خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم مئی 2026ء
’’جب میں نے محض للہ انسانوں پر جھوٹ بولنا ابتدا سے متروک رکھا اور بارہا اپنی جان اور مال کو صدق پر قربان کیا تو پھر میں خدا تعالیٰ پر کیوں جھوٹ بولتا…‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
’’اگر آپ طالب حق بن کر میری سوانح زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ پر قطعی ثبوتوں سے یہ بات کھل سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ کذب کی ناپاکی سے مجھ کو محفوظ رکھتا رہا ہے یہاں تک کہ بعض وقت انگریزی عدالتوں میں میری جان اور عزت ایسے خطرہ میں پڑ گئی کہ بجز استعمال کذب اور کوئی صلاح کسی وکیل نے مجھ کو نہ دی۔
لیکن اللہ جلّ شانہ ٗکی توفیق سے مَیں سچ کےلیے اپنی جان اور عزّت سے دست بردار ہوگیا اور بسا اوقات مالی مقدمات میں محض سچ کےلیے میں نے بڑے بڑے نقصان اٹھائے اور بسا اوقات محض خدا تعالیٰ کے خوف سے اپنے والد اوراپنے بھائی کے برخلاف گواہی دی اور سچ کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
’’کبھی انسان کسی ایسی بلا میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اس وقت بجز کذب کے اَور کوئی حیلہ رہائی اور کامیابی کا اس کو نظر نہیں آتا۔ تب اس وقت وہ آزمایا جاتا ہے کہ آیا اس کی سرشت میں صدق ہے یا کذب۔ اور آیا اس نازک وقت میں اس کی زبان پر صدق جاری ہوتا ہے یا اپنی جان اور آبرو اور مال کا اندیشہ کر کے جھوٹ بولنے لگتا ہے۔ اس قسم کے نمونے اس عاجز کو کئی دفعہ پیش آئے ہیں ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
جب صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو معلوم ہوا کہ مخالف فریق نے حضرت اقدس علیہ السلام کی گواہی طلب کروائی ہے تو مرزا سلطان احمد صاحب بھی جانتے تھے کہ حضور ؑکبھی جھوٹ نہیں بولیں گے اس لیے انہوں نے مقدمہ ہی واپس لے لیا
حضرت اقدس علیہ السلام کی راستبازی اور سچائی پر مبنی اس گواہی کی کیسی عظیم الشان برکت ہے کہ سچ کو نہیں چھوڑا اور اس کے مقابل پر نہ خاندانی عزّت اور وجاہت کی پرواہ کی اور نہ ہی زمین اور جائیدادکے تلف ہونے کی پرواہ کی اور گویا اپنے ہاتھوں سے یہ سب کچھ قربان کر دیا لیکن خدا نے اس قربانی کو اس طرح قبول کیا اور عظمت و برکت دی کہ آج منارةالمسیح کے عین نیچے وہ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت گاہ کی صورت میں آباد ہے
آپؑ ہمیشہ راستی کا پہلو اختیار کرتے خواہ مقدمہ کو کس قدر نقصان پہنچ جاتا۔ غرض راستی کو بالکل ہاتھ سے نہ جانے دیتے (ایک روایت)
آپؑ نے ہمیشہ سچائی کو مقدم رکھا ہے اور جھوٹ کے قریب بھی نہیں گئے اور اس کے لیے آپؑ نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو بھی تلقین فرمائی کہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہو بلکہ شرائط بیعت میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ ہم جھوٹ سے نفرت کریں گے اور سچائی پر قائم رہیں گے
ہمارا یہ فرض ہے کہ سچائی کے اس وصف کو اپنا خاص نشان بنا لیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے
آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی سیرت سےہر قیمت پر سچائی پر سختی سے عمل کرنے نیز اس حوالے سےمخالفین کو چیلنج کرنے کے بعض واقعات کا ایمان افروز تذکرہ
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم مئی 2026ء بمطابق یکم ہجرت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آج سچائی پر ہر قیمت پر عمل کرنے اور اس پر سختی سے عمل اور اس حوالے سے مخالفین کو بھی چیلنج کرنے کے چند واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی زندگی اور سیرت کے بیان کروں گا۔
سب سے پہلے
آپؑ کے ایک بہت بڑے مخالف محمد حسین بٹالوی صاحب جنہوں نے آپؑ پر کافر اور کذّاب ہونے کا الزام لگایا تھا ان کے اس الزام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو جواب تھا وہ پیش کروں گا۔ ایک ایسا کھلا واضح جواب اور چیلنج ہے کہ اگر کوئی انصاف کی نظر سے دیکھے تو ان الزامات پرکبھی یقین کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن جب آنکھوں پر پٹی بندھی ہو تو پھر روشنی نظر نہیں آ سکتی۔ یہی آجکل کے مولویوں کا بھی حال ہے۔
ایک مرتبہ محمد حسین بٹالوی صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط لکھا اور اس میں آپؑ کو مخالفِ دینِ اسلام ،کافر اور کذاب وغیرہ بیان کیا۔ نعوذ باللہ۔ آپ علیہ السلام نے مولوی صاحب کے اس خط کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے لکھا کہ
