’’اِک آبجو جو چلی بحر بیکراں کے لیے‘‘
جلسہ سالانہ یوکے اور جرمنی کا منظرنامہ
بیعت کی تقریب ایسی تقریب ہے جو خدا نے محض اپنا فضل و احسان اور رحمت وبرکت لُٹانے کی خاطر بنائی ہے وہ کریم خدا جو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے اس نے میرے جیسے کمزوروں اور گنہ گاروں کو بخشنے کے ليے یہ موقع فراہم کیا ہے تا کہ اس کے بندےہر سال غسل روح کر لیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر خلافت سے بندھ کر ایک لڑی میں پروئے جائیں
زندگی بھر میں صرف ایک جلسہ چھوٹا۔ ۱۹۸۴ء کے آخر میں جرمنی پہنچے تو جرمنی کا جلسہ ہو چکا تھا۔ اگلے برس جون ۱۹۸۵ء کے جلسہ جرمنی میں شمولیت کا موقع ملا اور ہم پھر جلسہ سے آن ملے۔ وہ جلسہ جس کا آغاز ۱۸۹۱ء میں مسیح پاک کے بابرکت ہاتھوں اسی کی پاک بستی سے ہوا اور جس کے بارے میں آپؑ نے فرمایا کہ ’’اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے ليے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی ۔‘‘ اور ان تیار شدہ قوموں نے اپنے اپنے علاقوں اور ملکوں میں اس جلسہ کو جاری کر دیا اور اب یہ چشمہ بحر بےکراں کی صورت اختیار کر گیا ہے اور ہر ملک و دیار میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور زبان حال سے ’’غلام احمد کی جے ‘‘ کے نعرے بلند کر رہا ہے۔
سمٹتی، پھیلتی، گرتی، سنبھلتی، آ پہنچی
اک آبجُو جو چلی بحربیکراں کے ليے
اور اب تو یہ حال ہے کہ سال بھر میں کئی جلسے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یوکے جلسہ پر جانے کا بھی موقع ملتا ہے۔ یو کے کے چند جلسے بامر مجبوری چھوڑے ورنہ تقریباً ہر سال جلسہ یو کے کی برکات سے مستفیض ہونے کی توفیق ملتی ہے اور اگر آن لائن جلسوں کو بھی شمار کیا جائے پھر تو بہت سے جلسے گھر بیٹھے دیکھنے سننے کو ملتے ہیں اور یوں یہ بارش سال بھر آسمان سے برستی رہتی ہے اور یہ روحانی مائدہ گھر گھر بٹتا ہے۔
جو اُس کے ساتھ، اُسی کی دعا سے اُترا ہے
یہ مائدہ ہے، ڈ شوں میں اُتار کر دیکھو
خدا کے فضل سے ۲۰۲۶ء کے جلسہ یوکے میں بھی شمولیت کی توفیق ملی۔ حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ و خطابات سے براہ راست مستفیض ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی اقتدا میں نمازوں کی ادائیگی کی توفیق بھی ملی اور روئے مبارک کا دیدار بھی ہوا۔ الحمدللہ۔ اور بڑی غرض بھی یہی تھی۔
جو یاں آ گئے ہیں، مسرور ہوں گے
اور عنداللہ ماجور ہوں گے
جمعرات ۲۳؍جولائی کو علی الصبح عازم سفر ہوئے سوا چھ بجے فرانس سے فیری پر سوار ہوئے اور دس بجے کے قریب لندن پہنچے۔
