متفرق مضامین

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور کسرِ صلیب کے مختلف پہلو

(عبدالسمیع خان)

دلائل کی یلغار۔ نشانوں کی چمکار۔ دعاؤں کی بہار۔ مسلمانوں اور غیروں کا اقرار

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنا کام سر انجام دیا۔ عیسائیت کے من گھڑت اور خود ساختہ عقائد پر کاری ضرب لگائی اور سچے مسیح کا بول بالا کیا۔ اب عیسائیت ایک مذہب نہیں، ایک قوم ہے، ایک کمیونٹی ہے، ایک طاقتور گروپ ہے۔ اس کی تعلیم پر کون عمل کرتا ہے۔ اس کی مذہبی اور اخلاقی اقدار کہاں ہیں۔ اس کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے اور کسی وقت دھڑام سے زمین پر آ گرے گی۔ مسیح موعودؑ کا ۱۳۰ سال پہلے کاچیلنج آج بھی للکار رہا ہے

حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کا ایک بہت بڑا مقصد رسول کریمﷺ نے کسر ِصلیب بیان فرمایا تھا ۔(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰؑ حدیث نمبر۳۴۴۸) یعنی بگڑی ہوئی عیسائیت کا علمی لحاظ سے قلع قمع کرنا تھا اور ان کو سچے مذہب اسلام کی طرف بلانا تھا اور یہ کام حضرت مسیح موعودؑ نے خوب کیا۔ فرمایا: ’’مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے۔ سو میں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳صفحه ۱۱) کسر صلیب کا وقت آگیا یعنی وہ وقت کہ صلیبی عقائد کی غلطی کو ایسی صفائی سے ظاہر کر دینا جیساکہ ایک لکڑی کو دوٹکڑے کر دیا جائے۔(مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۸۶)

تاریخ بتاتی ہے کہ۱۸ویں اور ۱۹ویں صدی عیسوی کا دور مذہبی دنیا میں انتہائی بے چینی کا زمانہ تھا اور خاص طور پر مسلمانوں کے لیے یہ دن نہایت دردناک تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ ۱۶ویں صدی عیسوی سے مغربی عیسائی اقوام کا جو عالمی غلبہ شروع ہوا تھا وہ کمال کو پہنچ رہا تھا اور تقریباً تمام دنیا کے مسلمان ملک ان کے زیر نگیں ہو چکے تھے۔ سلطنت عثمانیہ بھی آخری سانس لے رہی تھی۔ اسی عیسائی حکومت کے سائے میں وہ پادری تھے جو یسوع مسیح کی خدائی کا اعلان کر رہے تھے۔ اورآسمان سے مسیح کے اترنے کی خبر دے رہے تھے جس کے بعد تمام دنیا میں یسوع مسیح کے غلبہ کی منادی کی جانی تھی۔ آیئے اس دور کے حالات اور مسیح موعودؑ کے کارنامے دیکھیں:

عیسائیت کی صدی

اسلام پر سارے مذاہب ہی حملہ آور تھے مگرمسلمانوں کو سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا عیسائیوں سے تھا۔ عیسائی اس لیے کہ وہ غالب قوم تھے۔ ۱۷۹۳ ءمیں پہلا عیسائی مبلغ ہندوستان میں آیا تھا۔ (Turning the World upside down by A.Pulleng and 5 others. P.90 England,1972) اور ۱۹ویں صدی کے آخر تک ہند میں عیسائی مبلغین اور چرچ کے عملے کی تعداد ۹ ہزار سے بڑھ چکی تھی اور انیسویں صدی کے آخر تک عیسائی مبلغین، پادریوں اورچرچ کے عملے کی تعداد ساڑھے ۹ہزار سے تجاوز کرچکی تھی۔ (Christianity in a Revolutionary Age ,Vol.III by K.S.Latourette, p.403&407,London,1961)

ان کی کوششوں سے ہند میں ۱۰؍لاکھ افراد عیسائیت قبول کر چکے تھے۔ اسی لیے ۷جلدوںمیں عیسائیت کی تاریخ لکھنے والے مصنف لاٹریٹ نے ٫۱۸۱۵ سے ۱۹۱۴ء تک کے دور کو عیسائیت کے پھیلاؤ کی عظیم صدی قرار دیا ہے۔ (Encyclopedia Britannica, Vol.15,P.573,London,1970) مسیحی مناداپنے غلبہ کا اعلان کر رہے تھے۔ پنجاب کا گورنر چارلس ایچی سن کہتا ہے کہ جس رفتار سے ہندوستان کی معمولی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے چار پانچ گنا زیادہ تیز رفتار سے عیسائیت اس ملک میں پھیل رہی ہے اور اس وقت ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔…ہر جگہ عیسائیوں کی جماعت ایسی تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے کہ جتنی قرونِ اولیٰ کے بعد کبھی نہیں پھیلی۔

مسلمانوں سے عیسائی ہونے والا پادری عمادالدین ۱۸۹۳ء میں لکھتا ہے کہ ہم مسیحی خدا پر یقین اور بھروسہ کر کے کہتے ہیں کہ کسی وقت یہ ملک انگلستان کی مانند ہونے والا ہے۔ ہمارے مخالف ہندو اور مسلمان اور دیانندی و نیچری و غیره اگر چہ کیسا ہی زور دکھلا دیں اور زبان درازیاں کریں، وقت چلا آتا ہے کہ پتہ ندارد ہوںگے۔ (بحوالہ سوانح فضل عمر جلد ۱ صفحہ ۱۱، ۱۲)

امریکہ سے مشہور عیسائی مناد ڈاکٹر جان ہنری بیروز کو ہندوستان بلوایا گیا۔ اس نے ۱۸۹۷ء میں بر صغیر کا دورہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات میں کہا کہ ہماری ملکہ وکٹوریہ ایک ایسی سلطنت کی سربراہ ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔اس کے بعد وہ جرمنی، امریکہ اور روسی حکومتوں پر عیسائی غلبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ صورت حال اس آنے والےانقلاب کا پیش خیمہ ہے جب قاہرہ، دمشق اور تہران خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آباد نظر آئیں گے، حتّی کہ صلیب کی چمکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی خداوند یسوع مسیح کے شاگردوں کے ذریعہ مکہ اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہوگی۔ (بیروز لیکچرز صفحہ ۴۲)

