نظم

اللہ کے پیاروں کو تم کیسے بُرا سمجھے

اللہ کے پیاروں کو تم کیسے برا سمجھے
خاک ایسی سمجھ پر ہے سمجھے بھی تو کیا سمجھے
شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے
احمدؐ کو محمدؐ سے تم کیسے جدا سمجھے
دشمن کو بھی جو مومن کہتا نہیں وہ باتیں
تم اپنے کرم فرما کے حق میں روا سمجھے
غفلت تری اے مسلم کب تک چلی جائے گی
یا فرض کو تُو سمجھے یا تجھ سے خدا سمجھے

(کلام محمود صفحہ184۔ اخبار الفضل جلد34۔28؍دسمبر1946ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button