صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۳)(قسط ۱۳۸)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

کلکیریا کاربونیکا Calcarea carbonica

کلکیریا کارب غدودوں، جلد اور ہڈیوں پر اثر انداز ہونے والی اہم دوا ہے۔ ایسے مریض کو بہت جلد سردی لگ جاتی ہے پاؤں بھی ٹھنڈے ہوتے ہیں اور کبھی گرم۔ چھاتی میں جکڑے جانے کا احساس ہو تا ہے۔ کھانسی رات کو خشک اور دن کو عام طور پر بلغمی ہوتی ہے۔ بلغم زردی مائل بدبودار ہو تا ہے اور بہت مشکل سے نکلتا ہے۔ بچوں کے دانت نکالنے کے زمانے میں انہیں جو کھانسی شروع ہو جاتی ہے اور بآسانی پیچھا نہیں چھوڑتی بسا اوقات وہ کلکیریا کارب سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کلکیریا کارب کا مزاج رکھنے والے لوگوں کے چہرے عموما ًبےرونق ہوتے ہیں، جلد چکنی اور زردی مائل۔ بعض ایسے مریض بات کرتے کرتے ایک دم نڈھال ہو جاتے ہیں اور خون کی کمی کا بھی شکار رہتے ہیں۔ دماغی محنت انہیں کمزور کردیتی ہے جس سے بعض دفعہ وہ پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں اور سانس لینے میں انہیں دقت پیش آتی ہے۔ سردی اور نمی کو پسند نہیں کرتے۔ تازہ ہوا اور خنکی سے بھی نفرت ہوتی ہے۔ بھیگنے پر رسٹاکس کی طرح بیماریاں فوراً آگھیرتی ہیں۔ (صفحہ۱۹۱)

کلکیریا کارب کا مریض واضح طور پر پہچانا جا تا ہے۔ جسم فربہی مائل ہو، زرد رنگت سر نسبتًا بڑا پسینہ آنے کا رجحان ہو۔ جسم کبھی ٹھنڈا کبھی گرم سارے جسم کا نظام سست ہو تو یہ کلکیریا کارب کے مریض کی عمومی تصویر ہے لیکن مریض میں اس کی ہر علامت کا موجود ہونا ضروری نہیں ہو تا، نہ ہی کوئی ایک علامت اکیلی کلکیریا کارب کی نشان دہی کر سکتی ہے۔ مثلاً بعض بچوں کا سر پیدائشی بناوٹ کے لحاظ سے بڑا ہو تا ہے، ضروری نہیں کہ وہ کلکیریا کارب کے مریض ہوں، بعض ہو بھی سکتے ہیں۔ بعض دفعہ کلکیریا کی علامتیں عمر کے ساتھ رفتہ رفتہ ظاہر ہوتی ہیں۔ (صفحہ۱۹۳)

مریض اندورنی طور پر سردی محسوس کرتا ہے مگربعض اوقات ہاتھ پاؤں جلتے ہیں۔ طوفان آنے سے قبل مریض کی بیماری کی علامات بڑھنی شروع ہوجاتی ہیں مثلاً اگر گرد کا طوفان آنے والا ہو تو کئی گھنٹے پہلے دمے کی علامات والا مریض وہ علامات ظاہر کرتا ہے جو گرد کی صورت میں بعد میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے مریضوں کی ایک دوا کلکیریا کارب بھی ہے۔ (صفحہ۱۹۴)

اگر عمومی کمزوری بہت بڑھ جائے تو ایسا مریض زیادہ دیر تک بیٹھ بھی نہیں سکتا اور کرسی سے پھسل پھسل جاتا ہے۔ اگر کسی مریض میں انتہائی کمزوری کے باعث بار بار سر تکیے سے نیچے ڈھلکتا رہے تو اس کی سب سے نمایاں دوا میوریٹک ایسڈ (Muriatic acid) ہے جو فوری اثر دکھاتی ہے۔ اگر روزمرہ اسی طرح ہو تو اس کی بہتر دوا کلکیریا کا رب ہے۔ (صفحہ۱۹۸)

کلکیریا کارب میں کمر کے نچلے حصہ میں درد ہوتا ہے، کمر میں کمزوری محسوس ہوتی ہے اور بیٹھ کر اٹھنے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ (صفحہ۱۹۸)

کلکیریا فلوریکا Calcarea fluorica

(Fluoride of Lime)

