ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن دنیا چھوڑیں(خلاصہ خطاب حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع نیشنل پیس سمپوزیم جماعت احمدیہ برطانیہ ۲۰۲۶ء)
٭…اسلام کی بنیادی تعلیم تو یہ ہے کہ انسان دوسرے کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ایسا سنہرا اصول ہے کہ اگر دنیا اس اصول پر کاربند ہوجائے تو دنیا سچ مچ امن کا گہوارہ بن سکتی ہے
٭…ہم آہنگی اور انصاف کے لیے کوشش کیے جانا جماعت احمدیہ کا اہم ترین مقصد ہے جس کے لیے ہم مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اسی اہم مقصد کے حصول کے لیے ہم یہ کاوش بھی کرتے ہیں تاکہ تھوڑے ہی سہی، چند لوگوں تک تو ہمارا یہ حق اورانصاف کا پیغام پہنچے۔ یہی مقصد ہے جس کے لیے مَیں نے دنیا کے بڑے راہ نماؤں کو خطوط لکھے
٭…اسلام نےصرف حلیفوں کے حقوق قائم نہیں کیے بلکہ حریفوں کےبھی حقوق قائم فرمائے ہیں۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نصیحت کی ہے کہ اگر تمہیں حکمت اور دانائی کی بات کسی اور قوم سے ملے تو اسے لے لو کیونکہ وہ تمہاری ہی گُم شدہ میراث ہے
٭…آج ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن دنیا چھوڑیں اور اس کے لیے اپنی اپنی کوشش کریں۔ورنہ بعد میں آنے والی نسلیں ہمیں قصوروار قرار دیں گی اور کہیں گی کہ تم نے کیسی تباہ شدہ دنیا ہمارے لیے چھوڑی ہے
(ایوانِ مسرور اسلام آباد ٹلفورڈ، ۱۶؍مئی ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) اللہ تعالیٰ کے فضل سے مورخہ ۱۶؍مئی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ جماعت احمدیہ برطانیہ کے زیر اہتمام انیسویں نیشنل پیس سمپوزیم کا انعقاد ہوا جس میں ۱۵؍ ممالک سے ۶۰۰؍مہمانان کرام شامل ہوئے۔ امسال دو سال کے بعد یہ تقریب پہلی مرتبہ اسلام آباد ٹلفورڈ میں منعقد ہوئی۔ امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بنفس نفیس اس تقریب کو اپنی تشریف آوری سے رونق بخشی اور شرکاء سے انگریزی زبان میں بصیرت افروز خطاب فرمایا۔

پانچ بج کر ۵۲؍ منٹ پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایوانِ مسرور میں تشریف لائے جہاں پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پروگرام کے ماڈریٹر کے فرائض فرید احمد صاحب سیکرٹری امور خارجیہ جماعت احمدیہ برطانیہ نے سر انجام دیے۔ مین ٹیبل پر حضورِانور ایدہ اللہ کے دائیں جانب مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ جبکہ بائیں جانبLiberal Democrats پارٹی کے سربراہ Sir Edward Jonathan Davey تشریف رکھتے تھے۔
فرید احمد صاحب سیکرٹری امور خارجیہ جماعت احمدیہ برطانیہ نے کچھ انتظامی اعلانات کیے اورمہمانان کو خوش آمدید کہا جس کے بعد باقاعدہ کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ خان فرید احمد صاحب نے سورۃ النساء کی آیات ۱۳۵ اور ۱۳۶ کی تلاوت کی جبکہ متلو آیات کا انگریزی ترجمہ مسرور عودہ صاحب نے پیش کیا۔
بعد ازاں مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے استقبالیہ تقریر کی۔
سٹیج سیکرٹری صاحب نے مین ٹیبل پر موجود معزز مہمانان کے نام پڑھ کر سنائے۔ نیز Greg Stafford ممبر آف پارلیمنٹ برائے بورڈن و فارنہم، برطانوی سیاسی پارٹی Liberal Democrats کے راہنما Sir Ed Davey اور Seema Malhotra ممبر آف پارلیمنٹ برائے Feltham اور Heston نے باری باری اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
احمدیہ مسلم انعام برائے فروغِ امن ۲۰۲۵ء
محترم امیر صاحب یوکے نے ۲۰۲۵ء کے احمدیہ مسلم انعام برائے فروغِ امن کے حق دار Gregoire Ahongbonon آف بینن کا مختصر تعارف پیش کیا۔

