امریکہ (رپورٹس)جلسہ سالانہ

تازہ ترین: ۴۸ویں جلسہ سالانہ کینیڈا کا تیسرا اور اختتامی دن

(محمد سلطان ظفر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل کینیڈا)

آج بتاریخ ۱۲؍جولائی۲۰۲۶ء بروز اتوار جماعت احمدیہ کینیڈا کے ۴۸ویں جلسہ سالانہ کا تیسرا اور اختتامی روز تھا۔ حسبِ معمول دن کا آغاز صبح چار بجے مقامی مساجد اور نماز سینٹرز میں نمازِ تہجد سے ہوا، جس کے بعد پونے پانچ بجے نمازِ فجر ادا کی گئی اور درس کا اہتمام کیا گیا۔ احبابِ جماعت صبح ہی سے جلسہ گاہ پہنچنا شروع ہوگئے اور کارکنان و رضاکاران اپنے اپنے شعبہ جات میں آخری روز کے انتظامات کو مکمل کرنے میں مصروف رہے۔

اختتامی اجلاس مکرم لال خان ملک صاحب امیر جماعت کینیڈا کی زیرصدارت تلاوتِ قرآن کریم سے شروع ہوا۔ حافظ راحت چیمہ صاحب نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیات ۲۴ تا ۲۹ کی تلاوت کی، جس کا انگریزی ترجمہ مکرم وجاہت اللہ خان صاحب نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم ناصر محمود احمد صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم سفیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام

خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار

جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر نثار

کے چند اشعار ترنم سے سنائے جن کا انگریزی ترجمہ مکرم زاہد چوہدری صاحب نے پیش کیا۔

اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم طاہر احمد صاحب، نیشنل ایڈیشنل سیکرٹری مال، نے ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کی مالی قربانیاں‘‘ کے عنوان پر کی۔

اس کے بعد علَمِ اِنعامی اور تقسیمِ اسناد کی تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ کینیڈا نے عَلمِ اِنعامی و اسناد تقسیم کیں۔

مجلس انصار اللہ کینیڈا کی طرف سے سال ۲۰۲۵ء کی بہترین مجالس اور ریجنز میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ مجلس انصار اللہ Peace Village West سال 2025ء کی بہترین مجلس قرار پائی اور علمِ انعامی کی حقدار ٹھہری۔ مجلس انصار اللہ Peace Village Centre West دوسری جبکہ مجلس انصاراللہ Emery Village تیسری پوزیشن پر رہیں۔

انصار اللہ کینیڈا کی چھوٹی مجالس میں سے مندرجہ ذیل مجالس نے سال ۲۰۲۵ء میں نمایاں کارکردگی پیش کی۔

  1. Guelph
  2. Kingston
  3. Burlington

انصار اللہ کینیڈاکے مندرجہ ذیل ریجنز نے سال ۲۰۲۵ء میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

  1. Peace Village Muqami
  2. Eastern Canada
  3. Toronto West

سال 2024-25ء کے لیے مجلس خدام الاحمدیہ Barrie Southعلمِ انعامی کی حقدار ٹھہری ہے۔ پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت منظوری فرمائی ہے کہ اس سال اکتوبر میں مجلس خدام الاحمدیہ یوکے، کے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضورِ انور کے دستِ مبارک سے عَلمِ اِنعامی وصول پائیں۔ مجلس خدام الاحمدیہ Weston Islington نے دوسری جبکہ مجلس خدام الاحمدیہ Guelph نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور قائدین مجلس نے مکرم امیر صاحب سے اسنادِ خوشنودی وصول کیں۔

مندرجہ ذیل ریجنز نے کینیڈا میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کیں اور ریجنل قائدین نے مکرم امیر صاحب سے اسناد وصول کیں۔

  1. Northern Ontario
  2. Eastern Ontario
  3. Halton-Niagara

سال 2024-25ء کے لیے مجلس اطفال الاحمدیہ Abode of Peace عَلمِ اِنعامی کی حقدار ٹھہری ہے۔ پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت منظوری فرمائی ہے کہ اس سال اکتوبر میں مجلس اطفال الاحمدیہ یوکے، کے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضورِ انور کے دستِ مبارک سے عَلمِ اِنعامی وصول پائیں۔ مجلس اطفال الاحمدیہ Weston Islington نے دوسری جبکہ مجلس اطفال الاحمدیہ Ottawa East نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور ناظمین اطفال نے مکرم امیر صاحب سے اسنادِ خوشنودی وصول کیں۔

مجلس اطفال الاحمدیہ کینیڈا کے مندرجہ ذیل ریجنز نے پہلی تین پوزیشنیں حاصل کیں اور ریجنل ناظمین اطفال الاحمدیہ نے ریجنل قائدین کے ہمراہ مکرم امیر صاحب سے اسنادِ خوشنودی حاصل کیں۔

