امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء اللہ، ناصرات الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ ریڈشٹاٹ (Riedstadt)جرمنی کے ایک وفد کی ملاقات
ہم نے دنیا کو اپنے پیچھے چلانا ہے۔ تم لیڈر ہو، باقی تمہیں follow کرنے والے ہیں، اپنے آپ کو لیڈر بناؤ۔ دنیا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ساری بیٹھی عورتیں یہ سمجھیں کہ ہم نے دنیا کو اپنے پیچھے چلانا ہے،
ہم نے ان کے پیچھے نہیں چلنا۔ جو دنیا میں لیڈر بنتے ہیں ، جو انقلاب لاتے ہیں، وہ کس طرح لاتے ہیں؟ اس طرح کہ وہ اپنے پیچھے لوگوں کو چلاتے ہیں۔ تم لیڈر بن جاؤ اورکسی complex کی ضرورت نہیں
مورخہ ۱۱؍ اپریل۲۰۲۶ء ، بروز ہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی کی لوکل امارت Riedstadtسے تعلق رکھنے والے لجنہ اماءالله، ناصرات الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ پر مشتمل ایک سنتالیس(۴۷) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے جرمنی سے اسلام آباد کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک لجنہ ممبر نے دریافت کیا کہ جیسے ہم لوگ سوچتے ہیں کہ ہمیں یہ چاہیےیا ہمیں اس چیز کے لیے دعا کرنی ہے اور ہمیں وہ نہیں ملتا تو اس میں اللہ کی کیا بہتری ہو سکتی ہے ؟
اس پر حضورِ انور نے قبولیتِ دعا کا اصل راز اللہ تعالیٰ سے سچے اور مضبوط تعلق میں پوشیدہ ہونے کی بابت توجہ دلاتے ہوئے یاد دلایا کہ کل ہی خطبے میں مَیں نے دعا کرنے کے لیےبتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا ہے کہ پہلے تم اپنے دین اور اپنے اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لیے دعا مانگو ، تمہارا وہ تعلق مضبوط ہوگا، تو تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔
پھر حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق اُستوارکیے بغیر محض دنیاوی خواہشات پر اصرار کو درست طرزِ فکر قرار نہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ سے تعلق ہی نہیں ہے، صرف مجھے آج اچھے نمبر امتحان میں چاہئیں تو مجھے مل جائیں، مجھے اچھی اولاد چاہیےتو مجھے مل جائے، مجھے فلاں اچھی کار چاہیےتو مجھے مل جائے، مجھے گھر اچھا چاہیے، مل جائے، مجھے اچھا رشتہ مل جائے اور مجھے اتنے پیسے مل جائیں تاکہ مَیں فلاں کام کر لوں یاعیاشی کروں۔ تو یہ تو اللہ تعالیٰ کاپلان نہیں ہے۔
اسی تسلسل میں حضورِ انور نے انسان کے مقصدِ تخلیق اور اس کی بنیادی ذمہ داری کی جانب راہنمائی کرتے ہوئے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ الله تعالیٰ کا پلان تو یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مَیں نے تمہیں عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔پہلے یہ دیکھو کہ تم نے عبادت کا حق ادا کر دیا اور کیا اللہ تعالیٰ سے محبّت پیدا ہو گئی؟ جب اللہ تعالیٰ سے محبّت پیدا ہوگئی کہ جو اس کا حق ہے، بندے کا تو کوئی حق نہیں، کل ایک حق کے بارے میں مثال بھی دی تھی کہ بندہ بڑے غور سے چاردن نمازیں پڑھ لے ، اس کے بعد سو جائے، رمضان میں تیس دن روزے رکھ لیے اور بڑی تہجّدیں پڑھ لیں ، نمازیں پڑھ لیں ، اس کے بعد قصّہ ختم ہو گیا اور اس کے بعد میرا الله تعالیٰ پر حق بن گیا ۔ تو اللہ پر کوئی حق نہیں، اللہ تعالیٰ کا ہر چیز کا ہم پر احسان ہے ، اس کے احسان کا بدلہ ہم کس طرح اُتار سکتے ہیں؟ ہم اُتار ہی نہیں سکتے، لیکن کوشش یہ کرنی چاہیےکہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں اوراس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے بنیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے محض دعویٔ ایمان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت و فرمانبرداری کی ضرورت پر زور دیا کہ جب ہم ساری چیزیں کر لیں گے پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہاں! اب مجھ سے مانگو، مَیں تمہیں دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآنِ شریف میں پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ پہلے میری بات مانو ، مجھ پر ایمان مضبوط کرو ، پھر ہم دعا قبول کرنے کی اگلی باتیں کریں گے۔ یہی کہہ دینا کہ جی! بس مَیں احمدی ہوگئی، مَیں مسلمان ہو گئی، مَیں نے لا الہ الا اللہ کلمہ پڑھ لیا ، تو اللہ تعالیٰ کا فرض بن گیا کہ وہ میرے سارے کام پورے کرے۔ نہیں یہ نہیں۔
مزید برآں حضورِ انور نے حقیقی کامیابی کے حصول کے لیے محنت اور کوشش کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے۔ اب تم پڑھائی کر رہی ہو، تمہارا ٹیچر جو تمہیں پڑھا رہا ہے کہ یہsubjectہے، اس طرح پڑھنا ہے، اس میں تم محنت کرو گی تو تمہیں نمبر ملیں گے، محنت نہیں کرو گی تو نمبر نہیں ملیں گے۔ جو محنت کرتے ہیں وہ Gymnasium میں جاتے ہیں، نہیں تو Gesamtschule سے ہی فارغ ہو جاتے ہیں۔ تو محنت کرنی پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی قرآنِ شریف میں یہی فرمایا ہے کہ محنت کرو، توپھر مَیں تمہیں صحیح رستہ دکھاؤں گا۔مومن کو بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر تم امتحان دے رہی ہو لیکن جو محنت کرنی چاہیے، وہ نہیں کر رہی اور ایک اور عیسائی لڑکی یا atheist لڑکی جو ہے وہ محنت کر رہی ہے، وہ تمہارے سے زیادہ نمبر لے لیتی ہے، تو تم کہتی ہو کہ مَیں نے تو دو رکعتیں نماز بھی پڑھ لی تھی اور مَیں نے پڑھائی بھی کرلی تھی اور نمبر اس کے زیادہ آگئے۔ تو اس کا مطلب اللہ کا پلان غلط ہوگیا۔اللہ کا پلان غلط نہیں ہوا۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے قانونِ شریعت اور قانونِ قدرت کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے ان پر بیک وقت عمل کی اہمیت بیان فرمائی کہ اللہ کے دو قانون ہیں۔ ایک قانونِ شریعت اور ایک قانونِ قدرت۔ قانونِ شریعت کہتا ہے کہ تم دعائیں کرو ،نمازیں پڑھو، پھر میرے سے مانگو تو مَیں تمہیں دوں گا۔ قرآنِ شریف میں کہہ دیا کہ پہلے مجھ سے مانگو اور میرے پر ایمان رکھو تب مَیں تمہاری باتیں پوری کروں گا۔ وہ ربّ العالمین ہے، رحمٰن ہے، وہ ہر ایک کو جو اس کی محنت ہے اس کا پھل دے دیتا ہے۔ چاہے وہ عیسائی ہو، یہودی ہو یا دہریہ ہو۔ اگر محنت کرے گا تو پھل لے لے گا۔ Abiturمیں تمہارے سے زیادہ نمبر لے جائے گا ، توتم کہو کہ جی! میرا پلان تو یہ تھا اور نمبر اُس کے آ گئے۔اس کا تو پلان اللہ کے ساتھ نہیں تھا۔ ہاں! اللہ کہتا ہے کہ میرا حق ادا کرو پھر اپنے پلان پر بھی عمل کرو، دیکھو! پھر مَیں برکت ڈالتا ہوں۔
