تقریر جلسہ سالانہ

’’قرآن کریم جواہرات کی تھیلی ہے‘‘

(نصیر احمد قمر۔ ایڈیشنل وکیل الاشاعت (طباعت))

تقریر برموقع جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء

قرآنی جواہرات کے یہ خزانے اپنے حسن و رعنائی اور چمک دمک میں بے نظیر اور اپنی وسعت و گہرائی میں بےکراں اور لازوال اور لامتناہی ہیں۔ اور خلیفۂ وقت کے ذریعے ضرورت زمانہ اور اقتضائے حال کے مطابق ان کا ظہور ہوتا چلا جاتا ہے

کہتے ہیں کہ عمر و عیار کے پاس ایک زنبیل ہوا کرتی تھی جس میں وہ دنیا جہان کی ہر قسم کی چھوٹی بڑی چیزیں رکھا کرتا تھا۔ اور جب اسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی اس میں سے نکال لیا کرتا تھا۔

مگر سب ذی شعور، صاحب علم جانتے ہیں کہ یہ صرف فرضی، خیالی اور کہانیوں کی باتیں ہیں۔ یہ محض ایک افسانہ ہے، داستان گوئی ہے، حقیقت سے اس کا کچھ بھی تعلق نہیں ہے۔

لیکن قرآن مجید جو خدا تعالیٰ کا وہ پاک اور مقدّس کلام ہے جو اس نے تمام بنی نوع انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے لوح ِمحفوظ سے جبریل علیہ السلام کے ذریعے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل فرمایا اور قیامت تک اس کی لفظی اور معنوی حفاظت کا بیڑا اٹھایا، اس کے متعلق قطعیت سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ زنبیل ہے جس میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ اور یہ وہ جواہرات کی تھیلی ہے: ’’جس سے کوئی صداقت دینی باہر نہیں۔ ‘‘(براہین احمدیہ جلد اول صفحہ ۲۶۳ایڈیشن ۲۰۲۱)، اور یہ ’’ ایک ایسی تعلیم کامل ہے جو تمام انسانی ضرورتوں کو جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے پیش آتی ہیں، پوری کرتی ہے۔ ‘‘ (نجم الہدیٰ، روحانی خزائن جلد ۱۴صفحہ۳۸، ایڈیشن ۲۰۲۱ء)

ہست قرآں در رہِ دیں رہنما

در ہمہ حاجاتِ دیں حاجت روا

(قرآن کریم دین کے راستے کا راہنما ہے اور مذہب کی سب ضروریات کو پورا کرنے والا ہے )

اس میں ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے تمام بنی نوع انسان کے لیے خواہ وہ مشرق میں رہنے والے ہیں یا مغرب میں۔ وہ شمال کے باسی ہیں یا جنوب کے۔ ان سب کے لیے قرآن مجید میں ایسی تعلیمات اور وصایا اور علمی و عملی ہدایت اور راہنمائی موجود ہے جس کو اپنا کر اور جس پر عمل پیرا ہو کر دین و دنیا کے ہم ّو غم اور مشکلات سے نجات اور ہر دو جہان کی حسنات و ترقیات اور کامیابیوں اور کامرانیوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’’قرآن کریم جواہرات کی تھیلی ہے‘‘ کے عنوان میں سب سے اہم لفظ قرآن کریم ہے۔ اگر ہم یہ جان لیں کہ قرآن حقیقت میں کیا ہے؟ تو اس کے اندر موجود جواہراتِ علم و حکمت کا عرفان اور ان کی اہمیت اور عظمت کی پہچان اور ان سے استفادہ بہت آسان ہو جائے گا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفائے کرام نے اپنے خطبات و خطابات اور تحریرات و فرمودات میں قرآن کریم کی عظمت و شان اور اس کے جواہراتِ علم و عرفان پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور یہ پُرمعارف مضامین ہزارہا صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔

اِس وقت خاکسار ان میں سے صرف چند جملے، چند اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرے گا جن سے آپ اندازہ لگا سکیں گےکہ قرآن کریم جواہرات علم و عرفان کا کس قدر عظیم خزانہ ہے۔

سوواضح ہو کہ قرآن کریم خدائے علیم و حکیم کا وہ کلام ہے کہ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ (النسآء: ۱۶۷)جسے اُس نے اپنے علم کامل پر مشتمل اتارا ہے۔ قرآن مجید کے آغاز میں ہی سورۃ البقرۃ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الٓـمّٓ۔ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۔ (البقرۃ: ۲-۳) ’’یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا مَیں ہوں، جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں۔ ‘‘(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱، صفحہ ۲۰۰، ایڈیشن ۲۰۲۱ء)

