الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت شیخ خلیل الرحمٰن صاحب کپورتھلویؓ

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ کینیڈا‘‘ جنوری ۲۰۱۴ء میں حضرت شیخ خلیل الرحمٰن صاحب کپورتھلویؓ کا ذکرخیر اُن کی بیٹی مکرمہ پروین یعقوب خان صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فدائی صحابی حضرت منشی حبیب الرحمٰن صاحب کپورتھلویؓ (رئیس حاجی پورہ) کا اسم گرامی حضرت اقدسؑ نے اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں بطور مخلص دوست درج فرمایا ہے اور دعائیں دی ہیں۔ آپؓ کے خاندانی حالات اصحاب احمدؑ کی جلد دہم میں شامل اشاعت ہیں جن کے مطابق آپؓ کے ہاں چھٹے فرزند حضرت شیخ خلیل الرحمٰن صاحبؓ ۱۹۰۵ء میں پھگواڑہ ضلع جالندھر (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپؓ کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت خیال تھا چنانچہ اپنے اس بچے کو دینی تعلیم کے ساتھ انٹر تک دنیاوی تعلیم بھی دلوائی۔ پھر یہ محکمہ موسمیات میں ملازم ہوگئے اور وہیں سے ریٹائرمنٹ لی۔ اپنی ملازمت کےدوران ہندوپاکستان کے مختلف علاقوں نیز دوبئی، دوہا اور مسقط میں بھی متعیّن رہے۔ ہر جگہ تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی میں آباد ہوئے اور ایک مستعد خادم دین کے طور پر زندگی گزاری۔ ابتداء میں احمدیہ لائبریری کے انچارج مقرر ہوئے تو موجود لٹریچر کی فہرست بنائی اور بوسیدہ کتب کی خود جلدبندی کی۔ باجماعت نماز کے پابند تھے۔ لائبریری میں باجماعت ادا کی جاتی تھی۔ اگر آپؓ کسی وجہ سے نہ جاسکتے تو گھر پر جماعت کرواتے۔ نماز فجر کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرنا آپؓ کا معمول تھا۔ اپنے پانچ بھائیوں اور تین بہنوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ جماعت کراچی میں سیکرٹری ضیافت کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ بیرونی ممالک سے آنے اور جانے والے احمدیوں کے لیے سفری دستاویزات اور کرنسی وغیرہ کی فراہمی سمیت تمام کاموں کو نہایت خندہ پیشانی سے انجام دیتے۔ بہت صابروشاکر تھے اور جذبۂ ایثار سے لبریز تھے۔ دعاگو اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ جماعت کا پیسہ بچانے کے لیے مہمانوں کو ہوٹل میں ٹھہرانے کی بجائے اپنے گھر لے آتے یا کوئی دوسرا انتظام کردیتے۔ بارہا مہمانوں کے انتظار میں بندرگاہ یا ایئرپورٹ پر چوبیس گھنٹے بھی ٹھہرنا پڑتا تو خندہ پیشانی سے اسے برداشت کرتے۔ مہمانوں کو ہوٹل سے کھانا کھلادیتے لیکن اپنے لیے جماعت کی رقم استعمال نہ کرتے۔ مریضوں کی تیمارداری سے کبھی غافل نہ رہتے۔ ہر مالی تحریک پر لبیک کہتے۔ وقف عارضی بھی کیا کرتے۔ ہمیشہ صاف گوئی سے بات کرتے۔ اگر کوئی زیادتی کرتا تو خاموشی اختیار کرلیتے۔ جلسہ سالانہ میں باقاعدگی سے شریک ہوتے۔ خدمت دین کرنے والوں کی خدمت کرنے کو باعث عزت سمجھتے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا بھی بہت خیال رکھا۔ ۱۹۳۹ء میں جماعت کی گولڈن جوبلی کے موقع پر آپؓ کی انتظامی خدمات کے اعتراف میں آپؓ کو ایک یادگار بیج بھی دیا گیا جو آپؓ کے پاس محفوظ تھا۔

