الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی نظر میں عظیم سائنسدان سر آئزک نیوٹن کا مقام
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۷؍اپریل۲۰۱۴ء میں مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن (Isaac Newton) کے بارے میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے متفرق ارشادات میں سے خوبصورت انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ ان ارشادات کا خلاصہ ہدیۂ قارئین ہے:
(۱) حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ زندگی، وقت کے بامقصد مصرف کا نام ہے۔ چنانچہ نیوٹن کے ملازم نے بیان کیا کہ اُس نے نیوٹن کو کبھی سوئے ہوئے نہیں دیکھا۔ لوگ اس کو زبردستی کہیں تقریر کے لیے لے جاتے ورنہ وہ دن رات کام کرتا رہتا تھا۔ ہم رات کو سوتے تو وہ جاگ رہا ہوتا تھا۔ صبح ہم اٹھتے تو وہ اُٹھا ہوا ہوتا تھا۔ کتابوں اور تجربوں میں دن رات محو رہتا۔ ایسا کیوں تھا! وہ محض محنت نہیں کررہا تھا بلکہ اُس کو اِن چیزوں میں مزہ آرہا تھا اور یہی زندگی کے با لذّت ہونے کا نسخہ ہے۔ زندگی بامقصد ہوجائے تو لطف آنا شروع ہوجاتا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہے، تھک جائے گا لیکن اُس کو زندگی کے ہر اُس لمحے میں مزہ آرہا ہوتا ہے جو زندگی کے اس مقصد کی پیروی میں خرچ کرتا ہے۔ اس سے ہٹ کر زندگی کا جو لمحہ ہوتا ہے اس میں وہ Bore ہورہا ہوتا ہے۔ جیسے بعض لوگ مسجد میں جاکر بور ہوتے تھے اور رسول اللہ ﷺ مسجد سے نکل کر بور ہوتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ آپؐ کا دل مسجد میں اٹکا ہوتا تھا۔ جب کاموں سے فراغت ملتی تو مسجد میں جاکر دل لگ جاتا تھا۔ تو یہ صرف زاویہ نظر کے اختلاف کی بات ہے۔ کام اپنی ذات میں لذّت ہے اگر مقصد کے تابع ہوجائے۔ پس اپنی ہمّتوں کو بلند کریں۔ ایسے مضامین پڑھیں جو دماغوں کو انگیخت کریں مثلاً سائنسدانوں کی زندگیوں کے حالات ہیں۔ اُن کے حالات پڑھتے پڑھتے اللہ تعالیٰ آپ کے ذہن کی کھڑکیاں بھی ساتھ ساتھ کھول رہا ہوتا ہے۔ کئی جگہ آپ کی نظر مضمون سے ہٹ جائے گی اور خیال میں ایک اَور فلسفہ جنم لینے لگ جائے گا۔ اسی طرح نئی ایجادات پر پیپر پڑھیں، آپس میں تبادلۂ خیال کریں۔ (ماخوذ از خطاب ۱۴؍اکتوبر۱۹۸۲ء)
(۲) حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ فرماتے ہیں کہ انگریزی شاعری میں پوپ الیگزینڈر نے بہت عظمت حاصل کی ہے۔ کئی لوگوں نے پوپ پر مقالے لکھے ہیں اور پی ایچ ڈی کی ہے۔ پوپ۱۶۸۸ء میں پیدا ہوا اور ۱۷۴۴ء میں صرف ۵۶؍سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔ لیکن نیوٹن اُس سے بہت پہلے پیدا ہوا تھا اور اُس کی زندگی ہی میں فوت ہوا۔ اُس وقت پوپ کی عمر ۳۹؍سال تھی۔ پوپ نے نیوٹن کو ایسا خراج تحسین پیش کیا ہے کہ آپ سمجھیں گے مبالغہ ہے۔ اُس نے نیوٹن کے کتبے پر لکھنے کے لیے یہ شعر کہا:
Nature and Nature‘s Laws lay hid in night God said, Let Newton be and all was light.