حملوں کی اقسام

اسلام کی بیخ کنی کے لیے اعتراضوں کا جو طویل سلسلہ شروع کیا گیا، اس کودرج ذیل چار بنیادی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔ رسول کریم ﷺ کی ذات، کردار پر اعتراض، حضورؐ کی شادیوں، جنگوں اور معاشرت پر اعتراض۔ ۲۔اسلامی تعلیم پر اعتراض مثلاً توحید، جہاد، غلامی، کثرت ازواج، طلاق۔ ۳۔ قرآن کریم پر قسما قسم کے اعتراض۔ ۴۔خلفائے راشدین اور صحابہ رسولﷺ پر اعتراض

مسیح موعودؑ کا اعلان

ان حالات میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودؑ رسول کریمﷺ کی نمائندگی کا جامہ پہن کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: مجھے خدا تعالیٰ نے… (اس لئے) بھیجا ہے تا کہ میں اس پُر آشوب زمانہ میں… حضرت رسول اللہ ﷺ کی عظمتیں ظاہر کروں (برکات الدعا روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۳۴) نیز فرمایا: ’’ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا۔ یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ ‘‘ (حقیقة الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۴) ایک وہ وقت تھا کہ خدا کے سچے مسیح کو صلیب نے توڑا اور اس کو زخمی کیا تھا اور آخری زمانہ میں یہ مقدر تھا کہ مسیح صلیب کو توڑ ے گا۔ یعنی آسمانی نشانوں سے کفارہ کے عقیدہ کو دنیا سےاُٹھا وے گا۔ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۰۲)

حضرت مسیح موعودؑنے اسلام کا دفاع کرنے کے لیے اعتراضوں کو گِنا تو ۳؍ہزار کے قریب تھے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۵۱)اور اس عرصہ میں ۶؍کروڑ کتابیں اسلام کے خلاف شائع کی گئی تھیں۔ (ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۱)

جارحانہ حکمت عملی

حضرت مسیح موعودؑ نے قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کے دفاع اور کسر صلیب کے لیے ہر ممکن طریق اختیار کیا۔ اس کو ۵ نمایاں حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱۔ عیسائیوں کے ردّ میں مضامین اور کتب۔ ۲۔ ان کی اپنی کتب اور تعلیمات پر عقلی اعتراضات اور ان کا قلع قمع۔ ۳۔ مباحثات اور مناظرے۔ ۴۔ انعامی چیلنج۔ ۵۔ روحانی مقابلے

ان سب معاملات کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے۔ اس آفتاب صداقت نے اسلام اور ناموس رسالت کے حق میں نئے ارض و سماء تخلیق کیے جس کے چاند تارے وہ زندگی بخش تحریریں ہیں جواردو، عربی اورفارسی کی ۸۸تالیفات کے ۱۱ہزار صفحات پر مشتمل ہیں۔ بیسیوں مضامین۔ ۳۰۰۔ اشتہارات، ۷۰۰ مکتوبات اورملفوظات کی ۱۰ جلدیں اس کے علاوہ ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کے یہ پاک کلمات محبت الٰہی اور عشق رسولﷺ کی سرزمین میں بوئے گئے۔ دعاؤں اور آنسوؤں نے ان کونپلوں کو سینچا۔ نصرت باری تعالیٰ کی ہوائیں ان کو ہلکورے دیتی رہیں۔ فرشتوں کے نزول نے ان کو بابرگ وبار کیا۔ وحی و الہام کے آسمانی محافظوں نے ہر شیطانی حملے کا رخ پھیر دیااور پھر یہ چھوٹا ساپوداایک تنا ور درخت بن گیا جس پر آج دنیا کے ہرخطے اور ہر رنگ و نسل کے پرندے خدا کی حمد اور محمدمصطفی ﷺ کی عظمت کے ترانے بلند کرتے ہیں۔

کسر صلیب کا اسلحہ

حضور ؑنے فرمایا: میں زور سے اور دعوے سے کہتا ہوں کہ جس کسر صلیب کا بخاری میں وعدہ تھا اس کا پورا سامان مجھے عطا کیا گیا ہے۔(تریاق القلوب جلد ۱۵ صفحہ ۱۶۸)

۱۔ آپؑ کی ۸۸؍کتب ہی اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺکی عظمت کا اعلان ہیں مگر ۱۷ کتب کا مرکزی موضوع ہی عیسائیت ہے جن سے آپؑ نے کسر صلیب کا کام لیا۔ مندرجہ ذیل کتب خصوصیت سے قابل مطالعہ ہیں: ازالہ اوہام، جنگ مقدس، چشمه ٔمسیحی، راز حقیقت، مسیح ہندوستان میں، کتاب البریہ، ستارۂ قیصریہ، تحفہ ٔقیصریہ، سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، انجام آتھم، نور الحق

۲۔ آپؑ نے الہام الٰہی سے مسیح ؑکی وفات اور اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا۔

۳۔ عقلی اور نقلی دلائل سےمسیح کی خدائی کی نفی کرکے عیسائیت کے عقیدۂ اُلوہیت مسیح، کفارہ اور تثلیث کو باطل کردیا۔

۴۔ مسیح کی صلیبی موت کے خلاف قرآن کریم اور انجیل سے دلائل کا انبار لگا دیا۔ مرہم عیسیٰؑ کو بھی مضبوط طبّی شہادت کے طور پر پیش کیا۔ ۵۔ آپؑ نے دعویٰ کیا کہ مسیح صلیب کی لعنتی موت سے بچ کر اپنے مشن کی تکمیل کے لیے کشمیر چلے گئے اور وہاں ۱۲۰ سال کی عمر میں وفات پائی۔ قرآن و حدیث، ہندومت، بدھ مت، طبی اور تاریخی کتب کی مددسے سورج چڑھادیا (دیکھیئے مسیح ہندوستان میں۔ راز حقیقت)

