عیدین

عیدالاضحیٰ روحانی تجدید اور ایمان کے تزکیہ کا ذریعہ

(ناصرہ حفیظ ۔کینیڈا)

 عید الاضحیٰ محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انقلابِ باطن کا پیغام ہے ۔ یہ وہ مقدس لمحہ ہے جب ہرمومن اپنے وجود کے ہرگوشے کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنے رب کے حضور نئے عہدِ وفا کےساتھ جھک جاتاہے۔ اگر اس عید کی حقیقت کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے تو یہ انسان کوحیوانی خواہشات سے نکال کرروحانی بلندیوں کی طرف لے جاتی ہے۔اس دن کی اصل حقیقت نہ تو جانوروں کی قربانی میں محدود ہے اور نہ ہی ظاہری خوشیوں میں ۔بلکہ اس کا بنیادی مقصد دلوں کی اصلاح، نفس کی تطہیر اورخدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا ہے ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَاوَلَادِمَآؤُہَاوَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ۔(الحج: ۳۸ )ہرگز اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کےخون۔ لیکن تمہارا تقویٰ اس تک پہنچے گا ۔

 یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عید الاضحیٰ کا اصل مقصد انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرنااوراس کے ایمان کوجِلابخشنا ہے ۔عید الاضحیٰ دراصل فنا فی اللہ کی عملی تصویر ہے ۔ جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی پر ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو جاتا ہے تو وہ اپنی سب سے قیمتی متاع بھی اس کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا ۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ایمان کوتازہ اورمتحرک بناتا ہے ۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا : إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ۔ اعمال کا دارومدارنیتوں پر ہے ۔ ( صحیح بخاری) اس حدیث سےعلم ہوتاہے کہ قربانی کا اصل حسن اس کی نیت میں ہے ۔اگرنیت خالص ہوتوایک معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا ہے۔ اوراگرنیت میں کھوٹ ہو تو بڑی سے بڑی قربانی بھی بے معنی ہو جاتی ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں :”اس میں مخفی طور پر یہی اشارہ تھا کہ انسان ہمہ تن خدا کا ہو جائے اورخدا کے حکم کے سامنے اس کی اپنی جان، اپنی اولاد، اپنے اقربا و اعزّا کا خون بھی خفیف نظر آئے ۔ “

( ملفوظات جلد ۲، صفحہ۳۳، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

 یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہےکہ اصل قربانی نفس کی قربانی ہے۔اپنی انا، اپنی خواہشات، اپنی خود غرضی کو اللہ تعالیٰ کے حضورقربان کرنا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم کرنا ہے ۔

خلفائے احمدیت نے بھی عید الاضحیٰ کے روحانی پہلو پر ہمیشہ زوردیا ۔حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں :” جب تک کامل قویٰ خدا کے لیے قربان نہ کرو گے ساری نیکیاں تمہاری ذات پرجلوہ گرنہ ہوں گی ۔پس جہاں ایک طرف عظمتِ الٰہی میں لگو دوسری طرف قربانیاں کرکے مخلوقِ الٰہی سے شفقت کرواورقربانیاں کرتے ہوئے اپنے کل قویٰ کوقربان کرڈالواور رضائے الٰہی میں لگا دو۔ “(خطبات نورصفحہ ۲۶-۲۷،خطبہ عید الاضحیٰ ۲۱؍اپریل ۱۸۹۹ء)

اگر ہم نے قربانی کے فلسفہ کوسمجھ لیا تو ہماری زندگیاں بدل جائیں گی اور ہم حقیقی تقویٰ اختیار کرنے والے بن جائیں گے۔ ظاہری قربانی کے ساتھ ساتھ باطنی قربانی بہت ضروری ہے ۔ یعنی انسان اپنے نفسِ امّارہ،غرور،حسداوردنیاوی خواہشات کوترک کردے ۔

 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:”اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کو ہمیشہ سکھ حاصل ہو اور آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کی عیدیں ختم نہ ہوں تو آپ اپنے بچوں کو قربان کریں اوران کودنیا کی ہرقسم کی مشقت برداشت کرنے کی عادت ڈالیں ۔ تاکہ وہ دین اوراسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لیے کسی تکلیف اور مشقت سے خوف نہ کھائیں ۔ اگراس عید سے آپ یہ سبق سیکھ لیں تو آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کی عیدیں ختم نہ ہوں گی ۔“(خطبات محمود جلد دوئم، خطبات عید الاضحیٰ، صفحہ ۸۴-۸۵فرمودہ۲ ؍جولائی ۱۹۲۵ء، بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، قادیان ) یہ ارشادات اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں کہ عید الاضحیٰ ایک وقتی عبادت نہیں بلکہ ایک مستقل روحانی انقلاب کی دعوت ہے ۔ یہ ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو صرف ایک دن تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی پر محیط ہونا چاہیے ۔

 عید الاضحیٰ انسان کے اندر تین بنیادی روحانی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے ۔

اول:تجدید تعلق باللہ ۔یہ عید انسان کو اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کا موقع دیتی ہے ۔قربانی کا ہرقطرۂ خون انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کو تازہ کرتا ہے اور دنیا کی آلائشوں سے پاک کر کے نورِالٰہی سے منور کر دیتا ہے ۔یہی وہ راز ہے جو ایک کمزور انسان کو روحانی طاقت کا پیکر اوراللہ کا سچا بندہ بنا دیتا ہے ۔

دوم : تزکیہ نفس ۔ عید الاضحیٰ دراصل تزکیہ نفس کا عظیم الشان درس دیتی ہے ۔ جہاں انسان اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع اور قربان کرنا سیکھتا ہے ۔اس کا نفس پاک ہوتا ہے۔حسد،انا،تکبر،بغض اوردنیا پرستی جیسے امراض ختم ہونے لگتے ہیں ۔نفس کی اصلاح کے ساتھ یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ عید محض ایک تہوار نہیں بلکہ روحانی انقلاب کا عظیم ذریعہ ہے ۔

 سوم: ایثار و ہمدردی ۔ قربانی کا عمل دراصل ایثار کی عملی تصویر ہے ۔ جو ہمیں اللہ کی رضا کے لیے اپنی عزیز ترین چیز نچھاورکرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اپنی خواہشات کو دوسروں کی خوشیوں پر ترجیح دیتا ہے ۔ قربانی کا گوشت محتاجوں میں تقسیم کرنا ہمیں انسانیت کی خدمت اوربھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔یہی وہ جذبہ ہے جو حقیقی مومن کی پہچان ہے اور معاشرے کومحبت واخوت کا گہوارہ بناتا ہے۔ عید الاضحیٰ ہمیں یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں قربانی کو ایک مستقل طرز زندگی بنانا ہوگا ۔ اپنی نیندوں کی قربانی،اپنے آرام کی قربانی،اپنی خواہشات کی قربانی،یہ سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونی چاہئیں ۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ قربانی کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں : ”آج جو سینکڑوں ہزاروں واقفینِ زندگی، ان کی بیویاں اوران کے بچے وادئ ذی زرع میں رزق کےظاہری انتظاموں کے بغیراپنے آ پ کو خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں اور کرتے چلے جا رہے ہیں یہ سارے اسی قربانی کے مناظر ہیں ۔ “(خطبات طاہر، تقاریرجلسہ سالانہ قبل ازخلافت، صفحہ ۳۰۳ )

 پس اگرہم عید الاضحیٰ کواس کے حقیقی مفہوم کے ساتھ منائیں تو یہ ہمارے لیے محض ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ ایک دائمی روحانی بیداری بن سکتی ہے ۔یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ عملی قربانی کا نام ہے ۔آخرمیں عید الاضحیٰ کا پیغام یہ ہے : اپنے اندر کے ابراہیم کوزندہ کرو،اپنے نفس کے اسماعیل کو قربان کرواوراپنے دل کو

 خدا تعالیٰ کا مسکن بنا لو۔ عید الاضحیٰ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کی رضا کے تابع کریں اورتقویٰ وطہارت کو اپنائیں ۔اگر ہم اس عید کی حقیقی روح کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں نافذ کریں تو یقیناً یہ ہمارے لیے روحانی تجدید اور ایمان کےحقیقی تزکیہ کا ذریعہ بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عید الاضحیٰ کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

مزید پڑھیں: خطبہ عید الاضحی سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ6؍جون 2025ء – الفَضل انٹرنیشنل

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button