے گا۔‘‘ اور ساتھ ہى حضورانور نے ان کى والدہ کےلیے اىک ’اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ‘ والى انگوٹھى بھى دى جو اُن کى والدہ نے پہن لى۔ کچھ عرصہ بعد جب ان کى والدہ چىک اَپ کےلیے گئىں تو ڈاکٹرز نے بتاىاکہ ان کو اب کسى قسم کے ٹىسٹ ىا کىموتھراپى کى ضرورت نہىں کىونکہ ان کى صحت اب کىنسرہونے سے پہلے کى صحت سے بھى زىادہ اچھى اور بہتر ہے۔ حضرت خلىفۃ المسىح ایّدہ اللہ کى دعا کى قبولىت کے اس نشان نے ان کے سارے خاندان کے دلوں کو بدل دىا اور اس نشان کو دىکھ کر۳۶؍افراد پر مشتمل سارا خاندان بىعت کرکے جماعت مىں داخل ہوگىا۔
حضور ایدہ اللہ کی دعا سے بیماریوں سے غیر معمولی طور پر شفایابی کے بہت سے واقعات ہیں جو ملک ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔
خاکسار کى اىک ماموں زاد بہن کو عىن جوانى کى عمر مىں ڈپرىشن کا عارضہ لاحق ہوگىا۔ اس کى بىمارى کى وجہ سے نہ صرف اس کے والدىن اور بھائى بہنىں بلکہ سارا خاندان ہى شدىد تکلىف اورپرىشانى مىں مبتلا تھا۔ڈاکٹرز کاکہنا تھا کہ اگر اس کى شادى ہو جائے تو رفتہ رفتہ ڈپرىشن دُور ہو جائے گا اور اس کى صحت بھى اچھى ہو جائے گى۔ اوّل تو اس کى بىمارى کى وجہ سے کوئى رشتہ ملنا مشکل تھا اورجب اىک دورشتے آئے بھى تونامعلوم اس کے ذہن مىں کىا خوف بىٹھے ہوئے تھے کہ وہ شادى پر رضامند ہى نہ ہوتى تھى۔
فرورى ۲۰۰۴ء مىں مع فىملى رخصت پر پاکستان جانے سے قبل ہم حضرت خلىفۃالمسىح الخامس اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کى خدمت مىں ملاقات کےلیے حاضر ہوئے۔ اس موقع پر اپنى اس عزىزہ کى تکلىف کا بھى ذکر کىا اور بتاىاکہ قرىباً پندرہ سال سے ىہ عارضہ اسے لاحق ہے جس کى وجہ سے سبھى عزىز و اقارب بہت پرىشان ہىں۔ ڈاکٹرز کى رائے ہے کہ اس کى شادى کردى جائے تو اس کا ڈپرىشن ختم ہو سکتا ہے۔ حضور اىّدہ اللہ کى خدمت اقدس مىں سارى صورت حال عرض کرکے دعا کى درخواست کى توحضور انور نے فرماىا کہ’ پھر اس کى شادى کروائىں‘۔خاکسارکى ا ہلىہ نے عرض کى کہ حضور اس حالت مىں اس سے کون شادى کرے گا۔ علاوہ ازىں اوّل تو وہ شادى پرراضى ہى نہىں ہوتى اوراگرکبھى طبىعت بہترہو اور شادى پرآمادہ ہو بھى جائے اور اسے کوئى رشتہ بتاىا جائے تو وہ آخر وقت پر پھرانکار کر دىتى ہے۔خاکسار کى اہلىہ بڑى عاجزى سے اور درد بھرے لہجہ مىں بار بار دعا کےلیے عرض کر رہى تھىں کہ ىکدم حضور انور نے، جو چند لمحے قبل نگاہ نىچى کیے ہوئے تھے، نظر اٹھا کراىک بھرپور نگاہ مجھ پر ڈالى اور اس عاجز کى طرف اپنى شہادت کى انگشتِ مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرماىا: ’’اب آپ جا رہے ہىں توآپ اس کى شادى کروائىں‘‘۔