۶۔ عیسائی پادری عبد اللہ آتھم کے ساتھ مناظرہ کر کے عبرت ناک شکست دی اور آخر پر خدا سے نشان طلب کیا جس کے نتیجہ میں وہ بالآخر حضورؑ کی زندگی میں موت کا شکار ہوا۔

۷۔ امریکہ میں عیسائیت کا نمائندہ اور مدعی مسیحیت ڈاکٹر ڈوئی zion میں آپ کی پیشگوئی کے مطابق فالج کا شکار ہو کر بے نشان ہو گیا۔

۸۔ حکومتی سطح پر عیسائیت کی محافظ، انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ کو۱۸۹۳ء میں خط لکھ کر دعوت اسلام دی آپؑ نے ۱۸۹۷ء میں ملکہ وکٹوریہ کی ۶۰ سالہ جوبلی کے موقع پر تحفۂ قیصریہ کے نام سے ایک پیغام تحریر فرمایا جس میں اسے دعوت اسلام دیتے ہوئے لندن میں جلسہ مذاہب عالم کرنے کی تجویز دی۔ اس کتاب کے نسخے آپؑ نے وائسرائے ہند اور گورنر پنجاب کو بھی ارسال کئے۔ دو سال بعد آپ نے ۱۸۹۹ء میں پھر ستارۂ قیصریہ کے نام سے اسلام کا پیغام ملکہ کو پہنچا یا۔ ۲۰۱۲ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ نے ملکہ الزبتھ کی ۶۰؍سالہ جوبلی پر یہ کتاب پھر چھپوا کر ملکہ کو ارسال کی۔

۹۔ مسیحؑ کی خدائی کا اعلان کرنے والے مغربی عیسائی پادریوں کو دجال ثابت کیا اور اسی قوم کو سیاسی اور سائنسی طاقت کے اعتبار سے یاجوج ماجوج قرار دیا جن کا مقابلہ مسیح موعود نے کرنا تھا۔

۱۰۔ قرآن کی جن آیات سے پادری مسیحؑ کی خدائی اور سارے نبیوں پر ان کی افضلیت کا دعوٰی کرتے تھے ان کی درست تفسیر کی۔

۱۱۔ عیسائی قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی ذات اور کردار پر جو اعتراض کرتے تھے ان کا ایک ایک کر کے جواب دیا۔ ضعیف روایات اور من گھڑت کہانیوں کی حقیقت ثابت کی۔

اہم کتب اورانعامی چیلنج

۱۔ مرتدین از اسلام پادریوں میں سے ایک پادری عمادالدین نے ایک کتاب بعنوان توزین الاقوال لکھی جو نہایت دل آزار اور اشتعال انگیز تھی۔ مسیح موعودؑ نے اس کے جواب میں رسالہ نور الحق حصہ اوّل عربی میں لکھا اور پادری مذکور کے جملہ اعتراضات کے مدلّل اور مسکت جوابات دیے۔

یہ مرتدین از اسلام پادری لوگ اپنا مولوی اور علماء اسلام میں سے ہونا مشہور کرتے تھے اور اسی وجہ سے انگریز پادریوں کی نظر میں عزت سے دیکھے جاتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے جواب میں یہ کتاب عربی زبان میں لکھی اور ان کو چیلنج کیا کہ اگر وہ اس دعویٰ میں سچے ہیں کہ وہ عالم ہیں اور عربی زبان جانتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں عربی زبان میں ایسی ہی کتابیں لکھیں اور آپؑ نے ان پادریوں کے نام بھی اس کتاب میں درج کر دیے۔ اور ان کے لیے پانچ ہزار درہم مروجہ کا انعام دینے کا وعدہ فرمایا۔ (ماخوذ از نور الحق، روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۲۶۰)

۲۔ ایک پادری صاحب نے ۱۳؍مارچ ۱۸۸۲ء کے پرچہ نورافشاں میں یہ سوال پیش کیا کہ کتاب مقدس میں کیا نہ تھا کہ قرآن یا صاحب قرآن لائے اور قرآن کن کن امروں اور تعلیمات میں انجیل پر فوقیت رکھتا ہے۔ ایک عربی رسالہ ’’عبدالمسیح بن اسحاق الکندی” اسی غرض سے لکھا گیاکہ تا انجیل کی ناقص اور آلودہ تعلیم کو سادہ لوحوں کی نظر میں قابل تعریف ٹھہرایا جاوے۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ ؑکی غیرت جوش میں آئی اور آپؑ نے چیلنج کیا کہ قرآن کریم کی تعلیم سے ایک ذرہ کا ہزارم حصہ نقص نکالنے یا قرآن کریم کے بالمقابل کسی دوسری الہامی کتاب سے کسی ایسی خوبی کے پیش کرنے پر جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو تو آپؑ سزائے موت قبول کر لیں گے۔ (ماخوذ از براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۹۸)

۳۔ آپؑ نے فرمایا کہ قرآن کریم درحقیت معجزہ عظیمہ ہے جس کا مقابلہ نہ کوئی آر یہ کر سکتا ہے نہ کوئی عیسائی اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی اور شخص جو کسی مذہب کا پابند ہے۔ اس جگہ بید سراسر بے ثمر ہے اور توریت و انجیل سراسر بے اثر۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا جو قرآن شریف نے کیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے:قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَلَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا۔ (بنی اسرائیل: ۸۹) یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر سب جنّ وانس اس بات پر متفق ہو جائیں کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے تو ممکن نہیں کہ کر سکیں۔ اگر چہ بعض بعضوں کی مدد بھی کریں۔ (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۴ ،۲۷۵)

