صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۰)(قسط ۱۴۵)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

کیوپرم میٹیلیکم
Cuprum metallicum

کیوپرم میں تشنجاتی کیفیات بہت نمایاں ہوتی ہیں اور کیوپرم کاتصور ان کیفیات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ یہ تشنج اتنا شدید اور ناقابل برداشت ہوتا ہےکہ مریض مرنے کی تمنا کرتا ہے۔کیوپرم کی ہر بیماری میں شدید تشنج اور اینٹھن پائے جاتے ہیں جو جسم کے تمام عضلات پر حاوی ہوجاتے ہیں۔مرگی اور ہیضہ میں اگر تشنج اور نیلاہٹ نمایا ں ہو ں تو اکثر کیوپرم دوا ثابت ہوگی۔جب تشنج کا دورہ ہو تو ہاتھوں کی مٹھیاں نہایت شدت کے ساتھ بھینچ جاتی ہیں۔اسی طرح پاؤں کے پنجے بھی تشنج کی وجہ سے مڑنے لگتے ہیں۔یہ اینٹھن ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں سے آگے بڑھ کر ٹانگوں اور بازوؤں میں پہنچتی ہےاور تمام جسم اکڑ جاتا ہے۔(صفحہ۳۴۱)

بعض دفعہ دماغ کے خون کی شریانوں میں تشنجی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔جن کے نتیجہ میں مریض بے سروپا باتیں کرتا ہے،حافظہ بالکل جواب دے جاتا ہے،ہذیان کے علاوہ بےہوشی بھی ہوتی ہے،عضلات میں جھٹکے لگتے ہیں اور تشنج ہوتا ہے،پٹھےپھڑکتے ہیں،مریض جس کروٹ لیٹتا ہےاس کی مخالف سمت جھٹکے لگنےلگتے ہیں۔سیمی سی فیوجا میں جس کروٹ لیٹا جائے وہی پہلو پھڑکنے لگتا ہے۔اگر بے ہوشی کے ساتھ سارا جسم تن جائے جیسا کہ مرگی کے دوروں میں ہوتا ہےتو یہ کیوپرم کی خاص علامت ہےلیکن اگر عمومی بے ہوشی ہواور جسم کا صرف ایک حصہ پھڑک رہا ہو اور دوسرا بالکل ٹھیک ہواور سارے جسم میں تناؤ کی کیفیت نہ ہوتو وہ کیوپرم کا مریض نہیں ہے۔(صفحہ۳۴۱-۳۴۲)

کیو پرم کالی کھانسی اور دمہ میں بھی بہت مفید ہے۔ میرے نزدیک کیو پرم کو کالی کھانسی اور دمہ کے انتہائی تشنج میں ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ گرمی کے موسم میں تکلیف ہو اور سانس کی نالی میں تشنج ظاہر ہو اور ٹھنڈی چیز یا برف کی ٹکور سے فائدہ ہو تو کیوپرم فوری طور پر فائدہ پہنچاتی ہے۔ سینہ کے اطراف میں اور نچلے حصہ میں تشنجی کیفیت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اور مریض سمجھتا ہے کہ وہ اس تکلیف سے مر ہی جائے گا۔ سینہ سے لے کر پیٹھ تک چاقو کی طرح چیرنے والے درد کا احساس بھی ہوتا ہے۔ دراصل یہ علامت تشنج سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں کیوپرم جادو کی طرح اثر کرتی ہے۔ اس پہلو سے کیوپرم پتہ کے شدید درد اور تشنج میں بھی کام آتی ہے۔ اگر کوئی بوڑھا آدمی جو لمبے عرصہ سے تجردکی زندگی گزار رہا ہو شادی کر لے تو اسے بعض دفعہ تشنج شروع ہو جاتے ہیں جو میاں بیوی کے ملاپ کے بعد اکثر پاؤں یا پنڈلیوں سے چل کر اوپر کمر تک پھیل جاتے ہیں۔ کیوپرم اس کی بہترین دوا ہے۔ اگر دوران حیض تشنجی کیفیتیں پیدا ہو جائیں اور سب سے پہلے انگلیاں متاثر ہوں تو بھی کیو پرم ہی اصل دوا ہے۔ یہ تشنج انگلیوں سے شروع ہو کر تمام جسم میں پھیل جا تا ہے اور جسم اکڑ جاتا ہے۔ اگر بے ہوشی ہو جائے اور ہذیانی کیفیت ہو اور آنکھیں اوپر چڑھ جائیں تو فوری طور پر کیوپرم استعمال کرنی چاہیے۔ مرگی کے دوروں سے قبل گدی سے سردرد شروع ہو کر آگے پیشانی میں آتا ہو اور مرگی میں تشنج بھی نمایاں علامت ہو۔ انگلیوں میں جھٹکے لگتے ہوں اور تکلیف سے مریض کی چیخیں نکل جاتی ہوں نیز دورے کے وقت پیشاب اور پاخانہ خطا ہو جا تا ہو تو کیو پرم اس کا بہترین علاج ہے۔(صفحہ۳۴۲)

کیوپرم اعضاء کے سکڑنے اور کھلنے والے عضلات پر یکساں اثر ظاہر کرتی ہے۔ جب یہ تشنج پیدا کرے تو درد ہوتا ہے اور جب عضلات کو ڈھیلا کر دے تو شعوری طور پر ان کو سنبھالا نہیں جا سکتا۔ کیوپرم کے مرگی کے مریض کو اکثر دورے کے بعد شدید سردردہوتا ہے۔(صفحہ۳۴۳)

بعض دفعہ وضع حمل کے وقت مریضہ عارضی طور پر بینائی کھو بیٹھتی ہے۔ بعض دفعہ حمل کے دوران یا وضع حمل کے وقت خون کا دباؤ بڑھ جانے سے دماغ کی رگ پھٹ جاتی ہے جس کی وجہ سے بینائی مستقل ضائع ہو جاتی ہے لیکن کیوپرم میں عموماً وقتی اندھا پن ملتا ہے کیونکہ اس کا تعلق خون کی رگ پھٹنے یا خون کا لوتھڑا جمنے سے نہیں ہو تا صرف عارضی تشنج سے ہوتا ہے۔ اگر وضع حمل کے وقت عارضی اندھا پن پیدا ہو جائے اور کیوپرم کی دیگر علامتیں موجود ہوں تو کیوپرم سے بفضلہ تعالیٰ ضرور فائدہ ہو گا اور کیوپرم وضع حمل کے دوران بہت سہولت پیدا کر دے گی۔(صفحہ۳۴۳)

کیوپرم کی ایک علامت یہ ہے کہ مریض کو ہچکی لگتی ہے جو معدہ کے تشنج سے پیدا ہوتی ہے۔ متلی اور قے کو ٹھنڈا پانی پینے سے آرام آتا ہے۔ مگر متلی اور قے کے دورے سردی لگنے سے ہی شروع ہوتے ہیں۔ شدید پیٹ درد اور تھوڑے تھوڑے اسہال ہوں جن کے ساتھ تشنجی دورے بھی ہوں اور پیٹ تن جائے اور چھونے سے درد ہو تا ہو ، اندر کی طرف کھچاؤ محسوس ہو تا ہو تو یہ کیوپرم کی علامتیں ہیں۔روز مرہ ہیضے میں استعمال ہونے والی تین بہترین دواؤں میں سے ایک کیوپرم ہے۔ اس کی امتیازی علامتیں بالکل واضح اور آسانی سے شناخت ہونے والی ہیں۔ ہیضےمیں تشنج کا آغاز پیٹ سے ہو تا ہے جو بہت شدید ہوتا ہے اسہال کھل کر نہیں آتے بلکہ رک رک کر تھوڑے تھوڑے آتے ہیں۔ اگر چہ ہاتھ پاؤں بھی مڑتے ہیں مگر پنڈلی کا تشنج پیٹ کے تشنج کے بعد ہر دوسرے تشنج سے زیادہ تکلیف دہ ہو تا ہے۔ ان تشنجی علامات کے ساتھ کیو پرم کی عمومی نیلاہٹ اس کے مریض کی شناخت کو مزید پختہ کر دیتی ہے۔ دوسری دو دوائیں کیمفر اور وریٹرم البم ہیں۔(صفحہ۳۴۴)

نوجوان بچیوں کو حیض کے دوران کمر اور پیٹ میں تشنج ہوتا ہے لیکن اگر یہ تشنج پنڈلیوں میں منتقل ہو جائیں تو زیادہ تر کیوپرم ہی دوا ہو گی۔ اس میں ہلکی سی متلی اور اسہال بھی ہوتے ہیں۔ اگر حیض کے دوران مرگی کے دورے پڑنے لگیں تو یہ بھی کیو پرم کی علامت ہے۔ البتہ نئے چاند کے نکلنے سے اگر یہ تکلیف ہو تو اس میں سلیشیامفید ہے۔(صفحہ۳۴۴)