میرے نواسے عزیزم اویس احمد نے مسجد فضل لندن دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے ابھی تک یہ تاریخی اور بابرکت مسجد نہیں دیکھی تھی۔ لہذا مسجد فضل پہنچے، نفل پڑھے، دعائیں کیں، تصاویر بنائیں اور واپس رہائش گاہ پہنچے۔ اگلے روز جلد تیار ہو کر اپنے زعم میں بہت پہلے ’’حدیقۃ المہدی ‘‘ پہنچے۔ مارکی میں داخل ہوئے تو آدھی بھر چکی تھی۔ درمیانی حصہ میں جگہ ملی۔ خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی اور غریب پروری کے واقعات سن کر دل جھوم اُٹھا۔ مسیح پاکؑ کی محبت اور صحابہؓ کی خوش قسمتی پر رشک آنے لگا۔ اور جب حضورؑ کا محبت سے بھر پور یہ جملہ سنا کہ ’’میرے مرید خواہ وہ غریب ہوں یا امیر، میرا ان کے ساتھ ایک ہی جیسا تعلق ہے‘‘ تو روح وجد میں آ گئی۔ تاریخ اور واقعات بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ سامنے بیٹھنے والے پر بھی نظر ہے اور مسجد کے آخر میں جوتیوں میں بیٹھنے والا بھی نظر سے اوجھل نہیں۔ حضرت نظام د ینؓ بھی انہی خوش نصیبوں میں سے ایک تھے۔
وہ سب اس مے خانے سے جام پر جام پیتے اور اسی مے سے مست اور مخمور تھے۔
وہ اُس کے ہو گئے ہیں اسی سے وہ جیتے ہیں
ہر دم اُسی کے ہاتھ سے اک جام پیتے ہیں
جس مے کو پی لیا ہے وہ اس سے مست ہیں
سب دشمن ان کے انکے مقابل میں پست ہیں
خطبہ سننے، نمازوں کی ادائیگی اور کھانا کھانے کے بعد حسب معمول دوستوں یاروں سے ملاقات ہوئی کہ جلسہ کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ رشتۂ مودت مستحکم ہو۔ مکرم فاروق محمود صاحب سے اخلاص اور محبت کا خاص تعلق ہے اور اس سال ان کے بزرگ والد بزرگوار ملک محمود احمد صاحب وفات پا گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ فاروق صاحب لنگر کی ڈیوٹی پر تھے۔ لنگر پہنچے، ان سے مل کر آنکھیں ٹھنڈی کیں اور عرض کیا کہ اب کے برس یہ عہد کیا تھا کہ آپ کے والد بزرگوار سے ضرور ملوں گا لیکن وہ خدا سے پیار بڑھانے اس کے پاس چلے گئے اور ہم اُن کی ملاقات سے محروم رہ گئے۔ ان کے نیک سیرت والد کے تقویٰ اور پرہیز گاری کی گواہی بہت سے لوگوں سے سنی، لیکن گواہی کی ضرورت نہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ ان کی اولاد کی نیکی، اخلاص اور محبت کو دیکھ کر والدین کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور اولاد کو ان کی نیکیاں بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ اس ملاقات میں وقت گذرنے کا احساس ہی نہ ہوا اور پہلے اجلاس کا وقت ہو گیا۔ حضور انور نے خطبہ جمعہ میں فرمایا تھا کہ ’’جلسے کے پروگراموں کو باقاعدہ سننا ہے اور یہ تین دن ادھر اُدھر بیٹھ کر گپیں مار کر نہیں گزار دینے ‘‘ اس حکم کی تعمیل میں مارکی پہنچ گئے۔ پرچم کشائی کے بعد وہ جانِ بہار اور رشکِ چمن جلسہ گاہ میں جلوہ افروز ہوا تو
’’سیلابِ حُسنِ یار سے میزان بہہ گئے‘‘
پروانے بے تابی سے شمع کے انتظار میں تھے۔ نعرہ ہائے تکبیر اور درود و سلام سے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ کاسۂ دیدار بھرنے لگے۔ کچھ نے بچوں کو اُٹھا لیا تا وہ بھی پیارے آقا کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کر لیں۔ شمع بھی پروانوں سے غافل نہیں تھی سب پر پیار بھری نظر ڈالی اور السلام علیکم و رحمۃ اللہ کا محبت بھرا تحفہ پیش کیا تو دیوانے نہال ہو گئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ جماعت تقویٰ پر قائم ہو کر اپنے رب سے تعلق بنا لے۔ حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کے دل میں بھی یہی تڑپ اور تمنا ہے کہ سب احمدی تقویٰ کی راہوں پر چلیں اور آپ کے اکثر خطبات اور خطابات کا موضوع یہی ہوتا ہے کہ
کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے
کہ یہ حاصل ہو جو شرط لقا ہے
ہر اک نیکی کی جڑھ یہ اتّقا ہے
اگر یہ جڑھ رہی سب کچھ رہا ہے
دعا کے وقت ہر روح پگھل کر آستانہء الوہیت سے یہی عرض کر رہی تھی کہ اے خدا ہم کمزور سہی لیکن اپنے پیارے مسیح اور اس کے خلفاء کی دعاؤں کے طفیل ہی ہمیں تقویٰ کی دولت عطا فرما۔ آمین
اگلے روز مستورات سے خطاب فرمانے کے بعد وہ شیریں سُخن پھر ہمارے درمیان تھا اور جماعت پر برسنے والے خدا تعالیٰ کے فضل و عنایات کا ذکر فرما رہا تھا لیکن اب تو اس موسلا دھار بارش کے قطرے گننا ناممکن ہو گیا ہے۔
میں کیونکر گن سکوں تیرے یہ انعام
کہاں ممکن تیرے فضلوں کا ارقام
لہذا حضور انور نےجماعتی ترقی کا مختصراً ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کتنے ملکوں میں جماعت کا پودا لگا، کتنی بیعتیں ہوئیں، کتنی مساجد بنیں، اسی طرح دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے لٹریچر اور تراجم کا ذکر فرمایا۔
بیعت کی تقریب ایسی تقریب ہے جو خدا نے محض اپنا فضل و احسان اور رحمت وبرکت لُٹانے کی خاطر بنائی ہے وہ کریم خدا جو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے اس نے میرے جیسے کمزوروں اور گنہ گاروں کو بخشنے کے ليے یہ موقع فراہم کیا ہے تا کہ اس کے بندےہر سال غسل روح کر لیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر خلافت سے بندھ کر ایک لڑی میں پروئے جائیں۔ اس تقریب کا حال بیان کرنا یا لکھنا ممکن نہیں اس سے گزر کرہی اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے جو اس روحانی محفل میں کبھی شامل نہیں ہوا اس کو بتانا یا سمجھانا مشکل ہے۔ مختصراً یہ کہ وَإذَا الْجَنَّةُ أُزْلفَتْ کی ایک تفسیر یہ تقریب بھی ہے۔
بند کیوں ذات میں رہوں اپنی
موج بن جاؤں اور چھلک دیکھوں
اُن کے قدموں تلے فلک اور میں
صرف پہنائی فلک دیکھوں
بیعت اور نماز کے دوران ہوا تیز ہو گئی۔ جب جلسہ کا سائبان ہوا کے جھونکے سے پھڑ پھڑایا تو ایسا لگا کہ ہوا یہ پیغام دے رہی ہے کہ
چل رہی ہے نسیم رحمت کی
جو دعا کیجئے قبول ہے آج
اختتامی خطاب سننے اور دعا میں شامل ہونے کی سعادت بھی ملی۔ جلسہ کے موقع پر دعا کے اسقدر مواقع میسر آتے ہیں کہ جھولی بھر کر گھر آتے ہیں اور اس پر ہمہ وقت ’’سلاماً سلاماً‘‘ کی آوازیں۔ بقول مضطر صاحب مرحوم
’’یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی‘‘
