مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(ماہ مئی ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)(قسط ہشتم)
اسلام
حج کے انتظامات: اسلامی کیلنڈرکے مطابق ذوالحجہ کا مہینہ شروع ہوچکا ہےاورسعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں جو خانہ کعبہ کی وجہ سے مرکز اسلام ہے، سعودی حکومت ہر سال کی طرح حج اورعیدالاضحی کے انتظامات میں دن رات مصروف ہے،حج بلاشبہ دنیا کا ایک عظیم ترین مذہبی اجتماع ہے۔
دنیا بھر سے لاکھوں عازمینِ حج کی آمد، رہائش، خوراک، صحت، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی کے لیے سعودی حکومت اربوں ریال خرچ کرتی ہے۔ ۲۰۲۶ء کے موسم حج کے موقع پر سعودی اداروں کے مطابق ہزاروں پروازوں کے ذریعہ لاکھوں عازمین حج سعودی عرب کا سفرکرکے پہنچ رہے ہیں ، سعودی ایئر لائن نے یہ سہولت بھی متعارف کروائی ہے کہ حاجیوں کا سامان براہِ راست ان کی رہائش گاہ تک پہنچایاجائے تاکہ ایئرپورٹس پر رش کم ہو اور سفر آسان بن سکے۔
مناسک حج کی ادائیگی کے وقت ’’ حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین ‘‘ مکہ مکرمہ، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے درمیان حاجیوں کی آرام دہ اور تیزترین نقل و حمل کے لیے ہے۔ اسی طرح حجاج کو ملک کے اندر آمد و رفت کی جدید ترین سہولیات دینے کے لیے تیز رفتار ریل گاڑیاں، خصوصی بس سروسزاور ڈیجیٹل سفری نگرانی کا انتظام ہے۔خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں حسب پیش گوئی ارض ِحرم میں جاری اس تیز رفتار ریل سروس سے آج کل کے مولوی حضرات نظریں چراتے ہیں یا بلاجھجک سوار ہوجاتے ہیں۔
۲۰۲۶ء میں حجاج کی رہائش کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے اس شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں نیز بکنگ کے عمل کوبھی مزید مربوط اور ڈیجیٹل بنایاگیا۔ لاکھوں حاجیوں کی رہائش، کھانے اور ٹھنڈک کے انتظامات کے لیے خصوصی خیمہ بستیاں، ایئرکنڈیشنڈ عمارتیں ، مرکزی کولنگ سسٹمز ، مرطوب ہوا پھینکنے والے جہازی سائز کے پنکھے استعمال کیے جاتے ہیں۔
صحت کے شعبے میں بھی سعودی حکومت کی تیاری نہایت وسیع ہوتی ہے۔ ۲۰۲۶ء کے حج کے لیے بیس ہزار سے زائد ہسپتال بیڈ مختص کیے گئے ہیں جبکہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں خصوصی ایمرجنسی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں اینجیوگرافی اور اینجیو پلاسٹی کا انتظام بھی ہوتا ہے۔ ہزاروں ڈاکٹرز، نرسیں اور رضاکار حاجیوں کی خدمت پر مامور ہوتے ہیں۔ شدید گرمی اور ہجوم کے پیش نظر ہیٹ اسٹروک، وبائی امراض اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی میڈیکل پلان تیار کیا جاتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اب حج انتظامات کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کیمرہ مانیٹرنگ، ڈیجیٹل بریسلٹس، “نسک” پلیٹ فارم اور ہجوم کی نگرانی کے سسٹم کے ذریعے لاکھوں افراد کی نقل و حرکت کوبے قابو ہونے سے روکا جاتا ہے۔کیونکہ سعودی حکومت حج کو محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم انسانی خدمت سمجھتی ہےاور اسی لیے ہر سال نئے منصوبے، جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمان امن، سہولت اور روحانی سکون کے ساتھ اپنے مناسک ادا کرسکیں۔آتش زدگی اور بھگدڑ کے واقعات مغربی میڈیا کی خصوصی توجہ ،اضافی رپورٹنگ، غیر ضروری تبصروں اور بے جا اعتراض کا موجب بنتے ہیں۔
حفاظتی انتظامات کی بات کریں تو سعودی وزارت دفاع مکہ میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی میزائل سسٹم بھی نصب کرتی ہے اورفوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ سیکیورٹی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد پہنچانے کے لیے ڈرونز سے بھی مدد لی جاتی ہے جبکہ ہزاروں کیمروں کی مدد سے نگرانی کی جا تی ہے۔