  1. Simcoe
  2. GTA Central
  3. Western Brampton

مدرسہ حفظ القرآن کے زیر اہتمام اس سال ۷ طلباء نے قرآن کریم کو مکمل حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور آج مکرم امیر صاحب جماعت کینیڈا نے مکرم حافظ راحت احمد چیمہ صاحب کے ہمراہ انہیں اسناد سے نواز ا۔ ان حفاظ کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. حافظ مرزاعَفان احمد ولد ڈاکٹر طاہر احمد صاحب
  2. حافظ نُورالدین احمد چوہدری ولد مبین احمد صاحب
  3. حافظ اَفروز رَزّاق ولد عبدالرزاق منور صاحب
  4. حافظ تَمثیل احمد ولد مبین احمد صاحب
  5. حافظ فوزان علی سید ولد ظفر علی سید صاحب
  6. حافظ عِباداللہ (یو ایس اے) ولد سیمع اللہ دھاڑیوال صاحب
  7. حافظ عَطاء الوہاب (یوایس اے) ولد فاتح الدین صاحب

آخری دو حفاظ کو گذشتہ ہفتہ جلسہ سالانہ امریکہ کے موقع پر اسناد سے نوازا گیا تھا۔ مدرسہ حفظ القرٓن کینیڈا سے اب تک ۷۸ حفاظ قرآن کریم کو مکمل حفظ کرچکے ہیں۔ الحمدللہ۔

(یاد رہے کہ عائشہ اکیڈمی و گرلز حفظ القرآن اسکول کینیڈا کے تحت اس سال حفظ القرآن مکمل کرنے والی ۲ طالبات کو جلسہ سالانہ کے دوسرے روز مستورات جلسہ گاہ میں اسناد سے نوازا گیا تھا جس کی تفصیل جلسہ سالانہ کی دوسرے دن کی رپورٹ میں شامل ہے۔ )

شعبہ تعلیم کینیڈا کے تحت اس سال ۳۷ طلباء اور ۷۲ طالبات تعلیمی میڈلز اور اسناد کے حقدار قرار پائے ہیں۔ ۶۰ طالبات نے جلسہ کے دوسرے روز جلسہ گاہ مستورات میں میڈلز اور اسناد حاصل کی تھیں۔ جبکہ کچھ طلباء و طالبات ایسٹرن کینیڈا کے جلسہ سالانہ کے موقع پر اور کچھ طلباء و طالبات اس سال جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دستِ مبارک سے میڈلز اور اسناد وصول پائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ آج موجود طلباء کو مکرم سیکرٹری صاحب تعلیم نے میڈلز پہنائے جبکہ مکرم امیر صاحب کینیڈا نے اسنادِ خوشنودی سے نوازا۔

آج کے اجلاس میں کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورانٹو کی میئر محترمہ Olivia Chow صاحبہ بھی تشریف لائی تھیں۔ انہوں نے اپنے سات منٹ کے خطاب میں جماعت احمدیہ کینیڈا کی خدمات کا بھر پور اعتراف کیا۔ محترمہ میئر صاحبہ نے کہا: کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ انسانیت کی خدمت اسلام کی روح ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دوسروں کے لیے سب سے فائدہ مند ہو‘‘۔ یہی عظیم تعلیم اس وسیع کنونشن ہال میں عملاً جلوہ گر ہے، اور اس کی روح صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ پورے شہر اور ہمارے ملک میں بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے۔

محترمہ میئرصاحبہ نے ایک دن پہلے ٹورانٹو شہر میں ہونے والے ایک میلے میں نفرت کی بناء پر ہونے والے حملہ کا ذکر کیا جس میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ محترمہ میئر صاحبہ نے حاضرینِ جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرہ میں پھیلتی اس طرح کی نفرت کا تریاق صرف آپ لوگ ہیں۔ آپ نے ہی اپنی محبت سے اس نفرت کو ختم کرنا ہے۔

اس سال کا ’’سر محمد ظفر اللہ خان ایوارڈ‘‘ Edmonton-Strathcona کے حلقہ سے منتخب پارلیمنٹ ممبر محترمہ Heather McPherson کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے فلسطین اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کوشش اور محنت کی ہے۔ یہ ایوارڈ اُن کی اِن کوششوں کے اعتراف میں ہے۔ وہ بذاتِ خود جلسہ پر حاضر نہیں ہوسکیں تھیں تاہم انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس اعزاز کے لیے جماعتِ احمدیہ کینیڈا کا شکریہ ادا کیا اور سر محمد ظفراللہ خان صاحب کی امن اور انصاف کے لیے کوششوں اور کردار کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی اور جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر امن کی کوشش جاری رکھیں گی۔