۲۰۲۵ء کے لیےبینن افریقہ کے Gregoire Ahongbonon احمدیہ امن انعام کے حقدار قرار پائے۔ انہیں یہ انعام مغربی افریقہ میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی کاوشوں کے اعتراف میں دیا گیا۔ موصوف کی کاوشوں کے حوالے سے ایک مختصر ویڈیو بھی دکھائی گئی جس کے بعد انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دستِ مبارک سے انعام اور دس ہزار پاؤنڈ کا انعامی چیک وصول کیا۔ بعد ازاں موصوف منبر پر تشریف لائے اور فرنچ زبان میں مخاطب ہوئے جس کا رواں انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔ موصوف نےانعام وصول کرنے پر انتہائی شکرگزاری کا اظہار کیا اور مغربی افریقہ میں ذہنی مریضوں کی مشکلات کا تذکرہ کیا۔ آخر پر موصوف نے حضورِ انور اور جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا۔
چھ بج کر۳۲؍منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ منبر پر تشریف لائے اور انگریزی زبان میں بصیرت افروز خطاب ارشاد فرمایا۔
خلاصہ خطاب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تعوّذ اور تسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ
معزز مہمانان!السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
مَیں دل کی گہرائیوں سے آپ سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ آج ہمارے ساتھ اس تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ جماعتِ احمدیہ گذشتہ دو دہائیوں سے پِیس سمپوزیم کا انعقاد کر رہی ہے اور اب دنیا کے بگڑتے ہوئے حالات کے تناظر میں لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ان سب کوششوں کا آخر عملی طور پر کیا فائدہ ہوا؟ یہ سوال پوچھا جانا بےشک درست ہے مگر ہمیں تو اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ ہم مسلسل بغیر تھکاوٹ اور اکتاہٹ کے کوشش کرتے چلے جائیں۔ پس
دنیا میں مثبت تبدیلی اور انسانیت کی بقا کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بڑھ کر اور کیابہتر کاوش ہوسکتی ہے۔
اگر ہم جنگ ، فساد، بدامنی ،نفرت اور ناانصافیوں کا تدارک نہ کریں گے تو ہم آہستہ آہستہ تہذیب و تمدن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ و برباد ہوتا دیکھیں گے۔ اس تباہی کے اثرات اتنے تباہ کُن ہوں گے کہ آنے والی کئی نسلیں اس سے متاثر ہوں گی۔ دوسری عالمی جنگ کی تباہی کی تفاصیل انتہائی دل دہلادینے والی ہیں مگر یاد رہے کہ اُس وقت صرف امریکہ وہ واحد ملک تھا جس کے پاس جوہری ہتھیار تھے مگر آج کئی ایسے ممالک ہیں جو جوہری طاقت کے حامل ہیں۔ نیز آج کے جوہری ہتھیار اُس دور کے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کُن ہیں۔
آج مَیں بعض محققین اور مبصرین کے تجزیے آپ کے سامنے پیش کروں گا جن سے اندازہ ہوگا کہ سامنے نظر آنے والی تباہی کتنی خطرناک اور ہولناک ہوسکتی ہے۔ ان تباہ کُن ہتھیاروں کا استعمال درحقیقت ہمارے اپنے ہی بچوں اور آنے والی نسلوں سے جنگ کے مترادف ہے۔
آئر لینڈ کے صدر مائیکل ہیگس نے اس بات کی تنبیہ کی تھی کہ ہم ایسے دَور میں داخل ہوچکے ہیں کہ جو جنگ کی دھمکیوں کا دَور ہے، جس دَور میں سفارتی کوششوں اور افہام و تفہیم کی بجائے انتشار، کشیدگی اور خون ریزی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے برملا کہا ہے کہ آج ہر شخص اپنی گفتگو میں ہتھیاروں اور تباہ کُن جنگوں کا بلا خوف وخطر ذکر کرتا نظر آتا ہے جس کی وجہ سے بدامنی اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔
اسلام کی بنیادی تعلیم تو یہ ہے کہ انسان دوسرے کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ایسا سنہرا اصول ہے کہ اگر دنیا اس اصول پر کاربند ہوجائے تو دنیا سچ مچ امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
جرمن چانسلر نے بھی ایران جنگ کے خلاف بیان دیا ہے، اور اس حوالے سے مَیں جس طرح جنگ مخالف ہر شخص کو سراہتا ہوں، یہاں جرمن چانسلر کی بھی تعریف کرتا ہوں مگر بیانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پالیسی اُمور میں اگر عملی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
پوپ لیو نے ترکی میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کے متعلق بات کی اور کہا کہ تیسری عالمی جنگ اب آہستہ آہستہ لڑی جارہی ہے۔
مَیں کہتا ہوں کہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ تیسری عالمی جنگ تو لڑی جارہی ہےمگر لوگ اس سے انکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جنگ کی ہولناکیوں سے بزعمِ خود بچ سکیں۔
پھر سپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ آپ ایک غیر قانونی بات کا تدارک ایک اَور غیرقانونی بات سے نہیں کر سکتے۔ چھوٹی چھوٹی جنگوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں بڑی بڑی تباہ کُن جنگیں شروع ہوجایا کرتی ہیں۔ ایسے میں بہت احتیاط اور دانش مندی کے مظاہرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایک فریق کی طرف سے نا انصافی ہو تو یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرا فریق بھی ناانصافی کی راہ لے۔ آج بڑی طاقتیں انصاف اور عالمی قانون کو پسِ پُشت ڈال چکی ہیں۔ ان کےنزدیک اُن کے مفادات ہی سب کچھ ہیں۔
حکومتوں کا کام تو یہ ہے کہ وہ عوام کی بہبود کے لیے اقدامات کریں۔ ایسے فیصلے کریں جن کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیاں آسان ہوں مگر آج کل کے حکمران تو ہر وہ کام کرتے نظر آتے ہیں جس سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوں۔ یہ حکمران جنگوں کی آڑ لے کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس طرح دنیا کو ایک لامتناہی تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ایک نامور امریکی دانشور نے حال ہی میں کہا ہے کہ مغرب میں بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص ہر مسئلے کا حل فوجی طاقت کو سمجھ لیا گیا ہے۔ سفارت کاری کو فروغ دینے کی بجائے جنگ کو مسئلوں کا حل تصوّر کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ایران جنگ کا تعلق ہے تو یہ جنگ انتہائی تکلیف دہ حالات کا پیش خیمہ ہے۔ ناانصافی اور دوہرے معیار کا ہرایک کونقصان لازماً ہوگا۔
اسلام کہتا ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کی جائے۔ اسلام بدلے کی آگ کو بجھانے کی تعلیم دیتاہے۔ بدلے کو اگر روا رکھا گیا ہے تو وہ صرف اسی حد تک جتنا کہ ظلم کیا گیا ہو۔
دنیا میں رائج انصاف کے ادارے تو اب ناکام ہوچکے ہیں۔ لیگ آف نیشنز جس طرح ناکام ہوئی تھی اُسی طرح اقوامِ متحدہ بھی ایک ناکام ادارہ بن چکا ہے۔ پانچ ممالک کے لیے ویٹو کا حق رکھا جانا انصاف کا خون ہے۔
کینیڈ اکے وزیراعظم نے کہا ہے کہ آج طاقت ور کے لیے اَور قوانین ہیں اور کمزور کے لیے اَور قوانین ہیں۔
انسانی حقوق کا چارٹر بھی اب بس لفظی کارروائی رہ گیا ہے۔ اس کا کوئی احترام باقی نہیں۔
مغربی اقوام دوسرے چھوٹے ممالک پر استحصالی کارروائیاں کرتی ہیں اور اس کے لیے اب نیا جواز عورتوں کے حقوق کا تراشا گیا ہے کہ ہم نے عورتوں کو حقوق دلانے ہیں۔ جبکہ ان کا اصل چہرہ یہ ہے کہ ان ممالک کی جنگوں کے باعث ہزاروں عورتیں بےیار و مددگار کھلے آسمان کے نیچے، بےسر و سامانی کے عالَم میں موجود ہیں۔