یہ ’’ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علّتِ مادی علمِ الٰہی ہے۔ …‘‘

’’ یہ کتاب اُس ذاتِ عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بےمثل و مانند ہے۔ جس کے علومِ کاملہ و اسرارِ دقیقہ نظرِ انسانی کی حدّ جَولان سے بہت بعید اور دُور ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۲۰۰، ایڈیشن ۲۰۲۱ء)

اللہ وہ ذات ہے کہ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (الطلاق:۱۳) اس نے ہر چیز کا علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے اور وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ۔ (البقرۃ : ۲۵۶) اس کا علم آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔ اور یہ وہ کامل کتاب ہے ’’جس نے خدا کے علم سے خَلعَتِ وجود پہنا ہے۔ ‘‘( حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۱۳۶حاشیہ)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: ’’مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام :۳۹) یعنی اس کتاب (قرآن شریف) سے کوئی دینی حقیقت باہر نہیں رہی بلکہ یہ جمیع حقائق و معارف دینیہ پر مشتمل ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ (النحل: ۹۰) یعنی ہم نے یہ کتاب (قرآن شریف) تمام علومِ ضرور یہ پر مشتمل نازل فرمائی ہے۔ اور پھر فرماتا ہے یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً۔ فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ۔( البینہ:۳-۴) یعنی یہ قرآن شریف وہ پاک اوراق ہیں جن میں تمام آسمانی کتابوں کا مغز اور لُبِّ لُباب بھرا ہوا ہے۔ ‘‘(سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۱-۶۲)

پہلے نبیوں کو جو تعلیمات دی گئیں تھیں اُن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہےکہاُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ(آل عمران:۲۴) انہیں بھی اسی کامل کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں موجود قرآن مجید کا ہی ایک حصہ تھا جو دیا گیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح: ’’وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدم سے لے کرمسیح ابن مریم تک نبیوں کو دیئے گئے تھے۔ کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دیئے گئے اور اس طرح پر آپؐ طبعاً خاتم النبیین ٹھیرے ۔…ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں، وہ قرآن شریف پر آ کر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم الكتب ٹھیرا۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۳۱۱ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

شکر خدائے رحماں جس نے دیا ہے قرآں

غنچے تھے سارے پہلے اب گْل کھلا یہی ہے

قرآن مجید میں جگہ جگہ اس پاک کلام کی بہت سی صفاتِ عظیمہ کا نہایت ہی پُرشوکت اور تفصیلی بیان ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف ’’ازالہ اوہام‘‘ میں ان میں سے بعض آیات کا ذکر کرنے کے بعد ان کا جو نہایت ہی پُرمعارف تفسیری ترجمہ بیان فرمایا ہے، وہ اس طرح پر ہے: ’’ یعنی یہ قرآن اُس راہ کی طرف ہدایت کرتا ہے جو نہایت سیدھی ہے اِس میں اُن لوگوں کے لیے جو پرستار ہیں حقیقی پرستش کی تعلیم ہے اور یہ اُن کے لیے جو متّقی ہیں کمالاتِ تقویٰ کے یاد دلانے والا ہے یہ حکمت ہے جو کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور یہ یقینی سچائی ہے اور اس میں ہر یک چیز کا بیان ہے یہ نُوْرٌ عَلٰی نُوْر اور سینوں کو شفا بخشنے والا ہے۔ رحمٰن نے قرآن کو سکھلایا۔ ایسی کتاب نازل کی جو اپنی ذات میں حق ہے اور حق کے وزن کرنے کے لیے ایک ترازو ہے وہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اجمالی ہدایتوں کی اس میں تشریح ہے اور وہ اپنے دلائل کے ساتھ حق اور باطل میں فرق کرتا ہے اور وہ قولِ فصل ہے اور شک و شبہ سے خالی ہے ہم نے اِس کو اِس لیے تجھ پر اتارا ہے کہ تا امورِ متنازعہ فیہ کا اس سے فیصلہ کر دیں اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان طیار کر دیں۔ اِس میں وہ تمام صداقتیں موجود ہیں جو پہلی کتابوں میں متفرق اور پراگندہ طور پر موجود تھیں ایک ذرہ باطل کا اس میں دخل نہیں،نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔ یہ لوگوں کے لیے روشن دلیلیں ہیں اور جو یقین لانے والے ہوں ان کے لیے ہدایت و رحمت ہے… اُن کو کہہ دے کہ خدا ئے تعالیٰ کے فضل و رحمت سے یہ قرآن ایک بیش قیمت مال ہے سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو۔ یہ اُن مالوں سے اچھا ہے جو تم جمع کرتے ہو۔ ‘‘ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ علم اور حکمت کی مانند کوئی مال نہیں۔ ‘‘ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ مومن کا مال درم و دینار نہیں بلکہ جواہر ِحقائق و معارف اُس کا مال ہیں۔ یہی مال انبیاء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اِسی کو تقسیم کرتے ہیں۔ ‘‘ ( ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳، صفحہ ۴۵۴-۴۵۵)

حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہر یک نوع کی دینی سچائیاں اور الٰہیات کے تمام حقائق اور معارف اور اصولِ حقّہ کے جمیع دلائل اور وسائل اور تمام اوّلین آخرین کا مغز ایک قلیل المقدار کتاب میں اس احاطہ تام سے درج کرنا جس کے مقابلہ پر کسی ایسی صداقت کا نشان نہ مل سکے کہ جو اس سے باہر رہ گئی ہو۔ یہ انسان کا کام نہیں اور کسی مخلوق کی حدّ قدرت میں داخل نہیں۔ ‘‘(براہین احمدیہ حصّہ سوم، روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۲۶۸-۲۷۱،ایڈیشن ۲۰۲۱ء )

یا الٰہی! تیرا فرقاں ہے کہ اِک عالَم ہے

جو ضروری تھا وہ سب اِس میں مہیا نکلا

کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ

وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا

اللہ تعالیٰ کا یہ پاک کلام ایسا ہے۔ ’’اور اس کی فصاحت بلاغت وہ بےبہا جوہر ہے جس سے دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔ روحانی بیماریوں سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ حقائق اور دقائق کا جاننا حق کے طالبوں پر آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا کا فصیح کلام معارفِ حقّہ کو کمال ایجاز سے، کمال ترتیب سے، کمال صفائی اور خوش بیانی سے لکھتا ہے اور وہ طریق اختیار کرتا ہے جس سے دلوں پر اعلیٰ درجہ کا اثر پڑے اور تھوڑی عبارت میں وہ علوم الٰہیہ سما جائیں جن پر دنیا کی ابتدا سے کسی کتاب یا دفتر نے احاطہ نہیں کیا۔ ‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۴۶۳-۴۶۵، حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳، ایڈیشن ۲۰۲۱ء )

کیا وصف اس کے کہنا ہر حرف اس کا گہنا

دلبر بہت ہیں دیکھے دل لے گیا یہی ہے

دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں خواہ وہ مادی اور سائنسی علوم ہیں یا روحانی اور مختلف ادیان سے تعلق رکھنے والے علوم ہیں۔ ان سب کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ علّام الغیوب ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے۔ اُسی نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ (الملک: ۱۵)اور جس نے پیدا کیا ہے وہ ان کی حقیقت کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ اور قرآن کریم نے ان تمام علوم کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائفِ علمِ الٰہی ہیں جن کی اِس دنیا میں تکمیل نفس کے لیے ضرورت ہے ایسا ہی جس قدر نفس ِ امّارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دَوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ اُن کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ و تصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قدر اخلاق ِفاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص و لوازم ہیں یہ سب کچھ باستیفائے تام فرقان مجید میں بھرا ہوا ہے اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الٰہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نادر یا پاک طَور مجاہدہ و پرستشِ الٰہی کا نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو۔ دوسرےعلم خواصِ روح و علمِ نفس ہے جو ایسے احاطہ تام سے اس کلامِ معجز نظام میں اِ ندراج پایا ہے کہ جس سے غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بجز قادر مطلق کے یہ کسی کا کام نہیں۔ تیسرے علم مبدء و معاد و دیگر امورِ غیبیہ جو عالم الغیب کے کلام کا ایک لازمی خاصّہ ہے جس سے دلوں کو تسلّی و تشفّی ملتی ہے اور غیب دانی خدائے قادر مطلق کی مشہودی طور پر ثابت و متحقق ہوتی ہے یہ علم اس تفصیل اور کثرت سے قرآن شریف میں پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی دوسری کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ‘‘ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد۲ صفحہ ۷۴-۷۵، حاشیہ، ایڈیشن ۲۰۲۱ء )