۴۔ حضرت مسیح موعودؑ نے کتاب چشمہ مسیحی مارچ ۱۹۰۶ء میں ایک عیسائی کی کتاب ینابیع الاسلام کے جواب میں تصنیف فرمائی، جس نے قرآن کریم پر اعتراض کیے تھے۔ حضور اقدسؑ نے جواباً اس کتاب میں اناجیل کی حقیقت اور تاریخ بیان کی ہے اور فرمایا ہے کہ قرآن کریم ایک زندہ معجزہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس میں جو گذشتہ خبریں اور قصے ہیں وہ بھی اپنے اندر پیشگوئی کا رنگ رکھتے ہیں۔ اور پھر اس کی فصاحت و بلاغت بھی ایسا معجزہ ہے کہ آج تک کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکا۔

۵۔ پادری عماد الدین اور بعض دیگر عیسائی پادریوں نے قرآن کریم کی بلاغت پر اعتراض کئے۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے پادری عمادالدین کو عوام کی موجودگی میں کسی قصہ کو عربی زبان میں بیان کرنے پر پچاس روپے انعام دینے کا چیلنج دیا۔ (ماخوذ از براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۴۳۴)

۶۔ ۱۸۹۹ء میں لارڈ کرزن کے چہیتے اور دلی کے پُرجوش مسیحی پادری جارج الفریڈ لیفرائے کو لاہور کا بشپ بنا دیا گیا۔ یہ صاحب مذہبی تبلیغ میں جارحانہ پالیسی کے قائل اور عبرانی، فارسی اور اردو کے عالم تھے۔ انہوں نے وسیع پیمانے پر لیکچروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ۱۸؍مئی ۱۹۰۰ء کو انہوں نے معصوم نبی کے موضوع پر تقریر کی اور رسول کریم ؐکو گناہ گار قرار دیا۔ تقریر کے بعد حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ  کھڑے ہو گئے اور ایک ایک اعتراض کا جواب دیا۔ ۲۵؍جون ۱۹۰۰ء کو انہوں نے زندہ رسول پر لیکچر کا اعلان کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس سے پہلے ہی ایک مضمون لکھ کر شائع کردیا اور پادری صاحب کی تقریر کے بعد مفتی محمد صادق صاحبؓ نے پڑھ کر سنا دیا جس میں تمام اعتراضوں کے جواب موجود تھے اور سب نے اقرار کیا کہ آج اسلام کی عزت انہوں نے رکھ لی ہے (الحکم ۱۴؍مئی ۱۹۰۸ء)اسی دن حضورؑ نے ایک اور اشتہار دیا کہ اعلیٰ اخلاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح ؑکی افضلیت میں مباحثہ کرلیں۔ (مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۲۶۰)مگر پادری صاحب نے انکار کر دیا۔ (تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۹۵)

۷۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ۱۸۹۸ء میں خدا تعالیٰ سے خبر پا کر ہندوستان میں طاعون پھیلنے کی پیش گوئی کی اور یہ بھی فرمایا کہ چونکہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے اس لیے اللہ تعالی قادیان کو عمومی طور پر اور احمدیوں کو خاص طور پر خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یہ دعوت دی کہ اگر وہ اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں تو اپنے مذہب کے مرکز کے طاعون سے بچے رہنے کی پیش گوئی کریں۔ چنانچہ آپؑ نے فرمایا کہ آریہ لوگ بنارس کی نسبت پیش گوئی کریں اور سناتن دھرم والوں کو چاہیے کہ امر تسر وغیرہ کی نسبت پیش گوئی کریں اور عیسائیوں کو چاہیے کہ کلکتہ کی نسبت پیش گوئی کریں کیونکہ بڑا بشپ کلکتہ میں رہتا ہے اسی طرح آپؑ نے مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کو بھی چیلنج دیا مگر کسی کو یہ ہمت نہیں ہوئی اور آپؑ نے فرمایا کہ ایک دن آنے والا ہے کہ قادیان سورج کی طرح چمک کر دکھلائے گا کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے۔ (ماخوذ از دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۳۰ ،۲۳۱)

۸۔ حضرت مسیح موعودؑ نے رسول اللہ ﷺکی برکت سے علم غیب پانے کا دعوی کیا اور فرمایا کہ میں یہ بات حتمی وعدہ سے لکھتا ہوں کہ اگر کوئی مخالف خواہ عیسائی ہو خواہ بگفتن مسلمان۔ میری پیشگوئیوں کے مقابل پر مسیح کی پیشگوئیوں کو صفائی اور یقین کے مرتبہ پر زیادہ ثابت کر سکے تو میں اس کو نقد ایک ہزار روپیہ دینے کو تیار ہوں۔ (ماخوذ از تذكرة الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۳)

۹۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اعلان فرمایا کہ مخالفین اسلام قادیان آکرایک سال تک میری صحبت میں میرے خرچ پر رہیں اور نشان دیکھیں اور میں نشان نہ دکھا سکوں تو ۲۰۰ روپیہ ماہوار جرمانہ دوں گا۔ پھر آپؑ نے یہ مدت کم کر کے ۴۰؍دن کر دی اور عیسائیوں اور آریوں کو نام بنام دعوت دی کہ اگر نشان نہ دکھایا تو ۵۰۰ روپے بلا توقف دوں گا۔ (ماخوذ از سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۰۹)