قانون قدرت اور قانون قدرت کے راز رات کے اندھیرے میں لپٹے ہوئے تھے یعنی لاعلمی کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔ اور جیسا کہ بائبل میں آتا ہے کہ خدا نے کہا: روشنی ہوجا۔ اسی حوالے سے پوپ کا دماغ اس طرف گیا اور اُس نے یہ عظیم بات کہہ دی کہ خدا نے فرمایا: نیوٹن ہوجا۔ اور روشنی پھیل گئی۔
یہ اتنا عظیم مقولہ ہے کہ آج تک دنیا کے پردے پر کسی سائنسدان کو ایسا خراج تحسین پیش نہیں کیا گیا ہوگا اور واقعۃً یہ سچا ہے۔ دنیا کے اکثر بڑے بڑے سائنسدان روشنی سے اندھیرے کی طرف چلے جاتے ہیں لیکن نیوٹن وہ سائنسدان ہے جس نے اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر کیا اور روشنی کو پالیا۔ اس لیے اگر دنیا کے سائنسدانوں میں کسی کو حقیقت میں ولی اللہ کہا جاسکتا ہے تو وہ نیوٹن تھا۔ نیوٹن عیسائی تھا، بچپن سے تثلیث کا سبق اُس کو پڑھایا گیا مگر جوں جوں اُس نے خدا کے نُور سے روشنی حاصل کی، تثلیث سے بیزار ہوتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ اس کی توجہ بائبل کی طرف بھی منتقل ہوئی جبکہ وہ جانتا تھا کہ لازماً اصل میں یہ خدا کا کلام ہے تو بائبل کی تشریحات جو عیسائی دنیا تثلیث کے حق میں پیش کیا کرتی تھی، اُس نے انہی حوالوں کو تثلیث کے خلاف استعمال کیا اور وہی استنباط ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں علم کلام میں عطا کیا ہے۔ چنانچہ نیوٹن تثلیث سے کلیۃً بیزار ہوگیا اور اس کے نتیجے میں اعلان کیا کہ مَیں پہلے سے زیادہ اب خدا کی ہستی کا قائل ہوچکا ہوں اور حضرت عیسیٰؑ کی محبت بھی میرے دل میں جاگزیں ہوگئی ہے کیونکہ وہ موحد تھا اور ایک خدا کا پجاری تھی۔ اُس نے کبھی نہیں کہا کہ میری عبادت کرو۔
آج انگریز نیوٹن پر فخر کرتے ہیں لیکن بجا طور پر نہیں کرتے کیونکہ وہ نیوٹن جس پر فخر ہونا چاہیے تھا اس نیوٹن کو تو انہوں نے اُٹھاکر باہر پھینک دیا تھا۔
نیوٹن کو کیمبرج یونیورسٹی کے Trinity College میں اُس کے علم و فضل کے نتیجے میں پروفیسرشپ دی گئی اور وظیفہ بھی جاری ہوا۔ وہ دن رات لیبارٹری میں گزارتا۔ نیوٹن خود کہتا تھا کہ کوئی ایسا دن نہیں چڑھا کہ مَیں صبح اپنے بچوں کی آنکھ کھلنے سے پہلے اپنی لیبارٹری میں نہ پہنچا ہوں اور تب تک لیبارٹری سے باہر نہیں نکلا جب تک بارہ بجے کی آواز نہ سنی ہو۔ لیکن اُسے اس الزام کے نیچے ملازمت سے نکال دیا گیا کہ Trinity College کے تم پروفیسر بنے ہوئے ہو اور Trinity کے خلاف پرچار کررہے ہو جبکہ Trinity کے بغیر تو کائنات ہی نہیں ہے۔ تم کونسی کائنات کی بات کررہے ہو جس میں Trinity ہی نہیں ہے۔
نیوٹن نے ملازمت ختم ہونے کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اُس نے کہا کہ جو نُور مَیں نے حاصل کرنا تھا وہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کرلیا ہے۔ کیونکہ Trinity کا نُور تو دراصل اندھیرا ہے، جہالت ہے۔
پوپ الیگزینڈر کا فقرہ دوبارہ دیکھیں:
Let Newton be and all was light.