[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ جرمنی کا تعلیمی نظام زیادہ تر سرکاری ہے اور مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔جرمنی میں بچے کنڈر گارٹن یعنی پری سکولنگ کے بعد عموماً چھ سال کی عمر میں ابتدائی سکول، جسے Grundschule کہا جاتا ہے، میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ مرحلہ چار سال (یا بعض صوبوں میں چھ سال)پر مشتمل ہوتا ہے۔ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلبہ کی صلاحیت اور دلچسپی کی بنیاد پر انہیں تین مختلف تعلیمی راستوں میں بھجوا دیا جاتا ہے۔پہلا راستہ Hauptschule ہے، جہاں پانچویں جماعت سے لے کر نویں یا بعض اوقات دسویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ عمومی طور پر فنّی تربیت (Ausbildung) حاصل کرتے ہیں اور مختلف پیشہ ورانہ میدانوں میں داخل ہوتے ہیں۔دوسرا راستہ Realschule ہے، جو پانچویں سے دسویں جماعت تک جاری رہتا ہے۔ یہ راستہ طلبہ کو درمیانی درجے کی ملازمتوں یا فنّی تربیت کے اعلیٰ شعبوں کی طرف لے جاتا ہے۔تیسرا اور سب سے اعلیٰ راستہ Gymnasium ہے۔ یہاں تعلیم پانچویں جماعت سے شروع ہو کر بارھویں یا تیرہویں جماعت تک جاری رہتی ہے۔ اس کا اختتام مشہور Abiturامتحان پر ہوتا ہے، جو یونیورسٹی میں داخلے کی شرط ہے۔]ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ ترکی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرامؓ کے تبرکات کس حدّ تک اصلی ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے تبرکات کی اصالت کی بابت عمومی موقف بیان فرمایا کہ مَیں نے تو وہاں جا کے دیکھے نہیں، لیکن claimکیا جاتا ہے کہ صحابہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض تبرکات ساتھ لے گئے تھے۔وہاں میوزیم میں انہوں نے رکھے ہوئے ہیں۔ لوگ مجھے تصویریں بھی بھیجتے ہیں، اس کے ماڈل بھی بنائے ہوئے ہیں، تو وہclaim کرتے ہیں کہ وہ اصلی ہیں۔
حضورِ انور نے سلطنتِ عثمانیہ کے دَور سے منسوب تبرکات کی تاریخی حیثیت اور ان کے اصل یا نقل ہونے کے امکان پر اعتدال اور احتیاط کا پہلو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اور سلطنتِ عثمانیہ کے زمانے میں بہت سارے تبرکات وہاں آئے تھے، اس سے پہلے بھی آئے ہوں گے، تو اگر وہ کہتے ہیں کہ اصلی ہیں تو اصلی ہوں گے۔ لیکن اگر کچھ مبالغہ کسی چیز میں بنایا ہوا ہے تو وہ غلط ہوگا۔ اس میں سے بہت سارے اصلی بھی ہیں، بہت ساری چیزوں کیreplica (نقل) بنائی ہوئی ہیں، لیکن عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ وہ اصلی ہیں۔ اس لیے اگر وہ رکھنے والے کہتے ہیں کہ اصلی ہیں اور ان کی ساتھ اس کے اصلی ہونے کی رپورٹ ساری لکھی ہوئی ہے تو ہم بھی مان لیتے ہیں کہ اصلی ہے۔ تبرک ہی ہے ۔ باقی اتنی پُرانی تاریخ کابعض دفعہ تو اب پتا بھی نہیں لگتا۔
مزید برآں حضورِ انور نے سندھ پاکستان میں ایک صحابیؓ کی قبر سے منسوب مقام کی ممکنہ حیثیت اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سمیت دیگر خلفاء کے وہاں جا کر دعا کرنے کے ساتھ ساتھ خلافت پر متمکن ہونے سے قبل اپنے وہاں تشریف لے جا کر دعا کرنے کا بھی ذکر فرمایا کہ اب ہمارے سندھ میں میر پور خاص کنری کے ساتھ وہاں کہتے ہیں کہ ایک صحابیؓ کی قبر ہے، وہاں اس کا نام بھی انہوں نے دیہہ صحابو ،صحابی کا گاؤں رکھا ہوا ہے اور ایک لمبی قبر انہوں نے بنا دی ہے۔ وہ صحابیؓ تھے، بڑے بزرگ تھے اور یہ اس زمانے میں آئے اور یہاں دفن ہوئے۔ پھر حضورِ انور نے اپنے دستِ مبارک سے سٹوڈیو کے اندرونی حصّے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک اشارہ کرتے ہوئے اس قبر کی لمبائی کے مبالغہ آمیز تصوّر کی بابت بیان فرمایا کہ اور وہ کوئی یہاں سے لے کے وہاں تک اتنی لمبی ان کی قبر بنائی ہوئی ہے ۔ ان کا اتنا لمبا قد تو نہیں تھالیکن اس کو مبالغہ کر کے انہوں نے بڑا کر دیا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ صحابیؓ وہاں دفن ہوں، اس لیےحضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جاتے تھے اور دعا کرتے تھے اورباقی خلفاء بھی جاتے رہے اور مَیں بھی وہاں جا کے دعا کیا کرتا تھا کہ اگر یہ صحابی ؓکی صحیح قبر ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور یہ کوئی شرک کی وجہ نہ بنے۔ لوگوں نے تو شرک کی وجہ بنا لیا ، پیالے اور تحفے اور پھول اور پتا نہیں وہاں لا کے کیا کچھ رکھ دیتے ہیں ۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بمقام محمد آباد سندھ میں مورخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۴۶ءکو خطبہ جمعہ میں سندھ کی تاریخی، جغرافیائی اور تبلیغی اہمیت اور اس کے عرب دنیا سے قدیم و موجودہ روابط کے تناظر میں اس کی کلیدی حیثیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ہمارےلیے تبلیغی لحاظ سے سندھ بہت اعلیٰ جگہ ہے، سندھ وہ ملک ہے، جہاں اسلام ہندوستان میں سب سے پہلے آیا۔ جہاں مقامی روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ ؓ تشریف لائے اور جہاں آپؐ کے صحابہؓ فوت ہوئے۔ ناصر آباد کے پاس ایک گاؤں ہے، جس کا نام دیہہ صحابو ہے، یعنی صحابی کا گاؤں۔ وہاں ایک صحابی ؓکی قبر بھی ہے اور عین میری زمین میں ہے۔ اسی طرح بمبئی کے پاس ایک جگہ تھانہ ہے وہاں بھی صحابہ ؓکی قبریں بیان کی جاتی ہیں۔اہلِ عرب میں تبلیغ کرنے کا سب سے اچھا رستہ سندھ ہے۔ ہم پنجاب سے عرب میں تبلیغ نہیں کرسکتے۔ ہم بنگال سے بھی عرب میں تبلیغ نہیں کرسکتے۔ ہم یُوپی سے بھی عرب میں تبلیغ نہیں کرسکتے۔ ہم افغانستان سے بھی عرب میں تبلیغ نہیں کرسکتے۔ اگر ہم عرب میں تبلیغ کرسکتے ہیں تو سندھ کے رستے سے ہی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہندوستان کی تمام تجارت عرب سے سندھ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ عرب کی کھجوریں، چٹائیاں، رسّیاں اور اسی قسم کی دوسری چیزیں کراچی آکر اُترتی ہیں۔ کراچی سے غلّہ، کھانڈ اور باقی اشیائےتجارت عرب کو جاتی ہیں۔ یہ تجارت زیادہ تر کشتیوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔
عربوں کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ انہوں نے جہالت کے زمانہ میں آکر ہم کو ظلمت سے نکالا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے ملایا، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رُوشناس کرایا۔ یہ ان کی اتنی بڑی نیکی ہے کہ جس کا کسی طرح بدلہ نہیں دیا جاسکتا، اور اب جبکہ عرب خدا تعالیٰ سے دُور جا چکے ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ سے ملائیں اور عربوں کو تبلیغ کرنے کا سب سے اچھا ذریعہ یہی ہے کہ ہم سندھیوں کو احمدی بنائیں۔
اگر سندھی لوگ کثرت سے احمدی ہوجائیں، تو ہماری آواز بہت ہی آسانی کے ساتھ عربی ممالک میں پہنچ سکتی ہے، کیونکہ عرب کا اور سندھ کا سمندر ملا ہوا ہے۔ عرب سے سندھ کو اور سندھ سے عرب کو کثرت سے کشتیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔ اگر کشتیاں چلانے والے یا کشتیوں کے مالک احمدی ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی ممالک میں احمدیت کی آواز نہ پہنچے…پس یہ عرب ممالک میں تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔
ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اس کشتیوں کی تجارت میں احمدیوں کا ہاتھ ہو۔ ہماری جماعت کو اس علاقے کی اہمیت کو جاننا چاہیے۔ صرف یہی نہیں کہ سندھ عرب کا دروازہ ہے، بلکہ الله تعالیٰ نے ہمارے سلسلہ کو سندھ میں جائیدادیں عطا کی ہیں اور یہ بات بھی بلا وجہ نہیں۔ جس طرح الله تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہندوستان میں بلاوجہ نہیں بھیجا ۔ اسی طرح الله تعالیٰ کا سندھ میں جائیدایں عطا کرنا بلا وجہ نہیں…غرض یہ جائیداد ایک معجزہ اور ایک نشان ہے۔ اس کا ہر ایکڑ خدا تعالیٰ کے کلام کی تصدیق کر رہا ہے کہ اس جگہ جائیداد کا پیدا ہونا ایک الٰہی سکیم کے مطابق ہے…سندھ کو الله تعالیٰ نے سلسلہ کی جائیدادوں کے لیے انتخاب کیا ہے۔ ہمیں الله تعالیٰ کے اس انتخاب کی قدر کرنی چاہیے۔ ‘‘(خطبات محمود جلد ۲۷ صفحہ ۱۳۰تا۱۳۵)]
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ترکی میں موجود تبرکات کے حوالے سے حسنِ ظنّ رکھنے کی تلقین فرماتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سو ! بعض دفعہ پتابھی نہیں ہوتا ، لیکن حسنِ ظنّ رکھنا چاہیے کہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے یہ چیزیں رکھی ہوئی ہیں، تو بعض چیزیں وہاں کی ہوں گی اور بعض دفعہ بعض چیزوں سے نظر آتا ہے کہ وہ اصلی ہیں ۔
ایک سوال حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ بعض بچے معذوری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت کارفرما ہوتی ہے؟
اس پر حضورِ انور نے معذوری کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کے حوالے سے حکمتِ الٰہی اور ظاہری اسباب کی وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ کی حکمت ہے تو اللہ بہتر جانتا ہے، لیکن جو معذور بچے پیدا ہوتے ہیں، وہ بھی بعض دفعہ انسانی غلطیوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ مائیں ، جو بچہ پیدا کرنے والی ہیں، وہ خوراک صحیح نہیں کھا رہی ہوتی ہیں، بچپن میں ان کیnourishmentصحیح نہیں ہورہی ہوتی یا ان کے یا مردوں میں بعض دفعہgenes میں کوئی خرابی ہو جاتی ہے ، اس کی وجہ سے ایک نقص بچے میں پیدا ہو جاتا ہے اور وہ معذورپیدا ہوتا ہے۔
حضورِ انور نےاس دنیا کے محدود ہونے اور آخرت کی ابدی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے معذور بچوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کی بابت فرمایا کہ لیکن اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ دنیا تو ہماری مکمل دنیا نہیں ہے ، اصل دنیا تو وہ ہے جو ہمیشہ کی دنیا ہے۔ یہاں تو تم ستّر ،اسّی سال زندہ رہ لو گے یا بچے جو ہیں ،مثلاً ایسے بچے عموماً لمبی عمر بھی نہیں پاتے اورزیادہ سے زیادہ تیس چالیس سال کی عمر میں بعض دفعہ فوت ہو جاتے ہیں اوربہت کم ہے کہ جو لمبی عمر تک جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ان بچوں کے متعلق کہتا ہے کہ جب اس طرح پیدا ہوتے ہیں تو ویسے ہی مَیں نے بخشا ہوا ہے، جنّت میں ان کو صحت مند رکھ کے ایک ایسا ماحول دوں گا کہ وہاں وہ جنّت میں عیاشی کررہے ہوں گے اور تم لوگ ضروری نہیں کہ وہاں جاؤ۔ ماں باپ بھی اگر نیک ہوں گے تو وہاں جائیں گے، نہیں تو نہیں۔ اس لیے کہتے ہیں کہ جتنے چھوٹے چھوٹے بچے تھے، حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان بچوں کی نگہداشت کررہے ہوں گے اوران سے کھیل رہے ہوں گے ، وہ وہاں جا کے صحت مند ہوں گے۔