۱۰۔ حضورؑ کے اس چیلنج کے بعد ایک عیسائی عالم میاں فتح مسیح ۱۸؍اگست ۱۸۸۸ء کو بٹالہ میں حضورؑ سے ملا اور کہا کہ خدا مجھ سے بھی ہمکلام ہوتا ہے اس لیے میں پیشگوئیوں میں آپؑ سے مقابلہ کے لیے تیار ہوں۔ طے پایا کہ ۲۱؍مئی ۱۸۸۸ء کو دونوں اپنی الہامی پیشگوئیاں پبلک کے سامنے پیش کریں گے مگر وقت مقررہ پر وہ اپنے دعویٰ سے مکر گیا۔ اس پر حضورؑ نے ایک اور اشتہار شائع کر کے اس علاقہ کے ایک معزز یورپین پادری وائٹ بریخت صاحب کو دعوت دی کہ اگر وہ یہ اقرار کر لیں کہ الہامی طاقت عیسائی گروہ سے مسلوب ہے تو ہم ان سے کوئی پیشگوئی طلب نہیں کریں گے اور ان کے سامنے ایسی الہامی پیشگوئیاں پیش از وقوع پیش کریں گے جن کی نسبت کسی طور کا شک کرنے کی گنجائش نہ ہو۔ اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو فوری طور پر ۲۰۰ روپے نقد ادا کریں گے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۴۸)

مگر پادری صاحب نے اسے قبول نہ کیا۔ پھر حضورؑ نے ایک اور چیلنج دیا کہ پادری صاحب اعلان کریں کہ ان کے ایک بند لفافہ کا مضمون دس ہفتہ میں مسیح موعود بتادیں تو وہ مسلمان ہو جائیں گے ورنہ ۱۰۰۰ روپے جرمانہ دیں گے اور اگر حضورؑ نہ بتا سکے تو دعویٰ الہام سے دستبردار ہو جائیں گے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۵۲)

۱۱۔ حضورؑ نے اپنی کتاب سراج منیر میں اپنی پوری ہونے والی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے مؤکّد بعذاب قسم کھائی اور مخالفین کو بھی یہ چیلنج کیا۔ (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ۶۳)

۱۲۔ حضورؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوتے ہی ۱۸۸۵ء میں اشتہارات کے ذریعہ عالمگیر نشان نمائی کا اعلان کیا تھا اور دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں اور مذہبی راہنماؤں کو اپنے پیغام سے مطلع کیا۔ یہ دعویٰ کروڑ ہا مخالفوں کے سامنے کیا گیا اور تیس ہزار کے قریب اشتہارات تقسیم کئے گئے۔ اور آٹھ ہزار انگریزی اشتہار اور خطوط انگریزی رجسٹری کرا کر ملک ہند کے تمام پادریوں اور پنڈتوں اور یہودیوں کی طرف بھیجے گئے اور پھر اس پر اکتفا نہ کر کے انگلستان اورجرمنی اور فرانس اور یونان اور روس اور روم اور دیگر ممالک یورپ میں بڑے بڑے پادریوں اور شہزادوں اور وزیروں کے نام روانہ کئے گئے۔ چنانچہ ان میں سے شہزادہ پرنس آف ویلز ولی عہد تخت انگلستان اور ہندوستان، اور گلیڈ سٹون وزیر اعظم اور جرمن کا شہزادہ بسمارک ہے۔ چنانچہ تمام صاحبوں کی رسیدوں سے ایک صندوق بھرا ہوا ہے۔ (ماخوذ از مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ ۶۴۹)

اس میں یہ اعلان کیا گیا کہ میں اس زمانہ میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں اور ان کی سچائی کے نشان اگر کسی نے دیکھنے ہوں تو قادیان ا کر میری صحبت میں رہیں۔ اگر ایک سال تک آپ نے کوئی آسمانی نشان نہ دیکھا تو ۲۰۰ روپیہ ماہوار کے حساب سے جرمانہ دیا جائے گا۔ اگر کوئی خود نہیں ا ٓسکتا تو اپنا نمائندہ بھی بھیج سکتا ہے شرط صرف یہ ہے کہ نشان دیکھنے کے بعد اسلام قبول کرنا ہو گا۔ حضوؑر نے فرمایا کہ ہم تمام آنے والوں کی مہمانوں کی طرح خدمت کریں گے۔ (مکتوبات احمد جلد ا صفحہ۱۰۵)پادری سوفٹ میدان میں آنے لگا، چند ناجائز شرطیں لگائیں اور جب پوری کی گئیں تو بھاگ گیا۔ اس طرح عیسائیوں پر بھی حجت تمام ہو گئی

۱۳۔ حضورؑ نے ۱۸۹۳ء میں امرتسر میں ہونے والے مباحثہ جنگ مقدس میں عبداللہ آتھم کو بھی یہ دعوت دی کہ تم مسیح سے دعا کرو میں خدا سے دعا کرتا ہوں۔ اگر میں کوئی نشان دکھانے سے قاصر رہا تو ہر ایک سزا اپنے اوپر اٹھا لوں گا ۔ (ماخوذ از جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۱۳۸)

۱۴۔ حضورؑ نے ملکہ برطانیہ کو سال کے اندر نشان دکھانے کا چیلنج کرتے ہوئے فرمایا اگر میں نشان نہ دکھا سکا تو مجھے ملکہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دے دی جائے۔ (ماخوذ از تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ۲۷۶)

۱۵۔ حضورؑ نے ملکہ کو روحانی دنیا کا نادر تحفہ پیش کرتے ہوئے فرمایا: میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب حق نیت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے۔ اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے۔ ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی لے سکتا ہے۔ کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہےیہ ایک ایسا تحفہ ہے جو حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ انگلستان و ہند کی خدمت عالیہ میں پیش کرنے کے لائق ہے۔ (تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۷۳)

۱۶۔ حضورؑ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح ناصریؑ کے روحانی افاضہ کا مقابلہ کرتے ہوئے یورپ اور امریکہ کے تمام پادریوں کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا کے نشانوں اور پیشگوئیوں کے ظہور میں میرا مقابلہ کرو اور غالب آنے والے کا مذہب قبول کر لیا جائے۔ (ماخوذ از تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ۱۶۰)پھر فرمایا اگر عیسائیوں میں سے کوئی یہ ثابت کر دے کہ کہ یسوع کے نشان میرے نشانوں سے قوت اور تعداد میں بڑھے ہوئے ہیں تو میں ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ (ماخوذ از سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ۱۰۳)