سائیکلیمن یوروپیم
Cyclamen europaeum

اس کی علامات رکھنے والے مریض کا حرکت کرنے کو بالکل دل نہیں چاہتا۔اگرچہ حرکت کرنےسے تکلیف میں کمی آجاتی ہے۔مریض کھلی ہوا میں گھبراہٹ محسوس کرتا ہےلیکن بیماری کو افاقہ ہوتا ہےخصوصاً نزلہ زکام اور کھانسی کو کھلی ہوا سے آرام آتا ہے۔مریض جسمانی کمزوری کی وجہ سے حرکت کرنے اور چلنے پھرنےسے گھبراتا ہے۔(صفحہ۳۴۵)

سائیکلیمن کا مریض رات کو بہت بے چین ہوتا ہے۔سائیکلیمن میں چلنے سے کمزوری بڑھتی ہےلیکن دردوں اور تکلیفوں میں کچھ کمی آجاتی ہے۔(صفحہ۳۴۵)

ڈیجی ٹیلیس
Digitalis

ہومیو پیتھک طریق استعمال میں یہ ایک بہت مفید اور طاقت بخش دوا ثابت ہوتی ہے۔دل کا ہر وہ مرض جس میں جگر کی خرابی یقینی طور پر موجود ہو اور آغاز میں نبض ہلکی اور دبی ہوئی ہو ایسے مرض کی ہر شکل میں ڈیجی ٹیلیس بہترین کام کرتی ہے۔ یہ جگر ، تلی اور پھیپھڑوں پر بھی بہت مثبت اثر ڈالتی ہے۔ محض اس خطرہ سے ڈیجی ٹیلیس کو نظرانداز کرنا کہ ایلو پیتھی میں اس کا غلط استعمال ہوا ہے درست نہیں ہے۔ اسے دل کی بیماریوں میں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔(صفحہ۳۴۹۔۳۵۰)

ڈیجی ٹیلیس میں بیماریوں کے آغاز میں نبض آہستہ ہوتی ہے لیکن بعد میں تیز ہو جاتی ہے۔ اگر بنیادی علامتیں ڈیجی ٹیلیس سے مشابہ ہوں تو پھر نبض خواہ کتنی تیز بھی ہو ڈیجی ٹیلیس ہی کام آئے گی۔ نبض تیز ہونے کی وجہ سے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ عموماً اس کی نبض میں بہت کمزوری پائی جاتی ہے۔ اگر نبض کی رفتار تیز بھی ہو پھر بھی کمزور ہو گی۔ آرسینک میں نبض پتلی مگر تیز ہوتی ہے اور اس میں تناؤ ملتا ہے۔ (صفحہ۳۵۱)

ڈیجی ٹیلیس کی بے چینی آرسینک کی نسبت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ آرسینک کی بے چینی لیٹنے کے بعد یا ایک حالت میں ٹھہرنے پر بڑھتی ہے جبکہ ڈیجی ٹیلیس کی بے چینی ہر حال میں محسوس ہوتی ہے نہ لیٹنے سے کم ہوتی ہے نہ جسمانی حرکت ہے۔ ایسے بے چین مریض کو ڈیجی ٹیلیس ہی دینی چاہیے کیونکہ یہ دل کے عضلات کی تدریجی کمزوری سے تعلق رکھتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایلو پیتھک طریق پر ڈیجی ٹیلیس کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والی دل کی خرابیوں میں ڈیجی ٹیلیس کی بہت اونچی طاقت مثلاً ایک لاکھ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن کبھی خود میں نے اپنے کسی مریض پر اس کا تجربہ نہیں کیا۔ اس لیے اگر کوئی ہو میو پیتھ یہ تجربہ کرنا چاہیے تو اسے صرف ایسے مریض پر یہ تجربہ کرنا چاہیے جس کے بچنے کا بظاہر کوئی امکان نہ ہو اور پہلے اس سے اجازت لے لینی چاہیے۔ (صفحہ۳۵۳)

اکڑوں بیٹھنے سے،کھانےکےبعد موسیقی سےتکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہےجبکہ کھلی ہوا میں اور خالی پیٹ رہنے سے مرض کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔(ص۳۵۳)

