کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

حقیقی توحید کے اقرار سے نجات وابستہ ہے

یادر ہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بُت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔ کوئی رازق نہ ماننا۔ کوئی مُعِزّ اور مُذِلّ خیال نہ کرنا ۔ کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اُسی سے خاص کرنا۔ اپنی عبادت اُسی سے خاص کرنا۔ اپنا تذلّل اُسی سے خاص کرنا۔ اپنی اُمیدیں اُسی سے خاص کرنا۔ اپنا خوف اُسی سے خاص کرنا۔ پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی ۔ اوّل ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالکۃ الذات اور باطلة الحقیقت خیال کرنا۔ دوم صفات کے لحاظ سے توحید ۔ یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔ اور جو بظاہر ربّ الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔ تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا اور اُسی میں کھوئے جانا۔

( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۴۹ ،۳۵۰)

یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں ۔ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں۔ نہ پتھر کی ۔ نہ آگ کی ۔ نہ آدمی کی ۔ نہ کسی ستارہ کی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا اُن کور بوبیت کے کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں۔ بلکہ ہمیشہ مسبّب پر نظر رہے نہ اسباب پر۔ تیسرا (۳) درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلّیات الہٰیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہریک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی ۔ غرض ہریک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کامل الصفات کے۔ یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہو جا ئیں ۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ روحانی زندگی کے تمام جاودانی چشمے محض حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے ہیں۔ یہی اُمّت ہے کہ اگر چہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کی مانند خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو جاتی ہے۔ اور اگر چہ رسول نہیں مگر رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور روحانی زندگی کے دریا اس میں بہتے ہیں اور کوئی نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے ۔ کوئی ہے کہ جو برکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اس دعویٰ کا جواب دے!!!

(آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۳ – ۲۲۴)

مزید پڑھیں: جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بُت بناتا ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button