متفرق

اے چھاؤں چھاؤں شخص! تری عمر ہو دراز

ڈائری مکرم عابد خان صاحب سے ایک انتخاب

(خلافت کے زیرِ سایہ ۔برکات و راہنمائی کے لمحات ۲۰۲۴ءتا۲۰۲۵ء۔ قسط دوم)

ایک منسوخ شدہ ملاقات اور اتمامِ حُجّت

اپریل ۲۰۲۵ء کے آغاز میں پوپ فرانسس ایک طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔ ان کے دور پاپائی میں جماعت نے خلافت احمدیہ کی راہنمائی میں ویٹیکن کے ساتھ تعلقات کواُستوار کیا۔

حضور ِانور نے بنفسِ نفیس متعدد مواقع پر پوپ کو خطوط تحریر فرمائےاور جماعت کے نمائندوں کو ان سے ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا۔ مزید برآں حضورِ انور نے پوپ فرانسس کے بعض بیانات کو سراہا بھی۔ مثال کے طور پر۲۰۱۵ء میں پوپ فرانسس نے دوسرے مذاہب کی توہین، بلاوجہ اشتعال انگیزی، یا لوگوں کے عقائد کا مذاق اُڑانے کے خلاف آواز اُٹھائی تھی۔ انہوں نے معروف مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ان کی والدہ کو گالی دے، تو وہ“چہرے پر ایک گھونسا کھانے کی توقع رکھے ہے”۔ اس بات کا حضورِانور نے بھی تذکرہ فرمایا اور مذاہب اور عقائد کا احترام کرنے کے اس بنیادی جذبے کو سراہا۔

چونکہ پوپ کی جانب سے اسلام کے بارے میں ظاہر کیے گئے جذبات اور رویّہ مجموعی طور پر مثبت تھے اس لیے فروری ۲۰۲۴ء میں ارجنٹینا میں ہماری جماعت کے مبلغ مروان گل صاحب نے حضورِ انورکی خدمتِ اقدس میں درخواست پیش کی کہ آیا حضورِ انور اور پوپ کے درمیان ملاقات کا انتظام کیا جاسکتا ہے؟ اس پر حضورِ انور نے مروان صاحب کو ایسی ملاقات کے امکان اور عملی صورتِ حال کا جائزہ لینے کی اجازت مرحمت فرمائی اور انہیں ہدایت فرمائی کہ اس معاملے میں وہ مجھ سے رابطہ رکھیں۔

پوپ کے دفتر سے رجوع کرنے کے فوراً بعد ہی مروان صاحب کو مثبت جواب موصول ہوا، اور پوپ نے باضابطہ طور پر حضورِ انور کو ویٹیکن میں مورخہ ۷؍نومبر ۲۰۲۴ء کو ایک نجی ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ اس دعوت کے موصول ہونے پر حضورِ انور نے عارضی طور پر اسے قبول فرمایا اور جماعت اٹلی کو اجازت عطا فرمائی کہ وہ نومبر میں اٹلی کے ایک ہفتہ پر مشتمل مجوّزہ دَورے کے لیے پروگرام تشکیل دیں۔ مزید برآں نومبر میں ہونے والی ملاقات سے قبل حضورِانور نے از راہ ِشفقت مجھے جماعت اٹلی کے ایک وفد کے ساتھ جون ۲۰۲۴ء میں پوپ فرانسس سے ملاقات کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ لہٰذا مَیں مورخہ ۲۶؍ جون ۲۰۲۴ء کو جماعت اٹلی کے نیشنل صدر، مبلغ سلسلہ اور صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے ہمراہ پوپ سے ملاقات کے لیے ویٹیکن روانہ ہوا۔

جہاں ویٹیکن کے اندر کشادہ اور شاندار ہالز اور عمارتیں تھیں وہاں پوپ کا دفتر زیادہ تر ذاتی نوعیت کا معلوم ہوتا تھا۔ مجھے بعد میں بتایا گیا کہ پوپ کے پاس مہمانوں کی ملاقات کے لیے ایک اَور بڑا دفتر بھی ہےلیکن عام طور پر وہ اس چھوٹے کمرے میں ہی کام کرنا اور زائرین سے ملاقات کرنا پسند کرتےہیں۔

یہ ایک بہت دلچسپ تجربہ تھا۔ مجھے یہ بات حیران کن لگی کہ کس طرح پوپ کی ملاقاتیں منظّم کرنے کا طریق حضرت خلیفۃالمسیح ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی ملاقاتوں کے انداز سے کچھ عملی مشابہت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں معلوم ہوا کہ پوپ اپنی دفتری ملاقاتیں صبح کے وقت کرتے ہیں۔ چنانچہ صبح آٹھ بجے پہنچنے پر ہمیں ایک انتظار گاہ میں لے جایا گیا جہاں ایک کارڈینل اور ایک یورپی سفیر پہلے ہی سےموجود تھے، جو پوپ سے ملاقات کے منتظر تھے۔