’’اگر آپ طالبِ حق بن کر میری سوانح زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ پر قطعی ثبوتوں سے یہ بات کھل سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ کذب کی ناپاکی سے مجھ کو محفوظ رکھتا رہا ہے یہاں تک کہ بعض وقت انگریزی عدالتوں میں میری جان اور عزت ایسے خطرہ میں پڑ گئی کہ بجز استعمال کذب اَور کوئی صلاح کسی وکیل نے مجھ کو نہ دی۔‘‘
سب نے یہی کہا کہ جھوٹ بولو گے تو تبھی کام بنے گا۔
’’لیکن اللہ جلّ شانہ ٗکی توفیق سے مَیں سچ کےلیے اپنی جان اور عزّت سے دست بردار ہوگیا اور بسا اوقات مالی مقدمات میں محض سچ کےلیے میں نے بڑے بڑے نقصان اٹھائے اور بسا اوقات محض خدا تعالیٰ کے خوف سے اپنے والد اوراپنے بھائی کے برخلاف گواہی دی اور سچ کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ‘‘
آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ اس گاؤں میں اور نیز بٹالہ میں’’ یعنی قادیان میں اور بٹالہ میں‘‘ بھی میری ایک عمر گذر گئی ہے مگر کون ثابت کرسکتا ہے کہ کبھی میرے منہ سے جھوٹ نکلا ہے۔ پھر
جب میں نے محض للہ انسانوں پر جھوٹ بولنا ابتدا سے متروک رکھا اور بارہا اپنی جان اور مال کو صدق پر قربان کیا تو پھر میں خدا تعالیٰ پر کیوں جھوٹ بولتا…‘‘
بٹالوی صاحب نے اس خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے کہ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جزو ہے۔‘‘ نعوذ باللہ۔ جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ مولوی صاحب کا اپنا یہ واضح جھوٹ اور افترا تھا اور ایسا الزام تھا کہ جس کاکوئی ثبوت ان کے پاس نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ان کا جواب دیتے ہوئے لکھا:
’’شیخ صاحب جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو۔ اوّل تو وہ جرأت کر کے اپنے بھائی پر بے تحقیقِ کامل کسی فسق اور کفر کا الزام نہیں لگاتا اور اگر لگاوے تو پھر ایسا کامل ثبوت پیش کرتا ہے کہ گویا دیکھنے والوں کےلیے دن چڑھا دیتا ہے۔ پس اگر آپ ان دونوں صفتوں مذکورہ بالا سے متصف ہیں تو آپ کو اس خداوند قادر ذوالجلال کی قَسم ہے جس کی قَسم دینے پر حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی توجہ کے ساتھ جواب دیتے تھے کہ آپ حسب خیال اپنے یہ دونوں قسم کا خبث اس عاجز میں ثابت کر کے دکھلاویں یعنی اوّل یہ کہ میں مخالفِ دینِ اسلام اور کافر ہوں اور دوسرے یہ کہ میرا شیوہ جھوٹ بولنا ہے۔‘‘ دو الزام لگاتے ہیں ناں کہ میں کافر ہوں مسلمان نہیں۔ ٹھیک ہے اس کو ثابت کریں۔ دوسرا الزام لگا رہے ہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ اس کو ثابت کرو۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اپنی رؤیا میں صادق تر وہی ہوتا ہے جو اپنی باتوں میں صادق تر ہوتا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق کی یہ نشانی ٹھہرائی ہے کہ اس کی خوابوں پر سچ کا غلبہ ہوتا ہے اور ابھی آپ دعویٰ کرچکے ہیں کہ میں’’ یعنی مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔ پس اگر آپ نے یہ بات نفاق سے نہیں کہی اور آپ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول میں سچے ہیں تو آؤ ہم اور تم اس طریق سے ایک دوسرے کو آزما لیں کہ بموجب اس محک کے کون صادق ثابت ہوتا ہے اور کس کی سرشت میں جھوٹ ہے۔ اور ایسا ہی اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا۔‘‘ کہ ان کے لیے اس ورلی زندگی میں بھی خدا کی طرف سے بشارت پانے کا انعام مقرر ہے۔ ’’یعنی یہ مومنوں کا ایک خاصہ ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے ان کی خوابیں سچی نکلتی ہیں اور آپ ابھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ میں قرآن پر بھی ایمان لاتا ہوں۔ بہت خوب آؤ قرآن کریم کے رو سے بھی آزما لیں کہ مومن ہونے کی نشانی کس میں ہے۔ یہ دونوں آزمائشیں یوں ہوسکتی ہیں کہ بٹالہ یا لاہور یا امرتسر میں ایک مجلس مقرر کر کے فریقین کے شواہدِ رؤیا’’یعنی فریقین کے خوابوں کے گواہ‘‘ ان میں حاضر ہوجائیں اور پھر جو شخص ہم دونوں میں سے یقینی اور قطعی ثبوتوں کے ذریعہ سے اپنی خوابوں میں اصدق ثابت ہو اس کے مخالف کا نام کذّاب اور دجال اور کافر اور اکفر اور ملعون یا جو نام تجویز ہوں اسی وقت اس کو یہ تمغہ پہنا یا جائے اور اگر آپ گزشتہ کے ثبوت سے عاجز ہوں تو میں قبول کرتا ہوں بلکہ چھ ماہ تک آپ کو رخصت دیتا ہوں کہ آپ چند اخباروں میں اپنی ایسی خوابیں درج کرا دیں جو امورِغیبیہ پر مشتمل ہوں اور میں نہ صرف اسی پر کفایت کروں گا کہ گذشتہ کا آپ کو ثبوت دوں بلکہ آپ کے مقابل پر بھی انشاء اللہ القدیر اپنی خوابیں درج کراؤں گا۔ اور جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں یہی میرا دعویٰ ہے کہ میں بدل و جان اس پیارے نبی پر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس پیاری کتاب قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں۔ اب اس نشانی سے آزمایا جائے گا کہ اپنے دعویٰ میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ اگر میں اس علامت کے رو سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے قرار دی ہے مغلوب رہا تو پھر آپ سچے رہیں گے اور میں بقول آپ کے کافر، دجال، بے ایمان، شیطان، اور کذّاب اور مفتری ٹھہروں گا اور اس صورت میں آپ کے وہ تمام ظنون فاسدہ درست اور برحق ہوں گے۔‘‘ جو آپ نے میرے پر گندی بدظنیاں کی ہوئی ہیں ان میں آپ سچے ہوں گے ’’کہ گویا میں نے براہین احمدیہ میں فریب کیا اور لوگوں کا روپیہ کھایا اور دعا کی قبولیت کے وعدہ پر لوگوں کا مال خورد و برد کیا اور حرام خوری میں زندگی بسر کی لیکن اگر خدائے تعالیٰ کی اس عنایت نے جو مومنوں اور صادقوں اور راستبازوں کے شامل حال ہوتی ہے مجھ کو سچا کردیا تو پھر آپ فرماویں کہ یہ سب نام اس وقت آپ کی مولویانہ شان کے سزاوار ٹھہریں گے یا اس وقت بھی کوئی کنارہ کشی کا راہ آپ کےلیے باقی رہے گا۔‘‘ یہ چیلنج ہے۔ ’’آپ نے مجھ کو بہت دکھ دیا اور ستایا۔ میں صبر کرتا گیا مگر آپ نے ذرّہ اس ذاتِ قدیر کا خوف نہ کیا جو آپ کی تہ سے واقف ہے۔ اس نے مجھے بطور پیشگوئی آپ کے حق میں اور پھر آپ کے ہم خیال لوگوں کے حق میں خبر دی کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔ یعنی میں اس کو خوار کروں گا جو تیرے خوار کرنے کی فکر میں ہے۔
سو یقیناً سمجھو کہ اب وہ وقت نزدیک ہے جو خدا تعالیٰ ان تمام بہتانات میں آپ کا دروغ گو ہونا ثابت کردے گا اور جو بہتان تراش اور مفتری لوگوں کو ذلتیں اور ندامتیں پیش آتی ہیں ان تمام ذلتوں کی مار آپ پر ڈالے گا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔‘‘ یہ آپ دعویٰ کرتے ہیں مولوی صاحب۔’’ پس اگر آپ اس قول میں سچے ہیں تو آزمائش کےلیے میدان میں آویں تا خدا تعالیٰ ہمارا اور تمہارا خود فیصلہ کرے اور جو کاذب اور دجّال ہے روسیاہ ہوجائے اور میرے دل سے اس وقت حق کی تائید کےلیے ایک بات نکلتی ہے اور میں اس کو روک نہیں سکتا کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ اِلقا ء ربی ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جبکہ آپ نے مجھے کافر ٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ حسب طریق مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آجاؤ تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رو سے کون کاذب اور دجال اور کافر ثابت ہوتا ہے۔ ‘‘
(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5صفحہ289تا295)
اسی تسلسل میں آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ’’مع ھٰذا ایک اَور بات بھی ذریعہ آزمائش صادقین ہوجاتی ہے جس کو خدا تعالیٰ آپ ہی پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ
کبھی انسان کسی ایسی بلا میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اس وقت بجز کذب کے اَور کوئی حیلہ رہائی اور کامیابی کا اس کو نظر نہیں آتا۔ تب اس وقت وہ آزمایا جاتا ہے کہ آیا اس کی سرشت میں صدق ہے یا کذب۔ ‘‘
مولوی صاحب نے لکھا تھا ناں کہ آپ کی سرشت میں ہی جھوٹ ہے اور کذب ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ یہ تو آزمائش کے وقت پتہ لگتا ہے کہ سچ ہے یا جھوٹ ہے۔
’’اور آیا اس نازک وقت میں اس کی زبان پر صدق جاری ہوتا ہے یا اپنی جان اور آبرو اور مال کا اندیشہ کر کے جھوٹ بولنے لگتا ہے۔ اس قسم کے نمونے اس عاجز کو کئی دفعہ پیش آئے ہیں جن کا مفصل بیان کرنا موجب تطویل ہے تاہم تین نمونے اس غرض سے پیش کرتا ہوں
کہ اگر ان کے برابر بھی آپ کو کبھی آزمائش صدق کے موقع پیش آئے ہیں تو آپ کو اللہ جلّ شانہ کی قسم ہے کہ آپ ان کو معہ ثبوت ان کے ضرور شائع کریں تا معلوم ہو کہ آپ کا صرف دعویٰ نہیں بلکہ امتحان اور بلا کے شکنجہ میں بھی آکر آپ نے صدق نہیں توڑا۔‘‘کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ یہ دعویٰ کریں اور آئیں مقابلہ پہ۔ اپنی مثال میں آپ نے بعض باتیں بتائی ہیں۔ تین باتیں بطور مثال دوں گا۔ آپؑ نے فرمایا۔
نمبر ایک کہ’’ از ا نجملہ
ایک یہ واقعہ ہے کہ
میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد مرزا اعظم بیگ صاحب لاہوری نے شرکاء ملکیت قادیان سے مجھ پر اور میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر پر مقدمہ دخل ملکیت کا عدالت ضلع میں دائر کرا دیا اور میں بظاہر جانتا تھا کہ ان شرکاء کو ملکیت سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ ایک گم گشتہ چیز تھی جو سکھوں کے وقت میں نابود ہوچکی تھی اور میرے والد صاحب نے تن تنہا مقدمات کر کے اس ملکیت اور دوسرے دیہات کے بازیافت کے لیے آٹھ ہزار کے قریب خرچ و خسارہ اٹھایا تھا جس میں وہ شرکاء ایک پیسہ کے بھی شریک نہیں تھے۔ سو ان مقدمات کے اثناء میں جب میں نے فتح کے لیے دعا کی تو یہ الہام ہوا کہ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَائِکَ اِلَّا فِیْ شُرَکَائِکَ۔ یعنی میں تیری ہریک دعا قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔‘‘ یہ دعا جو تم کر رہے ہو یہ نہیں قبول ہو گی۔
’’سو میں نے اس الہام کو پا کر اپنے بھائی اور تمام زن و مرد عزیزوں کو جمع کیا جو ان میں سے بعض اب تک زندہ ہیں اور کھول کر کہہ دیا کہ شرکاء کے ساتھ مقدمہ مت کرو یہ خلاف مرضی حق ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ ہم مقدمہ کریں ’’مگر انہوں نے قبول نہ کیا اور آخر ناکام ہوئے لیکن میری طرف سے ہزارہا روپیہ کا نقصان اٹھانے کے لیے استقامت ظاہر ہوئی۔‘‘میں نے روپوں کا نقصان اٹھایا لیکن اسی بات پر ثابت قدم رہا۔ اللہ تعالیٰ نے روک لیا تھا اس لیے مقدمہ نہیں لڑا اور’’ اس کے وہ سب جو اب دشمن ہیں گواہ ہیں‘‘ کہ میں نے یہ مقدمہ نہیں لڑا۔’’ چونکہ تمام کاروبار زمینداری میرے بھائی کے ہاتھ میں تھا اس لیے میں نے بار بار ان کو سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا اور آخر نقصان اٹھایا۔ ‘‘مقدمہ ہار گئے۔
دوسری مثال
آپؑ نے یہ دی کہ’’… تخمیناً پندرہ یا سولہ سال کا عرصہ گذرا ہوگا یا شاید اس سے کچھ زیادہ ہو کہ اِس عاجز نے اسلام کی تائید میں آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام رلیارام تھا اور وہ وکیل بھی تھا اور امرتسر میں رہتا تھا اور اس کا ایک اخبار بھی نکلتا تھا ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے ایک پیکٹ کی صورت میں جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں بھیجا اور اس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھ دیا۔ چونکہ خط میں ایسے الفا ظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا اور مضمون کے چھاپ دینے کےلیے تاکید بھی تھی اس لیے وہ عیسائی مخالفت مذہب کی وجہ سے افروختہ ہوا اور اتفاقاً اس کو دشمنانہ حملہ کے لیے یہ موقع ملا کہ کسی علیحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانوناً ایک جرم تھا جس کی اس عاجز کو کچھ بھی اطلاع نہ تھی اور ایسے جرم کی سزا میں قوانینِ ڈاک کے رو سے پانسو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ تک قید ہے۔ سو اس نے مخبر بن کر افسران ڈاک سے اس عاجز پر مقدمہ دائر کرا دیا اور قبل اس کے جو مجھے اس مقدمہ کی کچھ اطلاع ہو رؤیا میں اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ رلیارام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کےلیے مجھ کو بھیجا ہے اور میں نے اسے مچھلی کی طرح تل کر واپس بھیج دیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر وہ مقدمہ جس طرز سے عدالت میں فیصلہ پایا وہ ایک ایسی نظیر ہے جو وکیلوں کے کام میں آ سکتی ہے۔ غرض میں اس جرم میں صدر ضلع گورداسپورہ میں طلب کیا گیا اور جن جن وکلاء سے مقدمہ کے لیے مشورہ لیا گیا انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ بجز دروغ گوئی کے’’ سوائے جھوٹ بولنے کے‘‘ اور کوئی راہ نہیں اور یہ صلاح دی کہ اس طرح اظہار دے دو کہ ہم نے پیکٹ میں خط نہیں ڈالا۔ رلیارام نے خود ڈال دیا ہوگا اور نیز بطور تسلی دہی کے کہا کہ ایسابیان کرنے سے شہادت پر فیصلہ ہوجائے گا اور دو چار جھوٹے گواہ دے کر بریت ہوجائے گی ورنہ صورت مقدمہ سخت مشکل ہے۔‘‘ اور کوئی صورت نہیں بچنے کی۔ ’’اور کوئی طریق رہائی نہیں مگر میں نے ان سب کو جواب دیا کہ میں کسی حالت میں راستی کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ جو ہوگا سو ہوگا۔‘‘ دیکھا جائے گا کیا ہوتا ہے۔ مَیں نے جھوٹ نہیں بولنا۔’’تب اسی دن یا دوسرے دن مجھے ایک انگریز کی عدالت میں پیش کیا گیا اور میرے مقابل پر ڈاک خانہ جات کا افسر بحیثیت سرکاری مدعی ہونے کے حاضر ہوا۔ اس وقت حاکم عدالت نے اپنے ہاتھ سے میرا اظہار لکھا اور سب سے پہلے مجھ سے یہی سوال کیا کہ کیا یہ خط تم نے اپنے پیکٹ میں رکھ دیا تھا اور یہ خط اور یہ پیکٹ تمہارا ہے۔ تب میں نے بلا توقف جواب دیا کہ یہ میرا ہی خط اور میرا ہی پیکٹ ہے اور میں نے اس خط کو پیکٹ کے اندر رکھ کر روانہ کیا تھا مگر میں نے گورنمنٹ کی نقصان رسانی محصول کےلیے بدنیتی سے یہ کام نہیں کیا۔