کہ نیوٹن کے ساتھ نور وابستہ ہوگیا۔ لیکن اس روشنی کو حاصل کرنے کے لیے اُس نے بےحد قربانیاں کیں۔ پروفیسرشپ کو اُتار پھینکا، غالباً ساٹھ پاؤنڈ اُس کا وظیفہ تھا جو بند ہوگیا۔ Trinity College کو چھوڑ دیا لیکن خدا کو نہیں چھوڑا۔ پس نیوٹن کے ذریعے ایسا علمی انقلاب آیا جس سے دنیاوی علوم کی روشنی بھی پھیل گئی اور روحانی علوم کی روشنی بھی پھیل گئی۔ نیوٹن اپنے بارے میں خود اقرار کرتا ہے کہ
“I do not know what I may appear to the world but to myself I seem to have been only a boy playing on the sea shore. Whilst the great ocean of truth lay all undiscovered before me.”
(Brewster‘s Memories of Newton IIXXIVII)
مَیں اپنی نظر میں تو اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے بچے کے طور پر دیکھتا ہوں جو علم کے سمندر کے ساحل پر کھیل رہا ہو۔ جبکہ عظیم الشان سچائی کا سمندر اُس کے سامنے دُور تک پھیلا پڑا ہو اور گہرائی میں اس کا کوئی اتھاہ نظر نہ آئے۔
چونکہ خدا اُس پر روشن ہوچکا تھا اس لیے اپنی علمی حیثیت اُس کی نظر میں سُکڑ گئی۔ مگر یہی اعلان اُس نے ببانگ دہل کیا ہے (اگرچہ اس آیت کا اُس کو علم نہیں تھا)کہ وَلَایُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ کہ اُس کے علم کا کوئی چیز احاطہ نہیں کرسکتی مگر جتنا وہ چاہے اور جسے وہ چاہے اُس کو اُتنا ہی احاطہ نصیب ہوگا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ مَیں علم کے سمندر کے ساحل پر ہی اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں جو اپنے دل بہلاوے کے لیے کبھی ایک ملائم پتھر ڈھونڈ لیتا ہے اور کبھی کوئی گھونگا تلاش کرلیتا ہے جو سمندر کی تہ میں بنا ہے اور اُس بچے کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کیسے بنا اور کیوں بنا اور اس کے جانور نے اس کو کیوں چھوڑ دیا۔ (ماخوذ از خطبہ جمعہ فرمودہ۱۹؍فروری۱۹۹۹ء)
………٭………٭………٭………
علمِ ہیئت کے بارے میں عظیم الشان پیشگوئیاں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِذَاالسَّمَآءُ کُشِطَتْ(التکویر:۱۲) یعنی ایک زمانہ آئے گا جب آسمان کی کھال اتاردی جائے گی (یعنی علم ہیئت میں حیرت انگیز ترقی ہوگی)۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۷؍اپریل ۲۰۱۴ء میں محترم ڈاکٹر حافظ صالح محمد الٰہ دین صاحب کا ایک علمی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں قرآن کریم کی پیشگوئیوں کی روشنی میں علم ہیئت میں ہونے والی عظیم الشان ترقیات پر طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔
گیلیلیو نے ۱۶۰۹ء میں دُوربین ایجاد کی تھی اور وہ ستاروں کی کثرت کو دیکھ کر دنگ ہوگئے۔ لیکن ان ستاروں کے فاصلے کا علم ہمیں پہلی بار قریباً دو سو سال قبل ہوسکا جب ۱۸۳۸ء میں پہلی بار ایک ستارے Cygni 61 کا فاصلہ معلوم کیا گیا جو دس نوری سال نکلا۔ یعنی اُس ستارے کی روشنی کو زمین تک پہنچنے کے لیے دس سال لگتے ہیں۔ (روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے)۔ یہ کارنامہ سائنسدان F.W.Bessel کا تھا۔