اللہ تعالیٰ عالم الغیب و الشہادۃہے اور اس کا علم زمان و مکان کی حدود سے بالا ہے۔ وہ کو ن و مکان اور زمانے کا خالق ہے۔ اُس کے لیے ماضی، حال اور مستقبل یکساں ہیں۔ زمانے کی یہ تقسیم تو ہم انسانوں کی نسبت سے ہے۔ جسے ہم غیب کہتے ہیں وہ ہماری نسبت سے غیب ہے، ورنہ خدا تعالیٰ کی نظروں سے تو کوئی چیز کسی وقت بھی اوجھل اور مخفی نہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قرآن کریم…کائنات کے آغاز، انجام اور پھر ایک اور آغاز کے مکمل دَور کو بیان کرتا ہے۔ قرآن کریم کائنات کی پیدائش سے پہلے کا جو نقشہ پیش کرتا ہے، وہ ہوبہو بِگ بینگ کے نظریہ کے مطابق ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں: اَوَلَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَاؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ۔(الانبیاء:۳۱)ترجمہ:کیا انہوں نے دیکھا نہیں جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین دونوں مضبوطی سے بند تھے۔ پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر الگ کر دیا اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز پیدا کی۔ تو کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟

قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ یہ کائنات ابدی نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ عالَم بھی کھاتوں کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ فرماتا ہے یَوۡمَ نَطۡوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلۡکُتُبِ(الانبیاء: ۱۰۵)جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جیسے دفتر تحریروں کو لپیٹتے ہیں۔

آج کے سائنسدان Black Hole کا جو نقشہ کھینچتے ہیں وہ اس آیت کے بیان کردہ نقشے سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ (الہام، عقل، علم اور سچائی حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرّابعؒ۔ صفحہ ۲۶۲ تا ۲۶۴۔ ایڈیشن ۲۰۰۷ء)

قرآن کریم کا مطالعہ کریں تو کائنات کی پیدائش جیسے قدیم ترین واقعات انسانی تصور میں یوں ابھرتے ہیں گویا وہ حال کا قصّہ ہوں۔ اسی طرح مستقبل بعید میں کائنات کا صفحٔہ ہستی سے کسی نئے Black Hole میں گم ہو جانا بھی قرآن کریم میں اس انداز سے مذکور ہے گویا نزول قرآن کے وقت یہ واقعہ ہو رہا ہو۔ قرآن کریم انسانی [زندگی کے آغاز اور اس کی ] ترقی کی منزل بہ منزل تاریخ [اور پیدائش انسانی کے مختلف مراحل ] کو جس وضاحت سے بیان کرتا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم اُس[ علیم و] بصیر ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی نظر بیک وقت ازل اور ابد کی دونوں انتہاؤں پر ہے۔ (ماخوذ از الہام، عقل، علم اور سچائی حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرّابع ؒ۔ صفحہ ۲۵۰۔ ایڈیشن ۲۰۰۷ء )

قرآن کریم کے مطابق کائنات کے سکڑنے اور پھیلنے کا عمل ایک جاری عمل ہے۔ تخلیق کے آغاز اور اس کے انجام سے متعلق قرآنی نظریہ بلا شبہ غیر معمولی شان کا حامل ہے۔ اگر عصر حاضر کے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان کو یہ باتیں الہاماً بتائی جاتیں تو یہ بھی کچھ کم تعجب کی بات نہ ہوتی۔ لیکن یہ دیکھ کر انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ تخلیق کے ہمیشہ دہرائے جانے سے متعلق یہ اتنے ترقی یافتہ نظریات آج سے چودہ سو سال قبل صحرائے عرب کے اُمّی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بذریعہ وحی منکشف فرمائے گئے تھے۔ (الہام، عقل، علم اور سچائی حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرّابع ؒ۔ صفحہ ۲۶۴ تا۲۶۵۔ ایڈیشن ۲۰۰۷ء)

یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ ’’آسمانی صحائف سائنس کی نصابی کتب نہیں ہوتے۔ لہٰذا ان میں کسی سائنسی مضمون کا بیان اتفاقاً نہیں ہوتا۔ ان کا اصل مقصد ایک مشترک منبع کی طرف رہنمائی کر کے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ مادی اور روحانی کائنات ایک ہی خالق کی تخلیق ہیں۔‘‘(الہام، عقل، علم اور سچائی حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرّابع ؒ۔ صفحہ ۲۴۶۔ ایڈیشن ۲۰۰۷ء)