‘‘ حکومت کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں کیا تھا کہ ایک ٹکٹ کے پیسے بچا لو ’’بلکہ میں نے اس خط کو اس مضمون سے کچھ علیحدہ نہیں سمجھا اور نہ اس میں کوئی نِج کی بات تھی۔‘‘ اور کوئی ذاتی بات تو لکھی نہیں ہوئی تھی۔’’ اس بات کو سنتے ہی خدا تعالیٰ نے اس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا ‘‘وہ جج انگریز تھا ’’اور میرے مقابل پر افسر ڈاک خانہ جات نے بہت شور مچایا اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتا تھا مگر اس قدر میں سمجھتا تھا کہ ہر ایک تقریر کے بعد ’’جو دلیلیں وہ دیتا تھا اس کے بعد ‘‘زبان انگریزی میں وہ حاکم’’ جج جو تھا وہ‘‘ نو نو کر کے اس کی سب باتوں کو ردّ کردیتا تھا۔ انجام کار جب وہ افسر مدعی اپنے تمام وجوہ پیش کرچکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا کہ اچھا آپ کےلیے رخصت۔ یہ سن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجا لایا ’’یعنی اللہ تعالیٰ کا ‘‘جس نے ایک افسر انگریز کے مقابل پر۔‘‘ دوسرا مقابلے پہ جو مدعی تھا وہ انگریز تھا۔ مقدمہ لڑنے والا محکمہ کا ہی ایک افسر۔ ایک افسر انگریز کے مقابل پر’’ مجھ کو ہی فتح بخشی اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اس بلا سے مجھ کو نجات دی۔ میں نے اس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ ایک شخص نے میری ٹوپی اتارنے کےلیے ہاتھ مارا۔ میں نے کہا کیا کرنے لگا ہے تب اس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا اور کہا کہ خیر ہے خیر ہے۔‘‘
پھر
تیسری مثال
آپؑ دیتے ہیں کہ’’ از انجملہ ایک نمونہ یہ ہے کہ میرے بیٹے سلطان احمد نے ایک ہندو پر بدیں بنیاد نالش کی کہ اس نے ہماری زمین پر مکان بنا لیا ہے اور مسماری مکان کا دعویٰ تھا‘‘کہ اس کو گرا دیا جائے۔’’ اور ترتیب مقدمہ میں ایک امر خلاف واقعہ تھا جس کے ثبوت سے وہ مقدمہ ڈسمس ہونے کے لائق ٹھہرتا تھا اور مقدمہ کے ڈسمس ہونے کی حالت میں نہ صرف سلطان احمد کو بلکہ مجھ کو بھی نقصان تلف ملکیت اٹھانا پڑتا تھا۔ تب فریق مخالف نے موقعہ پاکر میری گواہی لکھا دی۔‘‘انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ان کو گواہ بنا دیتے ہیں ہم۔ جو یہ کہیں گے ہم مان لیں گے۔’’ اور میں بٹالہ میں گیا اور بابو فتح الدین سب پوسٹ ماسٹر کے مکان پر جو تحصیل بٹالہ کے پاس ہے جا ٹھہرا۔ اور مقدمہ ایک ہندو منصف کے پاس تھا جس کا اب نام یاد نہیں رہا مگر ایک پاؤں سے وہ لنگڑا بھی تھا اس وقت سلطان احمد کا وکیل میرے پاس آیا کہ اب وقت پیشی مقدمہ ہے آپ کیا اظہار دیں گے۔ میں نے کہا کہ وہ اظہار دوں گا جو واقعی امر اور سچ ہے۔ تب اس نے کہا کہ پھر آپ کے کچہری جانے کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں۔‘‘ مقدمہ لڑنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں پھر۔ تو آپ سچ بولیں گے تو یہ مقدمہ ختم ہو جائے گا۔ کہتے ہیں میں واپس جاتا ہوں ’’تا مقدمہ سے دستبردار ہو جاؤں۔ سو
وہ مقدمہ میں نے اپنے ہاتھوں سے محض رعایتِ صدق کی وجہ سے آپ خراب کیا اور راست گوئی کو ابتغاءًلمرضات اللّٰہ مقدم رکھ کر مالی نقصان کو ہیچ سمجھا۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی رضا کو چاہا میں نے۔
’’یہ آخری دو نمونے بھی بے ثبوت نہیں۔ پہلے واقعہ کا گواہ شیخ علی احمد وکیل گورداسپور اور سردار محمد حیات خان صاحب سی ایس آئی ہیں اور نیز مثل مقدمہ دفتر گورداسپورہ میں موجودہوگی۔ اور دوسرے واقعہ کا گواہ بابو فتح الدین اور خود وکیل جس کا اس وقت مجھ کو نام یاد نہیں اور نیز وہ منصف جس کا ذکر کر چکا ہوں جو اب شاید لدھیانہ میں بدل گیا ہے۔ غالباً اس مقدمہ کو سات برس کے قریب گذرا ہوگا۔ ہاں یاد آیا اس مقدمہ کا ایک گواہ نبی بخش پٹواری بٹالہ بھی ہے۔
اب اے حضرت شیخ صاحب۔‘‘ یعنی مولوی صاحب کو مخاطب کر کے آپؑ فرماتے ہیں کہ’’اگر آپ کے پاس بھی اس درجہ ابتلا کی کوئی نظیر ہو جس میں آپ کی جان اور آبرو اور مال راست گوئی کی حالت میں برباد ہوتا آپ کو دکھائی دیا ہو اور آپ نے سچ کو نہ چھوڑا ہو اور مال اور جان کی کچھ پرواہ نہ کی ہو تو للہ وہ واقعہ اپنا معہ اس کے کامل ثبوت کے پیش کیجئے ورنہ میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اس زمانہ کے اکثر مُلّا اور مولویوں کی باتیں ہی باتیں ہیں۔ ورنہ ایک پیسہ پر ایمان بیچنے کو طیار ہیں کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے مولویوں کو بدترین خلائق بیان فرمایا ہے اورآپ کے مجدّد صاحب نواب صدیق حسن خان مرحوم حجج الکرامہ میں تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ آخری زمانہ یہی زمانہ ہے۔ سو ایسے مولویوں کا زہد و تقویٰ بغیر ثبوت قبول کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ سو آپ نظیر پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو ثابت ہوگا کہ آپ کے پاس صرف راست گوئی کا دعویٰ ہے مگر کوئی دعویٰ بے امتحان قبول کے لائق نہیں۔ اندرونی حال آپ کا خدا تعالیٰ کو معلوم ہوگا کہ آپ کبھی کذب اور افترا کی نجاست سے ملوث ہوئے یا نہیں۔ ‘‘یہ تو میں نہیں جانتا۔ اللہ کو معلوم ہو گا۔ غیب کا علم تو وہی جانتا ہے۔’’ یا ان کو معلوم ہوگا جو آپ کے حالات سے واقف ہوں گے۔
