حضرت مصلح موعودؓ کابچپن
اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لیے ہی پیدانہیں کیا۔۔قسط۔ دوم

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں بعض آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنے بچپن کے دلچسپ واقعات بیان فرمائے ہیں۔ حضور رضی اللہ عنہ کے بچپن کے واقعات اور متعلقہ آیات کی تفسیر کے کچھ حصے افادۂ عام کی غرض سے پیش کیے جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ لِغِیْرِاللّٰہِ بِہٖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (النحل:۱۱۶) اس نے تم پر صرف مردار کے خون کو اور سؤر کے گوشت کو اور(ہر) اس چیز کو حرام کیا ہے جس پر اللہ (تعالیٰ) کے سوا کسی اور کا نام لیا گیاہو اور جو شخص (ان میں سے کسی چیز کے کھانے پر) مجبور کیاجائے بحالیکہ وہ نہ باغی ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ہو تو (یاد رہے کہ) اللہ (تعالیٰ) یقیناً بہت ہی بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اصل بات یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کے متعلق اسلام نے کئی درجے بتائے ہیں۔ حرام۔ ممنوع۔ حلال۔ طیب۔ حرام وہ جسے قرآن نے حرام کیا۔ ممنوع جسے قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایایا بعد کی معلوم شدہ چیز جس کے متعلق تحقیقات کرکے مسلمان اسے ناپسندیدہ قرار دے دیں۔
حلال: وہ جو اپنی اصل وضع کے لحاظ سے طیّب ہو۔ طیّب: وہ جو اپنی موجود حالت میں بھی طیّب ہو۔ یعنی ہر وہ چیز جس کو کسی صورت میں بھی کھانا جائز ہے اس کو حلال کہیں گے۔ جیسے بکرا حلال ہے۔ مگر چونکہ کچے گوشت کی صورت میں کھایا نہیں جاسکتا اس لیے اس صورت میں طیب نہیں ہوگا۔ لیکن اس کو پکاکر کھانا طیب ہے۔ بہترین غذا طیب سے اتر کر حلال ہے۔ اس کے بعد اور اشیاء ہیں وہ ممنوع ہیں۔ ان کا کھانا درست نہیں۔ مثلاً ڈاکٹر ہیضہ کے دنوں میں کھیرے کا کھانا منع کردے تو گو کھیرا عام دنوں میں حلال اور طیب ہے مگر ان دنوں میں حلال تو رہے گا طیب نہ رہے گا۔ جو چیزیں حرام کے بعد ہیں یعنی ممنوع ہیں ان کے متعلق بھی ہم کہیں گے کہ ان کا کھانا درست نہیں۔ یعنی ان کے کھانے سے انسان نقصان اٹھائے گا۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف جانور مختلف کاموں کے لیے پیدا کیے ہیں۔ کوئی خوبصورتی کے لیے کہ دیکھنے میں خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ کوئی آواز کے لیے کہ اس کی آواز بہت عمدہ ہے۔ کوئی کھانے کے لیے کہ اس کا گوشت اچھا ہے۔ کوئی دوائی کے لیے کہ اس کے گوشت میں کسی مرض سے صحت دینے کی طاقت ہے۔ صرف جانور اور حلال دیکھ کر اسے نہیں کھانا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک جانور کا گوشت صحت کے لیے مضر نہ ہو مگر وہ مثلاً بعض فصلوں یا انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے کیڑوں کو کھاتا ہوتو گوشت کے لحاظ سے اس کا گوشت حلال بھی ہوگا اور طیب بھی۔ مگر پھر بھی بنی نوع انسان کا عام فائدہ دیکھتے ہوئے اس کا گوشت طیب نہ رہے گا۔ کیونکہ اس کے کھانے کی وجہ سے انسان بعض اور فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔مجھے بچپن ہی میں یہ سبق سکھایاگیاتھا۔میں بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطاشکارکرکے لایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے دیکھ کر کہا محمود اس کاگوشت حرام تونہیں۔ مگراللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لیے ہی پیدانہیں کیا۔ بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لیے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔ بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آوازسن کرکان لذت حاصل کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر حس کے لیے نعمتیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔ دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔ درخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے والوں کو کیسا بھلا معلوم ہوتا ہوگا۔ غرض طیب کے لیے جہاں صحت کے لحاظ سے اچھا ہونا شرط ہے وہاں اس کے کھانے میں یہ بھی شرط ہے کہ اس چیز کے کھانے سے انسان کے دوسرے حواس یا دوسرے بنی نوع انسان یا دوسری مخلوق کا حق نہ مارا جائے۔ بلکہ دوسروں کے جذبات کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَا اسْتَخْبَثَتْہُ الْعَرَبُ فَھُوحَرَامٌ(روح المعانی سورۃ الانعام زیر آیت ۱۴۳تا ۱۴۷) یعنی جسے عرب خراب کھانا سمجھیں وہ حرام ہے۔ یہاں حرام کے معنے یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا کھانے والا گنہگار ہوتا ہے۔ بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ عربوں کے سامنے اسے نہیں کھانا چاہیے کیونکہ اس طرح آپس کے تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں گائے کاگوشت بھی ایسا ہی ہے۔مسلمانوں کو احتیاط چاہیے کہ گائے کا گوشت ہندوؤں کے سامنے نہ کھایا کریں اور اس کا ذکر بھی ان کے سامنے نہ کیا کریں۔ کیونکہ اس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔“ (تفسیرکبیرجلد۶صفحہ۲۳۴-۲۳۳، ایڈیشن۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)
مَیں اس وقت بچہ تھا مگر مجھے یہ سن کر ہنسی آئی
اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے:قَالَ اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکاً اَیْنَ مَا کُنْتُ وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔وَّبَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ وَلَمْ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا (مریم:۳۳-۳۱) (یہ سُن کر ابن مریم نے)کہا میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس نے مجھے کتاب بخشی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے بابرکت (وجود) بنایا ہے۔ اور جب تک میں زندہ ہوں مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کی ہے۔ اور مجھے اپنی والدہ سے نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے ظالم اور بدبخت نہیں بنایا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اگر کوئی پوچھے کہ آفتاب کے نکلنے کی کیا دلیل ہے تو ہم اسے یہی کہیں گے کہ آفتاب کی دلیل خود آفتاب کا وجود ہے۔ اسی طرح ایک شخص جس کی ساری زندگی ایک کھلے ورق کی طرح لوگوں کے سامنے ہے۔ جس کے متعلق اپنے اور بیگانے سب جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا خطرناک سے خطرناک اوقات میں بھی سچ سے کام لیتا ہے۔ اگر وہ خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی بات کہے تو کوئی احمق اور بے وقوف ہی ہوگا جو اس کا انکار کرے اور کہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے لیکن اس شہادت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے شخص کا کیریکٹر اور چال چلن لوگوں کے لیے ایک کھلی کتاب کی طرح ہو۔ وہ شخص جس کی زندگی کے حالات لوگوں کومعلوم نہیں وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری پہلی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔
مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہماری جماعت میں سے ایک شخص جو اچھا مخلص اور سمجھدار تھامگر بعد میں غیر مبایعین میں شامل ہو گیا اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ نے اس پر فضل کیا اور وہ ہماری جماعت میں شامل ہو گیا۔ ایک دفعہ کسی جھگڑے کے موقع پر دوسرے سے کہنے لگا کہ میرا اپنا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ میں اس وقت بچہ تھا مگر مجھے یہ سن کر ہنسی آئی کہ اس کا وجود بھلا لوگوں کے لیے کس طرح صداقت کا نشان بن سکتا ہے۔ اس کی زندگی کے تو حالات ہی لوگوں کو معلوم نہیں۔پس اس آیت کو وہی شخص اپنی ذات پر چسپاں کرسکتا ہے جس نے لوگوں کے سامنے چیلنج کے طو ر پر اپنی زندگی کو پیش کیا اور لوگوں نے بھی کرید کرید کر اس کے حالات زندگی کو دیکھا ہوا ہو۔ ایک عام آدمی کی زندگی تو ہوتی ہی پردے میں ہے وہ اس دلیل کو پیش کس طرح کرسکتاہے۔ اسی طرح انبیاء کی صداقت کے جواور دلائل ہیں ان کے متعلق بھی لوگ غلطی کرتے ہیں اور بعض دفعہ ایک ایسی بات اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کردیتے ہیں جو موقع اور محل کے لحاظ سے وہاں چسپاں ہی نہیں ہوتی۔“(تفسیر کبیرجلد۷صفحہ ۲۶۲، ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)
میر اجی چاہتا ہے کہ مَیں باسی روٹی کھاؤں
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ طٰسٓمّٓ (الشعراء:۲) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اللہ تعالیٰ واقعہ میں ایک لطیف ہستی ہے جس نے اپنی مخلوق کو فائدہ پہنچانے اور اس کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے اس قسم کی نعمتوں سے اسے نوازا ہے۔ اور اس کی بقاء کے لیے اتنے بڑے سامان پیدا کیے ہیں کہ کوئی شخص اگر ساری عمر بھی ان نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے تب بھی وہ پوری طرح شکر ادا نہیں کرسکتا۔ چنانچہ دیکھ لو اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ آسمان پر لاکھوں میل دور سورج اور چاند اور ستارے اس کے بندوں کے لیے رات دن اپنے کام میں مشغول ہیں۔ اور زمین الگ اپنے کام میں مصروف ہے۔ انسان تھوڑا سا بیج ڈال کر اپنے گھر چلا آتا ہے مگر تھوڑے ہی عرصہ میں اس چند سیر بیج کے بدلے ہزاروں من غلہ اپنے گھر لے جاتا ہے۔ وہ اپنے گھر میں آرام سے سورہا ہوتا ہے اور زمین اس کے کام میں مصروف ہوتی ہے اور اس کے لیےغلہ اگا رہی ہوتی ہے۔ سبزی اگا رہی ہوتی ہے اور انواع و اقسام کے پھل اور پھول پیدا کررہی ہوتی ہے۔ یہ سویا ہوا اُٹھ کر آتا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق اگا اگایا پکا پکایا پھل لے کر چلا جاتا ہے۔ اسی طرح انسانی جسم پر نگاہ ڈالو۔ کان ایک چھوٹی سی چیز ہے مگر یہ بھی خدا کی عطا ہے۔ ہوا کی لہریں جن کے ذریعہ سے ان میں آواز پہنچتی ہے وہ بھی خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ گلے کے پردے جن سے آواز نکلتی ہے وہ بھی خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ ایک اچھا گویّاانہی پردوں کے ذریعہ سے گاتا ہے جو خدا نے دیے ہیں مگر لوگ کہتے ہیں فلاں گویّا کتنا اچھا ہے۔ یا لوگ کہتے ہیں فلاں شخص کا حافظہ کتنا تیز ہے۔ مگر اس کے حافظہ والی جگہ یعنی دماغ بھی خدا نے بنایا ہے۔ دماغ کے اندر جو سیلز ہوتے ہیں وہ بھی خدا نے بنائے ہیں۔ اسی طرح انسان نماز پڑھتا ہے تو زبان جس سے وہ الفاظ ادا کرتا ہے خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہوتی ہے۔ جس مقام پر وہ ان الفاظ کو محفوظ رکھتا ہے۔ یعنی دماغ وہ بھی خدا نے بنایا ہے۔ وہ رکوع کرتا ہے یا سجدہ کرتا ہے یا قیام کرتا ہے تو اس کے لیے وہ جتنی قوتوں سے کام لیتا ہے وہ سب کی سب خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ انسان کا ان کی پیدائش میں کوئی ہاتھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر وہ زکوٰۃ دیتا ہے تو زکوٰۃ کا روپیہ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جن طاقتوں سے اس نے روپیہ کمایا تھا وہ بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تھیں۔ جس ہاتھ سے اس نے زکوٰۃ دی وہ بھی خدا کا دیا ہوا تھا۔ پھر انسان روزہ رکھتا ہے تو اس میں بھی اس کا کیا ہے اگر خدا نے اس کے اندر اتنی طاقت نہ رکھی ہوتی کہ وہ دس بارہ یا پندرہ گھنٹے بھوکا رہ سکے تو وہ کس طرح روزہ رکھ سکتا تھا۔ پس اگر وہ روزہ رکھتا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کےنتیجہ میں ہی رکھتا ہے۔ اپنے زور اور بل پر نہیں رکھتا۔ یا مثلاً ایک لوہار اپنے پیشہ سے شہرت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے پیشہ میں جس قدر چیزیں استعمال کرتا ہے سب خدا تعالیٰ ہی کی عطا ہوتی ہیں۔ لوہے کو خدا نے پہلے پیدا کیاہوا ہے۔ کوئلہ اس نے پہلے سے رکھا ہے۔ آگ جس پر وہ لوہے کو گرم کرتا ہے خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے۔ اعصاب جن سے وہ کام لیتا ہے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں۔ غرض جتنی چیزوں سے وہ کام لیتا ہے سب خدا کی پیدا کی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کا اپنا صرف ارادہ ہی ہوتا ہے اَور کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اتنے بڑے انعامات کے باوجود کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اور اس وقت وہ ایسا ناشکرا بن جاتا ہے کہ اسے کوئی بھی نعمت دکھائی نہیں دیتی۔ کوئی بھی فضل نظر نہیں آتا۔ کسی رحمت سے بھی اس کے قلب میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
ہم نے بڑے بڑے مالداروں کو دیکھا ہے۔وہ موٹروں میں پھرتے ہیں۔دس دس کھانے ان کے دسترخوانوں پر موجود ہوتے ہیں۔ مگر جب کھانے کے لیے بیٹھتے ہیں توکہتے ہیں۔یہ بھی خراب ہے وہ بھی خراب ہےکھانے کا کوئی مزہ ہی نہیں آتا۔ اس کے مقابلہ میں غریب آدمی کو دیکھو کہ وہ روٹی کا سوکھا ٹکڑا کس مزے سے کھاتا ہے اورکس طرح وہی سوکھا ٹکڑا اسے دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ معلوم ہوتاہے۔ مجھے یاد ہے۔ میری دوتین سال کی عمر تھی کہ میری آنکھیں دُکھنے آگئیں۔ ڈاکٹروں نے ایسی حالت میں مجھے روٹی کھلانی منع کردی۔ ایک دن صبح کے وقت مجھے آنکھوں میں سخت تکلیف محسوس ہوئی کیونکہ صبح کے وقت رات بھر آنکھ بند رہنے کی وجہ سے پانی اند ربھرجاتا ہے اورآنکھوں میں درد ہوتاہے۔ اوراس کی وجہ سے لازمی طور پر بچہ رونے لگ جاتا ہے۔ بہرحال آنکھیں دُکھنے کی وجہ سے مجھے تکلیف ہوئی اورمَیں نے روناشروع کردیا۔ ہمارے گھر کی ایک خادمہ نے یہ دیکھ کر مجھے اُٹھالیا اورپچکارنا شروع کردیا۔ اس وقت وہ روٹی کاایک باسی ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے ہوئے بڑے مزے سے کھاتی جاتی تھی۔ اورساتھ ساتھ مجھے پچکارتی جاتی تھی۔ مجھے ساری عمر میں کبھی کسی کھانے کا اتنا مزہ نہیں آیا جتنا مجھے اس باسی ٹکڑہ کی خوشبوکا محسوس ہوا۔ کیونکہ وہ اپنے دل کے اطمینان کی و جہ سے اس باسی ٹکڑا میں بھی اتنا لطف محسوس کررہی تھی کہ اس نے وہ لطف اور وہ لذت کااحساس میرے اندر بھی پیداکردیا۔ حالانکہ وہ بغیر کسی سالن کے اوربغیرکسی ایسی چیز کے کھارہی تھی جو اس ٹکڑے کو نرم کردے۔ مگر جس مزے سے وہ کھارہی تھی اورجس طرح وہ مچاکے ماررہی تھی۔ وہ مچاکے محسوس کراتے تھے کہ اس کے نزدیک دنیا کاسب سے بڑاکھانا وہی ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ تین چار سال کے بعد ایک دفعہ اماں جانؓ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاراکس چیز کو دل چاہتا ہے تومیری طبیعت پر اس کااتنا اثر تھاکہ میں نے کہا۔ میر اجی چاہتا ہے کہ میں باسی روٹی کھاؤں۔ توجب انسان قناعت سے کام لے اور شکر گذاری کے جذبات کے ساتھ ہر چیز کو دیکھے تواسے معمولی سے معمولی چیز بھی دنیا کی اعلیٰ ترین نعمت دکھائی دینے لگتی ہے۔“
(تفسیر کبیرجلد۹صفحہ ۲۶۰-۲۵۸، ایڈیشن۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)