موسم حج سمیت سارا سال خانہ کعبہ کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینے کی وجوہات ایک سے زیادہ ہیں۔ مثلاً ۹۳۰ء میں مکہ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیاتھا جس نے اُس زمانے کی پوری مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ جب خلافت عباسیہ اندرونی اختلافات کاشکار تھی تب ایک مسلح گروہ مکہ میں داخل ہوا، اور کعبہ سے حجر اسود اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گیااور اگلے ۲۲؍برس تک حجر اسود واپس نہیں آ سکا۔
اسی طرح حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی اپنے ہمسایہ ممالک مثلاً یمن سے ایک طویل اور لاحاصل جنگ کے دوران بعض سعودی شہروں پر میزائل حملے بھی ہوچکے ہیں۔
۱۹۷۹ء میں بھی مکہ مکرمہ میں ایک خوفناک واقعہ پیش آیا تھا جب مسجد الحرام پر قبضہ ہوگیاتھا، تب ’’خونی مہدی‘‘اور انتہاپسندی کا غلط اور خلاف اسلام طرز عمل کھل کر سامنے آیا۔ہوا یوں کہ ۲۰؍نومبر ۱۹۷۹ء کو جہیمان العتیبی نامی شخص نے اپنے تقریباً ۶۰۰؍مسلح ساتھیوں کے ساتھ مسجد الحرام پر قبضہ کر لیااوراپنے بہنوئی محمد عبداللہ القحطانی کو “مہدی موعود” قرار دیا اور سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا۔ حملہ آور اسلحہ چھپا کر مسجد میں داخل ہوئے اور فجر کے وقت اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس سے نمازیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ تب اسلام کے مقدس ترین مقام کو سیاسی اور انتہا پسندانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ کئی دنوں تک جاری رہنے والے اس محاصرے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ خود محمد القحطانی بھی مارا گیا۔ بعد ازاں سعودی حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے باغیوں کو گرفتار کیا اور ۶۳؍افراد کو سزائے موت دی گئی۔
اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ۲۳؍نومبر ۱۹۷۹ء کے خطبہ جمعہ میں مسجد الحرام کی بے حرمتی پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور اس سانحے کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک دردناک لمحہ قرار دیا تھا۔
حج روکا جانا:امت مسلمہ کے تمام افراد کو حج کی خواہش اور استطاعت کے باوجودموقع نہیں مل پاتا ، کیونکہ حج ایک سخت بین الاقوامی نظام کے تحت کیا جاتا ہے جسے کوٹہ سسٹم کہتے ہیں۔سعودی حکومت ہر ملک کے لیے حجاج کی ایک مقررہ تعداد کا تعین کرتی ہے اور یہ اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر کسی ملک کی آبادی میں فی ہزار مسلمانوں میں سے ایک حاجی کے اصول کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
پھرآخری زمانے میں مسیح موعود کے ظہور کی ایک نشانی حج روکا جانے کی پیش گوئی کے پورا ہونے کے مناظر ایسے لوگوں کی گرفتاری اور بے دخلی بھی ہے جو جعلی کمپنیوں کے پرمٹ پر دھوکا میں آجاتے ہیں یا موسم حج سے قبل عمرہ یا سیاحت کا ویزا لے کرمملکت میں داخل ہوتے ہیں، حج کے انتظار میں چھپ جاتے ہیں، یا غیر قانونی راستوں سے مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور پکڑے جاتے اور حج سے روکے جاتے ہیں۔
اسی طرح حج کے ا خراجات میں اضافے کی وجہ سے بھی بہت سے لوگوں کا حج رک جاتا ہے۔ مثلاً ۲۰۲۴ء میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سٹیٹ حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹیو نے بتایا کہ ۲۲؍سال میں پہلی دفعہ قرعہ اندازی کی نوبت ہی نہیں آئی کیونکہ ۷۹۰۰؍کے کوٹے میں کمیٹی کو صرف ۴۳۰۰؍درخواستیں موصول ہوئیں اور ان میں سے بھی ۷۰۰؍افراد نے فارم ہی واپس لے لیے ہیں۔