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن اور سائنس ایک دوسرے سے متضاد اور متصادم ہیں۔ یہ ان کی نادانی یا کم فہمی ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ قرآن کریم خدا کا قول ہے اور یہ مادی کائنات اس کا فعل اور ان دونوں میں کامل آہنگی لازمی ہے۔ الہامِ الٰہی کبھی بھی قوانین قدرت سے متصادم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہی حکیمِ ازلی ذات ہے۔

’’قول و فعلِ حق، زُلالِ یَک غدیر‘‘خدا کا قول اور اس کا فعل ایک ہی تالاب کے مصفّا پانی ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظرکے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔ نہ یہ کہ فعل سے کچھ اَور ظاہر ہو۔ اور قول سے کچھ اَور ظاہر ہو۔ ‘‘(چشمہ مسیحی، روحانی خزائن جلد۲۰صفحہ۳۴۶۔۳۴۷)

اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ اس کے قول و فعل میں کُلّی مطابقت پائی جاتی ہے۔ اِسی لیے اُس نے مومنین سے بھی یہ توقع رکھی ہے کہ اُن کے قول و فعل میں بھی کسی قسم کا تضاد اور اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ۔(الصّف: ۴)اللہ کے ہاں یہ بات نہایت ناپسندیدہ اور بڑے گناہ کا موجب ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف… ایک ایسی کتاب ہے جس کی متابعت سے اسی جہان میں آثار نجات کے ظاہر ہوجاتے ہیں …جس قدر دنیا میں ایسے شبہات پائے جاتے ہیں کہ جو خدا تک پہنچنے سے روکتے ہیں، جن میں مبتلا ہو کر صدہا جھوٹے فرقے پھیل رہے ہیں اور صدہا طرح کے خیالاتِ باطلہ گمراہ لوگوں کے دلوں میں جم رہے ہیں سب کا ردّ معقولی طور پر اس میں موجود ہے اور جو جو تعلیمِ حقّہ اور کاملہ کی روشنی ظلمتِ موجودہ زمانے کے لیے درکار ہے وہ سب آفتاب کی طرح اس میں چمک رہی ہے اور تمام اَمراضِ نفسانی کا علاج اس میں مندرَج ہے اور تمام معارفِ حقّہ کا بیان اس میں بھرا ہوا ہے اور کوئی دقیقہ علمِ الٰہی نہیں کہ جو آئندہ کسی وقت ظاہر ہو سکتا ہے اور اس سے باہر رہ گیا ہو‘‘۔

آپؑ فرماتے ہیں: ’’اس کی کامل متابعت دل کو ایسا صاف کر دیتی ہے کہ انسان اندرونی آلودگیوں سے بالکل پاک ہو کر حضرتِ اعلیٰ سے اِتّصال پکڑ لیتا ہے اور انوارِ قبولیت اس پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور عنایاتِ الٰہیہ اس قدر اس پر احاطہ کر لیتی ہیں کہ جب وہ مشکلات کے وقت دعا کرتا ہے تو کمال رحمت اور عطوفت سے خداوند کریم اس کا جواب دیتا ہے …اور الہام الٰہی بارش کی طرح اس پر برستا ہے …اور یہ سب نعمتیں کسی راہبانہ محنت اور ریاضت پر موقوف نہیں بلکہ صرف قرآن شریف کے کامل اِتّباع سے دی جاتی ہیں۔ ‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۳۴۵تا۳۴۹ حاشیہ در حاشیہ نمبر۲۔ ایڈیشن۲۰۲۱ء)

قرآن شریف حق کے طالبوں کو صرف جواہراتِ علم و حکمت سے ہی مالا مال نہیں فرماتا بلکہ جو لوگ اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیتے ہیں اور اس کے حکموں کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے کا عزم کرلیتے ہیں،وہ صرف مادی اور دنیاوی لحاظ سے ہی حقیقی امن اور راحت کو حاصل نہیں کرتےبلکہ اس کی روحانی برکات اور پاک تاثیرات سے بھی حصّہ پاتے ہیں۔

