حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر فوجی حملہ کل ہی ہو سکتا ہے، تاہم کسی بڑے معاہدے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کے بارے میں بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے کو اچھے طریقے سے نمٹایا گیا ہے، لیکن مزید اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ امریکی جریدے کے مطابق، ممکنہ حملے کی تیاری کے سلسلے میں طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کی فراہمی کی گئی ہے۔ مزید برآں، سعودی عرب، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور لبنان میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔

٭…ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر عباس شہر کی فضائی حدود میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر فوجی حملہ کل ہی ہو سکتا ہے، تاہم کسی بڑے معاہدے کا امکان بھی موجود ہے۔ ٹرمپ نے ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کے بارے میں بتانے سے انکار کیا اور کہا کہ ایران کے معاملے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مزید اقدامات کرنا پڑسکتے ہیں۔ خطے میں ان بیانات اور ڈرون گرانے کے دعوے کے بعد کشیدگی کی صورتِ حال میں اضافہ ہوگیا ہے۔

٭…سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اوہائیو میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر تنقید کی اور جنگ کو غیر ضروری قرار دیا۔ اوباما کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام کو جنگ کی وجہ بتایا گیا، حالانکہ ان کے بقول ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔ انتخابی ریلی سے خطاب میں اوباما نے ٹرمپ کو تاریخی طور پر نااہل قرار دیا اور مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فتح کے اعلان کے سات ماہ بعد بھی امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے، امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے اور میزائلوں کے ذخائر کم ہوگئے۔ اوباما نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث تیل کی قیمتیں اور اشیائے ضروریہ مہنگی ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، ایران جنگ کے معاشی اثرات امریکی عوام پر بھی پڑ رہے ہیں۔

٭…ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور عبوری معاہدے کی تکمیل کے لیے نئی کوششوں پر زور دیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عبوری ڈیل کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات جاری تھے، لیکن امریکی اقدامات نے انہیں ناکام بنا دیا۔ پزشکیان کے مطابق، معاہدے کو مکمل کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر فوجی حملہ کل ہی ہو سکتا ہے، تاہم کسی بڑے معاہدے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کے بارے میں بتانے سے انکار کیا۔

٭…امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ امریکا اور اسرائیل کے انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے فوجی حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مڈٹرم انتخابات سے پہلے حملوں کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، تاہم جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ اور مزید دس ہزار میرینز خلیج کی جانب روانہ کیے ہیں، جبکہ بعض امریکی فوجی اڈوں سے عملے کی تعداد کم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ماہرین نے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے امکان کا اظہار کیا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے علی واعظ کے مطابق، ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگ کو سیاسی مشکلات سے نکلنے کا راستہ سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس کے نتائج ان کے سیاسی مستقبل کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل میں ۲۷؍اکتوبر اور امریکا میں ۳؍نومبر کو انتخابات متوقع ہیں۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button