اسی طرح حضورِ انور نے دنیوی محدود سوچ سے بلند ہو کر خدا، جنّت و دوزخ اور نیکی و بدی کے حقیقی تصوّر اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کی روشنی میں دنیاوی تکالیف کے مقابلے میں اجرِ آخرت کی اُمید رکھنے اور صبر کے ساتھ معذور بچوں کی خدمت و پرورش کرنے والے والدین کے لیے انعامات اورالله تعالیٰ کی وسیع مغفرت و رحمت کا ذکر فرمایا کہ تو اس دنیا کا صرف تصوّر نہیں کرنا چاہیے، جس کو خدا کا تصوّر ہے، جس کو جنّت اور دوزخ کا تصوّر ہے، جس کو نیکی اور بدی کا تصوّر ہے اوراللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ اگر اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے کسی مشکل میں ڈالا ہے تو اگلے جہان میں ان کو بے شمار انعامات سے نوازے گا۔ اور جو ماں باپ اس بات پر صبر کرتے ہیں اور بچوں کو پالتے ہیں ، ان کی صحیح طرح خدمت کرتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ رِیوارڈ دے گا، جنّت میں بھی دے گا ، لیکن اللہ تعالیٰ ویسے بھی ان کو نوازتا ہے۔ ایسے لوگوں کے گناہ بھی اگر ہیں تو وہ معاف کر دیتا ہے یا بہت کم کر دیتا ہے ، بہت کم سزائیں ہوتی ہیں۔ جو دہریہ ہیں، ان میں سے بھی ایسےہوں گے، اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نےاس دنیاوی آزمائش کو ایک روحانی مرحلہ قرار دیتے ہوئے آخرت کی دائمی زندگی کی حقیقت کو واضح فرمایا کہ یہ بھی ایکtrial ہے۔اگر اس دنیا میں اسtrial سے آدمی گزر جائےتو اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں بہت نوازتا ہے ۔ وہی اصل زندگی ہے۔ یہ زندگی ستّر ،اسّی سال کی ہے ، اگلی زندگی ہمیشہ کی ہے، یہ تصوّر کرنا چاہیے۔
ایک شریک مجلس نے سوال کیا کہ ایک لجنہ ممبر اپنی روحانیت میں کس طرح مضبوطی لا سکتی ہے؟
اس پر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے، مسلمان ہو؟اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے روحانیت میں ترقی کے لیے نماز کی پابندی اور اس کی اہمیت کو بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے راہنمائی فرمائی کہ مسلمان کے کیا فرائض ہیں؟ اللہ کی عبادت کرنا، پانچ نمازیں فرض جو ہیں، وقت پر پڑھیں، یہ روحانیت تیز کرنے کا طریقہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ جو صلوٰة ہے ، نماز ہے، وہ روحانیت کو تیز کرتی ہے اور فحشاء اور غلط باتوں سے روکتی ہے۔ تو اگر انسان نمازیں پڑھ رہا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے صحیح طرح دعا کر رہا ہے تو یہ ہونہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ دعا قبول نہ کرے اور روحانیت تیز نہ ہو۔ یقیناً ہوتی ہے۔
حضورِ انور نے نمازیں توجہ کے ساتھ ادا کرنے، نماز کے الفاظ اور خصوصاً سورۃ الفاتحہ کے معانی پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ تو جہ سےنمازیں پڑھیں۔ ہم سورۂ فاتحہ پڑھ رہے ہوتے ہیں، اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ کے بعد الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کہنے کے بعد اگلی جو آیتیں پڑھتے ہیں ، بہت سارے لوگ پھر کہیں سے کہیں چلے جاتے ہیں۔ ان کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ مٰلِكِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ کاکیا مطلب ہے اور اِیَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاكَ نَسۡتَعِیۡنُ کا کیا مطلب ہے۔ ابھی مَیں نے عید کے خطبے میں اِیَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاكَ نَسۡتَعِیۡنُ کی وضاحت کی تھی ۔ تو اس سے بہت ساری باتیں آتی ہیں ۔ جب ہم سورہ ٔفاتحہ پڑھتے ہیں تو اس پر غور کروتو روحانیت تیز ہو جاتی ہے۔ پانچ نمازیں ہوں، ان میں انسان دعا کر رہا ہو، سجدے میں ہو اور پھر جو نماز کے الفاظ ہیں ان پر غور کر رہا ہو، جب غور کریں کہ ہم اللہ کے نام سے شروع کر رہے ہیں تو پھر فوری طور پر توجہ پیدا ہونی چاہیے کہ ہم نے روحانیت کی طرف جانا ہے۔
[قارئین کے استفادہ کے لیے حضورِ انور کی خطبہ عیدالفطر ۲۰۲۶ء میںاِیَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاكَ نَسۡتَعِیۡنُ کی ارشاد فرمودہ بصیرت افروز وضاحت پیشِ خدمت ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ کریم میں جو سورۂ فاتحہ سکھائی ہے اور اسے باربار پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور ہر نماز اور ہر رکعت میں اسے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے تو یہ کیوں ہے؟ یہ اس لیے ہے کہ ہم ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہنا ہے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی ہے… اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فرمایا ہے کہ اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَاِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ کہ اے اللہ !ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تیری عبادت کا دَم بھرتے ہیں لیکن اس کے لیے ہم میں طاقت اور توجہ تیرے فضل اور تیری مدد سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔پس اَے اللہ !ہمیں اس کے لیے مدد عطا فرما۔اس دعا سے انسان کامکمل انحصار خدا تعالیٰ کی طرف ہوجاتا ہے۔ پھر کبھی یہ خیال نہیں آتا اور نہ آ سکتا ہے کہ مجھے میری کسی قابلیت کی وجہ سے یہ انعامات اور عبادت کی توفیق ملی ہے یا مل سکتی ہے یا مل رہی ہے۔
لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہی ارشادہے کہ پہل بندے کی طرف سے ہو، ابتدابندے کی طرف سے ہو۔ پھر جب بندہ خدا تعالیٰ کی طرف آنے کی کوشش کرتا ہے تو جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انسان ایک بالشت خدا کی طرف آتا ہے تو وہ دو بالشت آتا ہے۔بندہ ایک قدم اُٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو قدم اُٹھاتا ہے۔ بندہ جب چل کر اس کے پاس آتا ہے تو خدا تعالیٰ دَوڑ کر آتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَاِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ کے حوالے سے جو پُرمعارف وضاحت مختلف جگہوں پر فرمائی ہے اس میں سے مَیں بعض پیش کرتا ہوں۔آپؑ نے فرمایا:’’اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَاِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُتیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی امداد چاہتے ہیں۔