کلام حضرت مصلح موعود ؓ

مَیں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں

(منظوم کلام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ)

مَیں ترا دَر چھوڑ کر جاؤں کہاں
چینِ دل آرامِ جاں پاؤں کہاں

یاں نہ گر روؤں کہاں روؤں بتا
یاں نہ چِلّاؤں تو چِلّاؤں کہاں

تیرے آگے ہاتھ پھیلاؤں نہ گر
کس کے آگے ، اَور پھیلاؤں کہاں

جاں تو تیرے دَر پہ قرباں ہو گئی
سر کو پھر مَیں اور ٹکراؤں کہاں

کون غم خواری کرے تیرے سوا
بارِ فکر و حزن لے جاؤں کہاں

دل ہی تھا سو وہ بھی تجھ کو دے دیا
اب میں اُمیدوں کو دفناؤں کہاں

بڑھ رہی ہے خارشِ زخمِ نہاں
کس طرح کھجلاؤں۔ کھجلاؤں کہاں

کثرتِ عصیاں سے دامن تر ہؤا
ابرِ اشکِ توبہ برساؤں کہاں

(کلام محمود مع فرہنگ صفحہ ۱۴۶)

مزید پڑھیں: جنت کا ٹکڑا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button