نظم
اَلْقَصِيْدَةُ ’’يَا قَلْبِيَ اذْكُرْ اَحْمَدَا‘‘
وَ الْحَقُّ لَا يَسَعُ الْوَرٰى اِنْكَارَهُ لَمَّا بَدَا
اور سچائی ایسی شے ہے کہ مخلوق اس کا انکار نہیں کر سکتی جب وہ ظاہر ہو جائے۔
اُطْلُبْ نَظِيْرَ كَمَالِهٖ فَسَتَنْدَمَنَّ مُلَدَّدًا
تو اُس کے کمال کی نظیر تلاش کر۔ سوتو (اس میں ) یقیناً حیران ہو کر شرمندہ ہوگا۔
مَا إِنْ رَأَيْنَا مِثْلَهُ لِلنَّائِـمِيْنَ مُسَهِّدًا
ہم نے اس کی مانند سوتوں کو جگانے والا کوئی نہیں دیکھا۔
نُورٌ مِّنَ اللّٰهِ الَّذِى اَحْيَى الْعُلُوْمَ تَجَدُّدًا
وہ اللہ کا نور ہے جس نے علوم کو نئے سرے سے زندہ کر دیا۔
اَلْمُصْطَفٰى وَ الْمُجْتَبٰى وَالْمُقْتَدَا وَ الْمُجْتَدَا
وہ برگزیدہ ہے، چنا ہوا ہے، اس کی پیروی کی جاتی ہے، اس سے فیض طلب کیا جاتا ہے۔
(القصائد الاحمدیہ صفحہ 25-26)