‘‘ فرماتے ہیں کہ’’وَاِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ پر اِیَّاكَ نَعْبُدُکو تقدّم اس لیے ہے ‘‘یعنی اِیَّاكَ نَعْبُدُاس لیے پہلے آیا ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگنے کا بعد میں ذکر اس لیے آیا ہے’’ کہ انسان دعا کے وقت تمام قویٰ سے کام لے کر خدائے تعالیٰ کی طرف آتا ہے‘‘ یعنی جو انسانی طاقتیں ہیں جو اسباب ہیں ان کو استعمال کرنا ہے اور ان کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف آنا ہے۔ پہلے یہ انسان کا کام ہے۔ یہ عبادت کا حق اد ا کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ فرمایا کہ ’’یہ ایک بے ادبی اور گستاخی ہے کہ قویٰ سے کام نہ لے کر اور قانونِ قدرت کے قواعد سے کام نہ لے کر آ وے مثلاً‘‘ آپؑ نے مثال دی کہ’’کسان اگر تخم ریزی کرنے سے پہلے ہی‘‘ دعا کرے، بیج نہ ڈالے کھیت میں اور’’یہ دعا کرے کہ الٰہی اس کھیت کو ہرا بھرا کر! اور پھل پھول لا تو یہ شوخی اورٹھٹھا ہے۔ ‘‘کام تو اس نے کیا نہیں، بیج ڈالا نہیں، زمین کو تیار کیا نہیں اور یہ دعا شروع کر دی کہ اللہ تعالیٰ اس میں پھل لگا دے، فصل لگا دے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ بہرحال کوشش کرنی پڑے گی۔ فرمایاکہ ’’اسی کو خدا کا امتحان اور آزمائش کہتے ہیں جس سے منع کیا ہے۔‘‘ یعنی خود کچھ نہ کرنا اور اللہ سے صرف مانگتے رہنا کہ یہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوشش نہ کرو، عمل نہ کرو، اسباب کو استعمال نہ کرو، اور پھر صرف دعا کر دو۔ یہ تو تم اللہ تعالیٰ کی آزمائش اور امتحان لینا چاہتے ہو اور اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور یہ سخت گناہ ہے۔ فرمایا کہ’’ اور کہا گیا ہے کہ خدا کو مت آزماؤ ‘‘یعنی اِیَّاكَ نَعْبُدُمیں بھی یہی بات کہی ہے کہ خدا کو آزماؤ مت بلکہ کام کرو۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خدائے تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے، اس لیے دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے اور یہی معنی اس دعا کے ہیں۔ پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد، اعمال میں نظر کرے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے…‘‘ اسباب استعمال ہوں گے تو اصلاح بھی ہوگی۔ کوشش ہوگی تو اس کا مقصد بھی حاصل ہوگا۔’’وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں۔جو کہتے ہیں کہ جب دعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔ وہ نادان سوچیں کہ دعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیدا کر دیتا ہے اور اِیَّاكَ نَعۡبُدُکاتقدم اِیَّاكَ نَسۡتَعِیۡنُپر جو کلمۂ دعائیہ ہے اس اَمر کی خاص تشریح کررہا ہے۔ ‘‘ (روزنامہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ۱۵؍اپریل۲۰۲۶ء)]
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے نماز میں دنیوی خیالات سے پاک ہو کر یکسوئی اختیار کرنے اور عملی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کو روحانیت کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ نماز میں خیال صرف نماز کا ہو تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر نماز پڑھتے ہوئے خیال آ جائے کہ مَیں نے فلاں زیور خریدنا ہے، فلاں جوڑا خریدنا ہے یا پڑھائی کر رہی ہیں تو فلاں مسئلہ پیدا ہو گیاتو پھر روحانیت ختم ہو جاتی ہے۔ سب سے ضروری چیز نماز میں توجہ ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا حکم جان کے عمل کرو، نیک کام کرو ، تو روحانیت پیدا ہوتی ہے ۔
ایک چھوٹی بچی نے معصومانہ انداز میں سوال کیا کہ احمدی بچوں کو کب سے حجاب لینا شروع کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے پُر شفقت انداز میں حجاب کے آغاز کے لیے عمر اور جسمانی کیفیت کے فرق اور تدریجی اصول کی وضاحت فرمائی کہ ابھی تو تم بہت چھوٹی سی ہو! تمہیں تو ضرورت کوئی نہیں، جب تم بڑی ہو جاؤ گی ، کم از کم تیرہ،چودہ سال کی عمر میں اور تمہیں لگے کہ تم بڑی لڑکی لگنے لگ گئی ہو تو اس وقت پھر تم حجاب لے لینا ۔بعض تیرہ، چودہ سال میں لے لیتی ہیں اور اگر بہت زیادہ بڑی لگنے لگ جائیں تو بارہ ،تیرہ سال میں لے لیتی ہیں۔ اگر تمہاری جیسی بالکل چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہوں تو پندرہ،سولہ سال میں جا کے لیتی ہیں۔ تو ہر ایک پر depend کرتا ہے۔
حضورِ انور نے بصیرت افروز انداز میں راہنمائی فرمائی کہ ہاں! اصل چیز یہ ہے کہ تمہارے دل میں ایک شرم ہونی چاہیے کہ مَیں مسلمان احمدی بچی ہوں ، مَیں نے کوئی غلط کام نہیں کرنا، سب سے بڑا حجاب یہ ہے ۔
مزید برآں حضورِ انور نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عورتوں اور لڑکیوں کے لیے پردے کے حکم کی وضاحت کرتے ہوئے مناسب لباس اور جسم کو ڈھانپ کر رکھنے اور عمر کے مطابق پردے کے تقاضے پورے کرنے کی بابت توجہ مبذول کروائی کہ اور اس کے بعد پھر جو اللہ تعالیٰ کا حکم عورتوں اور لڑکیوں کو ہے کہ اپنے آپ کو ڈھانک کے رکھنا چاہیے۔اس لیے مَیں اپنا سر اور چہرہ ڈھانپ کے رکھوں ، جسم ڈھانپ کے رکھوں ، ایسے کپڑے نہ پہنوں جو ننگے ہوں، لمبی قمیض ہو، ٹراؤزر ہو، سر ڈھکا ہو ۔ جو بڑی ہو جاؤ تو چہرےکا پردہ بھی ہو، بالوں کاپردہ بھی ہو۔ وہ لڑکیاں جو بڑی ہو جاتی ہیں تو وہ کرتی ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نےسوال کرنے والی بچی کی کم عمری کو مدِّنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت آنے پر حجاب کو بتدریج اختیار کرنے کی نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ ابھی تو تم بہت چھوٹی سی ہو، تو میرا خیال ہے کہ اگر تم اس طرح ہی رہی جس طرح چھوٹی سی ہو تو بارہ؍ تیرہ سال تک تمہیں حجاب کی ضرورت کوئی نہیں، اس کے بعد سوچنا ۔
ایک لجنہ ممبر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری دو بیٹیاں ہیں ، نیز اس ضمن میں راہنمائی کی درخواست کی کہ مَیں ان کو با اعتماد کیسے بنا سکتی ہوں؟