۱۷۔ اگر کوئی عیسائی یا ہندو یا آریہ سادہ طور پر کسی اخبار میں یہ اقرار شائع کرے کہ وہ کوئی انسانی طاقت سے بالاتر نشان دیکھ کر مسلمان ہو جائے گا تو میں ایک سال کے اندر اسے نشان دکھانے کے لئے تیار ہوں۔ (ماخوذ ازتریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۴۰)اگر اس مقابلہ میں کوئی مجھ پر غالب آ گیا تو میں اپنی ساری جائداد اس کے حوالے کر دوں گا۔ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۳۴۸) فرمایا: مجھے دکھلایا اور بتلایا گیا اور سمجھایا گیا ہے کہ دنیا میں فقط اسلام ہی حق ہے اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ یہ سب کچھ بہ برکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تجھ کو ملا ہے اور جو کچھ ملا ہے اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔ اب اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی یا آریہ یا یہودی یا برہمو یا کوئی اور ہے اس کیلئے یہ خوب موقعہ ہے جو میرے مقابل پر کھڑا ہو جائے اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کے قریب ہوگی اس کے حوالہ کر دوں گا۔ (مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۹)

۱۸۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متعلق سابقہ انبیاء کی پیش گوئیاں بیان کرتے ہوئے یوحنا یعنی یحییٰ علیہ السلام کی یہ پیش گوئی بھی درج کی کہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے قوی تر ہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تمہیں روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔ (متی باب ۳ آیت ۱۱)اس پیشگوئی کو جو عیسائی حضرت مسیح پر چسپاں کرتے ہیں حضرت مسیح موعودؑ نے اس دعوی کو سراسر باطل اور بے بنیاد قرار دیا اور فرمایا کہ دائمی طور پر سچے طالبوں کو روح القدس اور آتش محبت سے بپتسمہ دینے والا آسمان کے نیچے صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور آپؑ نے اس کے لیے کئی قرآنی آیات اور دیگر دلائل پیش کیے حضور نے عیسائیوں کو چیلنج دیا کہ اگر اس کا مصداق حضرت مسیحؑ ہیں اور رسول اللہؐ نہیں ہیں تو چالیس دن تک کوئی پادری آپؑ کی صحبت اور رفاقت اختیار کرے اور روح القدس سے کوئی نشان دکھائیں تو وہ غالب ا ٓجائیں گے اور ہم اس کا اقرار کر لیں گے لیکن پھر حضورؑ نے فرمایا کہ یہ صحبت میں رہنا بھی ضروری نہیں ہے رسالہ سراج منیر سارا اسی مضمون پر مشتمل ہے۔ (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۸۴تا۲۸۷حاشیہ)

۱۹۔ پادری فتح مسیح نےحضر ت مسیح موعودؑ کو خط بھیجا اور اس میں رسول کریم ﷺپر گندے الزامات لگائے اور کئی سوالات کئے جن میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ اگر رسول کریم ﷺ گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہوتے تو گورنمنٹ ان سے کیا سلوک کرتی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حضورؑ نے فرمایا کہ قیصر روم جو رسول اللہ ﷺکے وقت میں عیسائی بادشاہ تھا اس نے کہا اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہو سکتی کہ میں اس عظیم الشان نبی کی صحبت میں رہ سکتا تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا سو جو قیصر روم نے کہا یقیناً یہ سعادت مند گورنمنٹ بھی وہی بات کہتی بلکہ اس سے بڑھ کر کہتی۔ اگر حضرت مسیؑح کی نسبت اس وقت کے کسی چھوٹے سے جاگیردار نے بھی یہ کلمہ کہا ہو جو قیصر نے رسول اللہﷺ کی نسبت کہا تو ہم آپ کو ہزار روپیہ نقد انعام دینے کے لیے تیار ہیں۔ (ماخوذ از نور القران نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۸۳،۳۸۲)

مباہلہ کے چیلنج

۱۔ ۱۸۹۳ء میں آپؑ نے عیسائی مناظر عبداللہ آتھم سے مناظرہ سے پہلے پادری مارٹن کلارک کو یہ تجویز بھی دی کہ مباحثہ کے علاوہ مباہلہ بھی ہونا چاہیے تاکہ حقیقت پوری طرح کھل جائے۔ (ماخوذ از جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶صفحہ۴۸)

۲۔ امریکہ میں ڈاکٹر ڈوئی نے ۱۸۹۹ء میں پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ حضورؑ نے اسے ۱۹۰۳ء میں مباہلہ کا چیلنج دیا۔ (ریویو آف ریلیجنز ستمبر ۱۹۰۲) ۱۹۰۳ء میں اس چیلنج کو پھر دہرایا۔ (اشتہار ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء)آخر وہ ۹؍مارچ ۱۹۰۷ء کو ذلت کے ساتھ رخصت ہوا۔

۳۔ عیسائی یہ پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ آتھم والی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو حضورؑ نے عیسائیوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور ۲ ہزار روپیہ انعام کا اعلان بھی کیا۔ (انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳۲)

عالمی کسر صلیب

عام مسلمان گو مسیحؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے مگر مسیحؑ کو آسمان پر زندہ مان کر اس کی طرف خدائی صفات منسوب کرتے ہیں اور عیسائیوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں اور صلیبی نظام کو تقویت دیتے ہیں اس لیے حضرت مسیح موعودؑ نے کُل دنیا کے مسلمانوں کو اپنے سچے عقائد اور دربار الٰہی میں قبولیت کا مطالعہ کرنے کا غیر معمولی چیلنج کیا ہے ۔ فرمایا: ’’میں بڑے اطمینان اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر میری ساری قوم کیا پنجاب کے رہنے والے اور کیا ہندوستان کے باشندے اور کیا عرب کے مسلمان اور کیا روم اور فارس کے کلمہ گو اور کیا افریقہ اور دیگر بلاد کے اہل اسلام اور اُن کے علماء اور اُن کے فقراء اور اُن کے مشائخ اور اُن کے صلحاء اور اُن کے مرد اور اُن کی عورتیں مجھے کا ذب خیال کر کے پھر میرے مقابل پر دیکھنا چاہیں کہ قبولیت کے نشان مجھ میں ہیں یا اُن میں۔ اور آسمانی دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا اُن پر…تو بہت جلد اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ خاص فضل اور خاص رحمت جس سے دل مورد فیوض کیا جاتا ہے اس عاجز پر اس کی قوم سے زیادہ ہے۔ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۷۸، ۴۷۹)