قرآن کریم کی پاک تاثیرات و برکات روحانیہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’یہ بات کسی سمجھدار پر مخفی نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زادبوم ایک محدود جزیرہ نما ملک ہے جس کو عرب کہتے ہیں جو دوسرے ملکوں سے ہمیشہ بےتعلق رہ کر گویا ایک گوشہ تنہائی میں پڑا رہا ہے۔ اس ملک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بالکل وحشیانہ اور درندوں کی طرح زندگی بسر کرنا اور دین اور ایمان اور حق اللہ اور حق العباد سے بےخبر محض ہونا اور سینکڑوں برسوں سے بت پرستی و دیگر ناپاک خیالات میں ڈوبے چلے آنا اور عیّاشی اور بدمستی اور شراب خواری اور قماربازی وغیرہ فسق کے طریقوں میں انتہائی درجے تک پہنچ جانا اور چوری اور قزّاقی اور خون ریزی اور دختر کُشی اور یتیموں کا مال کھا جانے اور بیگانہ حقوق دبا لینے کو کچھ گناہ نہ سمجھنا۔ غرض ہر یک طرح کی بری حالت اور ہر یک نوع کا اندھیرا اور ہر قسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں کے دلوں پر چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہور ہے کہ کوئی متعصب مخالف بھی بشرطیکہ کچھ واقفیت رکھتا ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور پھر یہ امر بھی ہر یک منصف پر ظاہر ہے کہ وہی جاہل اور وحشی اور یاوہ اور ناپارسا طبع لوگ اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہوگئے اور کیونکر تاثیراتِ کلام الٰہی اور صحبتِ نبی معصومؐ نے بہت ہی تھوڑے عرصے میں اُن کے دلوں کو یکلخت ایسا مُبدَّل کر دیا کہ وہ جہالت کے بعد معارف دینی سے مالا مال ہو گئے اور محبت دنیا کے بعد الٰہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں اپنے مالوں اپنے عزیزوں اپنی عزّتوں اپنی جان کے آراموں کو اللہ جلّ شانہٗ کے راضی کرنے کے لیے چھوڑ دیا… وہ کیا چیز تھی جو اُن کو اتنی جلدی ایک عالَم سے دوسرے عالَم کی طرف کھینچ کر لے گئی وہ دو ہی باتیں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ نبی  معصومؐ اپنی قوتِ قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثرتھا ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔ دوسری، خدائے قادر مطلق حَیُّ قَیُّوْم کے پاک کلام کی زبردست اور عجیب تاثیریں تھیں کہ جو ایک گروہِ کثیر کو ہزاروں ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں۔ بلا شبہ یہ قرآنی تاثیریں خارق عادت ہیں کیونکہ کوئی دنیا میں بطور نظیر نہیں بتلا سکتا کہ کبھی کسی کتاب نے ایسی تاثیر کی۔ کون اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ کسی کتاب نے ایسی عجیب تبدیل و اصلاح کی جیسی قرآنِ شریف نے کی‘‘ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲، صفحہ ۷۶تا۷۸ حاشیہ)

قرآں کتابِ رحماں سکھلائے راہِ عرفاں

جو اِس کے پڑھنے والے اْن پر خدا کے فیضاں

اُن پر خدا کی رحمت جو اِس پہ لائے ایماں

ہے چشمۂ ہِدایت جس کو ہو یہ عِنایَت

یہ ہیں خدا کی باتیں اِن سے ملے وَلایَت

یہ نُور دل کو بخشے دل میں کرے سَرایَت

اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن واقعی جواہرات علم و حکمت سے معمور ہے اور انسان کو دینی اور دنیاوی، مادی اور روحانی ترقیات و حسنات بخشنے والا اور اندھیروں سے نور کی طرف لے جانے والا اور امن و سلامتی کا علمبردار اور ہر قسم کے فسق و فجور سے نجات دینے والا اور تقویٰ و راستی کو قائم کرنے والا اور پاکیزہ اخلاق اور اعلیٰ روحانی مدارج تک پہنچانے والا ہے تو پھر آج دنیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمان جو قرآن پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں کیوں جہالت کی تاریکیوں میں ٹھوکریں کھاتے اور ضلالت و گمراہی کی اتھا ہ گہرائیوں میں پڑے ہوئے ذلّت اور پستی کا شکار ہیں۔ ان کا معاشرہ، ان کے ممالک اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہیں۔ امن و امان کی جگہ شر اور فساد نے لی ہوئی ہے۔ اْن کے ہاں ’’ جو شخص سب سے زیادہ شریر ہو وہی سب سے زیادہ لائق سمجھا جاتا ہے۔ طرح طرح کی ناراستی، بد دیانتی، حرام کاری، دغابازی، دروغ گوئی اور نہایت درجہ کی رُوبہ بازی اور لالچ سے بھرے ہوئے منصوبے اور بدذاتی سے بھری ہوئی خصلتیں پھیلتی جا رہی ہیں اور نہایت بےرحمی سے ملے ہوئے کینے اور جھگڑے ترقی پر ہیں۔ اور جذباتِ بہیمیّہ اور سبعیّہ کا ایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔‘‘( فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴-۵ ایڈیشن ۲۰۲۱ء)

