بچوں کا الفضل

کیوں؟

پیارے بچو! آج کے نئے سوال اور اس کے جواب کے ساتھ حاضر ہیں۔ اور آج کا سوال یہ ہے کہ

انسانی چہروں پر پلکیں اور بھنویں کیوں ہوتی ہیں؟

پیارے بچو! آپ کے خیال میں چہرے پر موجود پلکیں اور بھنویں کس کام آتی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب سائنسدان طویل عرصے تک جاننے کی کوشش کرتے رہے تھے اور یہ صرف چہرے کی کشش بڑھانے کا ہی ذریعہ نہیں۔

تو اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ دونوں کا مقصد آنکھوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔امریکن اکیڈمی آف آپٹمالوجی کی ترجمان ڈاکٹرسٹیفنی ماریونیکوس نے بتایا کہ اِن دونوں کا مقصد آنکھوں کی پتلیوں کو اضافی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ تحفظ کسی بھی چیز سے ہوسکتا ہے جیسے سیال یا پانی، کوئی ٹھوس چیز، مٹی، کیڑے وغیرہ۔ بھنویں آنکھوں کو مختلف مواد جیسے پسینے، بالوں کی خشکی اور بارش سمیت ہر اس چیز سے تحفظ فراہم کرتی ہیں جو سر سے پھسل کر چہرے کے نیچے جاتی ہیں۔

بھنویں اس چیزوں کو پکڑلیتی ہیں یا سیال مواد کو جذب کرلیتی ہیں یا اُن کا زاویہ بدل کر آنکھوں سے دور کردیتی ہیں۔ اِسی طرح بھنویں کچھ اَور کاموں میں بھی مددگار ہوتی ہیں جیسے چہرے کے تاثرات اور مخصوص جذبات کے اظہار کے لیے اُن کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ محقق پال او ہیگنس کہتے ہیں کہ ہم نے بالادستی یا جارحیت کی جگہ مختلف جذبات کےاظہار کو اپنالیا، جیسے جیسے چہرے چھوٹے ہوئے، پیشانی بڑی ہوتی گئی، چہرے کے مسلز بھنوؤں کو اوپر نیچے حرکت دینے لگے اور ہم اپنے تمام لطیف جذبات کا اظہار ان کے ذریعے کرنے لگے۔ اسی طرح پلکیں بھی آنکھوں کو اسی طرح کا تحفظ فراہم کرتی ہیں مگر ان کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سٹیفنی کے مطابق پلکیں لگ بھگ منہ پر مونچھوں کی طرح ہوتی ہیں، جو لمبی اور حساس ہوتی ہیں، جب ان کو کچھ چُھوتا ہے تو آنکھیں بند ہونے کا ردّعمل دفاعی میکنزم کے طور پر متحرک ہوتا ہے، پلکوں کے بغیر اس ردّعمل کو متحرک ہونے میں زیادہ وقت لگتاہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر پلکیں نہ ہوتیں تو جب تک کسی چیز کو آنکھوں کے اندر آتے نہیں دیکھتے تو یہ میکنزم متحرک نہیں ہوتا، جس سے چوٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ پلکیں اس معاملے میں حساس ہیں جو برق رفتاری سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے میکنزم کو متحرک کرتی ہیں۔ پلکیں سیال مواد، مٹی اور دیگر اشیا کو بھی پکڑ لیتی ہیں اور آنکھوں کی نمی کو برقرار رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔

تو بچو!آپ کو آج کا سوال اور اِس کا جواب کیسا لگا؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو

ہمیں بھجوائیں۔ ان شا ءاللہ ہم آپ کو اُس کا بھی جواب دیں گے۔

آپ کا بھائی۔ نبیل احمد کاشف۔ جرمنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button