صوبائی پارلیمنٹ ممبر اور وزیر محترم Stephen Francis Lecce صاحب کے حلقہ انتخاب میں جماعتِ احمدیہ کا مرکزی مشن ہاؤس اور مسجد بیت السلام واقع ہے۔ محترم وزیر صاحب نےاپنے دو صوبائی پارلیمنٹ ممبرز کے ہمراہ جلسہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً ایک دہائی سے جلسہ سالانہ میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے شروع میں وہ ہیومنٹی فرسٹ یوکے کے ۳۰ویں یومِ تاسیس میں شامل ہونے کے لیے لندن گئے تھے تو امامِ جماعت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دوسری بار ملنے کا اعزاز پایا۔ محترم وزیر صاحب نے جماعت احمدیہ کی خدمات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’جزاک اللہ‘‘۔

 اس کے بعد مکرم نوید احمد منگلا صاحب، مربی سلسلہ نے ’’والدین کے حقوق اور ازدواجی ذمہ داریوں میں توازن‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے والدین اور شادی کی ذمہ داریوں کے درمیان مسائل کی بڑی وجہ عدم توازن ہے اور ہم اس کا حل دُنیاوی طریقوں سے ڈھونڈتے ہیں جبکہ اس کا مکمل حل قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ انہوں نے قرآنی تعلیم، سنتِ نبویﷺ اور سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روشنی میں، عائلی مسائل میں توازن برقرار رکھنے کی طرف توجہ دلائی۔

جلسہ سالانہ کے دوسرے روز صوبہ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ Honorable Premier, Doug Ford کئی صوبائی ممبران پارلیمنٹ کے ہمراہ جلسہ سالانہ میں تشریف لائے تھے اور مکرم امیر صاحب جماعت کینیڈا اور دوسرے عہدیداران کے ساتھ ملاقات کی تھی اور احبابِ جماعت کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کروایا تھا۔ اس موقع پر یہ پیغام دکھایا گیا جس میں انہوں نے وعدہ کیا کہ بریڈ فورڈ شہر میں جلسہ گاہ کے لیے خریدی گئی زمین پر جلسہ منعقد کرنے کے لیے تمام قانونی تقاضوں کو جلد پورا کرنے کے لیے وہ شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر بھرپور کوشش کریں گے۔

جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ ء کی اختتامی تقریر مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ کینیڈا نے کی۔ آپ نے کہا کہ ہماری اکثریت اس ملک میں ہجرت کرکے آئی ہے۔ ہمارا مقصد دُنیاکمانا نہیں بلکہ اسلام کی سچی تعلیم پھیلانا تھا اور اس مقصد کو ہمیں بھولنا نہیں چاہیے۔ آپ نے کہا کہ آپ کے ہمسائے، آپ کے گراسری اسٹور کے کیشئرز، آپ کےکام پر آپ کے ساتھی اور آپ کے دوست، اسلام کے بارہ میں علم حاصل کرنے کے لیے کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ آپ کے کردار اور عمل کو پڑھتے ہیں۔ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا ہر عمل اور فعل اسلام کی حقیقی تعلیم کی عکاسی کرتا ہو۔ مکرم امیر صاحب نے مزید کہا کہ آپ کی نسلیں آپ کو اس وجہ سے نہ یاد کریں کہ ہمارے آباؤاجداد دُنیا کی لذتوں میں کھوگئے تھے بلکہ وہ آپ کو اس لیے یاد کریں کہ آپ نے اسلام احمدیت کو پورے ملک میں پھیلا دیا تھا۔

تقریر کے اختتام پر دوپہر دو بجے مکرم امیر صاحب نے اجتماعی دعا کروائی جس کے ساتھ جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔

مکرم امیر صاحب نے بتایا کہ جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ ء میں ۳۰ ممالک کے ۲۴،۲۸۶ احباب نے شرکت کی جس میں ۱۲،۵۷۹ مرد اور ۱۱،۷۰۷ مستورات تھیں۔ اس جلسہ پر ۶،۱۷۰ رضاکاروں نے ڈیوٹی دی۔ ایم ٹی اے کے ذریعہ ۸۲،۰۰۰ سے زائد لوگوں نے جلسہ کی کارروائی دیکھی جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ۱،۳۴۱،۰۰۰ افراد نے جلسہ کی کارروائی کے بارہ میں پوسٹس دیکھیں۔

دعا کے بعد نمازِ ظہر و عصر باجماعت ادا کی گئیں جس کے بعد احبابِ جماعت نظم و ضبط کے ساتھ کھانے کے ہالز میں تشریف لے گئے۔ کھانے کے فوراً بعد دوردراز سے آئے احباب واپسی کے لیے روانہ ہوگئے جبکہ ایک بہت بڑی تعداد نے بازار اور بُک اسٹور کا رُخ کیا۔ ایک بڑی مارکی میں ہیومنٹی فرسٹ نے دُنیا میں مشکلات کا شکار ممالک کے مسائل کو آشکار کرنے کے لیے حقیقی اشیاء پر مشتمل، نمائش قائم کی ہوئی تھی۔ احباب اس نمائش سے بہت مستفیذ ہوئے۔

