متفرق

اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ

ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:پس ہر عورت جو ماں ہے اور ہر لڑکی جس نے ان شاء اللہ تعالیٰ ماں بننا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس ماحول میں محض اور محض اپنے فضل سے بچوں کی ایسی تربیت فرمائے کہ ان میں سے ہر ایک دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اولاد کی خواہش اور دعا صرف اس لئے نہ کرو کہ یہ ایک طبعی خواہش ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی اولاد ہو اور صحت مند اولاد ہو۔ عورتیں تو خاص طور پر اس طبعی خواہش کے علاوہ اس وجہ سے بھی اولاد کے لئے فکرمند ہوتی ہیں کہ اولاد نہ ہو تو سسرال کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ بعض دفعہ خاوند کی طرف سے بھی سخت الفاظ سننے پڑتے ہیں۔ بلکہ بعض عورتوں کو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے خاوند طلاق دینے کی یا سسرال طلاق دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں تو یہ طبعی خواہش بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے اور ان حالات میں تو خاص طور پر بالکل جائز ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر ایک مرد اور عورت کو اولاد کی خواہش اور اولاد ہونے کے بعد اس کی یہ فکر ہونی چاہئے کہ اولاد نیک، دیندار اور صالح ہو اور اس مقصد کو پورا کرنے والی ہو جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بنو۔

(جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۱۸ء کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا مستورات سے خطاب)

(مرسلہ:قدسیہ محمود سردار۔ کینیڈا)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button