’’آسماں پر اِن دنوں قہرِ خدا کا جوش ہے‘‘
آج ۲۳؍مارچ کا دن ہے جو جماعت احمدیہ میں ’یوم مسیح موعود‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس زمانے میں الٰہی نوشتوں کے مطابق امام آخر الزمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ایک پاک جماعت کی بنیاد رکھی۔آپؑ کی بعثت کا مقصد تکمیل اشاعت ہدایت و غلبہ دین اسلام تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے دنیا کو بار بار عافیت کے حصار میں داخل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے تباہیوں اور بڑے بڑے زلازل سے خبردار کیا۔اسی تسلسل میں آپؑ کے بعد خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ نے بھی اس فریضے کو بخوبی نبھاتے ہوئے دنیا کو بارہا انذار کیا کہ وہ ظلم و نا انصافی سے باز رہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اپنا قہر بھی نازل کرسکتی ہے۔ چنانچہ قدرت ثانیہ کے مظہر خامس حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آج سے چودہ سال قبل اپنے ایک خطاب میں فرمایا:’’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب انسانی کوششیں بے کار ہو جاتی ہیں اس وقت خدا تعالیٰ اپنی تقدیر جاری کر کے بنی نوع انسان کی تقدیر کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ قبل اس کے کہ خدا کی تقدیر حرکت میں آئے اور انسان حکم خدا کے ہاتھوں مجبور ہو کر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہو۔ بہتر ہوگا کہ دنیا کے لوگ خود ان اہم باتوں کی طرف توجہ کر لیں کیونکہ جب خدا تعالیٰ پکڑنے پر آتا ہے تو اس کا قہر بنی نوع انسان کو انتہائی خوفناک اور بھیا نک انداز میں پکڑتا ہے۔ آج کے دور میں خدا کی ایک قہری تجلی ایک اَورعالمی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسی جنگ کے بداثرات اور تباہی صرف ایک روایتی جنگ یا صرف موجودہ نسل تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔ درحقیقت اس کے ہولناک نتائج آئندہ کئی نسلوں تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ایسی جنگ کا المناک نتیجہ تو ان نومولود بچوں کو بھگتنا پڑے گا جواب یا آئندہ پیدا ہوں گے۔ جو ہتھیار آج موجود ہیں وہ اس قدر تباہ کن ہیں کہ ان کے نتیجہ میں نسلاً بعد نسلٍ بچوں کے جینیاتی یا جسمانی طور پر معذور پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ … اب تو بعض چھوٹے ممالک نے بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔ فکر کی بات یہ ہے کہ یہ ایٹمی ہتھیار ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں جن کے پاس اتنی قابلیت ہی نہیں ہے یا جو اپنے اعمال کے نتائج کا ادراک نہیں کرنا چاہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ عواقب سے بالکل بے پروا اور جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔ پس اگر بڑی طاقتوں نے انصاف سے کام نہ لیا اور چھوٹے ملکوں کے احساس محرومی کو ختم نہ کیا اور عمدہ حکمت عملی نہ اپنائی تو حالات بالآخر ہاتھ سے نکل جائیں گے اور پھر جو تباہی اور بربادی ہوگی وہ ہماری سوچ اور تصورسے بھی بڑھ کر ہوگی بلکہ دنیا کی اکثریت جو امن کی خواہاں ہے وہ بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آجائے گی۔ پس میری دلی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کے راہنما اس خوفناک حقیقت کو سمجھ جائیں اور جارحانہ حکمت عملی اپنانے اور اپنے عزائم اور مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے ایسی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کریں جن سے انصاف کو فروغ دیا جائے اور اسے یقینی بنایا جائے۔
حال ہی میں روس کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے ایک بیان میں ایٹمی جنگ کے سنگین خطرہ کی طرف نشاندہی کی ہے۔ان کا خیال تھا کہ یہ جنگ ایشیا یا کہیں اَور نہیں لڑی جائے گی بلکہ یورپ کی سرحدوں پر لڑی جائے گی اور یہ کہ اس کے شعلے مشرقی یورپین ممالک سے بلند ہونے کا خدشہ ہے۔اگر چہ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے لیکن میں ان کے خیالات کو خارج از امکان نہیں سمجھتا بلکہ میرا تو خیال ہے کہ اگر ایسی جنگ چھڑ گئی توغالب امکان ہے کہ ایشیائی ممالک بھی اس میں شامل ہو جائیں گے۔
ایک اور خبر جسے حال ہی میں وسیع پیمانہ پر نشر کیا گیا وہ اسرائیلی ایجنسی موساد کے حال ہی میں ریٹائرہونے والے سربراہ کا بیان ہے۔امریکہ کے معروف ٹی وی چینل (CBS) کوانٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ بات کھل کر سامنے آتی جارہی ہے کہ اسرائیلی حکومت ایران پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایساحملہ ہوا تو یہ جاننا ہمارے لیے ناممکن ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ کہاں اور کیسے ہوگا؟ چنانچہ انہوں نے ایسے کسی بھی حملہ کی پُرزور مخالفت کی۔اس ضمن میں میرا خیال یہ ہے کہ ایسی جنگ ایٹمی تباہی پر منتج ہوگی۔…
میرے خیال میں دنیوی حکومتوں کو موجودہ حالات پر انتہائی تشویش اور فکر مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اسی طرح بعض مسلمان ممالک کے ظالم حکمرانوں کو جن کا واحد مقصد یہ ہے کہ ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہیں، ہوش کےناخن لینے چاہئیں۔بصورت دیگر اُن کے اعمال اور اُن کی بے وقوفی ان کے اپنے قلع قمع کا ذریعہ بن جائے گی اوروہ اپنے ممالک کو انتہائی ہولناک تباہی کی طرف لے جائیں گے۔
ہم ممبران جماعت احمد یہ حتّی الوسع اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ دنیا اور انسانیت کو تباہی سے بچایاجائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس زمانہ میں وقت کے امام کو قبول کیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کربھیجا اور وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِیْنَکے غلام کی حیثیت سے مبعوث ہوئے کیونکہ ہم اپنے آقا حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر دل و جان سےعمل پیرا ہیں اس لیے دنیا کی حالت پرہمارے دل سخت کرب و تکلیف میں مبتلا ہیں۔انسانیت کو تباہی اور مصیبت سے بچانے کی ہماری کوششوں کے پیچھے یہی دکھ اور تکلیف کارفرما ہے۔اسی لیے خاکسار اور تمام احمدی مسلمان دُنیا میں امن کے حصول کے لیےاپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ۴۳تا۴۶)اللہ تعالیٰ دنیا کو امن کے اس سفیر کی پُر درد آواز پر کان دھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
آسماں پر اِن دنوں قہرِ خدا کا جوش ہے
کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشید و ہونہار
٭…٭…٭
مزید پڑھیں:دنیا کی کوئی طاقت ہزار کوششوں کے باوجود بھی جماعت کو پھلنے پھولنے اور بڑھنے سے نہیں روک سکتی