یورپی پارلیمان کے ایک ہسپانوی رکن نے کہا ہے کہ شام، عراق، لبنان اور اب ایران، ان سب ممالک پر ہونے والی کارروائیوں کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ طاقتور ظالم اقوام اس قسم کے بہانے تراشتی ہیں تاکہ اپنی ظالمانہ جنگوں کا جواز پیدا کرسکیں۔
بطور مسلمان ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ اور تنظیمیں اسلام کا نام لے کر ظلم کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ پھر میڈیا ان کی کارروائیوں کو ہوا دے کر پیش کرتا ہے اور اس طرح اسلام کے خلاف غلط باتوں کو پھیلایا جاتا ہے۔ اسلام ہو یا کوئی اَور مذہب اُس کو بہانہ بنا کر یہ اظہار کرنا کہ ظلم اور بربریت کی وجہ وہ مذہب ہے یہ ظلم ہے۔
ہم آہنگی اور انصاف کے لیے کوشش کیے جانا جماعت احمدیہ کا اہم ترین مقصد ہے جس کے لیے ہم مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اسی اہم مقصد کے حصول کے لیے ہم یہ کاوش بھی کرتے ہیں تاکہ تھوڑے ہی سہی، چند لوگوں تک تو ہمارا یہ حق اورانصاف کا پیغام پہنچے۔ یہی مقصد ہے جس کے لیے مَیں نے دنیا کے بڑے راہ نماؤں کو خطوط لکھے۔
مَیں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بھی خط لکھا اور تورات کی تعلیمات انہیں پیش کیں۔ اسی طرح ایرانی صدر اور دیگر مسلمان سربراہان کو بھی خطوط لکھے۔ برطانوی وزیراعظم، امریکی صدر اور چینی صدر تک بھی یہ پیغام پہنچایا کہ وہ یہ غور کریں کہ کس طرح دن بدن دنیا تباہی کی طرف جارہی ہے۔ اب تو انسانیت کی بقا کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ مگر افسوس! یہ سب ان باتوں کی طرف دھیان نہیں دے رہے۔ دنیا کے حالات واضح بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ سننا نہیں چاہتے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی جنگیں اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

اسلام نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا تم انصاف سے دُور ہٹ جاؤ۔ قرآن کریم نے بڑی واضح تعلیم دی ہے کہ استقامت اختیار کرو اور انصاف قائم کرو۔ اور دوسروں کی دشمنی بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم نا انصافی سے کام لو۔ انصاف سے کام لینا تقویٰ کے قریب ہے۔
اسلام نے صرف حلیفوں کے حقوق قائم نہیں کیے بلکہ حریفوں کے بھی حقوق قائم فرمائے ہیں۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نصیحت کی ہے کہ اگر تمہیں حکمت اور دانائی کی بات کسی اور قوم سے ملے تو اسے لے لو کیونکہ وہ تمہاری ہی گُم شدہ میراث ہے۔
دنیا کی اکثریت آج بھی امن کی خواہاں ہے لیکن اس کے لیے ہر فردکو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ پوپ صاحب نے جیسے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ مختلف حصوں میں تقریباً شروع ہوچکی ہے۔ مَیں ڈرتا ہوں کہ اس عالمی جنگ میں جو تباہی ہوگی وہ گذشتہ عالمی جنگوں کے مقابلے میں انتہائی تباہ کُن ہوگی۔
آج ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن دنیا چھوڑیں اور اس کے لیے اپنی اپنی کوشش کریں۔ ورنہ بعد میں آنے والی نسلیں ہمیں قصوروار قرار دیں گی اور کہیں گی کہ تم نے کیسی تباہ شدہ دنیا ہمارے لیے چھوڑی ہے۔