جلسہ سے اگلے روز علی الصبح جرمنی کے ليے روانہ ہوئے۔ جلسہ سے واپسی پر طبیعت ہمیشہ افسردہ ہو جاتی ہے لیکن یہ تسلی بھی تھی کہ ابھی ہمارا جلسہ ہونا ہے۔ اور جلسہ کی برکتیں اب پورے سال پر محیط ہو چکی ہیں۔ اور پھر وہ مبارک دن بھی آ گئے اور ہم جلسہ گاہ جرمنی میں تھے۔ وہی شمع، وہی پروانے، وہی رونقیں، وہی برکتیں۔ وقار عمل کا جوش وخروش اور ساتھ ساتھ جلسہ کی کامیابی کی دعائیں۔ وقار عمل کے دوران نماز باجماعت کا ذوق و شوق بھی دیدنی تھا اور نمازوں کے بعد اجتماعی طور پر جب حاضرین دعاؤں کا ورد کرتے تو عجب سماں بندھ جاتا اور یہ منظر ایسا ایمان افروز ہوتا کہ فرشتے اترتے محسوس ہوتے۔ جس خیمے میں نمازیں ادا کی جاتی تھیں اس کے باہر ایک بڑا سا بینر آویزاں تھا جس پر حضرت مسیح موعودؑ کی یہ جلالی پیش گوئی اور اس کا جرمن ترجمہ لکھا تھا کہ’’آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے کہ آخر کار اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا ۔‘‘ بہت سے جرمن بھی یہاں کام میں مصروف تھے جو مختلف کمپنیوں کے ملازم تھے اور اس علاقہ کی انتظامیہ کے لوگ بھی کام کی چیکنگ یا نگرانی پر مامور تھے۔ یہ سب اس بینر کے قریب سے گزرتے تھے۔ اور اس پیش گوئی کے گواہ بن رہے تھے۔ اور وہ وقت ضرور آئے گا جب وہ کہیں گے کہ ایک وقت تھا کہ ہم یہ پیش گوئی پڑھا کرتے تھے اور آج ہم اس کی صداقت کے گواہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ جلد اس قوم کو ہدایت نصیب کرے۔ آمین
اور پھر جلسہ کا دن آ پہنچا اور کرن بدست قافلے جلسہ گاہ پہنچنے لگے۔ نفاست و نظافت آخری مراحل میں تھے۔ جلسہ جرمنی کے دیرینہ خدمت گزار مکرم عبدالسمیع عارف صاحب حسب ِمعمول اپنا کام کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی مدد بھی کررہے تھے۔ یہ بزرگ ایک عرصہ سے جلسہ جرمنی پر خاموشی سے خدمت کرتے چلے آرہے ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ سمیع صاحب میں ۴۰؍سال سے جلسہ کی ٹیم سے منسلک ہوں لیکن میں نے ۴۰؍برسوں میں اتنا کام نہیں کیا جو آپ ایک جلسہ پر کرتے ہیں۔ وہ مسکرائے اور ہمیشہ کی طرح بات بدل دی تا کہ ان کی خدمت کسی تعریف یا ستائش سے آلودہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزا عطا فرمائے اور صحت و سلامتی والی بابرکت عمر عطا فرمائے۔ آمین۔ ڈیوٹی کا ذکرشروع ہوا ہےتو ’’بارے خدمت کا بیان ہو جائے ‘‘۔ سارے شعبہ جات میں ہر سال بہتری دیکھنے کو ملتی ہے۔ ضیافت اور نظافت بہت اہم شعبے ہیں۔ ان دونوں شعبوں میں بھی نمایاں بہتری نظر آئی خصوصاً نظافت کا انتظام نہایت عمدہ تھا۔ اس سال ایک نئی کمپنی کی ٹائلٹس کا تجربہ کیا گیا تھا جو نہایت کامیاب رہا۔ ٹائلٹس کی تعداد بھی پہلے سے بہت زیادہ تھی۔ کسی کو انتظار کی زحمت نہیں ہوئی۔ کوئی شکایت بھی سننے کو نہیں ملی بلکہ سب نے تعریف کی۔ پانی سے بھرے ہوئے لوٹے بھی رکھے تھے۔ جب بھی کوئی ٹائلٹ سے باہر آتا تو ایک خادم فوراً ٹائلٹ کی صفائی کر دیتا اور اگر مہمان لوٹا اندر بھول جاتا تو وہ خادم لوٹا اُٹھا کر پانی سے بھر کر باہر رکھ دیتا۔ یہ عمدہ نظام ہمہ وقت میسر رہا۔ بہت سے لوگ اپنے بچوں کو خدمت دین کی عادت ڈالنے اور ترغیب دینے کے ليے ان کے ساتھ ڈیوٹی دے رہے تھے۔ پانی پلانے والے بچے بھی نہایت مستعدی اور ذوق و شوق سے مہمانو ں کی خدمت میں مصروف تھے۔ غرض ہر چھوٹا بڑا خدمت کے جذبے سے سرشار تھا۔ پارکنگ کی ڈیوٹی بھی اہم اور مشکل ڈیوٹی ہے۔ یہاں بھی نہایت عمدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اتنے بڑے اجتماع کے باوجود ٹریفک چلتی رہی بلکہ رواں دواں رہی۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ مہمانوں کو بھی تکلیف نہ ہو اور ٹریفک میں بھی خلل نہ آئے اور ٹریفک کے قوانین کی پابندی بھی ہو اور کوئی بات بھی ’’باعث فکرو پریشانیٔ حکام نہ ہو‘‘۔