اس پر حضورِ انور نے بچوں کی دینی تربیت اور نیکی و ایمان کے تسلسل کے لیے دعا کو اصل ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت اُجاگر فرمائی کہ آپ لوگوں کا کام دعا کرنا ہے۔ ان کے لیے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان میں نیکی قائم رکھے اور دین سے جُڑا رکھے اور اللہ تعالیٰ کی محبّت ان میں پیدا ہو۔
حضورِ انور نے حالیہ خطبات سے استفادہ کرتے ہوئے بچوں کی تربیت کے لیے دعا کو عملی بنیاد بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آجکل مَیں محبّت ، توحید اور عبادت پر خطبے دے رہا ہوں ۔ ان کو ذرا غور سے سنا کرو ۔اس میں سے پوائنٹ نکالواور اس کے مطابق دعا کیا کرو۔ سب ماں باپ اگر اپنے بچوں کے لیے دعائیں کرنے لگ جائیں تو بچے ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے اور بااعتماد بھی ہو جائیں گے۔
اسی طرح حضورِ انور نے بچوں میں احساسِ کمتری کے خاتمے اور دینی تشخص پر اعتماد قائم رکھنے کی بابت نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کےcomplex دُور کرو کہ تمہیں کسی قسم کا احساسِ کمتری نہیں ہونا چاہیےکہ فلاں تمہارے سکول کی جرمن لڑکی نے فراک پہنی ہوئی ہے یا گرمیوں میں اس نے sleeveless قمیضیں پہنی ہوئی ہیں یا کھلے بال لے کے پھر رہی ہے، تم اگر سکارف لے کے یا کوئی چیز سر پر رکھ کے جاؤ گی تو وہ تمہارا مذاق اُڑائیں گے۔ ان سے کہو کہ تمہیں بُرا منانے کی یا کسی قسم کی بے اعتمادی کی ضرورت نہیں ہے۔تم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنا ہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ کے پاس انسان نے جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم یہ یہ کام کرو تو تمہیں مَیں بہت زیادہ دوں گا۔
مزید برآں حضورِ انور نےاسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچپن سے ہی دینی تربیت، خود اعتمادی اور صحیح و غلط کی پہچان پیداکروانے کی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بطور حقیقی احمدی اپنی مثال قائم کرنے کی تلقین فرمائی کہ تو بچپن سے ان کو دین کی باتیں سکھائیں، دین کی عادت ڈالیں اور اعتماد پیدا کریں کہ تم جو کر رہی ہو صحیح ہے جو دوسری دنیا کر رہی ہے غلط ہے۔ اس لیےاسلام آیا تھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے تھے اور اس کے بعد آپؐ کی غلامی میں مسیح موعود علیہ السلام آئے اور اسی کام کے لیےہم احمدی ہیں ۔ پکے مسلمان احمدی تبھی بن سکتے ہیں کہ جب ہم اپنی مثال قائم کریں ۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے بصیرت افروز اور حکیمانہ انداز میں دنیا کے پیچھے چلنے کی بجائے اسے اپنے پیچھے چلانے کےعزم اور خود اعتمادی پیدا کرنے اور دعا کو لازم پکڑنے کی بابت تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کو ہم نے اپنے پیچھے چلانا ہے، ہم نے دنیا کے پیچھے نہیں چلنا، تو یہ اعتماد پیدا کریں اور ساتھ دعا کریں۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ اگر اس کی بعض سہیلیاں غلط کاموں میں ملوث ہوں تو اسے اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے بُری صحبت سے بچنے، نیک اور بااخلاق دوستوں کے انتخاب اور مثبت اثر ڈالنے کے عملی طریق کی بابت توجہ دلائی کہ بُرا کام کر رہی ہے تو اس کو روکو کہ دیکھو! یہ بُرا کام ہے۔ اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر پھر بھی وہ کرتی ہے اور تم سمجھتی ہو کہ تم پر اس کا کام اثر انداز ہو رہا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ ایسے دوستوں کو چھوڑ دو اور اچھے دوست بناؤ اور اچھے دوست دیکھو کہ جو قربانی کرنے والے ہوں اور جو تمہاری بات ماننے والے ہوں ۔ اگر وہ مسلمان نہیں بھی ہیں ، خدا کو نہیں بھی مانتے، اچھے اخلاق اگر رکھتے ہیں، لوگوں کا مذاق نہیں اُڑاتے، خدا تعالیٰ کو بُرا بھلا نہیں کہتے تو اس کا مطلب ہے کہ ان میں ایک صلاحیت ہے، نیک فطرت ہے۔ اس لیےان کو تم دوست بنا سکتی ہو اور پھر آہستہ آہستہ اپنا اثر ڈالو۔ خود نیک ہو تو ان پر اثر پڑ جائے گا۔
پھر حضورِ انور نے ایک واقعے کے ذریعے صحبت کے انسان کے عقائد اور مزاج پر مرتّب ہونے والے اثرات کو بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک سکھ تھا، بلکہ اس نے لکھا کہ مَیں مذہبی آدمی ہوں، لیکن میں دہریہ ہو رہا ہوں، مَیں atheist بن رہا ہوں اور خدا سے دُور جا رہا ہوں تو کیا کروں؟ کالج میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو فرمایا کہ تم جہاں سکول میں کلاس میں بیٹھتے ہیں، وہاں تمہارے ساتھ جو تمہارا دوست ہے یا تمہارا کلاس میٹ ہے یا سیٹ فیلو ہے، وہ مجھے دہریہ لگتا ہے۔ تو اس جگہ کو چھوڑ کے جگہ بدلو اور دوسری جگہ چلے جاؤ۔ تو اس نے جگہ بدل لی اور کچھ مہینے کے بعد خط لکھا کہ واقعی آپ ٹھیک کہتے تھے، مَیں نے اس لڑکے کو چھوڑ دیا ، مَیں اس سے زیادہ بات بھی نہیں کرتا تھا ، لیکن اس کے باوجودوہ مجھ پر دہریہ ہونے کا اور خُدا سے دُور لے جانے کا اثر ڈال رہا تھا ۔ تو مَیں نے اس کو چھوڑ کے اپنی سیٹ بدل لی اور اب میرے دوبارہ خیالات مذہبی ہو گئے ہیں اور اللہ کو ماننے لگ گیا ہوں ۔
مزید برآں حضورِ انور نے حکمِ الٰہی کے ماتحت گمراہ کن مجالس سے اجتناب کرتے ہوئے معاشرتی دباؤ اور احساسِ کمتری سے آزاد ہو کر دینی اصولوں پر ثابت قدم رہنے اور جرات پیدا کرنے کی تلقین فرمائی کہ تو اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ ایسی مجلسیں ،جہاں بُرے لوگ ہوں، ان کو چھوڑ دو توتبھی تم بچ سکتے ہو۔ یہ تو ہمت پیدا کرنی چاہیے، اعتماد پیدا کرنا چاہیے، اپنے اندر ڈر کے نہ رہو کہ جرمن ہے، ہمیں کیا کہیں گے، یہ فلاں ہے، ہمیں کیا کہیں گے، کچھ نہیں کہیں گے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے بڑے وثوق کے ساتھ قیادت، اثراندازی اور دنیا کو مثبت سمت دینے کے جذبے کو اپنانے کی نصیحت کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ ہم نے دنیا کو اپنے پیچھے چلانا ہے۔ تم لیڈر ہو، باقی تمہیں follow کرنے والے ہیں، اپنے آپ کو لیڈر بناؤ۔ دنیا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ساری بیٹھی عورتیں یہ سمجھیں کہ ہم نے دنیا کو اپنے پیچھے چلانا ہے، ہم نے ان کے پیچھے نہیں چلنا۔ جو دنیا میں لیڈر بنتے ہیں ، جو انقلاب لاتے ہیں، وہ کس طرح لاتے ہیں؟ اس طرح کہ وہ اپنے پیچھے لوگوں کو چلاتے ہیں۔ تم لیڈر بن جاؤ اورکسی complex کی ضرورت نہیں۔
