مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ
(مارچ ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب) (قسط چہارم)
آج دنیا میں ایک خطرناک اورپیچیدہ جنگ جاری ہے جس میں اسلام، یہودیت اورعیسائیت کی طرف منسوب ممالک باہم برسرپیکارہیں اور ایک دوسرےکو ناقابلِ تلافی اور دُور رس نقصانات پہنچانے کے لیے ہرتباہ کن طریقہ استعمال کررہےہیں۔
چونکہ جنگوں میں سب سے پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے اس لیے ان سطور میں جدید ہتھیاروں، سرکاری بیانیےاورمہلک ٹیکنالوجی پر بات نہیں کی جائے گی بلکہ اس خونی تصادم کے دوران سامنے آنے والے بعض مذہبی پہلوؤں تک اس تحریر کو محدودرکھا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس وسیع جنگ میں شریک کسی بھی فریق نے ابھی تک اسےکھلم کھلا مذہبی جنگ قرارنہیں دیا ہے۔
اسلام
دنیا بھر کے مسلمانوں نے رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر منائی۔ گو مختلف ممالک میں چاند کی عینی رویت کے مطابق تاریخ میں فرق رہا، مثلاً پاکستان، سعودی عرب اور مراکش میں مختلف دنوں میں عید منائی گئی۔مساجد میں عید کے اجتماعات، صدقۃالفطر کی ادائیگی اور باہمی میل جول اس کے نمایاں پہلو رہےلیکن ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے محاذِ جنگ اور اس کے قریب واقع ممالک میں عیدکے اجتماعات خوف کے سائےمیں منعقدہوئے۔ نیز ہزاروں خاندانوں نے اس جنگ کا ایندھن بننے والے اپنے پیاروں کو کھودیا، جس کا اثر ان کی عید کی خوشیوں پر پڑنا ایک لازمی امر ہے۔بلاشبہ آج مسلمانوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔
اس جنگ کے آغاز میں مشرق وسطیٰ کے ایک ملک ایران پر اسرائیل اورامریکہ نےمشترکہ حملہ کیا، اور ملک کی قیادت کو نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں ان فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کیا جہاں سے حملے ہورہے تھے۔ نتیجۃً خلیجی ممالک کی شاہی حکومتوں نے اچانک اپنے آپ کو ایک ایسے تنازع میں گِھرا ہوا پایا، جس کی انہوں نے کبھی چاہ نہیں کی تھی۔اب خطّے کی ان شاہی مگر آمرانہ حکومتوں کامسلک سنی ہے جبکہ ایران میں شیعہ مسلک کاغلبہ ہے۔ اب اس مسلکیاور فقہی اختلاف سے سب سے زیادہ فائدہ دشمن ممالک اٹھارہے ہیں۔ اگرآج کلمۂ توحید کی بنا پر یہ مسلمان ممالک اتحاد کرلیں تو یہود ونصاریٰ کوجارحانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے فوجی اڈّے اور لاجسٹک سہولتوں کی فراہمی معطل ہونے سے جنگ کے شعلے فوراً ٹھنڈےپڑ سکتے ہیں۔
ایسے میں امتِ مسلمہ کے نمائندہ کہلانے والے ان تمام بادشاہوں کےلیے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ فوجی اڈےبنانے کے لیے اغیار کواپنی سر زمین، لاکھوں کروڑوں ڈالرز اور اپنی خودمختاری دے کر انہوں نے کیا فائدہ اٹھایا۔ نہ حفاظت ملی اور مال بھی گیا۔ لیکن بظاہر مسلک کے لحاظ سےایک کہلانے والے ان مسلمان حکمرانوں کی باہمی کشمکش اور اختلاف بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مثلاً ۲۰۱۷ء میں ایک چھوٹے سےمگر مال دار مسلم ملک قطر کی ناکہ بندی ہوئی اور اس چار سالہ بحران کا بظاہر خاتمہ جنوری ۲۰۲۱ء میں ہوا تب اپنے اس ہمسایہ ملک کی ناکہ بندی کرنےوالے کوئی اور نہیں بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر تھے اور ان کی جانب سے بعض الزامات کی بنا پر قطرپر سفارتی، تجارتی اور سفری پابندیاں لگائی گئیں جس میں زمینی اورفضائی راستوں کی بندش بھی شامل تھی۔ مسلم امہ کے اندر اس طرح کے باہمی انتشار، پھوٹ، نفاق کے ہوتےہوئے بیرونی دشمنوں کا کام مزید آسان ہوجایا کرتاہے۔
مگر ایک پیچیدہ دجالی چال کا شکار اور صدیوں سے جاری ان مسلکی اور فروعی اختلافات کی گہرائیوں کو دیکھتےہوئے ایسا اتحاد ہوتا نظر نہیں آرہا ہے بلکہ حال ہی میں سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی، اُن کے معاون اور سفارتی عملے کے تین دیگر اراکین کو ’ناپسندیدہ شخصیات‘ قرار دیتے ہوئے انہیں اگلے چوبیس گھنٹوں میں سعودی عرب چھوڑنے کے احکامات جاری کردیے اور کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی معاہدوں، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے احترام کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اسلامی اقدار و اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔
یہودیت
یہودیت کے نام پر قائم ملک اسرائیل کی موجودہ قیادت اس جنگ میں بھی ہر بین الاقوامی ضابطے اور متفق علیہ قانون سے مکمل بےنیاز ہےجیسا کہ غزہ کی جنگ کے موقع پر دیکھا گیا تھا۔
مگر جنگوں میں اب صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ ایک بیانیہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دیکھا گیا ہے کہ ہر جارح بھی ایک بیانیہ بناکر اس کوخوب پھیلاتا ہے اور اس بیانیہ میں مذہبی زبان بھی استعمال کرلی جاتی ہے تاکہ عوامی حمایت بھی حاصل ہوجائے اور دشمن کو بھی اخلاقی طور پر غلط ثابت کردیا جائے نیز مذموم مقاصد کےلیے شروع کی گئی اپنی جنگ کوایک مقدس مقصد دے کر حکمران بہت سے دیگرمقاصد بھی حاصل کرنا چاہتےہیں۔
مثلاً امریکی وزیردفاع سرعام میڈیا کو للکار رہے ہیں کہ میڈیا کو یہ ماننا ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی فوج کو تباہ کر رہے ہیں۔ اور کہا کہ ایرانی حکومت اب آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور وہاں ’سٹارز اینڈ سٹرائپس اور سٹار آف ڈیوڈ‘ دیکھتی ہے۔
اب جبکہ ’’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘‘ امریکی پرچم کے لیے اصطلاح ہے اور سٹار آف ڈیوڈ اسرائیلی پرچم کے لیے متبادل لفظ ہے توایک مسلمان ملک کے لیے یہود ونصاریٰ کے گٹھ جوڑ پر کوئی سوالیہ نشان کہاں باقی رہ جاتاہے۔
نیز اس حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی قیادت کی طرف سے بھی بعض مواقع پرعمالقہ کا حوالہ دیا گیا جو بائبل میں مذکور ایک قدیم دشمن قوم کا نام ہے۔ گو عالمی برادری کی طرف سے ایسے بیانات کا نوٹس لیا جاتاہےلیکن کیا کہئے کہ
’’اندھیرا مانگنے آیا تھا روشنی کی بھیک‘‘
مسیحیت
حال ہی میں Cardinal Pietro Parolin نے جو رومن کیتھولک چرچ کے صدر مقام ویٹی کن کے اعلیٰ سفارتکار ہیں، ایک غیر معمولی بیان دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو ایران جنگ ختم کرنے کی اپیل کی۔اور مطالبہ کیا کہ ایران سے جاری جنگ جلداز جلد ختم کی جائے۔ نیز انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اسرائیل لبنان پر حملے بند کرے اور تنازع مزید نہ پھیلایا جائے۔ اس مندوب نے کہا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارتکاری ہے۔
ویٹیکن عموماً نرم اور غیر جانبدار زبان استعمال کرتا ہے، مگر یہاں براہِ راست امریکہ اور اسرائیل کو مخاطب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ جنگ کی شدّت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات خطرناک ہو رہے ہیں جیسا کہ تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور فراہمی میں تعطل نے دنیا کے ہر دور ونزدیک واقع ملک اور ہر چھوٹے بڑے جزیرےتک جنگ کے شعلو ں اور حدت کو قدرے مختلف طریق پر پہنچا دیا ہے۔
اسی طرح روئیٹر کی ایک خبرکے مطابق رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ Pope Leo XIV نے کہا کہ جو مسیحی راہنما جنگیں شروع کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ضمیر کا محاسبہ کریں اور اعترافِ گناہ (confession) کریں۔نیز انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے لوگ واقعی حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔لیکن پوپ نے کسی خاص ملک، راہنما یا جنگ کا نام نہیں لیا، لیکن یہ بیان موجودہ عالمی تنازعات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال کے پس منظر میں دیا گیا۔ گو اس کو ایک اخلاقی اور مذہبی اپیل کہا جاسکتا ہے جس میں جنگ شروع کرنے والوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔کیونکہ مذہب اور بطورخاص مسیحیت کی تعلیم میں تو خونی جنگیں کرنے اوردوسروں پرحملہ آورہونے کاکوئی جواز ہی نہیں ہے۔کیونکہ لوقاکی انجیل کے باب ۶ میں ہے کہ ’’لیکن تم کو جو سن رہے ہو مَیں یہ بتاتا ہوں، اپنے دشمنوں سے محبت رکھو، اور اُن سے بھلائی کرو جو تم سے نفرت کرتے ہیں۔ جو تم پر لعنت کرتے ہیں اُنہیں برکت دو، اور جو تم سے بُرا سلوک کرتے ہیں اُن کے لیے دعا کرو۔اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو اُسے دوسرا گال بھی پیش کر دو۔ اِسی طرح اگر کوئی تمہاری چادر چھین لے تو اُسے قمیص لینے سے بھی نہ روکو۔جو بھی تم سے کچھ مانگتا ہے اُسے دو۔ اور جس نے تم سے کچھ لیا ہے اُس سے اُسے واپس دینے کا تقاضا نہ کرو۔ لوگوں کے ساتھ ویسا سلوک کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔اگر تم صرف اُن ہی سے محبت کرو جو تم سے کرتے ہیں تو اِس میں تمہاری کیا خاص مہربانی ہو گی؟ گناہ گار بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔اور اگر تم صرف اُن ہی سے بھلائی کرو جو تم سے بھلائی کرتے ہیں تو اِس میں تمہاری کیا خاص مہربانی ہو گی؟ گناہ گار بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔‘‘
مگر زمینی صور ت حال یہ ہے کہ امریکہ کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگزتھ اپنے فوجیوں کی مجلس میں مقدس جنگ کا ذکر کرتے پھر تے ہیں اور امریکی فوج کے اندر بعض کمانڈرز اس جنگ کو خدا کا منصوبہ قرار دے کر اسے آخری جنگ سے جوڑ رہےہیں۔ اسی طرح امریکہ کے صدر ٹرمپ بھی اسرائیل کے دشمنوں کے قتال سے متعلق مذہبی حوالے دیتےہیں۔
’’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں‘‘
٭…٭…٭
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(مارچ ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب) (قسط سوم)




