ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۲۴)
فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ جب گنہگار لوگ جہنم میں ڈالے جاویں گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہارا ایک ہی گناہ بہت بڑا ہے کہ تم نے خدا پر بدظنّی کی۔ اگر بدظنّی نہ کرتے تو کامل اور مومن بن کر آتے۔ حقیقت میں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ جو انسان اﷲ تعالیٰ پر بدظن ہو جاوے۔ باقی جس قدر گناہ ہیں وہ اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اﷲ تعالیٰ کو حقیقی رازق یقین کرے تو پھر چوری، بددیانتی اور فریب سے لوگوں کا مال کیوں مارے؟ افسوس نادان انسان سمجھتا ہے۔ ایہہ جہان مٹھا اگلا کس نے ڈِٹھا۔ یہ بھی خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے۔ اگر اسے صادق یقین کرتے تویہ نہ کہتے۔ بلکہ یہ کہتے کہ ؎
دنیا روزے چند آخر باخداوند
دنیا کو چند روز یقین کرکے اس کی عمارتوں اور آسائشوں اور ہر قسم کی دولتوں سے دل نہ لگاتے۔ بلکہ ہر وقت موت کے فکر میں لرزاں ترساں رہ کر عاقبت کا خیال کرتے اور اس کا بندوبست کرتے کہ آخر مر کر اﷲتعالیٰ کے حضور جانا ہے۔ مگر اب تو یہ حالت ہے کہ عام طو رپر ایک غفلت چھائی ہوئی ہے اور لوگ اس طرح پر مصروف اور دلدادۂ دنیا ہیں۔ گویا انہوں نے کبھی یہاں سے جانا ہی نہیں اور موت کوئی چیز ہی نہیں یا کم ازکم اس کا اثر اُن پر کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۳۷۹-۳۸۰ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل :اس حصہ ملفوظات میں فارسی کا یہ مصرع آیا ہے.
دُنْیَا رُوْزِےْ چَنْد آخِرْ بَاخُدَاوَنْد
ترجمہ: دنیا چند روزہ ہے بالآخر خدا تعالیٰ سے ہی واسطہ پڑ تاہے۔
لغوی بحث: دُنْیَا (دنیا) رُوْزِےْ چَنْد(چند روزہ ہے) آخِرْ(بالآخر) بَاخُدَاوَنْد(خدا تعالیٰ کے ساتھ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں اس مضمون یعنی بے ثباتیٔ دنیا کے بارہ میں بہت سارے اشعار ملتے ہیں جن میں سے دو ذیل میں دیے جاتے ہیں۔
۱۔ عَیْشِ دُنْیَائے دُوْن دَمِےْ چَنْدَسْت
آخِرَشْ کَارْ بَا خُدَاوَنْدَسْت
ترجمہ: اس ذلیل دنیا کا عیش چند روزہ ہے بالآخر خداتعالیٰ سے ہی کام پڑتاہے۔
۲۔ دُنْیَائِےْ دَنِیْ اَسْت چَنْد رُوْزِہْ
زُوْ رَاحَتِ جَاوِدَاں چِہْ جُوْئِی؟
ترجمہ: ذلیل دنیا چند روز ہے تُو اس میں دائمی خوشی کیا ڈھونڈتا ہے۔
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۲۳)