پس یہ پِیس سمپوزیم اسی مقصد کے لیے ایک کوشش ہے۔ خدا کرے کہ یہ امید کی پہلی کرن بن جائے اور دنیا اس دَور میں امن کی ضرورت کو سمجھے۔ اللہ کرے کہ جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور امن کی صبح روشن ہو۔ آپ سب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب سات بج کر ۹؍ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد تمام مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ کھانے کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سٹیج پر کھڑے کھڑے مین ٹیبل پر موجود مہمانان کرام کو شرف ملاقات بخشا اور ان سے مختصر گفتگو فرمائی۔ بعد ازاں حضور انور پونے آٹھ بجے کے قریب ایوانِ مسرور سے تشریف لے گئے۔

استقبالیہ تقریر و معززین کے مختصر خطابات
یاد رہے کہ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب سے قبل مکرم امیر صاحب یوکے نے استقبالیہ تقریر جبکہ بعض دیگر معزز مہمانان کرام نے مختصراً تقاریر کیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
استقبالیہ تقریر از محترم رفیق احمد حیات صاحب
(امیر جماعت احمدیہ یوکے)
مکرم امیر صاحب نے سب کو خوش آمدید کہنے کے بعد کہا کہ آج یہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی اور ادارہ جات سے تعلق رکھنے والے احباب اکٹھے ہوئے ہیں۔ اگر دنیا میں دیرپا امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو سب کو مل کر اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔
اس وقت دنیا ایک نہایت نازک اور خطرناک دَور سے گزر رہی ہے۔ دنیا کے کئی علاقوں میں بےچینی اور تنازعات پائے جاتے ہیں۔ بچے جانیں گنوا رہے ہیں اور قومیں ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات اور کشمکش میں مبتلا ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح نے برطانیہ کی پارلیمنٹ، یورپین پارلیمنٹ، واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل، کینیڈین پارلیمنٹ، ڈچ پارلیمنٹ اور نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ سمیت دنیا کے کئی اہم فورمز پر امن و انصاف کے حوالے سے خطابات ارشاد فرمائے ہیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے دنیا کے راہنماؤں کو ذاتی طور پر خطوط بھی تحریر فرمائے ہیں جن میں انہیں انصاف قائم کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ دنیا مزید تباہی کی طرف نہ بڑھے۔
آج کے اس پُر خطر دور میں جہاں بےیقینی اور خوف بڑھتا جا رہا ہے حضورِ انور کا امن، ہم آہنگی اور انصاف کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
خواتین و حضرات! تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے، اور حضورِ انور بار بار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پائیدار امن طاقت کے ذریعے قائم نہیں کیا جاسکتا بلکہ حقیقی اور دیرپا امن صرف انصاف، دیانت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اگر ہم ایک پُرامن دنیا دیکھنا چاہتے ہیں تو انصاف کو تمام لوگوں اور تمام اقوام کے لیے یکساں طور پر نافذ ہونا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ انسانیت کو امن، انصاف اور مفاہمت کی راہ دکھائے۔ آمین۔
Greg Stafford MP
for Farnham and Bordon
میرے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ میں نیشنل پیس سمپوزیم میں آپ کے ساتھ شریک ہوں اور برطانیہ بلکہ دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کو اپنے حلقۂ انتخاب میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس سال کے سمپوزیم کا موضوع ’’کامل عالمی انصاف: حقیقی امن کی بنیاد‘‘ اس سے زیادہ بروقت نہیں ہو سکتا تھا۔ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے سے زیادہ تقسیم، بےیقینی اور اضطراب کا شکار محسوس ہوتی ہے، اس طرح کے اجتماعات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ مقامی رکنِ پارلیمنٹ ہونے کے ناطے اور جماعت احمدیہ مسلمہ کے لیے قائم آل پارٹی پارلیمانی گروپ کے سیکرٹری کی حیثیت سے، مجھے یہ موقع ملا ہے کہ میں خود دیکھ سکوں کہ یہ جماعت بالخصوص مقامی سطح پر کتنی عظیم خدمات انجام دے رہی ہے۔ جو بات ہمیشہ مجھے متاثر کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں امن کو محض ایک نظریاتی تصوّر یا نعرہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے عملی طور پر قائم کیا جاتا ہے۔ خدمت، خیرات اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا — یہی وہ عملی طریقے ہیں جن کے ذریعے یہ جماعت امن کو فروغ دیتی ہے۔
موصوف نے کہا کہ امن کی بنیاد اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم روزمرّہ زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے مقامی لوگوں میں امن کو برقرار نہیں رکھ سکتے تو عالمی سطح پر امن کے لیے کوششوں کی زیادہ اہمیت باقی نہیں رہتی۔ پائیدار امن صرف ایک دوسرے کے ساتھ رہ لینے سے قائم نہیں ہوتا بلکہ مسلسل تعلقات اور باہمی سمجھ بوجھ کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔ میں خاص طور پر حضورِانور کا ذکر کرنا چاہوں گا جن کا امن، انصاف اور باہمی احترام کا مستقل پیغام اس جماعت سے کہیں آگے پوری دنیا میں اثرانداز ہوا ہے۔
Rt. Hon. Sir Ed Davey MP
موصوف نے کہا کہ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ مجھے ایک اور پیس سمپوزیم میں مدعو کیا گیا۔ میں تمام مہمانوں کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں میں اپنے ملک میں کسی اَور ایسی جماعت کو نہیں جانتا جو اس قدر تسلسل اور مستقل مزاجی کے ساتھ امن کی آواز بلند کرتی ہو اور تمام مذاہب بلکہ لا مذہب افراد کو بھی ایک جگہ جمع کرتی ہو تاکہ وہ باہم گفتگو ہو سکے جو ہمارے لیے بھی اور دیگر ممالک کے درمیان بھی امن کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حضورِ انور ایک عالمی راہنما کے طور پر وہ شخصیت ہیں جو سب سے زیادہ امن کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
Seema Malhotra
MP for Feltham and Heston
موصوفہ نے کہا کہ تنازعات کو روکنے اور ایک زیادہ خوشحال اور پُرامن معاشرہ قائم کرنے کے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ سماجی تنظیمیں، مذہبی جماعتیں اور شہری راہنما سب ایک نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں تاکہ لوگوں اور برادریوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جا سکے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے۔
اسی لیے میں جماعتِ احمدیہ کی خدمات اور اس سلسلے میں حضورِ انور کی قیادت کو سراہتی ہوں، جسے میں نے گذشتہ برسوں میں قریب سے دیکھا ہے۔ امن، انصاف اور انسانی وقار کے لیے آپ کی مسلسل آواز دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں گونجتی رہی ہے۔
ہم نے یوکرائن اور غزہ میں جنگ کی ہولناکیاں دیکھی ہیں۔ ہم نے بڑھتی ہوئی کشیدگی دیکھی ہے اور حال ہی میں ایران کے تنازع کو بھی دیکھا ہے۔ ہم نہ تو یہ اجازت دے سکتے ہیں اور نہ ہی دینی چاہیے کہ جنگ ہماری نسل کی پہچان بن جائے، بلکہ اس کے برعکس ہماری میراث امن ہونی چاہیے۔
آج کی تقریب میں مدعو کرنے نیز انسانیت کی خدمت اور پائیدار امن کے قیام کے لیے آپ کی تمام تر کاوشوں پر ایک بار پھر شکریہ۔ آج اس سمپوزیم میں آپ کے ساتھ شامل ہونا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ شکریہ۔