رہائش کا انتظام بھی سال بہ سال بہتر سے بہتر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قادیان اور ربوہ میں مہمانوں کو گھروں میں ٹھہرانے کی روایت بھی تھی جو جرمنی میں بھی کسی حد تک جاری و ساری ہے۔ جلسہ کے علاقے میں بسنے والے احمدیوں کی تعداد تھوڑی ہے تا ہم وہ بھی مہمان نوازی کے جذبے سے سر شار ہیں اور خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتےاور اس پاکیزہ روایت کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہم تین دوستوں کو بھی جماعت Neuwied کے مخلص دوست مکرم عالم سوہل صاحب نے رہائش کے ليے اپنا ایک فلیٹ پیش کر دیا جس میں ہر سہولت موجود تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین
حضور انور ایّدہ اللہ کے خطبہ جمعہ کے ساتھ جلسہ جرمنی کا افتتاح ہوا۔ حضور انور کے جرمنی کے جلسہ میں رونق افروز نہ ہونے کی وجہ سےبعض دیوانے مغموم تھے۔ حضور انور نےتبتل الی اللہ اور توکل علی اللہ کا مضمون بیان فرما کر یہ سبق دیا کہ اصل چیز زندہ خدا سے زندہ تعلق ہے اور اسی تعلق کی وجہ سے ہم سب ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں اور اس ازلی ابدی تعلق میں فاصلے کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ آپ نے فرمایا کہ
’’اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں گے تو نشانات بھی دیکھیں گے۔ جس کا اعلیٰ نمونہ ہمیں آنحضرت ﷺ کی ذات میں ملتا ہے اور آپ کے طفیل آپ کے صحابہ نے اس سے فیض پایا اور ہمارے سامنے مثالیں پیش فرمائیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص متبتّل ہوگا متوکّل بھی وہی ہوگا۔ گویا متوکّل ہونے کے واسطے متبتّل ہونا شرط ہے‘‘ مزید فرمایا کہ ’’یہ توکّل ہے کہ اپنے پاس موجود چیز سے زیادہ یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میری ضرورت پوری کرے گا۔ میری بعض چیزیں تو ضائع ہو سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس جو ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا اور حسب ضرورت توکّل کرنے والے کو، نیک عمل کرنے والے کو ملتا رہتا ہے۔‘‘
خطبہ جمعہ میں جب مرزا صفدر محمود صاحب آف منڈی بہاؤالدین کی شہادت کا ذکر سنا تو دل بیٹھ گیا۔ خطبہ کے دوران مکرم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ خطبہ کے اختتام پر میں نے ان سے دریافت کیا کہ یہ وہی صفدر صاحب ہیں جن کی وہاں ورکشاپ ہے۔ انہوں نے جب تصدیق کی تو آنکھوں کے آگے جیسے اندھیرا چھا گیا۔ بے چین ہو کر دل تھام لیا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایسےخلیق، ملنسار، مدد گار اور غمگسار شخص کی جان کون لے سکتا ہے۔ شام کو اپنے بھانجے نجیب احمد فہیم کو فون کر کے شکوہ کیا کہ اس نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع کیوں نہ دی ؟۔ کہنے لگا کہ ماموں ! اپنا موبائل چیک کریں۔ میں نے تو اسی وقت یہ خبر بھیج دی تھی۔ اور واقع میں ایسا ہی تھا۔ میں جلسہ کی خوشی اور تیاری میں اس قدر مگن تھا کہ یہ خبر نہ دیکھ سکا۔ اس خبر نے جلسہ کی خوشی کو پھیکا کردیا۔ نگاہوں میں ماضی کی فلم چلنے لگی جب پہلی بار ۲۰۱۶ء میں مکرم صفدر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ہم نجیب سے ملنے کرائے کی گاڑی پر منڈی بہاؤ الدین گئے تھے اور گاڑی میں کچھ خرابی ہو گئی تھی۔ ہم مکرم صفدر صاحب شہید کی ورکشاپ میں پہنچے اور پھر پہلی ہی ملاقات میں ہم ان کے مداح بن گئے۔ ہنستا مسکراتا چہرہ اور باتوں میں ایسا خلوص اور کشش کہ ’’ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی ‘‘ تھوڑی دیر بعد چائے بھی آگئی۔ صفدر صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چائے میں چینی لیں گے۔ میں نے کہا کہ ’’مجھے چینی اور نکتہ چینی دونوں سے پرہیز نہیں ‘‘۔ صفدر صاحب نے جو ہنسنا شروع کیا تو بس ہنستے چلے گئے اور پھر ہم بھی ان کے پیاروں میں شامل ہو گئے۔ چائے کے بعد پان پیش کیا۔ نہ جانے اس پان میں کیا خاص بات تھی یا پھر یہ صفدر صاحب کے خلوص کی تاثیر تھی کہ میں نے بےاختیا ر کہا کہ ایسا پُر لطف پان میں نے کم ہی کھایا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک لفافہ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے پوچھا یہ کیا ؟ کہنے لگے آپ کو پان پسند آیا تو میں نے شاگرد کو بھیج کر مزید منگوا ليے، آپ رستے میں کھائیں گے اور ہمیں یاد رکھیں گے۔ ہم تو پہلے ہی ان کی محبت اور خلوص کے گھائل تھے اب تو شرمندہ بھی ہو رہے تھے۔ جب کار کی مرمت کے اخراجات کا پوچھا تو صاف کہہ دیا کہ آپ نجیب صاحب کے مہمان ہیں تو میرے بھی مہمان ہیں۔ بہت زور لگایا کہ وہ کچھ تو لے لیں تا ضمیر کا بوجھ ہلکا ہو سکے مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا اب تو ہم ان کے احسان تلے پوری طرح دب چکے تھے بلکہ شرمندگی سے زمین میں گڑے جارہے تھے۔ وہ یہ سلوک اکثر لوگوں سے روا رکھے ہوئے تھے اور اس میں کوئی امتیاز نہ تھا نہ مذہبی نہ قومی نہ لسانی۔ ایسے شخص کی جان کا دشمن کوئی کیسے ہو سکتا ہے؟ جرمنی واپس پہنچ کر میں نے انہیں خصوصی سلام بھیجا جس سے وہ بہت خوش ہوئے کہ میں ان کو بھولا نہیں حالانکہ یہ تو ان کے حُسن سیرت کی خوبی تھی۔ ان کا ہر ملنے والا کسی طور ایسے بَھلے شخص کو بُھلا ہی نہیں سکتا تھا۔
ہم جس پہ مر رہے ہیں، وہ ہے بات ہی کچھ اَور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی، تُو مگر کہاں
۲۰۱۸ء میں پھر ان سے ملاقات ہوئی اور ۲۰۲۴ء میں سہ بار ہ۔ اب تو ایسا لگتا تھا کہ ہم دونوں جنم جنم سے واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانی قبول فرمائے اور اس کو پھول پھل عطا فرمائے۔ آمین
