خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۶؍دسمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: صلح حدیبیہ کے ذکر میں آج بھی کچھ مزید تفصیل بیان کروں گا۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صلح حدیبیہ کےبعدحضرت امّ کلثومؓ کےمدینہ پہنچنےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ نے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’معاہدوں میں رخنے رہ جایا کرتے ہیں جو بعض اوقات بعد میں اہم نتائج کا باعث بن جاتے ہیں۔ چنانچہ صلح حدیبیہ میں بھی یہ رخنہ رہ گیا تھا کہ اس میں گو مسلمان مردوں کی واپسی کے متعلق صراحتاً ذکر تھا مگر ایسی عورتوں کا کوئی ذکر نہیں تھا جو اہلِ مکہ میں سے اسلام قبول کر کے مسلمانوں میں آ ملیں۔ مگر جلد ہی ایسے حالات رونما ہونے لگے جن سے کفار مکہ پراس رخنہ کا وجود کھلے طورپرظاہر ہو گیا۔ چنانچہ ابھی اس معاہدہ پر بہت تھوڑا وقت گزرا تھا کہ مکہ سے بعض مسلمان عورتیں کفار کے ہاتھ سے چھٹ کر مدینہ میں پہنچ گئیں۔ ان میں سب سے اوّل نمبر پر مکہ کے ایک فوت شدہ مشرک رئیس عقبہ ابن ابی معیط کی لڑکی ام کلثوم تھی جو ماں کی طرف سے حضرت عثمانؓ بن عفان کی بہن بھی لگتی تھی۔ ام کلثوم بڑی ہمت دکھا کر پاپیادہ مدینہ پہنچی۔‘‘ اتنا لمبا سفر اس عورت نے پیدل کیا۔ ’’اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ مگر اس کے پیچھے پیچھے اس کے دوقریبی رشتہ دار بھی اس کے پکڑنے کے لیے پہنچ گئے اوراس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ تھا کہ (گو معاہدہ میں مرد کالفظ استعمال ہوا ہے مگر) دراصل معاہدہ عام ہے اور عورت مرد دونوں پرمساوی اثر رکھتا ہے۔ مگر امِ کلثوم معاہدہ کے الفاظ کے علاوہ اس بنا پر بھی عورتوں کے معاملہ میں استثناء کی مدعی تھی کہ عورت ایک کمزور جنس سے تعلق رکھتی ہے اور ویسے بھی وہ مرد کے مقابلہ پر ایک ماتحت پوزیشن میں ہوتی ہے اس لیے اسے واپس کرنا گویا روحانی موت کے منہ میں دھکیلنا اور اسلام سے محروم کرنا ہے۔ پس عورتوں کا اس معاہدہ سے مستثنیٰ سمجھا جانا نہ صرف عین معاہدہ کے مطابق بلکہ عقلاً بھی قرین انصاف اور ضروری تھا۔ اس لیے طبعاً اور انصافاً آنحضرتﷺ نے امِ کلثوم کے حق میں فیصلہ فرمایا اور اس کے رشتہ داروں کو واپس لوٹا دیا اور خدا تعالیٰ نے بھی اس فیصلہ کی تائید فرمائی۔ چنانچہ انہی دنوں میں یہ قرآنی آیات نازل ہوئیں کہ جب کوئی عورت اسلام کا اِدّعا کرتی ہوئی مدینہ میں آئے تو اس کا اچھی طرح سے امتحان کرو اور اگر وہ نیک بخت اور مخلص ثابت ہو توپھر اسے کفار کی طرف ہرگز نہ لوٹاؤ، لیکن اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کا مہر اس کے مشرک خاوند کو ضرور ادا کر دو۔ اس کے بعد جب بھی کوئی عورت مکہ سے نکل کر مدینہ میں پہنچتی تھی تواس کا اچھی طرح سے امتحان لیا جاتا تھا اور اس کی نیت اور اخلاص کو اچھی طرح پرکھا جاتا تھا۔ پھر جو عورتیں نیک نیت اور مخلص ثابت ہوتی تھیں اور ان کی ہجرت میں کوئی دنیوی یا نفسانی غرض نہیں پائی جاتی تھی تو انہیں مدینہ میں رکھ لیا جاتا تھا اور اگر وہ شادی شدہ ہوتی تھیں تو ان کا مہر اُن کے خاوندوں کو ادا کر دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں میں شادی کرنے کے لیے آزاد ہوتی تھیں۔‘‘