تاثرات نیشنل پیس سمپوزیم ۲۰۲۶ء
ذیل میں پیس سمپوزیم کے حوالے سے انتظامیہ اور چند مہمانان کرام کے تاثرات درج ہیں:
٭… مکرم رفیق احمد حیات صاحب، امیر جماعت احمدیہ یوکے: مکرم امیر صاحب یوکے نے نمائندہ الفضل انٹرنیشنل کو تقریب کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے بیان کیا کہ دنیا میں اس وقت مختلف خطوں میں جنگیں اور قتل و غارت جاری ہے، جس کی وجہ سے لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں، خاص طور پر غزہ، لبنان، سوڈان اور افغانستان جیسے علاقوں میں حالات بہت خراب ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں کی کوششوں کے باوجود جنگوں کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوا بلکہ یہ صرف نقصان اور تباہی کا سبب بنی ہیں۔
امیر صاحب نے کہا کہ راہنما اگر اپنی انا چھوڑ دیں اور حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات اور امن و انسانیت کے پیغام پر غور کریں تو دنیا میں بہتر امن قائم ہو سکتا ہے۔ آپ نے کہا کہ بعض عالمی راہنما صرف جنگوں کے لیے مالی یا سیاسی مدد کی بات کرتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ جنگوں کو ختم کر کے مستقل امن کی طرف عملی قدم اٹھایا جائے۔
امیر صاحب نے پیس سمپوزیم کی ترویج کے حوالے سے کہا کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچ جاتا ہے۔
امیر صاحب کا یوکے کے پیس سمپوزیم میں خلافت کی موجودگی کی انفرادیت کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس سبب سے اس کی بہت اہمیت ہے۔ بہت سے ملکوں سے مہمان آئے ہیں۔ وزراء بھی ہیں۔ یہ سب اچھا پیغام لے کر واپس جائیں گے۔ بڑے ممالک کو اپنا نمونہ دکھانے کے بارے میں کہنا تھا کہ جب تک بڑے ملک لیڈر شپ نہیں دکھاتے، امن کی طرف نہیں جاتے تو چھوٹے ملک بھی ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
٭… مکرم فرید احمد صاحب، سیکرٹری امور خارجیہ جماعت احمدیہ یوکے: مکرم فرید احمد صاحب نے نیشنل پیس سمپوزیم کی گذشتہ ۲۰؍سالہ ترقی اور اثرات کے بارے میں کہا کہ یہ تقریب نہ صرف تعداد کے لحاظ سے بڑھی ہے بلکہ اس کے پیغام اور اثر میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں مختلف ممالک سے لوگ شرکت کرتے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح کے امن، انسانیت اور ہمدردی پر مبنی پیغام سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی اے کے ذریعے یہ پیغام دنیا بھر میں پہنچ رہا ہے اور یہ تقریب عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے ایک مضبوط ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں تنازعات زیادہ کھل کر سامنے آرہے ہیں، اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح اب پہلے سے زیادہ واضح اور براہِ راست انداز میں امن اور انسانیت کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔
٭… کلیئر ڈیسمنڈ، Christian Solidarity Worldwide: یہ تقریب مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھا کرنے کا ایک بہترین موقع ثابت ہوئی، جہاں مختلف خیالات سننے اور خاص طور پر حضورِ انور کی گفتگو سے راہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اہم سبق یہ ہے کہ امن کے لیے صرف عالمی راہنماؤں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہر فرد کو اپنے معاشرے اور اپنے دائرۂ اثر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج کے مشکل حالات میں ایسی تقریبات امید، حوصلہ اور یکجہتی پیدا کرتی ہیں اور لوگوں سے ملاقات اور گفتگو نے بہت متاثر اور حوصلہ افزا محسوس کرایا۔ بس آپ کوشش جاری رکھیں، یہی امن لاتی ہے۔
