خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… کوئٹہ پاکستان میں اتوار کو ایک مسافر ٹرین پر ہونے والے شدید کار بم حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ حملہ چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک کے پاس کیا گیا، جہاں زیادہ تر فوجی اہلکار اور ان کے اہلِ خانہ سفر کر رہے تھے۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ۱۹ سے ۳۰؍ کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
٭… جرمنی نے ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں تین سال بعد پہلی بار بجلی کی برآمدات کو درآمدات پر سبقت دے دی۔ فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے مطابق جنوری سے مارچ تک جرمنی نے ۱۵.۳؍ٹیرا واٹ گھنٹے بجلی درآمد جبکہ ۱۷.۹؍ٹیرا واٹ گھنٹے برآمد کی۔ برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ جرمنی میں بجلی کی نسبتاً کم ہول سیل قیمتیں تھیں، جس کے باعث ہمسایہ ممالک نے جرمن بجلی خریدنے کو ترجیح دی۔ سب سے زیادہ بجلی آسٹریا نے درآمد کی، جبکہ ڈنمارک جرمنی کو سب سے زیادہ بجلی فراہم کرنے والا ملک رہا۔ برآمد شدہ بجلی کا ۵۷؍فیصد حصہ قابلِ تجدید توانائی سے حاصل کیا گیا۔
٭… یورپی یونین نے امریکہ کے ساتھ ایک عارضی تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی فی الحال ٹل گئی۔ معاہدے کے تحت یورپی یونین امریکی صنعتی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹیز ختم کرے گی اور امریکی زرعی و سی فوڈ مصنوعات کو ترجیحی رسائی دے گی، جبکہ امریکہ زیادہ تر یورپی اشیاء پر ۱۵؍فیصد ٹیرف برقرار رکھے گا۔ معاہدے میں سخت شقیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ اگر امریکہ پیچھے ہٹے تو یورپی یونین مراعات معطل کر سکے۔ یہ پیش رفت تقریباً دو کھرب ڈالر سالانہ تجارت والے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں استحکام لانے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
٭… متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے بڑھتے دفاعی تعاون نے خلیجی خطے میں نئی سیاسی صف بندیاں نمایاں کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یو اے ای اور اسرائیل مشترکہ دفاعی فنڈ اور سیکیورٹی تعاون بڑھا رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور مصر ایک نسبتاً محتاط اور استحکام پر مبنی پالیسی اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کے مفادات اور ترجیحات میں فرق بڑھ گیا ہے۔
٭…٭…٭




