متفرق
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’بعض لوگ اپنا پیسہ، اپنی رقم معین منافع کی شرط کے ساتھ کسی کو دیتے ہیں کہ ہر ماہ یا چھ ماہ بعد یا سال بعد اتنا منافع مجھے ادا ہوگا۔تو یہ بھی سود کی ایک قسم ہے۔یہ تجارت نہیں ہے بلکہ تجارت کے نام پر دھوکہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سود کی جو تعریف فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ’’ایک شخص اپنے فائدے کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔‘‘ ایک اَور جگہ فرمایا یا کسی کو رقم دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے، تو فائدہ مقرر کرنا یا منافع مقرر کرنا سود کی شکل ہے۔آپؑ نے فرمایا: یہ تعریف جہاں صادق آوے گی، وہ سود کہلاوے گا۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵ جون ۲۰۰۷ء، مطبوعہ خطبات مسرور ،جلد ۵صفحہ ۲۴۸)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