ہو میو پیتھی پوٹینسی میں تیار کردہ دوا کلکیر یا فلور خلیوں اور عضلات میں پیدا ہونے والی سختی کو دور کرنے کے لیے بہترین دوا ہے اور بہت گہرا اثر رکھتی ہے۔ اس کا جسم کے ہر عضو سے تعلق ہے خصوصاً ہڈیوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ ہڈیوں کی سطح اور وریدوں میں گانٹھیں اور گومڑ سے بن جاتے ہیں۔ رحم ڈھیلا ہو کر لٹک جاتا ہے۔ ناخن بد نما ہو جاتے ہیں۔ عورتوں کے سینے میں سخت گلٹیاں بنتی ہیں۔ یہ اور دوسری ہر قسم کی گلٹیاں جن میں کینسر بننے کا رجحان ہو ان میں کلکیریا فلور استعمال کرنی چاہیے۔ میرے مشاہدہ میں کئی ایسے مریض آئے ہیں جن کی کلائی کے غدود پھول کر سخت ہو گئے تھے۔ شروع میں روٹا اور ملتی جلتی دوائیں استعمال کروایا کرتا تھا لیکن افاقہ نہیں ہو تا تھا۔ کلکیر یا فلور دینے سے ایسے ہر مریض کو نمایاں فائدہ ہوا۔ بعض دفعہ گھٹنوں کے پچھلی طرف کے خم میں گلٹیاں بن جاتی ہیں ان میں بھی کلکیریا فلور اچھا اثر دکھاتی ہے۔ رحم کے غدودوں کے نسخہ میں دیگر دواؤں کے علاوہ کلکیر یا فلور بھی ضرور شامل کرنی چاہیے بسا اوقات یہ اکیلی ہی بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ (صفحہ۱۹۹)

کلکیر یا فلور آنکھ کے پردہ کے زخموں میں بھی بہت مفید ہے خصوصاً اگر کنارے بہت سخت ہو گئے ہوں۔ آنکھوں کے سامنے ستارے ناچتے ہوں، کورنیا پر دھبے نظر آتے ہوں آنکھ کی رگیں سخت ہو جائیں تو کلکیر یا فلور کو یاد رکھیں۔ کانوں کے پردوں میں سختی پائی جائے کانوں میں گھنٹیاں بجتی ہوں، کان بہتے ہوں اور ناک کے پچھلے حصہ کے غدود جو گلے کے جوڑ سے ملتے ہیں بڑھ جائیں تو ان کے لیے کلکیریا فلور کے علاوہ برائیٹا کا رب بھی اچھی ثابت ہوتی ہے لیکن جو غدود آہستہ آہستہ بڑھ کر پتھر کی طرح سخت ہو جائیں ان کی سب سے اہم دوا کلکیریا فلور ہی ہے۔ (صفحہ۱۹۹)

اس کی تکلیفیں موسم کی تبدیلی، آرام اور مرطوب موسم میں بڑھ جاتی ہیں، گرمی پہنچانے اور ٹکور سے افاقہ ہوتا ہے۔ (صفحہ۲۰۱)

کلکیریا آیوڈائیڈ Calcarea iodide

(Iodide of Lime)

کلکیریا آیوڈائیڈ خاص طور پر غدودوں سے تعلق رکھنے والی دوا ہے۔ غدود سوج کر موٹے ہو جاتے ہیں۔ یہ علامت کئی دواؤں میں پائی جاتی ہے۔ جب لڑکیاں بلوغت کی عمر کو پہنچیں اور ان کے گلے کے غدود (Thyroid Glands) پھول جائیں تو اس وقت کلکیریا آیو ڈائیڈ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ کلکیریا کا خصوصیت سے اس دور سے تعلق ہے۔ ایسی بچیوں کو بلا تاخیر یہ دوا دینی چاہیے۔ (صفحہ۲۰۳)

کلکیریا فاس Calcarea phosphorica

کلکیریا فاس اور سیمی سی فیوجا میں یہ علامت مشترک ہے کہ حیض کے آغاز میں رحم میں اینٹھن، درد اور تشنج ہوتا ہے لیکن ایک پہچان ایسی ہے جو دونوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کردیتی ہے وہ یہ ہے کہ سیمی سی فیوجا میں جوں جوں خون کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہےتکلیف بڑھتی ہےجب کہ کلکیریا فاس میں خون شروع ہونے سے پہلے دردیں شروع ہوجاتی ہیں اور بہت تکلیف دہ تشنجی دورے پڑتے ہیں اور سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن جب خون جاری ہوجائے تو آرام محسوس ہوتا ہے اور دوران حیض کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ کلکیریا فاس کی یہ علامت اسے دوسری دواؤں سے ممتاز کرتی ہے۔ (صفحہ۲۰۶)

عام طور پر میگنیشیا فاس تشنج کی بہترین دوا سمجھی جاتی ہےاور صرف رحم میں ہی نہیں بلکہ سارے جسم کے تشنج میں کام آسکتی ہے۔ اگر تشنج کو گرمی پہنچانے سے آرام محسو س ہو تو میگنیشیا فاس دیں لیکن اگر سردی سے آرام آئے تو بیلاڈونا، ایپس، سیکیل اور پلسٹیلا بھی اچھی دوائیں ہیں۔ کلکیریافاس کے تشنج میں بھی گرمی پہنچانے سے آرام آتا ہے۔ (صفحہ۲۰۶)

سردی یا موسم کی تبدیلی سے بیماریوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعد دردیں شروع ہوجاتی ہیں۔ کچھ کھا پی لینے سے تکلیف میں افاقہ ہوتا ہے۔ گرمی اور خشک موسم میں بیماری کم ہوجاتی ہے۔ (صفحہ۲۰۷)

کسی صدمہ کے اثر سے یادداشت میں فرق پڑجاتا ہے۔ مریض کہیں اور جانے کی خواہش کرتا ہےتا تکلیف میں کمی ہو۔ (صفحہ۲۰۷)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(نوٹ: ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۲)(قسط ۱۳۷)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button