خوں شہیدان اُمت کا اے کم نظر، رائیگاں کب گیا تھا کہ اب جائے گا
ہر شہادت ترے دیکھتے دیکھتے، پھول پھل لائے گی، پھول پھل جائے گی
جلسہ کی مصروفیات کے باوجود صفدر صاحب کا خیال دل سے نہ گیا۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کے اہل و عیال کا خود حامی و ناصر ہو ۔آمین۔
جلسہ جرمنی کی تقاریر ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ تھیں۔ جب ہم جرمنی آئے تو صرف دو جرمن مقرر تھے۔ ایک مکرم ہدایت اللہ ہبش صاحب مرحوم اور دوسرے مکرم عبد اللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر جماعت جرمنی۔ مگر اب تو خدا کے فضل سے بہت سے جرمن مقرر ہیں۔ اور ماشاء اللہ ایک سے ایک بڑھ کر۔ امسال جلسہ پر ہمارے تُرک احمدی بھائی مکرم چنگیز وارلی صاحب کی تقریر نہایت ہی عمدہ تھی۔ موصوف نہایت مخلص، عبا د ت گذار اور قربانی کے جذبے سے سرشار احمدی مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کی نسلوں کو یہ معیار بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ہمیشہ کی طرح پتا ہی نہیں چلا اور جلسہ کا آخری روز آپہنچا۔ حضور انور نے اسلام آباد یوکے سے جرمنی کے شاملین جلسہ سے مخاطب ہونا تھا۔ وہی جو چند دن قبل اس بات پر دُکھی تھے کہ حضور انور جرمنی تشریف نہیں لا رہے وہی دیوانے اب ذوق و شوق اور بےتابی سے مارکی کا رُخ کر رہے تھے۔ محبوب کے خیال نے فاصلوں کا تصور مٹا دیا تھا۔
حضور انور نے شرائط بیعت پر عمل کرنے، دینی اور اخلاقی ذمہ داریاں یاد رکھنے اور نبھانے کی تلقین فرمائی۔ اللہ تعا لیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ پُر سوز دعا کے بعد ترانے پڑھے گئے۔ حضور نے جلسہ کی حاضری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت جرمنی میں ۴۸؍ہزار احمدی مسلما ن حاضر ہیں اور یہاں(یعنی یو کے میں ) ۲ ہزار کے قریب افراد موجود ہیں اور یوں آپ کی حاضری ۵۰؍ہزار تک پہنچ گئی۔ یوں حضور انور نے ہمارے ۵۰؍ویں جلسے کی مناسبت سے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور کی امیدوں پر پُورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی ساری دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین
یہ خاک و خوں ہے اگر مرگ ناگہاں کے لئے
کچھ اور چاہئے تسکین قلب و جان کے لئے
تو اپنی باہوں میں مجھ کو سمیٹ لے مولا
نہ میں زمیں کے لئے ہوں نہ آسماں کے لئے
مری زبان کی لغزش سے در گذر فرما
اسے تو بات کوئی چاہئے بیاں کے لئے
اگرچہ راستہ بھولا ہوا ہوں میں لیکن
تھی ابتدائے سفر تیرے آستاں کے لئے
سمٹتی پھیلتی گرتی سنبھلتی آ پہنچی
اک آبجو جو چلی بحر بیکراں کے لئے
عجیب بات ہے اپنا ہی بوجھ اٹھا نہ سکے
وہ تنکے جن کو چنا میں نے آشیاں کے لئے
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
جو بات میں نے چُنی زیب داستاں کے لئے
قبول ہو نہ ہو، اس سے غرض نہیں ناہید
میں لے تو آیا ہوں اس جال کو ارمغاں کے لئے
عبد المنان ناهیدؔ
مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور کسرِ صلیب کے مختلف پہلو