ڈائیسکوریا ویلوسا
Dioscorea villosa
(Wild Yam)

اس کی مخصوص علامت یہ ہے کہ تشنج خواہ پتے میں ہو یا پیٹ کے کسی اور حصے میں ہو اس میں ہمیشہ دباؤ سے نقصان پہنچتا ہے اور انگڑائی لے کر ماؤف جگہ پر دباؤ کم کرنے سے آرام ملتا ہے۔ پیچش میں قولنج کے درد بہت ہوتے ہیں۔ اس کے مریض کو آہستہ ٹہلنے سے آرام آتا ہے کیونکہ اس سے بھی ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ کمر اور کندھوں کی طرف درد کی لہریں جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ، ڈائسکوریا میں درد کی لہریں ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں۔ پتے میں تشنج ہو تو درد کی لہر سینے سے ہوتی ہوئی کندھوں کی طرف بڑھتی ہے اور بازوؤں میں منتقل ہو کر ہاتھوں تک اتر آتی ہے۔ گردے کے تشنج کا درد جگر کی طرف حرکت کرتا ہے۔ اس طرح بواسیر کے مسوں کا درد بھی جگر ہی کی جانب جا تا ہوا محسوس ہو تا ہے۔ معدہ کے تشنج کا درد دل کی جانب لپکتاہے ان تمام علامتوں میں ڈائیسکوریا مفید ہے اور تمام مذکورہ عوارض میں شفا کا موجب بن جاتا ہے۔ پتے کے درد کے فوری علاج کے لیے (جبکہ کسی ایک دوا کی واضح علامتیں نہ ملیں) جو مرکب میں تجویز کر تا ہوں ڈائیسکوریا اس کا لازمی جزو ہو تا ہے۔ (صفحہ۳۵۵)

کیکٹس (Cactus) میں بھی درد کی لہروں کا ماؤف حصے سے دوسرے اعضاء کی طرف منتقل ہونا ایک یقینی علامت ہے۔ لیکن اس کی تشخیص جن علامتوں پر کی جاتی ہے وہ ڈائیسکوریا سے بالکل مختلف ہیں مثلاً اگر اس کے مریض کی دماغی جھلیوں میں یا بیرونی عضلات میں تشنج ہو تو اس سے جو درد کی لہریں نکلتی ہیں وہ پاؤں کے انگوٹھے تک نیچے اترتی ہیں۔(صفحہ۳۵۶)

اس کی تکلیفیں شام کے وقت نیز الٹا لیٹنےاور آگے جھکنے سے بڑھتی ہیں۔سیدھا کھڑےہونے ،آہستہ آہستہ ٹہلنے اورہلکےدباؤ سے کم ہوجاتی ہیں۔کیمومیلا اور کیمفر اس کے اثر کو زائل کرنے والی دوائیں ہیں۔(صفحہ۳۵۶)

ڈفتھیرنیم
Diphtherinum

ڈفتھیرینم ان تمام دوسری امراض میں بھی مفید ہے جن کی علامات ڈفتھیریا سے مشابہ ہوں۔غدود پھول کر سخت ہوجائیں،زبان سرخ اور موٹی ہو،ہرقسم کے اخراجات میں شدید بدبو ہو،نگلنے میں دقت ہو۔ خوراک اور پانی ناک کے راستے سے باہر آئیں تو ان سب تکلیفوں کو رفع کرنے میں یہ مثبت اثر دکھاتی ہے۔(صفحہ۳۵۸)

ڈروسرا روٹنڈیفولیا
Drosera rotundifolia
(Sundew)

تشنجی علامات میں اس کا دائرہ زیادہ وسیع ہے۔صرف کھانسی میں ہی نہیں بلکہ بعض دوسری بیماریوں میں بھی ڈروسرا تشنج دوکرنے کے کام آتا ہے۔اسی طرح یہ مرگی میں بھی مفید ہے۔تشنج کے نتیجہ میں بے ہوشی کے دورے کے بعد ڈورسرا کا مریض بہت فکر مند اور بے چین رہتا ہے۔اس پریشانی کو دور کرنے میں ڈروسرا ایک بلند پایہ دوا ہے۔خوا ہ یہ تشنج مرگی کا نہ بھی ہو۔(صفحہ۳۵۹-۳۶۰)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۹)(قسط ۱۴۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button