سورج ہم سے پندرہ کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اُس کی روشنی ہم تک صرف آٹھ منٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ اب تو ہم اتنی دُور دُور کے ستاروں کے فاصلے معلوم کرلیتے ہیں جہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے کے لیے اربوں سال لگتے ہیں۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: حضرت امام مہدی اُس وقت ظہور و خروج فرمائیں گے جب آفتاب کے ساتھ ایک نشانی بھی طلوع ہوگی۔ (بحارالانوار جلد۱۲صفحہ۱۱۶ مؤلف علامہ محمد باقر مجلسیؒ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیشگوئی درج کرکے تحریر فرمایا: ’’لکھا تھا کہ اُس وقت آفتاب میں ایک نشان ظاہر ہوگا چنانچہ اب تک ظاہر ہے اور دُوربین سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ۲۸۱)
۱۸۱۴ء میں ایک جرمن سائنسدان Fraunhofer نے سورج کی روشنی کو پھاڑ کر دیکھ لیا تھا کہ اس میں کتنے رنگ ہیں۔ یہ رنگ ایک پٹی کی شکل میں ترتیب سے ظاہر ہوتے تھے جسے Fraunhofer Spectrum کہا جاتا ہے۔ لیکن اس پٹی میں سیاہ لائنیں بھی نظر آتی تھیں جس کی وجہ وہ نہ جان سکا۔ اس بھید کو ۱۸۵۹ء میں ایک دوسرے جرمن سائنسدان Kirchoff نے پالیا کہ سورج کے گرد موجود فضا Chromosphere مخصوص قسم کی روشنی جذب کرلیتی ہے جس کے نتیجے میں سیاہ لائنیں نمودار ہوتی ہیں۔ اگرچہ قریباً تین ہزار سال سے لوگ سورج کی ایک ہی فضا سے واقف تھے جو Corona کہلاتی ہے۔ یہ سفید رنگ کی ہوتی ہے جو مکمل سورج گرہن کے وقت سورج کے گرد نظر آتی ہے۔ تاہم اب سورج کی وہ سطح جو ہم کو نظر آتی ہے وہ Photosphere کہلاتی ہے۔ اسی طرح سپیکٹرم کے ذریعے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ سورج کن عناصر کا بنا ہوا ہے۔ چنانچہ ۱۸۶۸ء میں سورج پر ہیلیم کی دریافت ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلیم کی زمین پر دریافت کئی سال بعد ۱۸۹۵ء میں ہوئی۔
بیسویں صدی میں ہمیں یہ بھی علم ہوا کہ آسمان پر بکھرے ہوئے ستارے ایک وسیع نظام میں پروئے ہوئے ہیں جسے کہکشاں (Galaxy) کہا جاتا ہے۔ ہماری گیلیکسی میں ایک کھرب کے لگ بھگ ستارے موجود ہیں جن میں سے ایک ستارہ ہمارا سورج بھی ہے۔ سورج کا اپنی کہکشاں کے مرکز سے فاصلہ تیس ہزار نوری سال ہے اور یہ اُس مرکز کے گرد اپنا ایک چکّر دو سو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ بیس کروڑ سال میں مکمل کرتا ہے۔ ہماری کہکشاں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک روشنی کو سفر کرنے کے لیے ایک لاکھ سال درکار ہوتے ہیں۔ قریباً ایک سو سال قبل مشہور سائنسدان Edwin Hubble نے دریافت کیا کہ کائنات میں اَور بھی کہکشائیں ہیں اور عموماً کہکشاؤں کے جھرمٹ یعنی Clauster of Galaxies بھی کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ ۱۹۲۹ء میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ جھرمٹ ایک دوسرے سے دُور ہوتے جارہے ہیں۔ اس تحقیق کو Hubble‘s Law کہتے ہیں۔ اس سے قرآن کریم کی یہ پیشگوئی سچی ثابت ہوئی کہ ’’ہم نے آسمان کو ایک خاص قدرت سے بنایا اور یقیناً ہم وسعت دینے والے ہیں۔‘‘ (الذاریات:۴۸)