کیا قرآن کا فیضانِ علم و عرفان صرف ماضی تک ہی محدود تھا؟ کیا قرآن پاک کی تاثیرات و برکات کا زمانہ گزر چکا اور اب یہ اپنی ان تمام اعلیٰ خصوصیات سے ( نعوذ باللہ)محروم اور خالی ہو چکا ہے؟

سو واضح ہو کہ اس سوال کا جواب بھی پہلے سے ہی قرآن کریم میں دیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے سےیہ بتا دیا تھا کہ ایک وقت اُمّتِ مسلمہ پر ایسا آئے گا جب لوگ قرآن کو مہجور کی طرح کردیں گے۔ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث میں بڑی تفصیل سے اس کی وضاحت فرمائی تھی اور بتایا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف حروف باقی رہ جائیں گے۔ لوگ قرآن پڑھیں گے تو سہی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ قرآنی تعلیمات اور قرآنی اخلاق سے بے بہرہ ہوں گے اور اُس وقت ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اس ناگفتہ بہ حالتِ زار کا ذمہ دار قرآن نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مختصر الفاظ میں اس کا کیا ہی حقیقت پسندانہ تجزیہ فرمایا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:

مسلمانوں پہ تب اِدبار آیا

کہ جب تعلیمِ قرآں کو بھلایا

ایسے ہی پُر آشوب زمانے کے لیے قرآن مجید میں سورۂ جمعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اٰخَرِیْنَ میں روحانی بعثت ثانیہ کی پیشگوئی کی گئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِنْ فَارِس‘ فرما کر یہ وضاحت فرما دی تھی کہ ’’جب جَہل اور بےایمانی اور ضلالت جو دوسری حدیثوں میں دُخان کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے دنیا میں پھیل جائے گی اور زمین میں حقیقی ایمانداری ایسی کم ہو جائے گی کہ گویا وہ آسمان پر اُٹھ گئی ہو گی اور قرآن کریم ایسا متروک ہو جائے گا کہ گویا وہ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا ہوگا۔ تب ضرور ہے کہ فارس کی اصل سے ایک شخص پیدا ہو اور ایمان کو ثریّا سے لے کر پھر زمین پر نازل ہو‘‘۔ ( ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴۵۶)

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظلّ کامل اور آپؐ کے عظیم روحانی فرزند حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو مبعوث فرمایا اور آپؑ نے یہ اعلان فرمایا کہ ’’خداوند تعالیٰ نے اس احقرعباد کو اس زمانے میں پیدا کر کے اور صدہا نشانِ آسمانی اور خوارق ِغیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صدہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیماتِ حقّہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرماوے اور اپنی حجّت اُن پر پوری کرے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۶حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳)

اسی طرح آپؑ نے فرمایا: ’’جاننا چاہیے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآنِ شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر یک اہل زبان پر روشن ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر یک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت و لاجواب کر سکتے ہیں۔ وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم ِحکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اُس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لیے مسلّح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔ ‘‘

آپؑ نے فرمایا: ’’قرآنِ شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفۂ  فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانے تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحفِ مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔ ‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۵۵ تا۲۵۸ایڈیشن ۲۰۲۱ء)

الغرض قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی پیشگوئیوں کے مطابق تمکنت دین اسلام اور تعلیماتِ حقّہ قرآنی کی اشاعت و ترویج کے لیے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام اور آپ کے بعد آپ کے خلفائے کرام ہی وہ مقدس و مطہر اور مبارک آسمانی وجود ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسرار ِروحانی اور حقائق و معارف ِقرآنی پر مشتمل جواہرات کے خزانے عطا فرمائے ہیں اور خلافت کی صورت میں بخشش اور عطا کے اس مبارک نظام کو دوام بخشا ہے۔

قرآنی جواہرات کے یہ خزانے اپنے حسن و رعنائی اور چمک دمک میں بے نظیر اور اپنی وسعت و گہرائی میں بےکراں اور لازوال اور لامتناہی ہیں۔ اور خلیفۂ وقت کے ذریعے ضرورت زمانہ اور اقتضائے حال کے مطابق ان کا ظہور ہوتا چلا جاتا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام نے بارہا ہمیں ان قرآنی جواہرات سے اپنی جھولیاں بھرنے اور ان سےاپنے قلوب و اذہان کو منوّر کرنے اور دوسروں تک ان کو پہنچانےکی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’یہ ہر احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرنے کے لیے قرآن کریم کا علم حاصل کریں اور پھر اپنے نیک نمونے قائم کر کے دنیا کو اپنی طرف کھینچیں ‘‘