پھر تمام مذاہب عالم کو مخاطب کر کے فرمایا: اب اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی یا آر یہ یا یہودی یا برہمو یا کوئی اور ہے اس کیلئے یہ خوب موقعہ ہے جو میرے مقابل پر کھڑا ہو جائے اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تو میں اللہ جل شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کے قریب ہوگی اس کے حوالہ کردوں گا یا جس طور سے اس کی تسلی ہو سکے اسی طور سے تاوان ادا کرنے میں اس کو تسلی دوں گا میرا خدا واحد شاہد ہے کہ میں ہرگز فرق نہیں کروں گا اور اگر سزائے موت بھی ہو تو بدل و جان روا رکھتا ہوں۔ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۷۶)

انجیل میں صعود مسیح کی الحاقی آیات

حضرت مسیح موعودؑ نے ۱۸۹۰ء میں وفات مسیح ؑ کا انقلاب آفریں اعلان فرمایا۔ ۱۸۹۵ء میں حضورؑ نے حضرت مسیح ؑ کے سفر کشمیر کا انکشاف فرمایا اور انہی سالوں کے لگ بھگ اللہ تعالی کی طرف سے مسلسل ایسے دلائل اور ثبوت ظاہر ہوتے رہے جن سے آپؑ کا یہ دعوی ثابت ہوتا رہا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارے ثبوت فراہم کرنے والے خود عیسائی اور غیر مسلم محققین ہیں۔

ان دلائل کا ایک تعلق انجیل کی ان آیات سے ہے جن میں مسیح ؑ کے آسمان پر جانے کا ذکر ہے۔ یاد رہے کہ انجیل کے چار مشہور مروجہ نسخوں یعنی متی۔ لوقا۔ مرقس اور یوحنا میں سےصرف دو نسخوں میں صعود مسیح یعنی آسمان پر جانے کا ذکر ہے۔ انجیل مرقس میں واقعہ صلیب کے بعد مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر باب۱۶ کی آخری آیات میں ہے۔ ان میں لکھا ہے کہ غرض خدا وند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف بیٹھ گیا۔ (مرقس باب ۱۶۔ آیت ۱۹) اور انجیل لوقا کے آخر میں ہے: اور جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ ان سے جدا ہو گیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔ (لوقا باب ۲۴ آیت ۵۱) انجیل متی اور انجیل یوحنا اس بارہ میں بالکل خاموش ہیں۔

مرقس اور لوقا کی مذکورہ آیات پر صعود مسیح کی بنیاد رکھی جاتی ہے مگر مسیح موعودؑ کے دعویٰ وفات مسیح کے قریب زمانہ میں انجیل مرقس اور لوقا کے ایسے نسخے دریافت ہونے لگے جن میں سے معلوم ہوا کہ مسیحؑ کے آسمان پر جانے والی آیات اصل قدیم نسخوں میں موجود نہیں بلکہ بعد میں اضافہ کی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں انجیل مرقس کے چار نسخے خصوصیت سے قابل ذکر ہیں: ۱۔ نسخہ سینا۔ ۲۔ نسخہ ویٹیکن۔ ۳۔ قدیم سریانی کا بہترین نسخہ۔ ۴۔ قدیم ترین لاطینی ترجمہ۔

ان سب نسخوں میں متعلقہ آیات موجود نہیں۔ انجیل لوقا کے قدیم اور معتبر ترین نسخے بھی آسمان والی آیات سے خالی ہیں مثلاً نسخہ بیزائی۔ چنانچہ قدیم مخطوطات انجیل کے پیش نظر عہدنامہ جدید کے مختلف تراجم میں مرقس اور لوقا کی آخری آیات میں یا تو آسمان پر جانے والا ذکر حذف کر دیا گیا ہے یا ان آیات پر یہ نوٹ دیا گیا ہے کہ یہ آیات پرانے مستند نسخوں میں نہیں پائی نہیں جاتیں۔ (تفصیلی حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو رسالہ موازنہ مذاہب فروری ۲۰۱۹ صفحہ ۶۱ تا ۸۶)

حضرت مسیح موعودؑ نے کیا سچ فرمایا تھا: ضرور تھا کہ آسمان ان امور اور شہادتوں اوران قطعی اور یقینی ثبوتوں کو ظاہر نہ کرتا جب تک کہ مسیح موعود دنیا میں نہ آتا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اور اب سے جو وہ موعود ظاہر ہوا ہر ایک کی آنکھ کھلے گے اور غور کرنے والے غور کریں گے کہ خداکا مسیح آ گیا۔ (مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۶۴)

احرار یورپ کا مزاج

حضرت مسیح موعودؑ کے دلائل اور پر زور نشانوں کے نتیجہ میں بہت سےغیر مسلم محققین مسیحؑ کی صلیبی موت سے نجات اور کشمیر میں آمد کے قائل ہو چکے ہیں۔ بے شک یہ عیسائیت کی اسلام کی طرف واپسی کا پہلا قد م ہے مگر معمولی نہیں اور کبھی ساری قوم مسیحؑ کی خدائی کو چھوڑ کر خدائے واحد کو قبول کرے گی۔ ذیل میں چند محققین اور ان کی کتابوں کا ذکر کیا جا تا ہے۔

۱۔جرمن مذہبی محقق Holger kresten واضح طور پر حضرت عیسیٰؑ کے صلیب سے بچنے اور کشمیر میں وفات کے حامی ہیں( Jesus Lived in India (1983)