اس تحقیق سے بِگ بینگ کے نظریے کو بھی تقویت ملتی ہے یعنی پہلے تمام کہکشاؤں کا مادہ ایک محدود جگہ پر انتہائی گرم اور کثیف حالت میں تھا جو عظیم دھماکے سے پھٹ کر کئی اجزا میں منقسم ہوگیا اور یہ اجزا مسلسل ایک دوسرے سے دُور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اس نظریے کی تصدیق ۱۹۶۵ء میں ہوئی جب ریڈیواسٹرانومی کے ذریعے ایک نئی ریڈی ایشن کا پتہ لگایا گیا۔ تاہم قرآن کریم نے یہ بتادیا تھا کہ ’’کیا انہوں نے نہیں دیکھا جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین دونوں مضبوطی سے بند تھے۔ پھر ہم نے اُن کو پھاڑ کر الگ کردیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ کیا اب بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے!‘‘ (الانبیاء:۳۱)
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ Big Bang کا واقعہ چودہ ارب سال پہلے کا ہے۔ تاہم ایک امریکی سائنسدان Harry L.Shipman لکھتے ہیں کہ بِگ بینگ کا نظریہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ کس نے اس مادہ کو پیدا کیا جو دھماکے سے پھٹا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دوسری دلیل خداتعالیٰ کی ہستی پر قرآن شریف نے خداتعالیٰ کا علّت العلل ہونا قرار دیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی (النجم:۴۳) یعنی تمام سلسلہ علل و معلولات کا تیرے ربّ پر ختم ہوجاتا ہے۔ … یہ تو جائز نہیں کہ اس محدود دنیا میں علل و معلول کا سلسلہ کہیں جاکر ختم نہ ہو اور غیرمتناہی ہو۔ تو بالضرورت ماننا پڑا کہ یہ سلسلہ ضرور کسی اخیر علّت پر جاکر ختم ہوجاتا ہے۔ پس جس پر اس تمام سلسلہ کی انتہا ہے وہی خدا ہے۔ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ آیت وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی اپنے مختصر لفظوں میں کس طرح اس دلیل مذکور بالا کو بیان فرمارہی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ انتہا تمام سلسلہ کی تیرے ربّ تک ہے۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد۱۰صفحہ۳۶۹)
قرآن کریم میں یہ صداقت بھی بیان ہوئی ہے کہ ہر چیز فانی ہے۔ (الرحمٰن:۲۷) نیز فرمایا: اجرام فلکی جو گھوم رہے ہیں صرف ایک وقت مقررہ تک ہی چلیں گے۔ (الرعد:۳)
سائنسدانوں کے نزدیک اس وقت زمین کی عمر کا اندازہ ساڑھے چار ارب سال ہے جبکہ سورج اور نظام شمسی کی عمر کا اندازہ پانچ ارب سال ہے۔ سورج کے اندر جو ہائیڈروجن جل کر ہیلیم میں تبدیل ہورہا ہے وہ قریباً پانچ ارب سال میں ختم ہوجائے گا جس کے بعد سورج کا حجم بہت بڑا ہوجائے گا اور اس کی شدید گرمی سے سمندر اُبل جائیں گے اور زمین پر زندگی ختم ہوجائے گی۔ پھر اگلے دَور میں سورج سکڑنا شروع کرے گا اور اس کی روشنی بھی بہت کم ہوجائے گی۔ اس قسم کا ستارہ White Dwarf کہلاتا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام (سورۃالرحمٰن آیات ۲۷ و ۲۸ کے حوالے سے) فرماتے ہیں: ’’ہر ایک چیز معرض زوال میں ہے اور جو باقی رہنے والا ہے وہ خدا ہے جو جلال والا اور بزرگی والا ہے۔ اب دیکھو کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ ایسا ہو کہ زمین ذرّہ ذرّہ ہوجائے اور اجرام فلکی بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور ان پر معدوم کرنے والی ایک ایسی ہوا چلے جو تمام نشان ان چیزوں کے مٹادے مگر پھر بھی عقل اس بات کو مانتی اور قبول کرتی ہے بلکہ صحیح کانشنس اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ اس تمام نیستی کے بعد بھی ایک چیز باقی رہ جائے جس پر فنا طاری نہ ہو اور تبدّل اور تغیّر کو قبول نہ کرے اور اپنی پہلی حالت پر باقی رہے۔ پس وہ وہی خدا ہے جو تمام فانی صورتوں کو ظہور میں لایا اور خود فنا کی دست برد سے محفوظ رہا۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد۱۰صفحہ۳۷۱)
………٭………٭………٭………
تمباکونوشی ترک کردی
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۷؍اپریل۲۰۱۴ء میں مکرم عنایت اللہ صاحب سابق امیرضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ بیان کرتے ہیں کہ مَیں ۱۹۵۳ء سے تمباکونوشی کا عادی تھا۔ یہ عادت اتنی بڑھ گئی کہ روزانہ چالیس سگریٹ پینے لگ گیا۔ حقّہ اس کے علاوہ تھا۔ اگرچہ شروع سے ہی خداتعالیٰ نے نماز اور تہجد کی ادائیگی کی توفیق بھی دے رکھی تھی۔ جب خاکسار کو ۲۰۰۰ء سے ضلع کی سطح پر مختلف خدمات کی توفیق عطا ہونے لگی تو تب بھی رات کے وقت سگریٹ کے پیکٹ سرہانے رکھ کر سوتا اور رات کو آنکھ کھلنے پر یا صبح اٹھنے پر پہلا کام سگریٹ سلگانا ہی ہوتا۔ ایک صبح آنکھ کھلی اور سگریٹ کی طلب ہوئی تو خیال آیا کہ اے بندے! سب سے پہلے تُو شیطان کی طرف توجہ دیتا ہے اور بعد میں رحمٰن کی طرف متوجہ ہوتا ہے، یہ تو بہت بُری بات ہے۔ پھر اُسی وقت تہیہ کرلیا کہ آئندہ تمباکونوشی نہ کروں گا چنانچہ ۳۰؍مارچ۲۰۰۰ء کا دن میرے لیے مبارک ثابت ہوا جس دن خداتعالیٰ نے مجھے اس لعنت سے چھٹکارا بخشا۔ اس کے نتیجے میں دیگر فوائد کے علاوہ صحت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہوئی ہے۔
………٭………٭………٭………
جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ مئی و جون ۲۰۱۴ء میں مکرم طارق احمد مرزا صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:
بےخُدا انسان آخر کیا کرے
بےلقاء وجدان آخر کیا کرے
جس طرف دیکھیں نظر آتا ہے وہ
دیدۂ حیران آخر کیا کرے
عقل نے تو کہہ دیا کہ ہوش کر
دل تو ہے نادان آخر کیا کرے
بیکراں دشتِ جنوں ، تنہا سفر
یہ سر و سامان آخر کیا کرے
دل تو منّت کشِ دوا ٹھہرا
دردِ بےدرمان آخر کیا کرے
آپ کا جی موہ لینے کے لیے
بندۂ بےجان آخر کیا کرے
مَر کے طارقؔ ہوگئے ہم تو اَمر
عِشق میں انسان آخر کیا کرے
مزید پڑھیں: قدرت کا ایک پیچیدہ نظامِ خوراک : گوشت خور پودا پیچر پلانٹ