ایک لجنہ ممبر نے عرض کیا کہ سننے کو ملتا ہے کہ اکثر بچوں میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے اور خاندانوں میں جھگڑے بھی اس وجہ سے بڑھ رہے ہیں، حتّٰی کہ یہ کیفیت جماعت احمدیہ کے بعض گھروں میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست ہے ہم اپنے خاندان کے ساتھ پیار اور مضبوط رشتہ کیسے بنا کر رکھ سکتے ہیں اور اگر لگے کہ رشتہ کمزور ہو رہا ہے یا خاندان میں کسی کو ڈپریشن یا ذہنی مسئلہ ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے دنیا داری، خواہشات کی کثرت اور دوسروں سے غیر ضروری موازنے کو ذہنی دباؤ اور گھریلو کشیدگی کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگ دنیا داری کی طرف چلے گئے ہیں۔ دنیا داری کی طرف زیادہ جانے کی وجہ سے خواہشات بڑھ گئی ہیں اور جب وہ خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو مرد بھی اور عورتیں بھی زیادہ سوچنے لگ جاتی ہیں کہ ہماری خواہشات پوری نہیں ہوتیں اوراس فلاں عورت کے پاس اتنے پیسے، فلاں مرد کی اتنی اچھی کار، فلاں فیملی کے پاس اتنا اچھا گھر ہے اور ہمارے پاس نہیں ہے۔ تو پھر سوچ سوچ کے ڈپریشن بھی آ جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد اگر شادی شدہ ہیں، تو میاں بیوی سے لڑتا ہے، بیوی میاں سے لڑتی ہے۔ اور بچے اگر ہو جائیں تو بچےdisturb ہو رہے ہوتے ہیں کہ یہ ہمارے ماں باپ کو کیا ہو گیا، ان کا دماغ ہِل گیا ہے، اگر بڑے ہیں تو وہ بھی سوچ رہے ہوتے ہیں۔
حضورِ انور نے اس ضمن میں بنیادی اصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دنیا کی خواہشات کو کم کرو اور اللہ کی محبّت کی خواہش کو زیادہ کرو۔
مزید برآں حضورِ انور نےحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ارشاد کے حوالے سے دنیا و آخرت کے صحیح توازن کی طرف راہنمائی فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مَیں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کو پکڑنے کی کوشش کرو گے تودنیا تمہاری پیچھے آئے گی اور اگر تم دنیا کے پیچھے دَوڑو گے تو دنیا تمہارے سے دُور بھاگے گی۔ اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔ ایک احمدی مسلمان کا تو یہی فرض ہے ۔ ہم احمدی مسلمان دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم احمدی مسلمان ہیں ، پکے مسلمان ہیں، تو اگر ہم احمدی پکے مسلمان ہیں تو پھر ہمارا دنیا کی خواہشات کی وجہ سے ڈپریشن نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کی وجہ سے لڑائی جھگڑے ہونے چاہئیں۔
اسی تسلسل میں حضورِ انور نے انسان کو اپنی ابتدائی حالت اور پسِ منظر اور اپنے اُوپر نازل ہونے والی نعمتوں اور فضلوں کو پیشِ نظر رکھنے کے ثمرات کو اُجاگر فرمایا کہ اب جو پاکستان سے کسی گاؤں سے اُٹھ کے آئے تھے، یہاں آ کے فرینکفرٹ میں یا ہیمبرگ میں یا کسی بڑے شہر میں آباد ہو گئے، ٹیکسیاں چلائیں، پیسے کمالیے اور گھر بھی خرید لیے۔ تو اس کے بعد جو اگلی نسل ہے، وہ پڑھ لکھ بھی گئے، تو اب اس کے بعد کہہ دینا کہ دنیا ہمیں ملتی رہے، اس میں پہلے اپنی rootsکو سوچنا چاہیےاور ہمیشہ اپنی background کودیکھنا چاہیے کہ کیا تھی؟ ہم پر اللہ تعالیٰ کے کتنے فضل ہوئے اور اللہ کے فضلوں کو اگر دیکھو تو پھر نہ ڈپریشن ہوتا ہے، نہ لڑائیاں ہوتی ہیں اور نہ ہی جھگڑے ہوتے ہیں۔
پھر حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ مبارک کی روشنی میں دین و دنیا کے معاملے میں درست مطمح نظر اپنانے اور شکرگزاری کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کے مستحق بننے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو دین ، روحانیت یا نیکی کا معاملہ ہے اس میں تم اپنے سے اُوپر والے کو دیکھو کہ اس میں کتنی نیکیاں ہیں تاکہ مَیں بھی وہ نیکیاں حاصل کروں۔اور جودنیا داری کا معاملہ ہےتو اس میں اپنے اُوپر والے کو نہ دیکھو بلکہ نیچے والے کو دیکھو کہ میری یہ حالت ہے تو میرے سے کم حالت میں بھی لوگ ہیں ۔ افریقہ میں، پاکستان میں، ہندوستان میں، ایشیا میں، بلکہ یہاں یورپ میں بھی ہزاروں لوگ ہیں، ان کو کھانا بھی نہیں ملتا ، تو مجھے دو وقت بلکہ تین وقت کا کھانا ملتا ہے ۔ ناشتے پر جوس پیتی ہوں، کھانا کھاتی ہوں ، برگر کھا لیتی ہوں fizzy ڈرنکس پی لیتی ہوں، Nando’s بھی کھا لیتی ہوں، تو لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ ان کو کھانا بھی نہیں ملتا۔ان کو دیکھو اور اللہ کا شکر کرو ۔ پھر جب شکر کرو گی تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جب تم شکر گزار بندی بنو گی تو مَیں تم پر اپنے فضل اور بڑھاؤں گا۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہNando’s ایک بین الاقوامی ریسٹورنٹ چین ہے جو بنیادی طور پر پُرتگالی طرز کے پیری پیری (peri-peri) چکن کے لیے مشہور ہے۔ اس کی بنیاد ۱۹۸۷ءمیں جنوبی افریقہ میں رکھی گئی، اور آج یہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی مخصوص مصالحہ دار گرلڈ چکن اور غیر رسمی ڈائننگ سٹائل کی وجہ سے معروف ہے۔]اسی طرح حضورِ انور نے روحانیت، نماز اور ذکرِ الٰہی کو ڈپریشن اور گھریلو جھگڑوں کے خاتمے کا عملی حل تجویز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا داری بہت آگئی ہے، دنیا داری چھوڑ دیں ، اللہ یاد رہے اور انسان اس کا ذکر کرے، نمازیں پڑھے تو ڈپریشن ختم ہو جائے گا ۔ دنیا کے پیچھے چلو گے تو پھر ڈپریشن ہی ڈپریشن ہے اور تو کچھ بھی نہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے خاندانی تعلقات کو مضبوط اور خوشگوار بنانے کے لیے دنیا کی عارضی حیثیت کو پیشِ نظر رکھنے، اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے اور اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اور رشتوں کو مضبوط بنانے کےلیے بھی یہی ضروری چیز ہے کہ تمہارے اپنے قریبی، جو تمہاری بات مان سکتے ہیں ، ان کو سمجھاؤ کہ دنیا کوئی چیز نہیں ہے۔ دنیا تو ستّر،اسّی سال کے بعد ختم ہو جانی ہے۔اصل تو اگلا جہان ہے۔اس دنیا میں بھی ہم نے جو ستّر ،اسّی سال رہنا ہے اور پتا نہیں کہ اتنی دیر رہنا بھی ہے کہ نہیں، اس میں آپس میں لڑ لڑ کے گزر گئے تو کیا فائدہ ہوا ، کیوں نہ اسے خوشگوار بنائیں۔ زندگی کو خوشگوار اور اچھا بنانے کے لیےضروری ہے کہ ہم ایک تو اللہ کو یاد رکھیں اور اپنے اخلاق اچھے کریں، اچھی طرح لوگوں سے ملیں، سلام کریں، ہنس کے ملیں، کسی کی بُرائی نہ کریں، تو نیکیاں کرنے کی طرف توجہ ہوگی اور پھر زندگی بھی خوش گزرے گی اور ڈپریشن بھی نہیں ہوگا ۔
ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ موجودہ عالمی صورتحال کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ہم بطور مسلمان ان غیر یقینی اوقات میں اپنے ایمان پر ثابت قدم کیسے رہ سکتے ہیں اور اگر عالمی جنگ شروع ہو جائے تو ہمیں اپنے ایمان ، خاندان اور جماعت کی حفاظت کے لیے کون سے روحانی اور عملی اقدام کرنے چاہئیں؟
اس پر حضورِ انور نے یاد دلایا کہ خطبے میں مَیں کہتا تو رہتا ہوں کہ دعا کرو، باقی غیر یقینی حالات جو ہیں ، وہ تو ہیں ہی۔
حضورِ انور نے عالمی جنگ کے آغاز سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دُور کرتے ہوئے موجودہ عالمی کشمکش کی حقیقت واضح فرمائی کہ تم کہتے ہو کہ عالمی جنگ شروع نہیں ہوئی، لیکن مَیں کہتا ہوں کہ شروع ہو چکی ہے۔اَور کب شروع ہوگی؟ ہر ایک ملک ملک سے لڑ رہا ہے۔اَور عالمی جنگ کیا ہوتی ہے؟ امریکہ چھ ہزار میل دُور سے ایران پر حملے کر رہا ہے۔اسرائیل لبنان پر حملے کر رہا ہے۔ عرب ملکوں پرحملے ہو رہے ہیں۔ یوکرین پر رشیا حملے کر رہا ہے۔ تائیوان میں جنگ کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔تو عالمی جنگ تو alreadyہے۔ جو عالمی جنگ ۱۹۱۴ء یا ۱۹۳۹ء میں شروع ہوئی تھی، وہ پہلی جنگِ عظیم اور دوسری جنگِ عظیم ، کوئی ایک دَم تو ساری دنیا جنگ میں نہیں پڑ گئی تھی۔ ایک دو ملکوں سے جنگ شروع ہوئی تھی اوروہی حالات اب ہیں۔
اسی تسلسل میں حضورِ انور نےان حالات میں دعا، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور ایمان کی مضبوطی کو اصل حفاظت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے پُر حکمت راہنمائی عطا فرمائی کہ اس لیےدعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ اگر ابھی بھی انسانوں کو عقل دے کہ رک سکتے ہیں تو رک جائیں تاکہ اس سے نہ بڑھیں یا ایٹم بم کا استعمال کم از کم نہ ہو ۔ نہیں تو بہت انسانیت ختم ہو جائے گی۔ تو اس میں ایمان کی حالت مضبوط کرو ، اللہ تعالیٰ سے دل لگاؤ کہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں ہمیں ایمان پر مضبوط رکھے اور لوگوں کو بتاؤ کہ اس کا ایک ہی حل ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔
مزید برآں حضورِ انور نے یاد دلایا کہ اس لیے مَیں بڑے عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ تبلیغ کرو۔ نیز لوگوں کو الله کی طرف بلانے کو عصرِ حاضر کی سب سے بڑی ذمہ داری اور نجات و بقا کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو کہو کہ اللہ کی طرف آؤ ، آخر میں اسی کی طرف تمہاری نجات ہے، اسی میں بقا ہے ۔نہیں تو مر جاؤ گے۔ تو اس لیے اگر تمہارا پیغام پہلے پہنچ جائے گاتو جنگ کے بعد جو لوگ بچیں گے وہ کم ازکم کہنے والے ہوں گے کہ ہاں! فلاں لڑکی جو عائشہ ہے، اس نے مجھے یہ کہا تھا کہ اس سے بچو ، تو ہم دیکھتے ہیں کہ اب اللہ کی طرف آ کے ہم شاید بچ جائیں۔ تو یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنے گھر والوں کو بھی اس طرف لائیں اور لوگوں کو بھی اورمعاشرے کو بھی لائیں ۔ اپنے دوستوں کو بھی بتائیں کہ اگر بچنا ہے تو ایک ہی ذریعہ ہے کہ اللہ کی طرف آ جاؤ۔
پھر حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منظوم کلام کی روشنی میں الله تعالیٰ سے تعلق اور محبّت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے
آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے
جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذو العجائب سے پیار
آگ ہے۔ہر طرف آگ ہے۔صرف اس آگ سے وہی بچ سکتے ہیں کہ جو اللہ میاں سے پیار کرتے ہیں کہ جو عجیب عجیب معجزے دکھاتا ہے۔ تو اگر معجزے دیکھنے ہیں تو اللہ سے تعلق پیدا کرنا ہوگا۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے معاشرتی برائیوں سے اجتناب اور باہمی حسنِ سلوک کے ذریعے اپنی، خاندان اور دنیا کی حفاظت کے سامان پیدا کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ یہ نہیں ہے کہ یہاں سے جا کے ایک دوسرے کی چغلیاں کرنے لگ جاؤ،backbiting کرنے لگ جاؤ ، نقصان پہنچانے لگ جاؤ اورjealousy شروع ہو جائے۔ یہ نہیں بلکہ اب ہر ایک کو چاہیے کہ دوستانہ ماحول ہو، پیار ہو، محبّت ہو، اللہ کا حق ادا ہو رہا ہو، آپس میں ایک دوسرے کے لیےقربانی کا جذبہ ہو تو پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ تم بھی بچ جاؤ گی ، خاندان بھی بچ جائے گا اور دنیا بھی بچ جائے گی ۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے دستِ مبارک سے چاکلیٹ اور قلم بطور تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔
یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’السلام علیکم!‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
٭…٭…٭