اور اطلاعات کے مطابق حج آپریٹرز کے کاروبار میں ۷۵؍فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسی طرح گذشتہ برس ۲۰۲۵ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو آبادی کے تناسب سے حج کا مجموعی کوٹہ تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار افراد ملا، جس میں نصف کو سرکاری حج سکیم اور نصف کو پرائیوٹ حج آرگنائزر نے اس مذہبی فریضے کی ادائیگی کروانا تھی۔لیکن پرائیویٹ حج کے تحت صرف ۲۳؍ہزار ۶۲۰؍افراد ہی سعودی عرب جا سکے جبکہ باقی تقریباً ۶۷؍ ہزار افرادکو حج سے روک دیا گیا۔ غالبا ًان پاکستانیوں کے بعض ضروری انتظامی مراحل بروقت مکمل نہ تھے لیکن ان ہزار ہا لوگوں نے امام مہدی کے زمانہ میں حج سے روکے جانے کی نشانی کو کم ازکم اپنی ذات میں توپورا ہوتا دیکھ لیا۔ گو یہ نشانی قبل ازیں بھی متعدد دفعہ پوری ہوچکی ہے، جیسا کہ بعض ممالک کے ظالمانہ قوانین کی وجہ سے احمدیوں کو حج سے روکنا، وباؤں اور جنگوں کی وجہ سے حج سے روکا جانا وغیرہ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یکم جنوری ۱۸۹۹ء کو طبع ہونےوالی اپنی ایک تصنیف میں فرمایا ہے کہ ’’دیکھو یہ پیشگوئی جو یعلیٰ اور حاکم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ قیامت کے قریب یعنی مسیح موعود کے وقت میں لوگ حج سے روکے جائیں گے کیسی صفائی سے ان دنوں میں پوری ہورہی ہے جو بباعث طاعون ہر ایک سلطنت نے حج کے ارادہ کرنے والوں کو سفرِ مکہ معظمہ سے روک دیا ۔ کیا ایسا واقعہ پہلے بھی کبھی وقوع میں آیا؟ (ایام الصلح ،روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۰)
نیز حاشیہ میں فرمایا: ’’سلطان روم نے اب کے سال حج کرنے سے روک دیا۔ گورنمنٹ پنجاب نے اعلان کیا کہ اب کے موسم میں کوئی جہاز مکہ کو نہ جاوے گا کوئی عزم حج نہ کرے۔ روسی گورنمنٹ نے حج کے جانے سے ممانعت کردی ۔ دیکھو اخبار عام مارچ و اخبار عام ۴ اپریل ۱۸۹۸۔ منہ ‘‘
عیسائیت
رومن کیتھولک چرچ میں اختلاف اور فرقہ بندیاں: رومن کیتھولک چرچ کے صدر دفتر ویٹی کن نے Society of St. Pius X کو سخت تنبیہ کی ہے کہ اگر اس نے پوپ کی اجازت کے بغیر نئے بشپ مقرر کیے تو اسے کلیسا سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
دراصل یہ گروہ روایتی لاطینی طرزِ عبادت اور قدیم کیتھولک روایات کا حامی ہے اور ۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہونے والی ویٹی کن کونسل کی اصلاحات کو مکمل طور پر قبول نہیں کرتا اور غالباً انہی اصلاحات کے بعد عبادت صرف لاطینی کے بجائے مقامی زبانوں میں بھی ہونے لگی تھی۔اس تنظیم کے بانی Marcel Lefebvre کو ۱۹۸۸ء میں اسی نوعیت کے اقدام پر کلیسا سے خارج کر دیا گیا تھا، کیونکہ انہوں نے پوپ کی اجازت کے بغیر چار بشپ مقرر کیے تھے۔ اب موجودہ قیادت نے جولائی ۲۰۲۶ء میں دوبارہ اسی طرح نئے بشپ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ویٹیکن کے مطابق بشپ کی تقرری صرف پوپ کا صوابدیدی اختیار ہے، کیونکہ کیتھولک عقیدے کے مطابق یہ سلسلہ حضرت عیسیٰؑ کے ابتدائی حواریوں سے جاری ہے۔ اس لیے بغیر اجازت بشپ مقرر کرنا “بغاوت” اور “کلیسا سے علیحدگی‘‘ شمار ہوگا۔ مختصراً، رومن کیتھولک دنیا میں روایت پسنداور اصلاح پسندحلقوں کے درمیان جاری کشمکش ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
جارجین آرتھوڈکس چرچ کے نئے سر براہ کا انتخاب: ۱۱؍مئی ۲۰۲۶ء کو جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں ملک کے آرتھوڈکس چرچ کے سابق سربراہ کی وفات کے بعد نیا سربراہ منتخب کرنے کے لیے چرچ کے خاص عمائدین سمیت ۱۲۰۰؍نمائندگان شریک ہوئے اور نئے روحانی پیشوا کے طور پر۵۷؍سالہ شخص Shio III کو منتخب کیا گیا۔ جارجیا میں آرتھوڈوکس چرچ ایک قدیم اور نہایت طاقتور سماجی و مذہبی ادارہ ہےجس سے قریباً ۳۵؍لاکھ لوگ وابستہ ہیں اور سابق سربراہ نے تقریباً ۴۹؍سال تک اس چرچ کی قیادت کی۔
(اواب سعد حیات )
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ ماہ اپریل اور مئی ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب (قسط ہفتم)