مکرم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیں کہ مکرم شیخ خلیل الرحمٰن صاحب نہایت ہی مخلص، فدائی اور بےلوث خدمت کرنے والے وجود تھے۔ سلسلہ کے خدام کی آمدورفت کے وقت بحیثیت سیکرٹری ضیافت کراچی جماعت میں نمایاں تاریخی خدمات آپ نے انجام دیں۔ خدام سلسلہ خواہ رات کے کسی بھی حصہ میں آتے، مکرم شیخ صاحب کو ریلوے سٹیشن یا ایئرپورٹ پر موجود پاتے۔ ایک رات دو بجے کراچی ایئرپورٹ پر اُترا تو آپؓ استقبال کے لیے وہاں موجود تھے۔ ۱۹۷۲ء میں خاکسار افریقہ سے کراچی اطلاع دیے بغیر آگیا کیونکہ آگے سیٹ بُک تھی اور ٹھہرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ مگر ایئرپورٹ پہنچ کر معلوم ہوا کہ لاہور کے لیے سیٹ کنفرم نہیں ہے۔ لہٰذا ٹیکسی کے ذریعے احمدیہ ہال پہنچا اور مکرم شیخ صاحب کو اُن کے گھر پر فون کرکے اطلاع کی۔ کہنے لگے کہ مَیں سوچ ہی رہا تھا کہ آج کل آپ کو آنا تھا مگر کوئی اطلاع نہیں، اب آپ بغیر اطلاع دیے آگئے تو دیکھ لیا اس کا نتیجہ۔ پھر تشریف لاکر ملے اور آگے سفر کے سارے انتظامات خود کیے۔ ہر خادم سلسلہ کے ساتھ آپؓ کا ایسا ہی سلوک تھا۔

غیرممالک سے آنے والے طلباء کی آپؓ ہمیشہ سرپرستی فرماتے اور تحریک جدید سے خط و کتابت میں اُن کی مدد کرتے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے غیرممالک میں قیام کے دوران اخبارات سے اہم خبروں کے تراشے باقاعدگی سے حضورؒ کی خدمت میں ارسال کرتے۔ آپؓ کی وفات ایک حادثے کے نتیجے میں ہوئی۔ اُن دنوں آپ قائم مقام امیر کراچی تھے جبکہ حضورؒ اُن دنوں کسرصلیب کانفرنس کے لیے لندن تشریف لے گئے تھے۔ حادثے کے وقت آپ حضورؒ کی خدمت میں اخباری تراشے سپرد ڈاک کرنے اور ایک احمدی خاتون کا جنازہ ادا کرنے جارہے تھے۔

………٭………٭………٭………

مکرم ملک مظفر خان جوئیہ صاحب

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘کینیڈا جنوری ۲۰۱۴ء میں مکرم ملک مظفر خان جوئیہ صاحب کے قلم سے خودنوشت حالاتِ زندگی شامل اشاعت ہیں جو نہایت ایمان افروز ہیں۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میری پیدائش ۱۹۲۹ء میں ضلع سرگودھا کے چک۱۵۲شمالی میں ہوئی۔ میری پیدائش سے قبل ہی میرے والد صاحب کی وفات ہوچکی تھی۔ قریباً چھ ماہ کا تھا تو والدہ بھی رحلت فرماگئیں۔ میرے چچا ملک نور محمد جوئیہ صاحب نے میری پرورش کی۔ وہ گاؤں کے پہلے احمدی تھے اور اُن کی تبلیغ سے کئی لوگ احمدیت میں شامل ہوئے اور جماعت قائم ہوگئی۔ مَیں نے گاؤں میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بہت کم عمری میں چچا مجھے اپنے ساتھ مسجد لے جاتے تھے۔ یہ عادت ایسی پختہ ہوئی کہ کسی اشد مجبوری کے بغیر کبھی کوئی نماز باجماعت نہیں چھوڑی۔ دیوبندی فرقے سے میرا تعلق تھا، توحیدپرستی شروع سے ہی پسند تھی اور جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ اسی طرح ہمارے آبائی گاؤں ٹھٹھہ جوئیہ کی نمبرداری میرے والد کی وفات کے بعد (بالغ ہونے کے بعد) میرے کندھوں پر آگئی جسے کینیڈا ہجرت کرنے تک نہایت محنت اور ایمانداری سے مَیں نے نبھایا۔