جو شخص ابتلا کے وقت صادق نکلتا ہے اور سچ کو نہیں چھوڑتا۔ اس کے صدق پر مہر لگ جاتی ہے
اگر یہ مہر آپ کے پاس ہے تو پیش کریں ورنہ خدا تعالیٰ سے ڈریں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کی پردہ دری کرے۔‘‘
( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد5 صفحہ296تا301)
جو مقدمہ کا جو ذکر ہوا تھا
مرزا سلطان احمد صاحب نے مسماری مکان کا جو دعویٰ کیا تھا اس کی تفصیل میں بھی لکھا ہے
کہ ایک ہندو ڈپٹی شنکر داس ریاست جموں میں سرکاری عہدے پر فائز رہا تھا۔ قادیان میں اس نے مسجد اقصیٰ کی شرقی جانب ایک افتادہ زمین پر قبضہ کیا اور مکان بنا لیا جہاں بعد میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر بنے۔ مرزا سلطان احمد صاحب نے دعویٰ کیا تھا اور مسماری مکان کا دعویٰ تھا مگر ترتیب مقدمہ میں ایک امر خلاف واقعہ تھا جس کے ثبوت میں وہ مقدمہ ڈسمس (dismiss)ہوتا تھا اور نہ صرف مرزا سلطان احمد صاحب کو بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی نقصان پہنچتا تھا کیونکہ حقوق مالکانہ اس زمین کے جاتے تھے۔ فریق مخالف یعنی شنکر داس کی مملوکہ زمین نہ تھی لیکن قبضہ بہرحال اس کا تھا۔ مالک تو وہ نہیں تھا لیکن اس نے زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور قانونی یا مخالفانہ یہ لوگ اسی کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اور انہوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کو شہادت کے لیے طلب کروایا کیونکہ باوجود سخت مخالف ہونے کے وہ جانتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب جھوٹ نہیں بولیں گے اور وہ عدالت میں بیان دے دیں گے کہ قبضہ فریق مخالف کا ہی ہے اور عرصہ ہوا قبضہ ہوئے ہوئے۔ اور یہی ہوا کہ
جب صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو معلوم ہوا کہ مخالف فریق نے حضرت اقدس علیہ السلام کی گواہی طلب کروائی ہے تو مرزا سلطان احمد صاحب بھی جانتے تھے کہ حضور ؑکبھی جھوٹ نہیں بولیں گے اس لیے انہوں نے مقدمہ ہی واپس لے لیا۔
( ماخوذ ازحیات احمدجلد 2حصہ اول صفحہ102-103 وجلد3صفحہ91،اصحاب احمد جلد6 صفحہ42 حاشیہ)
بہرحال
اس بلند و بالا حویلی نما مکان کی بھی تاریخ یہ ہے
کہ یہ ڈپٹی شنکر داس کی حویلی کہلاتی تھی جو انتہائی متعصّب اور مخالف تھا جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ اس کے اس بلند و بالا مکان سے حضرت اقدسؑ کے گھروں کی بے پردگی بھی ہوتی تھی۔ یہ بھی ایک وجہ تھی اس کا مقدمہ لڑنے کی۔ اور اس کی مخالفت کا یہ عالم تھا کہ نمازی جب نماز کے لیے مسجد اقصیٰ کوجاتے تو یہ ڈپٹی اپنے گھر کے دروازے کے سامنے بیٹھ کر ان آنے جانے والوں کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ طرح طرح سے دکھ اور ایذا دہی کے طریق اختیار کرتا تھا۔ اس کے دکھوں کے ستائے ہوئے جب اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچتے تو آپؑ بڑے عزم اور جلال کے ساتھ ان کو حوصلہ دیتے اور فرماتے کہ
صبر کرو۔ شاہی کیمپ کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ اس نے اپنا ایک اڈہ لگایا ہوا ہے لیکن ہمارا کیمپ بھی شاہی کیمپ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کیمپ ہے۔ اس کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرے گا۔اور پھر دیکھنے والوں نے دیکھا بھی اور سننے والوں نے سنا بھی کہ اس کا (ڈپٹی صاحب کا) ہنستا بستا گھر اجڑنے لگا۔
آخر کار وہ بھی وہاں سے بیمار ہو کے یا کسی اَور طرح چلا گیا اور یہ مکان حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے خرید لیا اور 1932ء میں اس مکان میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کا افتتاح بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اور بہرحال
خدا کی یہ قدرت ہے کہ وہ شخص جو کل بڑی رعونت سے اپنے گھر کے سامنے سے مسجد کی طرف جانے والے کسی نمازی کو گزرنے بھی نہیں دیتا تھا آج خدا کی تقدیر نے اس کے نام و نشان کو مٹاتے ہوئے اس سارے گھر کو، اس علاقے کو مسجد بنا دیا۔ مسجد اقصیٰ کا وہ حصہ ہے۔
(تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 215و جلد5صفحہ298-299، حیات احمد جلد 5 حصہ دوم صفحہ 230-الفضل قادیان نمبر130جلد19مؤرخہ 3 مئی 1932ء صفحہ 5 کالم 1-2، مجدد اعظم حصہ اول صفحہ 38 حاشیہ)
حضرت اقدس علیہ السلام کی راستبازی اور سچائی پر مبنی اس گواہی کی کیسی عظیم الشان برکت ہے کہ سچ کو نہیں چھوڑا اور اس کے مقابل پر نہ خاندانی عزّت اور وجاہت کی پرواہ کی اور نہ ہی زمین اور جائیدادکے تلف ہونے کی پرواہ کی اور گویا اپنے ہاتھوں سے یہ سب کچھ قربان کر دیا لیکن خدا نے اس قربانی کو اس طرح قبول کیا اور عظمت و برکت دی کہ آج منارةالمسیح کے عین نیچے وہ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت گاہ کی صورت میں آباد ہے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان وکیل صاحب کے بارے میں جو اس مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے بیان کرتے ہیں کہ ’’اس زمانہ میں اکثر مقدمات میں آپ کی طرف سے شیخ علی احمد صاحب وکیل گورداسپوری پیروی کیا کرتے تھے اور آپ کی پاکیزہ زندگی کو دیکھ کر دعویٰ کے بعد بھی گو وہ احمدی نہ تھے آپ پر بہت حسن ِظن رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا کہ اَور کوئی گواہ تو ہے نہیں پھر وہ خط اسی مضمون کے متعلق ہے‘‘ جو پہلا ڈاک والا مقدمہ تھا’’ اور اسے اشتہار کا حصہ ہی کہا جا سکتا ہے۔‘‘ ڈاک والے مقدمہ کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اشتہار کا حصہ ہی کہا جا سکتا ہے ’’اس لیے آپ بغیر جھوٹ کا ارتکاب کیے کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تو اشتہار ہی بھیجا تھا خط کوئی نہیں بھیجا۔ مگر آپ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اورفرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ سچائی کی جو باریکی ہے اس کے خلاف ہےکہ میں نے اس میں خط ڈالا تھا جو گو مضمون کا حصہ تھا لیکن وہ خط بھی تھا۔ اس لیے میں تو کہوں گا کہ خط ڈالا تھا۔ ’’جو بات میں نے کی ہے اس کا انکار کس طرح کر سکتا ہوں۔ چنانچہ جب آپ پیش ہوئے اور عدالت نے دریافت کیا کہ آپ نے کوئی خط مضمون میں ڈالا تھا تو آپ نے فرمایا ہاں۔ اس راستبازی کا دوسروں پر تو اثر ہونا تھا ہی، خود عدالت پر ہی اس قدر اثر ہوا کہ اس نے آپ کو بری کر دیا اور کہا کہ ایک اصطلاحی جرم کے لیے ایسے راستباز آدمی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ ‘‘
(خطبات محمود جلد17صفحہ543)
ڈاک والے اسی مقدمہ کے وکیل کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓلکھتے ہیں۔ مجھے شیخ علی احمد صاحب وکیل نے خود بتایا۔ اب یہ وکیل کا اپنا بیان ہے جوشیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓکو انہوں نے دیا اور اس مقدمہ کے واقعات سناتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ آخری دفعہ مقام دینہ نگر میں پیش ہوا تھا اور میں نے ہر چند چاہا کہ مرزا صاحب انکار کر دیں کہ یہ خط اس میں نہیں رکھا تھا۔ میرے نزدیک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ خط اسی پیکٹ میں سے برآمد ہوا اور اس کے متعلق شہادت قوی نہ تھی بوجہ اختلاف مذہب خود لالہ رلیا رام کی شہادت قابل پذیرائی نہ تھی۔ میں جس قدر اصرار کرتا تھا اسی قدر مرزا صاحب انکار کرتے تھے۔ میں نے ان کو ہر چند ڈرایاکہ نتیجہ اچھا نہیں ہو گا اور خواہ نخواہ ایک معزز خاندان پر فوجداری مقدمہ میںسزا پانے کا آپ پر داغ لگ جائے گا۔اب تو آپ کے خلاف جا رہا ہے سب کچھ۔ مگر وکیل صاحب کہتے ہیں حضرت مسیح موعودؑ نے میری بات نہیں مانی اورمیں نے یہ سمجھ کر کہ میری پیروی میں مقدمہ ہارا گیا تو بڑی بدنامی خاندان کی طرف سے ہو گی اس لیے حضرت مرزا صاحب کے انکار نہ کرنے کے اصرار سے فائدہ اٹھا کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس کا انکار نہیں کروں گا تو وکیل صاحب کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس سے فائدہ اٹھا کر کہا کہ اگر آپ میری بات نہیں مانتے تو میں پیروی نہیں کرتا۔ پھر میں آپ کی وکالت نہیں کر سکتا۔ میرا خیال یہ تھا کہ مقدمہ میں سزا ہو گی اور الزام ان پر رہ جائے گا کہ وکیل کے مشورے کے خلاف عمل کرنے سے ایسا ہوا۔ یہ وکیل صاحب کو بھی یقین تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سزا ہو جانی ہے اور اگر سزا ہو جائے گی تو پھر لوگ کہیں گے کہ یہ وکیل کیسا تھا جو صحیح طرح کیس پیش نہیں کر سکا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے پھر میں پیش ہی نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں میں اپنی بدنامی کے ڈر سے اس طرح ناراضگی کا اظہار کر کے پیش نہ ہوا اور میری غیرحاضری میں مقدمہ پیش ہو گیا۔ لیکن وکیل صاحب خود کہتے ہیںکہ میری حیرت کی حد نہیں رہی۔ جب مقدمہ خارج ہو گیا۔ کہتے ہیں پھر مجھے افسوس ہوا کہ میں مفت میں کامیابی کا حقدار ہوتا مگر اب وقت گزر گیا تھا۔
