متفرق شعراء

سیّد میر محمود احمد ناصرؔ

وہ محمود سیّد، بہت محترم
وہ ناصر، جو طاہر کے تھے ہم قدم

ہوئے ہم سے رُخصت وہ شیخِ عجم
خدا کی رضا پر کیے سر ہیں خم

خوش اخلاق، عاجز، لبوں پر ہنسی
محقّق، محدّث، رواں تھا قلم

شب و روز گزرے تھے تحقیق میں
طلب علم کی، ہو کوئی بھی دھرم

عجب شان تھی علمِ قرآن میں
حدیث و فقہ کے معلّم اہم

شرف اس تعلّق کا حاصل ہوا
تھیں بیٹی خلیفہ کی ان کی حرم

ملی ذمہ داری جو لنگر کی تھی
تو محنت سے تاریخ کر دی رقم

خلافت پہ مرتے تھے ڈرتے بھی تھے
ہوا اس کا اظہار بھی لَا جَرَم

بڑے پُر اثر درس ہوتے سبھی
مضامین لکھنے میں چلتا قلم

مربی تھے وہ متّقی باعمل
بہت پھونک کر سارے رکھتے قدم

سبھی جامعہ کے جو شاگرد تھے
وہ نظروں میں ان کی، رہے محترم

رہے خُلق اعلیٰ، جہاں بھی گئے
رکھا اونچا اسلام کا جو علَم

بہت زندہ دل اور مطہّر مذاق
جو ناراض ہوتے تو غصّہ تھا کم

یتٰمیٰ کا رہتا تھا ان کو خیال
بڑھاپے کا سب کے، وہ رکھتے بھرم

نبھایا ہے وقف آخری سانس تک
تھے مصروف خدمت میں نکلا جو دم

ملے ان کو جنّت میں درجہ بلند
ہو قربِ خدا میں، مکانِ عدم

(ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ۔ لندن)

مزید پڑھیں: خلافت اِک نظامِ آسمانی ہے زمانے میں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button