ایک رات خواب میں سرگودھا کے عالم دین محمد شفیع صاحب کو دیکھا اور اُن سے قرآن پاک پڑھنے اور دَم سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے مجھے دَم سکھایا جس کے لیے شرط بتائی کہ پانچ وقت نماز باقاعدگی سے ادا کی جائے۔ سات مرتبہ سورۃ فاتحہ اور درودشریف پڑھ کر پھونک دیں۔ تب سے مَیں اللہ کے فضل سے دَم بھی کرتا ہوں ، کئی امراض میں بہت افاقہ نظر آیا ہے۔

اپنے احمدی چچا کے گھر میں رہتے ہوئے بھی مَیں اُن کا سخت مخالف تھا۔ محترم احمد خان نسیم صاحب (ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد مقامی ربوہ) اکثر تبلیغ کے لیے ہمارے گاؤں آیا کرتے اور میرے چچا کے گھر ہی ٹھہرتے۔

ایک دن مَیں احمدیوں سے مناظرے کے لیے قریبی قصبے سلانوالی سے ایک مشہور دیوبندی مولوی المعروف ’’پستول‘‘ کو لایا۔ ایک نومبائع احمدی حافظ محمد یوسف صاحب نے تفسیر ’’موضح القرآن‘‘ (از شاہ عبدالقادرؒ) مولوی کو دکھائی جس میں نبیوں کے متعلق عجیب و غریب کہانیاں بیان کرکے بہتان لگائے ہوئے ہیں۔ مولوی صاحب نے ہر اعتراض کا جواب یہی دیا کہ یہ تفسیر بہت پرانی ہے، انبیاء تو معصوم ہوتے ہیں۔ نومبائع نے کہا کہ پھر اس تفسیر کا جواب کیوں آج تک نہیں دیا گیا۔ بہرحال مولوی صاحب تو اِدھراُدھر کی کرکے بغیر کھانا کھائے واپس چل پڑے۔ مَیں ساتھ چلا۔ مَیں نے راستے میں کہا کہ آج تو آپ نے مجھے شرمندہ کردیا ہے۔ وہ بولے کہ مرزا صاحب احمدیوں کو کچھ مخصوص کلمے سکھاتے ہیں جس کے بعد یہ کسی سے مار نہیں کھاتے۔ مَیں نے کہا کہ یہ بات تو غلط ہے۔ بہرحال اُس دن مَیں دل سے احمدی ہوچکا تھا۔ چنانچہ اپنے دونوں نوکروں کو خاموشی سے احمدیت کی تبلیغ کرنے لگا۔ ایک دن مولانا احمد خان نسیم صاحب آئے تو مَیں نے عرض کیا کہ یہ دونوں احمدی ہونا چاہتے ہیں ان کی بیعت لے لیں۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ ’’انہیں دوزخ میں جانے دیتے ہو اور خود بچتے ہو، پہلے خود یہاں دستخط کرو۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم تینوں اُس روز احمدیت میں داخل ہوگئے۔ احمدی ہونے کے بعد خاکسار کو خدمت دین کی بہت توفیق ملی۔ قائد خدام الاحمدیہ، زعیم انصاراللہ، سیکرٹری مال اور صدر جماعت بھی رہا۔ اسی طرح ۱۵ دوستوں کو نظام وصیت میں شامل کرنے کا بھی موقع ملا۔ اپنی جماعت میں ایک لائبریری تعمیر کروائی اور مربی ہاؤس کے لیے اپنا ایک پلاٹ بھی جماعت کو پیش کیا۔ تین بار پندرہ پندرہ دن کے لیے مختلف علاقوں میں وقف عارضی کرنے کی توفیق بھی ملی۔