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صلح حدیبیہ کےمعاہدہ کی روسےابوبصیرعتبہ بن اسیدثقفی کےمکہ واپس لوٹائےجانےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: ابھی آنحضرتﷺ کو مدینہ میں تشریف لائے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک شخص ابوبصیر عُتْبہ بن اُسَید ثَقْفِی جو مکہ کا رہنے والا تھا اور قبیلہ بنو زُہْرَہ کا حلیف تھا مسلمان ہو کر اور مکہ والوں کی حراست سے بھاگ کر مدینہ پہنچا۔ قریش مکہ نے اس کے پیچھے پیچھے اپنے دو آدمی بھجوائے اور آنحضرتﷺ سے التجا کی کہ ابوبصیر کو معاہدہ کی شرط کے مطابق ان کے حوالہ کر دیں۔ آنحضرتﷺ نے ابوبصیر کو بلایا اور واپس چلے جانے کا حکم دیا۔ ابوبصیر نے سامنے سے واویلا کیا’’ شور مچانے لگ گیا ‘‘کہ مَیں مسلمان ہوں اور یہ لوگ مجھے مکہ میں تنگ کریں گے اور اسلام سے منحرف ہوجانے کے لیے جبر سے کام لیں گے۔ آپ نے فرمایا ’’ہم معاہدہ کی وجہ سے معذور ہیں اور تمہیں یہاں نہیں رکھ سکتے اور اگر تم خدا کی رضا کی خاطر صبر سے کام لوگے تو خدا خود تمہارے لیے کوئی رستہ کھول دے گا مگر ہم مجبور ہیں اور کسی صورت میں معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘‘ آنحضرتﷺ کی معاہدوں پر کتنی پابندی تھی! ’’ناچار ابوبصیر ان لوگوں کے ساتھ واپس روانہ ہو گیا مگر چونکہ اس کے دل میں اس بات کی سخت دہشت تھی کہ مکہ میں پہنچ کر اس پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے جائیں گے اور اسے اسلام جیسی نعمت کو چھپا کر رکھنا پڑے گا بلکہ شاید جبروتشدد کی وجہ سے اس سے ہاتھ ہی دھونا پڑے۔ اس لیے جب یہ پارٹی ذوالحلیفہ میں پہنچی جو مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر مکہ کے راستہ پر ہے توابوبصیر نے موقع پاکر اپنے ساتھیوں میں سے ایک کو جو اس پارٹی کا رئیس تھا قتل کر دیا اور قریب تھا کہ دوسرے کوبھی نشانہ بنائے مگر وہ اپنی جان بچا کر اس طرح بھاگا کہ ابوبصیر سے پہلے مدینہ پہنچ گیا۔ پیچھے پیچھے ابوبصیر بھی مدینہ میں آ پہنچا۔ جب یہ شخص مدینہ میں پہنچا تو آنحضرتﷺ مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ اس کی خوف زدہ حالت کو دیکھ کر آپؐ نے فرمایا۔ معلوم ہوتا ہے اسے کوئی خوف وہراس کاسخت دھکا لگا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے خود بھی ہانپتے کانپتے آپؐ سے عرض کیا کہ ‘‘میرا ساتھی مارا گیا ہے اور میں بھی گویاموت کے منہ میں ہوں۔’’ آنحضرتﷺ نے اس سے واقعہ سنا اور تسلی دی۔ اتنے میں ابوبصیر بھی ہاتھ میں تلوار تھامے آ پہنچا اور آتے ہی آنحضرتﷺ سے عرض کیا ‘‘یارسول اللہ! آپ نے مجھے قریش کے حوالہ کر دیا تھا اور آپ کی ذمہ داری ختم ہو گئی مگر مجھے خدا نے ظالم قوم سے نجات دے دی ہے اور اب آپ پر میری کوئی ذمہ داری نہیں۔’’آپ نے بے ساختہ فرمایا: وَیلُ اُمِّہٖ مُسْعِرُحَرْبٍ لَّوْکَانَ لَہٗ اَحَدٌ۔ یعنی اس کی ماں کے لیے خرابی ہو (یہ الفاظ عربوں کے محاورہ میں لفظی معنوں کونظر انداز کرتے ہوئے ملامت یاتعجب یا ناراضگی کے موقع پر بولے جاتے ہیں)۔ ‘‘ فرمایا کہ ’’یہ شخص توجنگ کی آگ بھڑکا رہا ہے کاش! کوئی اسے سنبھالنے والا ہو۔ابوبصیر نے یہ الفاظ سنے توسمجھ لیا کہ آنحضرتﷺ اسے بہرحال معاہدہ کی وجہ سے واپس جانے کا ارشاد فرمائیں گے۔ چنانچہ اس بارے میں بخاری کے الفاظ یہ ہیں :۔ فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِکَ عَرَفَ اَنَّہٗ سَیرُدُّہٗ اِلَیھِمْ۔ یعنی ’’جب ابوبصیر نے آنحضرتﷺ کے یہ الفاظ سنے تو جان لیا کہ آپؐ بہرحال اسے مکہ والوں کی طرف واپس بھجوا دیں گے۔‘‘ اس پر وہ چپکے سے وہاں سے نکل گیا اور مکہ جانے کی بجائے جہاں اسے جسمانی اور روحانی دونوں موتیں نظر آتی تھیں بحیرۂ احمر کے ساحل کی طرف ہٹ کر سِیف البحر میں پہنچ گیا۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صلح حدیبیہ پرعیسائی مؤرخین کےاعتراض کہ’’ حدیبیہ کی شرائط میں عورتوں کو مستثنیٰ قراردیا‘‘کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ’’غالباً آنحضرتﷺ کی سوانح کاکوئی اہم واقعہ ایسا نہیں ہے جسے مسیحی مؤرخین نے بغیر اعتراض کے چھوڑا ہو اور صلح حدیبیہ کا واقعہ بھی اسی کلیہ کے نیچے آتا ہے۔۔۔ اوّل یہ کہ آنحضرتﷺ نے جو صلح حدیبیہ کی شرائط سے عورتوں کو مستثنیٰ قرار دیا یہ شرائط معاہدہ کی رو سے جائز نہیں تھا کیونکہ معاہدہ کے الفاظ عام تھے جس میں مرد عورت سب شامل تھے۔…سب سے پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہیے کہ یہ معاہدہ قریش مکہ کے ساتھ ہوا تھا اورقریش مکہ وہ قوم تھی جو ابتداء اسلام سے ہی آنحضرتﷺ کے خلاف برسرپیکار چلی آتی تھی‘‘اور جب معاہدہ ہو رہا تھا تو اس وقت بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جو ان کے نمائندے تھے وہ کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپ کو ٹوک رہے تھے ’’اور بات بات پراعتراض کرنے اور طعنہ دینے کی عادی تھی اورویسے بھی وہ کوئی دور دراز کی غیر قوم نہ تھی بلکہ آنحضرتﷺ کی اپنی ہی قوم تھی جسے سب حالات کاپوراپوراعلم تھا۔‘‘قریش جن کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا وہ تو اپنے ہی لوگ تھے۔ آنحضرتﷺ کی قوم کے ہی تھے۔ ہر چیز کا ان کو علم بھی تھا اور بڑی تفصیل سے انہوں نے معاہدہ بھی طے کیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ عورت مرد شامل تھے ان کو بھی پتہ تھا کہ شامل تھے یا نہیں شامل تھے۔ ’’اور پھر شرائط معاہدہ کی تمام تفصیلات اور ان کا مکمل پس منظر بھی ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ پس جب مکہ کے قریش نے جو فریق معاہدہ تھے آنحضرتﷺ کے اس فعل پر اعتراض نہیں کیا اور اسے معاہدہ کے خلاف نہیں سمجھا تو تیرہ سوسال بعد میں آنے والے لوگوں کو جن کی آنکھوں سے بہت سی جزئی تفاصیل پوشیدہ ہیں اور انہیں اس معاہدہ کے پس منظر پر بھی پوری طرح آگاہی نہیں اعتراض کاحق کس طرح پیدا ہوسکتا ہے؟‘‘ ان مشرکین نے تو اعتراض نہیں کیا۔ آجکل کے اسلام پر اعتراض کرنے والے مستشرقین اعتراض کرتے ہیں۔ ’’یہ تو مدعی سست گواہ چست والا معاملہ ہوا کہ جن کے ساتھ یہ سارا قصہ گزرا وہ تو اسے درست قرار دے کر خاموش رہتے ہیں مگر تیرہ سو سال بعد میں آنے والوں نے گویا آسمان سرپر اٹھا رکھا ہے۔ ۔۔اعتراض یہ ہے کہ دراصل معاہدہ میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھیں مگر آنحضرتﷺ نے زبردستی سے کام لے کر عورتوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا، لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں‘‘ یہاں پہلے بیان ہوا ہے کہ ’’یہ اعتراض بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ معاہدہ کے وہ الفاظ جو صحیح ترین روایت میں بیان ہوئے ہیں ان میں صراحتاًمذکور ہے کہ معاہدہ میں صرف مرد مراد تھے نہ کہ مرد اور عورتیں دونوں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں معاہدہ کے یہ الفاظ درج ہیں: لَا یاْتِیکَ مِنَّارَجُلٌ وَاِنْ کَانَ عَلٰی دِینِکَ اِلَّارَدَدْتَہٗ اِلَینَا۔ یعنی ‘‘ہم میں سے جو مرد بھی آپ کی طرف جائے گا وہ خواہ مسلمان ہی ہوگا اسے ہماری طرف لوٹا دیا جائے گا۔’’ان واضح اور غیر مشکوک الفاظ کے ہوتے ہوئے یہ اعتراض کرنا کہ دراصل معاہدہ میں مرد وعورت دونوں مراد تھے صرف بے انصافی ہی نہیں بلکہ انتہائی بددیانتی ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ کی بعض روایتوں میں معاہدہ کے الفاظ میں رجل (مرد) کا لفظ مذکور نہیں بلکہ عام الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن میں مرد و عورت دونوں شامل سمجھے جاسکتے ہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ اول تو بہرحال مضبوط روایت کومقدم سمجھا جائے گا اور جب صحیح ترین روایت میں رجل (مرد) کا لفظ آتا ہے تو لازماً اسی کو صحیح لفظ قرار دینا ہوگا۔ علاوہ ازیں جو الفاظ تاریخی روایت میں آتے ہیں وہ بھی اگر غور کیا جائے تو اسی تشریح کے حامل ہیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہے مثلاً تاریخ کی سب سے زیادہ مشہور اور معروف کتاب سیرة ابن ہشام میں یہ الفاظ آتے ہیں:۔ مَنْ اَتٰی مُحَمَّدًامِنْ قُرَیْشٍ بِغَیرِ اِذْنِ وَلِیَّہٖ رَدَّہٗ عَلَیْھِمْ۔ یعنی ‘‘جو شخص قریش میں سے محمد (ﷺ) کے پاس اپنے گارڈین کی اجازت کے بغیر پہنچے گا اسے قریش کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا۔‘‘ عربي کے ان الفاظ ميں بے شک ’’مرد‘‘ کا لفظ صراحتاً بيان نہيں ہوا مگر عربي زبان کا ابتدائي علم رکھنے والا شخص بھي جانتا ہے کہ عربي ميں بخلاف بعض دوسري زبانوں کے عورت اور مرد کے ليے عليحدہ عليحدہ صيغے اور عليحدہ عليحدہ ضميريں استعمال ہوتي ہيں اور اوپر کي عبارت ميں شروع سے لے کر آخرتک مردوں والے صيغے اور مردوں والي ضميريں استعمال کي گئي ہيں۔ پس جيسا کہ معاہدوں کي زبانوں کي تشريح کااصول ہے لازماً اس عبارت ميں صرف مرد ہي شامل سمجھے جائيں گے نہ کہ عورت اور مرد دونوں۔ بيشک بعض اوقات عام محاورہ ميں مردانہ صيغہ بول کر اس سے مرد و عورت دونوں مراد لے ليے جاتے ہيں مگرظاہر ہے کہ زيرِبحث عبارت اس قسم کي عبارت نہيں ہے بلکہ معاہدہ کي عبارت ہے جسے قانون کا درجہ بلکہ اس سے بھي اوپر کادرجہ حاصل ہوتا ہے کيونکہ اس کا ايک ايک لفظ سوچ سمجھ کر رکھا جاتا ہے اور الفاظ کا انتخاب دونوں فريقوں کي جرح اورمنظوري کے بعد ہوتا ہے۔ لہٰذا ايسي عبارت ميں لازماً وہي معني ليے جائيں گے جو محدود ترين اور مخصوص ترين پہلو رکھتے ہوں۔‘‘… علاوہ ازيں جيسا کہ اوپر بتايا جاچکا ہے عورت جو ایک کمزور جنس ہے اور عموماً اپنے خاوند یامرد رشتہ داروں کے رحم پر ہوتی ہے، اسے واپس لوٹانے کے یہ معنی تھے کہ اسے اسلام لانے کے بعد پھر اپنے ہاتھوں سے کفر اورشرک کی طرف لوٹا دیا جائے جو نہ صرف رحم وشفقت بلکہ عدل وانصاف کے جذبہ سے بھی بعید تھا۔ بیشک ایک مرد کو واپس لوٹانے میں بھی اس کے لیے یہ خطرہ تھا کہ مکہ کے کفار اسے مختلف قسم کے عذابوں اور دکھوں میں مبتلا کریں گے مگر مرد پھربھی مرد ہے۔ وہ نہ صرف تکلیفوں کا زیادہ مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ حسبِ ضرورت اِدھر اُدھر چھپ کر یا بھاگ کر یا جتھہ وغیرہ بنا کر اپنے لیے بچاؤ کے کئی راستے کھول سکتا ہے’’ جیسا کہ ابوبصیر نے کیا تھا۔ ‘‘مگر ایک بے بس عورت کیا کر سکتی ہے؟ اس کے لیے ایسے حالات میں یا تو اسلام سے جبری محرومی کی صورت تھی اور یا موت۔ اندریں حالات آنحضرتﷺ جیسی رحیم وکریم ہستی سے بالکل بعید تھا کہ بے کس اوربے بس مسلمان عورتوں کوظالم کفار کے مظالم کی طرف لوٹا دیتے۔ پس جو کچھ کیا گیا وہ نہ صرف معاہدہ کے الفاظ کی رو سے بالکل صحیح اور درست تھا بلکہ عدل وانصاف اور رحم وشفقت کے مسلمہ اصول کے لحاظ سے بھی عین مناسب اور درست تھا اور اعتراض کرنے والوں کے حصہ میں اس قابل افسوس شرم کے سوا کچھ نہیں آیا کہ انہوں نے مظلوم اور بے بس عورتوں کی حفاظت کے انتظام پر بھی زبان طعن دراز کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم مئی 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button