اس جلسہ پر ریویو آف ریلیجنز نے شعبہ تبلیغ کینیڈا کے تعاون سے ’’Makkah: Journey to the Heart of Islam‘‘ کے موضوع پر ایک نمائش کا اہتمام کیا ہے جس میں مکہ کی تاریخ، بُودوباش، اسلام کی آمد اور اس کے مختلف ادوار دکھائے گئے نیز اس کے علاوہ قرآنِ کریم کے تاریخی نسخے، مختلف خوشبوئیں نیز بیش قیمت اشیاء ، مشاہدہ کے لئے رکھی گئی تھیں۔ اس نمائش کو صوبہ انٹاریو کے وزیراعلیٰ عزت مآب Doug Ford صاحب اور ٹورانٹو شہر کی میئر محترمہ Olivia Chow صاحبہ نے بھی بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھا۔ اس موقع پر مکرم سید عامر سفیر صاحب چیف ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز، جو اس نمائش کا انعقاد کرنے کے لیے خصوصی طور پر لندن یوکے سے کینیڈا تشریف لائے تھے، نے نمائندہ الفضل انٹرنیشنل کو بتایا کہ:

’’حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگلی نسلیں قادیان واپس جائیں اور وہ جگہیں مثلاً بیت الدعاء یا وہ گلیاں دیکھیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام گزرتے تھے توان کو اس ماحول کی سمجھ آئے گی۔اس کےبعد جب حضورِ انور نے رسول اللہﷺ کی سیرت کے بارہ میں خطبات ارشاد فرمائے تو اس سے خاکسار کو خیال آیا کہ ہمیں اُس ماحول کا اُس وقت تک شاید صحیح اندازہ نہ ہوسکے جب تک ہم اُس ماحول کا حصہ نہ ہوں۔ اِس وقت مکہ تو جا نہیں سکتے لہذا کوشش کی جائے کہ اُس طرح کا ماحول تیار کیا جائے جس سے مکہ کے قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے معاشرہ کا اِدراک ہوسکے۔ اُس وقت کھانا کیسا ہوتا تھا؟ خوشبوئیں کیسی تھیں؟ کپڑے کیسے تھے؟ اشیاء کیسی تھیں؟ خانہ کعبہ کیسا تھا؟ تو اس سب کو سمجھنے کے لیے اس نمائش میں اس کی ایک جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔‘‘

 تین روزہ جلسہ سالانہ کینیڈا نہایت کامیابی اور خیر و عافیت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ہے۔ ان تین دنوں میں احباب و مستورات نے علمی، تربیتی، اخلاقی اور روحانی پروگراموں سے بھرپور استفادہ کیا۔ اس جلسہ کی تمام کارروائی MTA8 America پر جلسہ گاہ سے براہ راست نشر کی گئی۔ اس کے علاوہ ایم ٹی اے اسٹوڈیوز سے بھی براہِ راست علمی و تربیتی پروگرامز اور انٹرویوز پیش کیے گئے۔ اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر کارروائی مسلسل پوسٹ ہوتی رہی۔ حاضرین جلسہ کے لیے تمام کارروائی کا رواں ترجمہ اردو، انگریزی ، فرنچ، عربی اور بنگلہ زبانوں میں بھی پیش کیا جاتا رہا۔

جلسہ گاہ کو سمیٹنے کے لیے کارکنان نے فوری طور پر اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی شروع کردیں ہیں۔ امید ہے کہ آج رات تک تمام ہالز مکمل طور پر خالی کردیے جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ جلسہ کے اختتام پر بیک وقت ہزاروں گاڑیوں کو انٹرنیشنل سنٹر سے نکالنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جلسہ کے تینوں دن مقامی پولیس کا بھرپور تعاون شامل رہا۔ حسبِ معمول پولیس آفیسرز آج بھی نکاسی کے راستے پر عام ٹریفک کو ہر چند منٹ کے بعد کافی دیر کے لیے روک دیتے تھے تاکہ انٹرنیشنل سنٹر سے زیادہ سے زیادہ گاڑیاں باہر نکل سکیں۔ پولیس کے اس عمل سے احباب جماعت کی گاڑیاں رُکے بغیر جلد از جلد مرکزی شاہراہ پر ٹریفک میں شامل ہوتی رہیں۔

اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو تمام احباب جماعت کے لیے بابرکت فرمائے۔ اور وہ تمام مقاصد پورے کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جن کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان جلسوں کا اجراء کیا تھا۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button