ایک مقدمہ خاکسار کے خلاف صدر جماعت ہونے پر درج ہوا۔ اس میں میرے ساتھ شریک جرم میرے ایک بیٹے عنایت اللہ (مؤذن) اور حافظ محمد یوسف صاحب تھے جو بچوں کو قرآن کریم پڑھاتے تھے۔ ایک غیراحمدی بھی ملزم تھا جس پر احمدیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے اور اُن کے ساتھ نماز پڑھنے کا الزام تھا۔ اس مقدمے میں ہم سلانوالی میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتے رہے۔ آخر سیشن کورٹ سرگودھا سے ہم بری ہوئے۔ اس کے علاوہ میرے ایک بیٹے محمد نصراللہ کے خلاف کلمہ طیّبہ کیس میں چالان ہوا اور اُسے سزا بھی ہوئی۔

۱۹۹۵ء میں مَیں نے فیملی کے ساتھ کینیڈا ہجرت کرلی۔ تب سے پیس ولیج ٹورانٹو میں بھی مجلس انصاراللہ میں منتظم مال رہا اور کچھ عرصہ مسجد بیت الاسلام میں مؤذن بھی رہا۔ یہاں آٹھ دس بچوں کو گھر گھر جاکر قرآن کریم بھی پڑھایا۔

اگرچہ خاکسار نظام وصیت میں شامل ہوکر اپنی جائیداد کا ایک ٹکڑا فروخت کرکے اپنا حصۂ جائیداد ادا کرچکا تھا تاہم جب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے نظام وصیت میں شامل ہونے کی تحریک فرمائی تو خلیفہ وقت کی آواز پر لبّیک کہتے ہوئے مَیں نے اپنی وصیت کی شرح کو بڑھاکر تیسرا حصہ کردیا اور پھر تمام واجبات ادا کرکے مرکز سے سرٹیفکیٹ لے لیا۔ میرے سارے بچے بھی نظام وصیت میں شامل ہیں اور دین کو دنیا پر ترجیح دیتے ہیں۔ ایک بیٹا عزیزم محمد مطیع اللہ جوئیہ آج کل لائبیریا میں بطور مبلغ خدمت بجالارہا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے متعدد مواقع پر سچی خوابوں کے ذریعے قبولیتِ دعا کی بشارت دی۔ مثلاً ایک بار میری ایک سرخ گھوڑی چوری ہوگئی۔ دعائیں کرتا رہا کہ ایک روز خواب دیکھا کہ اپنی گھوڑی پر سوار ہوکر اپنے گاؤں میں داخل ہوتا ہوں اور سب سے پہلے ایک عورت یہ دیکھ کر مجھے مبارک دیتی ہے۔ میری یہ خواب لفظاً لفظاً پوری ہوئی حالانکہ چور سے چوری شدہ چیز ملنا قریباً ناممکن ہوتی ہے۔

میری اہلیہ اوّل مکرمہ آمنہ صاحبہ سے میرے تین بچے ہوئے تو وہ وفات پاگئیں۔ ایک دوست نے ربوہ میں ایک مالدار بیوہ کا رشتہ دکھایا۔ مَیں نے دعا کی تو خواب میں ایک مکڑی کو دیکھا جو چمٹ گئی ہے۔ مَیں نے حضرت مولوی غلام رسول راجیکی صاحبؓ کو یہ خواب سنائی تو انہوں نے کہا کہ مکڑی کھا جائے گی۔ پھر میری درخواست پر انہوں نے بہتر رشتہ ملنے کے لیے دعا کروائی۔ چنانچہ میری شادی بھیرہ کے ایک گاؤں میں ہوئی جس سے دو لڑکیاں اور پانچ لڑکے عطا ہوئے۔ سب بچے اللہ کے فضل سے شادی شدہ اور خوش و خرم ہیں۔

۲۰۰۳ء میں خواب دیکھا کہ ایک جہاز کی طرح مَیں پرواز کررہا ہوں۔ پھر جلد ہی محض خدا کے فضل سے مجھے حج بیت اللہ کی سعادت اور دو بار زیارتِ قادیان کی توفیق ملی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے فرمایا تھا:

مَیں اُسی کا فقیر ہوں آقا

تُو جو میرے لیے بھلا سمجھے

مجھے اے کاش ہر کوئی تیرا

اور فقط تیرا ہی گدا سمجھے

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: برازیل کے ریت کے ٹیلوں میں نیلی جھیلوں کی جنت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button