۲۔امریکی محققہ Suzanne Ollsson بھی اسی نظریہ کی حامی ہیں۔ انہوں نے روضہ بل اور کشمیری روایات پر دہائیوں تحقیق کی ہے Jesus in Kashmir) )

۳۔ موازنۂ مذاہب کے مشہور ہسپانوی سکالر فیبر قیصر (A.Faber Kaiser)قبر مسیح کی تحقیق کے لیے خود کشمیر گئے اورانتہائی محنت و قابلیت سے قابل قدر تاریخی معلومات فراہم کرکے ایک ضخیم کتاب شائع کی جس کا نام ہی یہ رکھا کہJesus Died in Kashmir یعنی یسوع کشمیر میں فوت ہوئے ۔

۴۔امریکی مصنف Levi H. Dowling نے حضرت عیسیٰؑ کے مشرقی سفر کا ذکر کیا (The Aquarian Gospel of Jesus the Christ)

۵۔ امریکی مذہبی مصنفہ Elizabeth Clare prophet نے ہندوستان اور تبت میں حضرت عیسیٰؑ کے قیام کے امکان کی حمایت کی (The Lost Years of Jesus)

۶۔امریکی محقق Keith Akers حضرت عیسیٰؑ کے متعلق متبادل تاریخی نظریات کا جائزہ لیتے ہیں Lost Religion of Jesus

۷۔ ہندو فلسفی Swami Abhedananda نے لداخ اور تبت والی روایات کا جائزہ لیا اور روسی سیاح Nicolas Notovitch کے بعض دعووں کو تقویت دی جس میں حضرت عیسیٰؑ کے ہندوستان میں قیام کی روایت پیش کی گئی تھی (The Unknown Life …….of Jesus Christ (1894) Journey into Kashmir andTibet

۸۔ روسی مہم جو Nicolas Roerich نے ہمالیائی علاقوں میں رائج روایات نقل کیں۔ ( Altai-Himalaya)

حضرت مسیح موعودؑنے ۱۸۹۱ء میں وفات مسیح کا اعلان کیا اورلندن میں ۱۹۷۸ء میں کسرصلیب کانفرنس میں برطانیہ، سپین چیکو سلواکیہ اوربھارت کے مسلمان اور عیسائی محققین نے مسیح ؑکی صلیبی موت سے نجات اور کشمیرمیں وفات کا برملا اعلان کیا۔

مسلمان دانشوروں کا اقرار

دورحاضر میں بہت سے عرب زعماء حضرت مسیحؑ کی طبعی وفات کے قائل ہوچکے ہیں۔ السید محمد رشید اور السید عباس محمود العقاد نے تسلیم کیا کہ عقلی، نقلی اور تاریخی اعتبار سے سرینگرکے محلہ خانیار میں واقع مقبرہ حضرت مسیح علیہ السلام ہی کا ہے۔ (تفسیر المنار جلد۶ص۴۳ناشردارالمعرفہ بیروت۔ حیاة المسیح فی التاریخ و کشوف العصر صفحہ ۲۵۶,۲۵۵ ناشر دارالکتاب ا لعربی بیر وت ۱۹۶۹ء)اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند مسلم زعما کے اعترافی بیان بھی درج کر دیے جائیں۔ جن میں مسیح موعودؑ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

حافظ نور محمد نقشبندی چشتی اپنے شائع کردہ قرآن کے دیباچہ میں صفحہ ۳۰ پر لکھتے ہیں کہ اسی زمانہ میں پادری لیفرائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ …تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰؑ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسیٰؑ کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔ پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو۔ اس ترکیب سے اس نے لیفر ائے کو اتنا تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی

مشہور مفکر اور دانشور ابو الکلام آزاد عیسائیت پر مسیح موعودؑ کے حملوں کا اثر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عیسائیت کا دھواں طلسم ہو کر اڑنے لگا۔ غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا۔ (اخبار وکیل امرتسر۔ مئی ۱۹۰۸ – بحوالہ، بدر قادیان ۱۸ جون ۱۹۰۸)

بر صغیر کے ایک اور نامور ادیب اور محقق مرزا حیرت دہلوی نے لکھاکہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔ جو بے نظیر کتابیں آریوں اورعیسائیوں کے مذاہب کے رد میں لکھی ہیں اور جیسے دندان شکن جواب مخالفین اسلام کو دیے گئے، آج تک معقولیت سے ان کا جواب الجواب ہم نے تو نہیں دیکھا۔ اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ سارے ہند میں اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔ (اخبار ’کر زن گزٹ‘یکم جون ۱۹۰۸ء)

ایک اور عظیم چیلنج

الغرض حضرت مسیح موعودؑ نے اپنا کام سر انجام دیا۔ عیسائیت کے من گھڑت اور خود ساختہ عقائد پر کاری ضرب لگائی اور سچے مسیح کا بول بالا کیا۔ اب عیسائیت ایک مذہب نہیں، ایک قوم ہے، ایک کمیونٹی ہے، ایک طاقتور گروپ ہے۔ اس کی تعلیم پر کون عمل کرتا ہے۔ اس کی مذہبی اور اخلاقی اقدار کہاں ہیں۔ اس کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے اور کسی وقت دھڑام سے زمین پر آ گرے گی۔ مسیح موعودؑ کا ۱۳۰ سال پہلے کاچیلنج آج بھی للکار رہا ہے۔

اٹھو عیسائیو! اگر کچھ طاقت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے بیشک ذبح کر دو۔ ورنہ آپ لوگ خدا کے الزام کے نیچے ہیں۔ اور جہنم کی آگ پر آپ لوگوں کا قدم ہے۔ والسلام على من اتبع الهدى۔ الراقم میرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ۔ ۲۲ جون ۱۸۹۷ء۔ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب۔ روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ ۳۷۴)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: سیرالیون کا ایک اور دیوانہ : بلالِ احمدیت پا سعیدو بنگورا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button