Linda Stephens صاحبہ، جو ’’Women’s Wellbeing‘‘ نامی ادارہ چلاتی ہیں اور خاص طور پر خواتین کی صحت، پری و پوسٹ مینوپاز اور ماں بننے سے پہلے اور بعد کی دیکھ بھال پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں Vaughan James Pharmacy سے وابستہ بشریٰ یہاں لائیں اور وہ پہلے بھی اس تقریب میں آچکی ہیں۔ ان کے مطابق اس بار کا تجربہ بہت خاص تھا کیونکہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی گفتگو، ماحول میں موجود امن، محبت اور باہمی تعلق کے احساس کو بہت گہرائی سے محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ممکنہ عالمی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے، اس لیے انسانیت، اتحاد اور امن کا پیغام بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر فرد محبت، خاندانی اقدار، مختلف مذاہب کے احترام اور عالمی بھائی چارے کا عملی نمونہ نظر آتا ہے اور وہ خود کو اس تقریب میں شرکت پر خوش قسمت اور بابرکت محسوس کرتی ہیں۔
Catherine Clark، کونسلر برائے وائٹ ہل اینڈ بورڈن، اور Alex Page، ایک سماجی و عوامی مہم چلانے والے کارکن، نے اس تقریب کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی ایسی تقریبات مقامی اور بین الاقوامی کمیونٹیز کو قریب لانے، محبت اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مختلف پس منظر کے لوگوں کا ایک جگہ بیٹھ کر بات چیت کرنا غلط فہمیوں کو ختم کرتا ہے اور ایک دوسرے کی طاقتوں اور کمزوریوں کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر امن کے لیے مکالمہ اور تعلقات ضروری ہیں، کیونکہ جتنا لوگ ایک دوسرے کو سمجھیں گے اتنا ہی تنازعات کم ہوں گے۔ دونوں مہمانوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی تقریر کو تقریب کا سب سے متاثرکن حصہ قرار دیا، جبکہ کونسلر کیتھرین کلارک نے بتایا کہ انہیں نجی طور پر ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، جسے انہوں نے ایک یادگار تجربہ کہا۔

Jill Barstow (جِل بارسٹو)۔ چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس، کنوینر انٹرفیتھ ملٹن کینز: حضور انور کا خطاب انتہائی متاثر کن تھا۔ یہ بات واضح تھی کہ آپ دنیا کے مختلف خطوں کے حالات سے گہری آگاہی رکھتے ہیں اور آپ کا نقطۂ نظر بہت وسیع ہے۔ ایک مذہبی راہنما کی زبان سے جنگوں، تنازعات اور امن کی اہمیت پر اتنی جرأت اور دلسوزی سے بات سننا نہایت خوشگوار تھا۔ یہ واقعۃً ایک روح پرور تقریب تھی۔
Sarah Day (سارہ ڈے)۔ Mayoress of Newport Pagnell: خطاب کے دوران میں مسلسل سر ہلا رہی تھی کیونکہ ہر بات سے اتفاق تھا۔ مجھے چند سال پہلے حضور انور کا خطاب بھی یاد آیا۔ آپ یہ باتیں بہت عرصے سے فرماتے آرہے ہیں۔ حضور انور کی شان یہ ہے کہ آپ یہ نہیں کہتے کہ مَیں نے پہلے خبردار کیا تھا، لیکن سچائی یہ ہے کہ آپ نے واقعی خبردار کیا تھا اور آج پھر کیا۔ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ سب آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔ یہ سوچ کر تو خوف آتا ہے مگر خطاب بے حد مؤثر اور پُراثر تھا۔
ادارہ الفضل انٹرنیشنل امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور جماعت احمدیہ برطانیہ کی خدمت میں کامیاب پیس سمپوزیم پر مبارکباد پیش کرتا ہے نیز دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی بابرکت اور پُرامن آواز پر کان دھرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بنے۔ اللّٰھم آمین
٭…٭…٭