شیخ علی احمد صاحب اس واقعہ کو بیان کرتے وقت حضرت صاحب کی مستقل مزاجی اور راستبازی کی بےحد تعریف کرتے تھے۔ ان کے تعلقات اس خاندان سے مرتے دم تک رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر ہر مقدمے میں ان سے مشورے لینا پسند فرمایا کرتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے۔
(ماخوذ ازحیات احمدجلد 1 حصہ سوم صفحہ 363-364)
انہی مختلف مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شیخ نور احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ
’’ میرے والد صاحب اور تایا صاحب ذکر کیا کرتے تھے کہ ہمارا گاؤں مرزا صاحب کی تعلقہ داری میں تھا۔ کچھ عرصہ حضور اپنے والد صاحب کے مختار رہے اور ہمارے ساتھ بھی کئی پیشیوں میں عدالت میں جانا ہوا۔
آپؑ ہمیشہ راستی کا پہلو اختیار کرتے خواہ مقدمہ کو کس قدر نقصان پہنچ جاتا۔ غرض راستی کو بالکل ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ‘‘
جھوٹ کو قریب بھی نہیں آنے دیتے تھے۔
(سیرت احمد از قدرت اللہ سنوری صاحبؓ صفحہ 63)
حضرت میاں اللہ یار صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جب حضرت اقدسؑ کی عمر پچیس تیس برس کی تھی۔ آپؑ کے والد بزرگوار کا اپنے موروثیوں سے درخت کاٹنے پر ایک تنازع ہو گیا۔ آپؑ کے والد بزرگوار کا نظریہ یہ تھا کہ زمین کے مالک ہونے کی حیثیت سے درخت بھی ہماری ملکیت ہیں۔ اس لیے انہوں نے موروثیوں پر دعویٰ کر دیا اور حضورؑ کومقدمہ کی پیروی کے لیے گورداسپور بھیجا۔ آپؑ کے ہمراہ دو گواہ بھی تھے۔ حضرت اقدسؑ جب نہر سے گزر کر پتھنا نوالہ گاؤں پہنچے تو راستے میں ذرا سستانے کے لیے بیٹھ گئے اور ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ابا جان یونہی زبردستی کرتے ہیں۔ درخت بھی تو کھیتی کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ غریب لوگ ہیں۔ اگر کاٹ لیا تو کیا حرج ہے۔ بہرحال میں تو عدالت میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مطلقاً یہ ہمارے ہی ہیں۔ ہاں ہمارا حصہ ہو سکتا ہے۔ موروثیوں کو بھی آپ پر بیحد اعتماد تھا۔ چنانچہ جب مجسٹریٹ نے موروثیوں سے اصل معاملہ پوچھا جو ان کے کام کرنے والے جدی پشتی ہاری چلے آ رہے تھے تو انہوں نے بلا تامّل جواب دیا کہ خود مرزا صاحب سے دریافت کر لیں۔ یعنی جو زمین لینے والے ہاری یا مزارعے تھے انہوں نے کہا کہ ان سے، مرزا صاحب سے خود ہی پوچھ لیں ہماری گواہی کیا لینی ہے ہمیں پتہ ہے کہ یہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ چنانچہ مجسٹریٹ نے حضورؑ سے پوچھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ میرے نزدیک درخت کھیتی کی طرح ہیں۔ جس طرح کھیتی میں ہمارا حصہ ہے ویسا ہی درخت میں بھی ہے۔ چنانچہ آپؑ کے اس بیان پر مجسٹریٹ نے موروثیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس کے بعد جب حضورؑ واپس قادیان تشریف لائے تو حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے آپؑ کے ساتھ جانے والوں میں سے ایک ساتھی سے پوچھا کہ کیا فیصلہ ہوا ہے؟ اس نے کہا میں تو باہر تھا مرزا صاحب اندر گئے تھے ان سے معلوم ہو گا۔ اس پر حضرت صاحب ؑکو بلایا گیا۔ حضورؑ نے سارا واقعہ بلا کم و کاست بیان کر دیاجسے سن کر آپؑ کے والد بزرگوار سخت برہم ہوئے۔ بڑے ناراض ہوئے آپؑ پر۔
( ماخوذ ازتاریخ احمدیت جلد1 صفحہ72-73و78)
بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کے حوالے سے یہ چند واقعات میں نے پیش کیے ہیں۔ ایک ہی واقعہ بڑا لمبا چلا ہے جس میں ایک غلط قسم کے مولوی کے آپؑ پر الزام کی آپؑ نے تفصیل بیان کی ہے۔ بہرحال
آپؑ نے ہمیشہ سچائی کو مقدم رکھا ہے اور جھوٹ کے قریب بھی نہیں گئے اور اس کے لیے آپؑ نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو بھی تلقین فرمائی کہ سچائی پر ہمیشہ قائم رہو بلکہ شرائط بیعت میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ ہم جھوٹ سے نفرت کریں گے اور سچائی پر قائم رہیں گے۔
(ماخوذ ازمجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 206۔ ایڈیشن 2019ء)
پس
ہمارا یہ فرض ہے کہ سچائی کے اس وصف کو اپنا خاص نشان بنا لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍اپریل 2026ء



