عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں
ہماری جماعت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گاری کے لئے عورتوں کو پرہیز گاری سکھاویں ورنہ وہ گنہ گار ہوں گے اور جب کہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی ۔ جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حالت میں اولا د بھی پلید پیدا ہوتی ہے۔ اولاد کا طیب ہونا تو طیبات کا سلسلہ چاہتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر اولا دخراب ہوتی۔ اس لیے چاہیے کہ سب تو بہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔ عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا ۔ نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں۔ یہ نہ خیال کرنا چاہیے کہ وہ احمق ہیں۔ وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثروں کو حاصل کرتی ہیں۔ جب خاوند سیدھے رستہ پر ہو گا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی۔ ایسا نمونہ دکھانا چاہیے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جاوے کہ میرے خاوند جیسا اور کوئی نیک بھی دنیا میں نہیں ہے۔ اور وہ یہ اعتقاد کرے کہ یہ باریک سے باریک نیکی کی رعایت کرنے والا ہے۔ جب عورت کا یہ اعتقاد ہو جاوے گا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے باہر رہے۔ سب انبیاؤوں اولیاؤوں کی عورتیں نیک تھیں اس لیے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے۔ جب مرد بدکار اور فاسق ہوتے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں۔ ایک چور کی بیوی کو یہ خیال کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں ۔خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے ؟ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ( النساء:۳۶) اسی لیے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی ۔ ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا تو بد معاشی سے وہ حصہ لیں گی۔
(ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۳۰۹-۳۱۰، جدید ایڈیشن۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: وہ ایک تمہارا امام ہو گا جو تم سے ہی ہو گا