آپ نے فرمایا: ’’یہ قرآن کریم ہے اور صرف قرآن کریم ہے جو امن اور سلامتی پھیلانے کی اور شدت پسندی کے خاتمے کی تعلیم دیتا ہے۔ ‘‘

’’یہ خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلانے کا کام سرانجام دینا ہر احمدی کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہر احمدی لڑکے لڑکی، مرد عورت کو کوشش کرنی چاہیے۔ ‘‘

’’ سب سے بڑی چیز اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنا ہے، اُس کے آگے جھکنا ہے، اُس کا تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ اُس کا تقویٰ اپنے دلوں میں پیدا کرنا ہے۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱؍دسمبر ۲۰۱۵ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’اَکْرِمُوْا حَمَلَۃَ الْقُرْآنِ فَمَنْ اَکْرَمَہُمْ فَقَدْ اَکْرَمَنِیْ ‘‘قرآن پھیلانے والوں کی عزّت کرو جس نے اُن کی عزّت کی اس نے میری عزّت کی۔ اسی طرح آپؐ نے فرمایا: ’’حَامِلُ الْقُرْآنِ حَامِلُ رَأْیَۃِ الْاِسْلَامِ مَنْ اَکْرَمَہٗ فَقَدْ اَکْرَمَ اللّٰہَ‘‘قرآن کا حامل اسلام کاعلمبردار ہے جس نےاس کی عزّت کی اس نے خدا کی عزّت کی۔ (فردوس دیلمی بحوالہ جامع الصغیر للسیوطی)

امر واقعہ یہ ہے کہ اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفائے کرام اور آپؑ کے مخلص و وفادار، تقویٰ شعار، سچے متبعین اور پیروکار ہی وہ سَفَرَۃٍ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ۔(عبس: ۱۶تا۱۷)ہیں جن کے ہاتھوں میں خدا تعالیٰ نے دنیا بھر میں غلبۂ اسلام اور قرآن کریم کی سچی خدمت اور اس کی عظمت کے اظہار کا عَلَم تھمایا ہے۔

پس جیسا کہ حضور انور نے فرمایا ہے، ہم جو خلافت حقّہ اسلامیہ احمدیہ سے وابستہ ہیں، ہم میں سے ہر ایک مرد و عورت کایہ فرض ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفائے کرام کی بیان فرمودہ آسمانی اور نورانی تفاسیرِقرآنی کا بغور مطالعہ کر کے ان سے علمی و عملی طور پر مستفید ہوں اور حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی بابرکت آسمانی قیادت میں دنیا کے ہر برّاعظم میں تلاوتِ آیات اور تزکیہ اور تعلیمِ کتاب و حکمت اور جواہراتِ قرآنی کی تقسیم کی جو عالی شان اور نہایت منظّم مہم بڑی کامیابی سے جاری ہے، اس میں اپنا تن، من، دھن قربان کرتے ہوئے اورقرآن کا حر بہ ہاتھ میں لے کر، اس کے نور کو اپنے سینوں میں بسا کر، حجت اور برہان اور زمینی و آسمانی نشانات اور الٰہی نصرت و تائیدات کے ساتھ، صرف اپنے قول سے نہیں، بلکہ اپنے عمل سے، قرآنی تعلیمات کی حقّانیت اور قرآنی برکات و تاثیرات کے تازہ بتازہ اور شیریں و خوشبودار ثمرات اور اس کے درخشندہ اور روشن جواہرات کودنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے اس پاک کتاب کے زندہ کتاب ہونے اور اس کی عظمتوں پر عملی گواہ بنتے ہوئے، بھرپور حصہ لیں، تا وہ وقت جلد تَر آئے جب تمام زمین انوارِ قرآنی سے اس طرح جگمگا اُٹھے کہ ہر قسم کے ظلم اور ظلمات اور شر اور فساد کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے۔

احمدی اْٹھ کہ وقتِ خدمت ہے

یاد کرتا ہے تجھ کو ربِّ عباد

خدمت دیں ہوئی ہے تیرے سپرد

دُور کرنا ہے تُو نے شر و فساد

تجھ پہ ہے فرض نصرتِ اسلام

تجھ پہ واجب ہے دعوت و ارشاد

فتح تیرے لئے مقدّر ہے

تیری تائید میں ہے ربِّ عباد

(کلام محمود صفحہ۸۸-۸۹)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: عالمی امن کا قیام انصاف کےقیام کے بغیر ممکن نہیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button