حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…سوئٹزرلینڈ نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے باعث دو امریکی جنگی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے پرواز کرنے سے روک دیا۔ سوئس حکومت کے مطابق یہ طیارے جنگی مقاصد اور فضائی جاسوسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کے بین الاقوامی غیر جانبداری کے قوانین کے تحت کیا گیا جن کے مطابق کسی مسلح تنازعے میں شامل فریق اپنی فوجی سرگرمیوں کے لیے سوئس فضائی حدود استعمال نہیں کر سکتے۔ تاہم سوئٹزرلینڈ نے دو مال بردار طیاروں اور ایک تکنیکی معاونت والے جہاز کو گزرنے کی اجازت دی کیونکہ ان کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔

٭…ایرانی حکام کے مطابق صوبہ مغربی آذربائیجان میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے بیس مبینہ جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ افراد اسرائیل کو ایرانی عسکری تنصیبات اور سیکیورٹی اہداف سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے۔ اس گرفتاری کی تصدیق صوبے کے سرکاری دفتر استغاثہ نے ایک بیان میں کی۔ رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔ ان کارروائیوں میں ایرانی سیکیورٹی تنصیبات اور چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا جارہا ہے جن کے بارے میں اطلاعات مبینہ طور پر زمینی مخبروں سے حاصل کی جا رہی تھیں۔

٭…اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مغربی ایران پر وسیع پیمانے پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملے ایران کے عسکری اور حکومتی بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ جنگ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی اور اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کا مقصد ایران کی سیکیورٹی تنصیبات اور اس کے فوجی نیٹ ورک کو کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی خطّے میں ردّعمل دکھایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات کی طرف ایک نیا میزائل حملہ کیا اور بعض اہم بندرگاہی علاقوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ نے اس کے جزیرے خارگ پر حملوں کے لیے امارات کی بندرگاہوں اور دیگر سہولیات کو استعمال کیا، اسی وجہ سے ایران نے ان علاقوں کو ممکنہ اہداف قرار دیا ہے۔امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ خارگ جزیرے پر ایرانی عسکری اور تیل کی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تیل کی تنصیبات اب بھی فعال ہیں۔ اس جاری جنگ کے نتیجے میں ایران میں بارہ سو سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بےگھر ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں بھی اسرائیلی حملوں سے سینکڑوں افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

٭…اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ اب ایک “فیصلہ کن مرحلے” میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اسے ضروری سمجھا جائے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا ہے۔ ادھر اس جنگ کے اثرات خطے کے دوسرے ممالک تک بھی پھیل گئے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی حملے بھی جاری ہیں، جہاں دو مارچ سے شروع ہونے والی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد ۸۲۶؍تک پہنچ گئی ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق مرنے والوں میں ۶۵؍خواتین اور ۱۰۶؍بچے بھی شامل ہیں جبکہ دو ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں ۳۱؍طبی اور امدادی کارکن بھی شامل ہیں جن میں سے کئی ایک ہیلتھ کیئر سینٹر پر حملے میں مارے گئے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں ایران نواز شیعہ تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ یہ گروہ اسرائیل پر راکٹ اور میزائل حملے کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بھی خطے میں جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

٭…ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جو جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب داغے گئے۔ اسرائیلی ریسکیو ورکرز کے مطابق ان حملوں سے کسی بھی شخص کو جانی نقصان نہیں پہنچا اور کوئی زخمی بھی نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ فائر کیے گئے میزائل بروقت شناخت کیے گئے اور انہیں فضا میں ہی انٹرسیپٹ کر کے تباہ کرنے کی کارروائی کی گئی۔ اس دوران اسرائیل میں فضائی خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہنگامی ہدایات جاری کی گئیں۔ ایران نے خطے میں اقتصادی مراکز اور بینکوں کو بھی ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button