سب سے پہلے کارڈینل اور اس کے بعد سفیر کو ملاقات کے لیے بلایا گیا، پھر پوپ کے پرائیویٹ سیکرٹری نے ہمیں پوپ کے دفتر میں مدعو کیا۔پوپ کے عملے سے یہ تأثر مل رہا تھا کہ پوپ ہم سے صرف ایک یا دو منٹ کے لیے مختصر ملاقات کریں گے۔ تاہم دفتر میں داخل ہونے پر ہمیں پوپ فرانسس کافی گرمجوش اور نسبتاً غیررسمی نظر آئے۔وہ جماعت کو اچھی طرح جانتے تھے اور ہمارے نمائندگان کے ساتھ انہیں اپنی پچھلی ملاقاتیں یاد تھیں۔

جب انہیں جماعت کی بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کو فروغ دینے کی کوششوں کے بارے میں معلوم ہواتو پوپ واقعی خوش دکھائی دیےاور جب سُنا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دنیا بھر میں اسلام کی حقیقی تعلیماتِ امن و انصاف پہنچانے میں کوشاں تو ہیں انہوں نے قدر دانی کا اظہار کیا۔ پھرجب ہماری پندرہ منٹ پر محیط ملاقات مکمل ہوئی تو تحائف کا تبادلہ کیا گیا اور تصاویر بنائی گئیں۔ پوپ کے دوستانہ رویّے کا مشاہدہ کرنے کے بعد نیز یہ دیکھ کر کہ انہوں نے ہمیں مختص وقت سے زیادہ وقت دیا تھا ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور عملہ ہم سے خاصی گرمجوشی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

انگلینڈ واپس پہنچنے پر مَیں نے حضور انور کو اس دَورے اور ملاقات پر مبنی مختصراحوال بیان کیے۔ مَیں نے انہیں ملاقات کی ایک تصویر بھی دکھائی جس پر حضور ِانور سرسری سی نظر ڈال کر پھر اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔

مَیں حضورِ انور کی پوپ سے ملاقات کے امکان کے حوالے سے پُراُمید تھا لیکن اس کے باوجود کہ حضورِ انور نے دعوت قبول فرما لی تھی، مَیں جانتا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہےکہ ملاقات یقینی طور پر ہو گی۔

مَیں نے طویل عرصے سے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ کسی بھی بڑے دَورے یا ملاقات سے قبل حضورِ انور دعا اور غور و فکر فرماتے ہیں اور اس کے بعد ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ فرماتے ہیں کہ آگے بڑھنا ہے یا نہیں۔ اسی طرح بعض مواقع پر ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی طے شدہ غیر ملکی دَورے یا کسی عالمی راہنما سے ملاقات، دعا اور غور و فکر کے بعد حضورِ انور کی جانب سے منسوخ کر دی گئی۔

ویٹیکن میں ہونے والی مجوّزہ ملاقات کئی مہینوں تک زیرِغور رہی، یہاں تک کہ اکتوبر۲۰۲۴ء کے اوائل میں ایک دوپہر میری ملاقات کے دوران حضور انور نے فرمایا کہ مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ ویٹیکن جانے سے معذرت کر دوں۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ ابھی یہ مناسب وقت ہے اور اس دَور میں مَیں نے موجودہ پوپ کو اور پچھلے پوپ کو کئی دفعہ خط لکھے ہیں جن میں اسلام کی حقیقی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو پیش کیا ہے۔ اِتمامِ حُجّت ہو چکی ہے۔

حضورِ انور نے مجھے ہدایت فرمائی کہ مَیں مروان گل صاحب کو اطلاع دوں کہ وہ ویٹیکن سے معذرت کر لیں۔

الغرض جہاں اکثر لوگ دنیا کی نظر میں اپنا مقام بلند کرنے یا اپنی ذاتی اَنا کی تسکین کے لیے دنیا کی بعض طاقتور یا بااثر افراد سے ملاقات کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے وہاں حضورِانور کے دل میں ایسی کوئی خواہش یا مقصد کارفرما نہیں ہوتا۔بلکہ حضورِ انور کی صرف یہی خواہش ہے کہ لوگوں کو خداتعالیٰ کی طرف راہنمائی کی جائے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو آگے بڑھایا جائے اور پوری دنیا میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کا دفاع اور فروغ ممکن بنایا جا سکے۔

حضورانوراور پوپ فرانسس کی ملاقات مقدّر نہیں تھی تاہم پوپ کی وفات پر حضورِ انور کی جانب سے دیے گئے تعزیتی بیان میں پوپ کے لیے آپ کا احترام واضح طور پر عیّاں تھا۔ حضورانور نے فرمایا کہ مجھے عزت مآب جناب پوپ فرانسس کے وصال کی خبر سن کر گہرا دلی صدمہ پہنچا ہے۔ آپ عمربھر دکھی اور نادار انسانیت کی خدمت میں کوشاں رہے۔ آپ نے جنگ، ظلم اور ناانصافی کے شکار لوگوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار فرمایا ۔ آپ شفقت، انکساری اور ایمان کی ایک ایسی مثال تھے جنہوں نے مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگوں کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button