حضور انورنے جب ىہ ارشاد فرماىاتواس وقت آپ کا چہرہ مبارک نور سے خوب تمتما رہا تھااورآپ کے فرمان مىں اىک خاص شوکت تھى اور رُعب تھا جو غىر معمولى تھا۔ خاکسار نے اس ارشاد پر جواب مىں صرف ’جى بہتر‘ کہا اور دعا کےلیے درخواست کى۔
جب ہم ملاقات کے کمرہ سے باہرآئے تو مىرى اہلىہ کہنے لگىں کہ آپ نے کىسے ہاں کہہ دى۔ وہ تو کسى کى بات مانتى نہىں۔پھر بىمارہے۔ ہم چند دنوں کےلیے جا رہے ہىں۔ کہاں سے رشتہ ڈھونڈىں گے؟ىہ کىسے ہوگا…؟ مَىں نے کہا کہ مَىں نے حضور کے اس ا رشاد مىں غىر معمولی با ت محسوس کى ہے۔ ىہ اىک خاص روحانى تموّج کى حالت مىں نکلے ہوئے الفاظ ہىں۔ حضور نے جس خاص کىفىت مىں ہم پر رحم اور شفقت کى نظر ڈالى ہے اور ىہ ارشاد فرماىاہے مجھے ىقىن ہے کہ خداتعالىٰ ضرور ہم پررحم فرمائے گا اور کوئى معجزہ دکھائے گا۔خىر ہم دعائىں کرتے ہوئے سفر پر نکلے۔
ماموں جان کے ہاں ہمارا قىام صرف تىن ہفتو ں کا تھا۔ اس دوران ہم نے گھر کى صفائى ستھرائى، سفىدى اور دروازوں پر رنگ وروغن وغىر ہ کا کام کىا اور کمروں، برآمدہ وغىرہ مىں نئے پردے لگائے۔ دن گزرتے گئے ىہاں تک کہ ہمارےوہا ں قىام مىں صرف پانچ د ن باقى رہ گئے کہ اىک دوست نے مىرے ماموں جان کو بچى کےلیے اىک رشتہ تجوىز کىا۔ مىرے ماموں جان نے اس دوست کو مىرے متعلق بتاىاکہ اس بارہ مىں وہى فىصلہ کر ے گا۔ مجھے ىاد ہے کہ وہ جمعہ کا روز تھا۔ مَىں لڑکے سے ملا اور خداتعالىٰ کے حکم کے مطابق قول سدىد سے کام لىتے ہوئے لڑکى کى تکلىف کے متعلق تفصىل سے بتاىا۔ اورىہ بھى بتاىاکہ لڑکى کى عمربھى اس سے زىادہ ہے۔ اسے بھى پہلے سے ہى اپنے عزىزوں کے ذرىعہ ىہ تمام باتىں معلوم تھىں تاہم ہمارى طرف سے بھى بِلاکم و کاست تمام حقائق سے اسے آگاہ کىا گىا۔ اس نے اس بات پر خوشى کا اظہار کىا کہ ہمارى طرف سے کوئى بات چھپائى نہىں گئى اور وہ لڑکى کى تکلىف اور بىمارى کے باوجود شرح صدر سے اس رشتہ پر راضى تھا۔ پھرلڑکى کو اس لڑکے کے کوائف سے آگاہ کىا۔ مىرے سامنے تووہ شادى پرراضى ہو گئى لىکن کچھ دىر بعدہى اپنى بہن اوروالدہ اوربھائى کے سامنے اس نے تذبذب کااظہارکىا۔ وہ پرىشان ہو کر مىرے پاس آئے۔ مىرى اہلىہ کہنے لگىں کہ اس لڑکى کے دماغ مىں خدا جانے کىا خوف ہىں۔ کبھى اقرار کرتى ہے، کبھى انکار کردىتى ہے۔ ہم چند دنوں کےلیے ىہاں آئے ہىں آپ اس معاملہ مىں نہ پڑىں۔ آپ واقف زندگى ہىں۔ کل کو اگرکوئى بات ہوئی توخواہ مخواہ آپ پر بھى الزام آئے گا۔
لىکن مىرے سامنے توحضورانور اىّدہ اللہ تعالىٰ کا وہ رُخِ انور تھا اورآپ کے مبارک منہ سے نکلے ہوئے وہ کلمات تھے جن مىں آپ نے براہ راست اس ادنىٰ خادم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماىاتھا کہ’ ’آپ اس کى شادى کروائىں‘‘۔ مىرے ماموں جان نے تو حضور اىدہ اللہ سے ہمارى ملاقات کا احوال معلوم ہونے پر پہلے سے ہى سارا معاملہ مجھ پر چھوڑ دىا تھا۔
قصہ مختصر ىہ کہ میں نے لڑکى کو دوبارہ بلا کرپوچھا۔اس نے مىرے سامنے بشاشت سے شادى پر رضامندى کا اظہار کىا۔ پھر لڑکا لڑکى کو آمنے سامنے بٹھا کر کہاکہ اگرآپ لوگوں کے کو ئى سوال ہىں تو پوچھ لىں، کوئى تحفّظات ہىں تو دُور کر لىں۔ الغرض رشتہ طے ہوگىا۔ لڑکے کى اور اس کے عزىزوں کى خواہش تھى کہ شادى بھى ہمارے وہاں قىام کے دوران ہى ہو جائے۔ چنانچہ اگلے دن ہفتہ کے روز اس بچی نے، جو ڈپریشن کی وجہ سے اپنے کمرہ سے باہر نہیں نکلتی تھی، ہمارے ساتھ خود چل کر بازار سے شادى کےلیے اپنی پسند کے کپڑوں اور زىور وغىرہ ضرورى اشىاء کى خرىدارى کى۔ یہ حیرت انگیز تبدیلی تھی جو اُس میں آئی۔ اتوار ۷مارچ ۲۰۰۴ء کو نکاح اور رخصتى کى تقرىب سادگى اور وقار کے ساتھ ہوئى۔ سوموار کوولىمہ ہوا اور منگل کو ہم وہاں سے واپس آگئے۔
اب اللہ کے فضل سے اس عزىزہ کے ہاں قریبًا بیس سال اور اٹھارہ سال عمر کے دو خوبصورت صحت مند بىٹےہیں جو وقفِ نو کى بابرکت تحرىک مىں شامل ہىں اور وہ اپنے گھر مىں خوش و خرّم ہے۔ اللہ تعالىٰ ان سب کو ہمىشہ اپنى حفظ و امان مىں رکھے اوروہ ہمىشہ خلىفۂ وقت کى محبت بھرى دعاؤں سے فىضىاب ہوتے رہىں۔
جس نے بھى اس رشتہ کا اور شادى کا ا حوال سنا وہ حىران تھاکہ ىہ سب کچھ اچانک چند دنوں مىں کىسے ہوگىا؟ مىرا اىک ہى جواب تھا کہ ىہ سب روحانی تموّج کی اىک خاص کىفىت مىں، خدا کے محبوب بندے، ہمارے پىار ے امام، حضر ت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ کے مبارک منہ سے نکلے ہوئے کلمات تھے جو خداتعالىٰ نے پورے کر دکھائے۔
ملک شام(Syria) کی ایک جماعت کے ہمارے صدر صاحب کہتے ہىں کہ۲۰۰۶ء کے شروع مىں مجھے بہت بڑے مالى خسارہ کا سامنا کرنا پڑا۔نوبت ىہاں تک پہنچى کہ بعض اوقات کھانے پىنے کےلیے بھى گھر مىں کچھ نہ ہوتا تھا۔اس کے باوجود مَىں نے چندوں کى ادائىگى کا خىال رکھا اور اپنے کھانے پىنے کےلیے کچھ مىسر ہو ىا نہ ہو، چندہ کى ادائىگى مىں کبھى تاخىر نہیں کى۔انہى حالات مىں اللہ تعالىٰ نے انہیں وصىت کرنے کى بھى توفىق عطا فرمائى۔
مالى حالات بد سے بد تر ہوتے گئے، حتّى کہ ملک مىں بارشىں نہ ہونے کى وجہ سے فصلوں کى صورتحال بھی بہت دگرگوں تھى۔اىسے حالات میں انہوں نےحضور انور کى خدمت مىں دعا کى درخواست کى جس کا جواب حضور انور کى طرف سے انہیں ۱۶؍جنورى ۲۰۰۷ء کو موصول ہوا جس مىں حضور ایدہ اللہ نے انہیں دعا دیتے ہوئے فرمایا تھاکہ ’’ اللہ تعالىٰ دعاؤں کو سنتے ہوئے بارش نازل فرمائے اورحرث ونسل مىں برکت دے ‘‘۔
وہ کہتے ہیں کہ ابھى اىک ماہ ہى گزرا تھا کہ مىرى بىوى نے بتاىا کہ وہ حمل سے ہىں۔اورجب چىک اَپ کرواىا تو حمل کى تارىخ ۱۶؍جنورى ۲۰۰۷ء نکلى۔ (یعنی جس روز انہیں حضور انور کا خط موصول ہوا تھا)۔ ۲۷؍ستمبر۲۰۰۷کو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے سے نوازا۔ وہ کہتے ہیں کہ مَىں نے کہا کہ حضور انور کى دعا کا اىک حصہ تو پورا ہو گىا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دوسرا حصہ بھى پورا ہو گا اور حرث یعنی فصل مىں برکت سے مالى مشکلات بھى جلد دور ہونے والى ہىں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مجھ پرپانچ لاکھ سىرىن پونڈز کا قرض تھا۔مَىں نے اسى مضمون کا اىک خط ۴؍نومبر ۲۰۰۷ء کو حضور انوراىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کى خدمت اقدس مىں لکھا جس کا جواب مجھے ىکم جنورى ۲۰۰۸ء کو موصول ہوا جس مىں حضو ایدہ اللہ نے دعا دی تھى کہ’’ اللہ تعالىٰ قرض اتارنے مىں آسانىاں پىدا فرمادے‘‘۔
وہ بیان کرتے ہیں کہ ان خراب مالى حالات کے باوجود مَىں نے اپنى زمىن کا اىک حصہ جماعت کو دىنے کا فىصلہ کىا تا کہ جب حالات اجازت دىں توجماعت اس جگہ مسجد تعمىر کرلے۔ جب صدر صاحب جماعت احمدیہ شام کو اس کا علم ہوا توانہوں نے کہا کہ مَىں آپ سے اتنى ہی مزىد زمىن خرىدکر جماعت کو دىنا چاہتا ہوں۔چنانچہ اس کى پہلى قسط جو انہوں نے ادا کى وہ پانچ لاکھ سىرىن پونڈز تھے جس سے حضور ایدہ اللہ کى دعا کا اعجاز ظاہر ہوگىا اور نہاىت آسانى کے ساتھ اللہ تعالىٰ نے قرض اتارنے کے سامان پىدا فرما دىے۔
وہ بیان کرتے ہیں کہ ىہ بچہ جس کا ذکر گزرا ہے بوقت پىدائش Meningitisکى تکلىف سے دوچار تھااور بىس دن تک اسے ہسپتال مىں رہنا پڑا۔مَىں نے کہا ىقىناً ىہ کوئى ابتلا ہے اس لیے فورًا حضور انور کى خدمت مىں دعا کا خط لکھا۔ابھى ىہ بچہ ہسپتال مىں ہى تھا کہ انہیں شام کے اىک شہر ’’اِدلب‘‘ مىں تبلىغ کےلیے جانے کا حکم ہوا۔وہ بِلا تردّد بچے کو ہسپتال مىں ہى چھوڑ کراىک احمدى دوست کے ساتھ اِدلب چلے گئے جہاں ان کی تبلىغ سے بفضلہ تعالىٰ بعض لوگوں نے بىعت بھی کی۔ جب وہ واپس آئے تو اللہ تعالىٰ کے خاص فضل سے بىٹا بالکل صحت ىاب ہو چکا تھا۔
یہ واقعہ کئی پہلوؤں سے بہت اہم اور دلچسپ ہے۔اىک تو ىہ کہ وہ ہر مشکل مرحلہ پر اورہر اہم موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح کى خدمت اقدس مىں دعا کا خط لکھتے ہىں۔اسی طرح ان کی خلافت سے محبت اور فدائیت اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی سیرت بہت نمایاں ہے۔پھر یہ کہ باوجود تنگ اورمشکل حالات کے انہوں نے چندہ دىنا نہىں چھوڑا، بلکہ جْوں جْوں حالات تنگ ہوتے گئے ان کى طرف سےچندے کى مقدار مىں اضافہ ہوتا گىا۔انہیں اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور بھروسہ تھا کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح ایّدہ اللہ کی دعاؤں کے طفیل ضرور آسانیاں پیدا فرمائے گا۔حقىقت ىہ ہے کہ اىسے ہى لوگ ہوتے ہىں جن کے حق مىں خلىفۂ وقت کى دعائىں قبول ہو کر حىرت انگىز ثمرات پرمنتج ہوتى ہىں۔
آج رُوئے زمىن پر صرف اور صرف جماعت احمدىہ ہى وہ خوش نصىب جماعت ہے جو آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى موعود ہداىت ىافتہ آسمانى امامت اور منہاج نبوّت پر اللہ تعالىٰ کى قائم فرمودہ خلافتِ حقّہ سے وابستہ ہونے کى وجہ سے اسلام کے زندہ خدا کى عظىم الشان تجلّىات اور اس کى قدرتوں اور رحمتوں کے نشانات کى مورد اور حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام اور آپؑ کے خلفاء کرام کى مستجاب دعاؤں کے فىض سے فىض ىافتہ اور ان کى شاہدہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات اور فرمودات میں دعا کی حقیقت اور اس کی قبولیت کی فلاسفی پر بہت ہی پُر معرفت اور بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے۔ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کےلیے توجہ فرماتا ہے تو سنّت اﷲ يہ ہے کہ اُس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے ميں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اُس امر کے ہو جانے کےلیے مصروف کرتا ہے۔ تب اُس مردِ فانی کی دُعائيں فيوضِ الٰہی کو آسمان سے کھينچتی ہيں اور خد اتعالیٰ ايسے نئے اسباب پيدا کر ديتا ہے جن سے کام بن جائے۔ يہ دُعا اگرچہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر درحقيقت وہ انسان خدا ميں فانی ہوتا ہے اور دُعا کرنے کے وقت ميں حضرتِ احديّت و جلال ميں ايسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اُس وقت وہ ہاتھ، اُس کا ہاتھ نہيں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ يہی دُعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے۔ اوراس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پَردوں ميں مخفی ہے۔‘‘ (ايام الصلح۔ روحاني خزائن جلد ۱۴صفحہ۲۳۹)
اُن سے خدا کے کام سبھى معجزانہ ہىں
ىہ اِس لیے کہ عاشقِ ىارِ ىگانہ ہىں
اُن کو خدا نے غىروں سے بخشا ہے امتىاز
اُن کےلیے نشاں کو دکھاتا ہے کارساز
اللہ تعالىٰ کے فضل سے اس زمانے مىں آنحضرت صلى اللہ علىہ و سلم کے فىوض روحانى کے طفىل حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام اور آپؑ کے خلفاء کرام وہ اہل اللہ اور مطہّر و مزکّى اور مبارک اور پُر تاثىر وجود ہىں جن کى نظر اور صحبت اور توجہ اور دعا کے نتىجہ مىں لکھو کھا افراد کى زندگىوں مىں پاکىزہ انقلاب رُونما ہوئے۔ ان کے اضطراب اور پرىشانىاں دُور ہو کر دلوں کو تسلّى ملى۔ انہىں جسمانى اور روحانى بىمارىوں سے شفا عطا ہوئى۔ بشرىت کى آلائشوں مىں کمى ہوئى، نفسانى ظلمات اُٹھ گئىں اور وہ نور کى شاہراہوں مىں آگے بڑھنے لگے۔ محبت الٰہى کا اىک خاص شوق موجزن ہوا اور دىن و دنىا کى حسنات، ترقىات اور آسمانى برکات ان پر جلوہ گر ہوئىں اور ہوتى چلى جاتى ہىں۔
خداتعالىٰ کے کامل مقبولىن کى خاص دعاؤں سے حصّہ پانے کےلیے بعض شرائط کا پورا کرنا ضرورى ہے۔ حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام نے اس نہاىت عارفانہ مضمون کو جن جامع الفاظ مىں مختلف مواقع پربىان فرماىا ہے، ان مىں سے ایک دو اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کر کے اپنی گزارشات کو ختم کروں گا۔ آپؑ فرماتے ہىں: ’’…استجابت دعا کےلیے اىک اىسى شرط ہے جو تمام شرطوں سے مشکل تر ہے کىونکہ اس کا پورا کرنا خدا کے مقبول بندوں کے ہاتھ مىں نہىں بلکہ اس شخص کے ہاتھ مىں ہے جو دعا کرانا چاہتا ہے۔ اور وہ ىہ ہے کہ نہاىت صدق اور کامل اعتقاد اور کامل ىقىن اور کامل ارادت اور کامل غلامى کے ساتھ دعا کا خواہاں ہو۔ اور ىہ دل مىں فىصلہ کر لے کہ اگر دعا قبول بھى نہ ہو،تا ہم اس کے اعتقاد اور ارادت مىں فرق نہىں آئے گا۔ اور دعا کرانا آزمائش کے طور پر نہ ہو بلکہ سچے اعتقاد کے طور پر ہو۔ اور نہاىت نىازمندى سے اس کے دروازے پر گرے۔ اور جہاں تک اس کےلیے ممکن ہے مال سے، خدمت سے، ہر اىک طور کى اطاعت سے، اىسا قرب پىدا کرے کہ اس کے دل کے اندر داخل ہو جائے۔ اور بااىں ہمہ نہاىت درجہ پر نىک ظن ہو اور اس کو نہاىت درجہ کا متقى سمجھے اور اس کى مقدّس شان کے برخلاف اىک خىال بھى دل مىں لانا کفر خىال کرے۔ اور اس قسم کى طرح طرح کى جاں نثارى دکھلا کر سچے اعتقادکو اُس پر ثابت اور روشن کر دے اور اس کى مثل دنىا مىں کسى کو بھى نہ سمجھے۔ اور جان سے، مال سے، آبرو سے اس پر فدا ہو جائے۔ اور کوئى کلمہ کسرشان کا کسى پہلو سے اس کى نسبت زبان پر نہ لائے اور نہ دل مىں۔ اور اس بات کو اس کى نظر مىں بپاىۂ ثبوت پہنچا دے کہ درحقىقت وہ اىسا ہى معتقد اور مرىد ہے۔ اور بااىں ہمہ صبر سے انتظار کرے۔ اور اگر پچاس دفعہ بھى اپنے کام مىں نامراد رہے پھر بھى اعتقاد اور ىقىن مىں سست نہ ہو۔ کىونکہ ىہ قوم سخت نازک دل ہوتى ہے اور ان کى فراست چہرہ کو دىکھ کر پہچان سکتى ہے کہ ىہ شخص کس درجہ کا اخلاص رکھتا ہے۔ اور ىہ قوم باوجود نرم دل ہونے کے نہاىت بے نىاز ہوتى ہے۔ ان کے دل خدا نے اىسے بے نىاز پىدا کئے ہىں کہ متکبر اور خود غرض اور منافق طبع انسان کى کچھ پروا نہىں کرتے۔اس قوم سے وہى لوگ فائدہ اٹھاتے ہىں جو اس قدر غلامانہ اطاعت ان کى اختىار کرتے ہىں کہ گوىا مر ہى جاتے ہىں۔ مگر وہ شخص جو قدم قدم پر بدظنى کرتا ہے اور دل مىں کوئى اعتراض رکھتا ہے اور پورى محبت اور ارادت نہىں رکھتا وہ بجائے فائدہ کے ہلاک ہوتا ہے۔ ‘‘ (براہىن احمدىہ پنجم۔ روحانى خزائن جلد۲۱صفحہ۲۲۷۔۲۲۸)
آپؑ فرماتے ہیں: ’’ قبول دعا کےلیے بھى چند شرائط ہوتى ہىں۔ ان مىں سے بعض تو دعاکرنے والے کے متعلق ہوتى ہىں اور بعض دعا کرانے والے کے متعلق۔ دعا کرانے والے کےلیے ضرورى ہوتا ہے کہ وہ اﷲ تعالىٰ کے خوف اور خشىت کو مدّ نظر رکھے اور اس کے غناءِ ذاتى سے ہر وقت ڈرتا رہے اورصلح کارى اور خدا پرستى اپنا شعار بنالے۔ تقوىٰ اور راستبازى سے خدائے تعالىٰ کو خوش کرے تو اىسى صورت مىں دعا کےلیے بابِ استجابت کھولا جاتا ہے۔ اور اگر وہ خدا تعالىٰ کو ناراض کرتا ہے اور اس سے بگاڑ اور جنگ قائم کرتا ہے تو اس کى شرارتىں اور غلط کارىاں دعا کى راہ مىں اىک سدّ اور چٹان ہو جاتى ہىں اور استجابت کا دروازہ اس کےلیے بند ہو جاتا ہے۔
پس ہمارے دوستوں کےلیے لازم ہے کہ وہ ہمارى دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچاوىں اور ان کى راہ مىں کوئى روک نہ ڈال دىں جو اُن کى ناشائستہ حرکات سے پىدا ہو سکتى ہے۔‘‘ (ملفوظات جلداوّل صفحہ۹۲۔ اىڈىشن ۲۰۲۲ء)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم خلافت کے ارفع و اعلیٰ منصب کا کامل عرفان حاصل کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ سے ’’ نہاىت صدق اور کامل اعتقاد اور کامل ىقىن اور کامل ارادت اور کامل غلامى کے ساتھ دعا کے خواہاں‘‘ ہوں۔ ہم ’’ تقوىٰ اور راستبازى سے خدا تعالىٰ کو خوش‘‘ کرنے والے، اعمال صالحہ بجا لانے والے ہوں۔ اور ہم سے کبھی کوئی ایسی ’’ ناشائستہ حرکات‘‘ سرزد نہ ہوں جو خلیفۂ وقت کی ہمارے حق میں دعاؤں کی قبولیت کی راہ میں’’ سدّ اور چٹان‘‘ بن سکتی ہیں۔ آمین یا ربَّ العالمین۔ وآخر دعوانا اَنِ الحمد للّٰہ ربّ العالمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بچپن ۔قسط ششم




