بدظنی بہت ہی بری بلا ہے
یہ خوب یا د رکھو کہ ساری خرابیاں اور برائیاں بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایا اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات : ۱۳) اگر مولوی ہم سے بدظنی نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ آکر ہماری باتیں سنتے ، ہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے تو وہ الزام جو ہم پر لگاتے ہیں نہ لگاتے۔ لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کاربند نہ ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ پر بدظنی کی اور میری جماعت پر بھی بدظنی کی اور جھوٹے الزام اور اتہام لگانے شروع کر دیئے یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے۔ نمازیں نہیں پڑھتے ۔ روزے نہیں رکھتے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر وہ اس بدظنی سے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا وہ اس سے بچ جاتے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنی بہت ہی بری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے۔ دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔ صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بدظنی سے بہت ہی بچے ۔ اور اگر کسی کی نسبت کوئی سوءظن پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس معصیت اور اس کے بُرے نتیجے سے بچ جاوے جو اس بدظنی کے پیچھے آنے والا ہے ۔ اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔
(ملفوظات جلد اول، صفحہ ۳۳۵۔۳۳۶، ایڈیشن۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: بیویوں پر رحم کرنا چاہیے اور ان کو دین سکھلانا چاہیے



