بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۶)

(مرتبہ:ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… یورپین معاشرے میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ڈلیوری کے وقت عورت اپنے خاوند کو اپنے ساتھ لے کر جائے، ہسپتال کے عملہ کی طرف سے بھی اس پر زور دیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی معاشرہ میں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی احمدیوں میں ایسی کوئی روایت ملتی ہے۔ ہمیں اس بارہ میں کیا کرنا چاہیے؟نیز یہ کہ عورتیں اپنی والدہ یا ساس کو ڈلیوری روم میں اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتی ہیں۔ لیکن بعض خاوند اصرار کرتے ہیں کہ وہ بھی ڈلیوری روم میں ساتھ جائیں گے تا کہ وہ خود اس مرحلہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، کیونکہ اس سے روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس پر عورت کو کیا کرنا چاہیے؟

٭… کیا نماز عشاء کا وقت فجر تک ممتد ہے؟ نیز یہ کہ کیا ایک مقیم جرابوں پر مسح کر کے نماز ظہر پڑھ کر اسی مسح سے اگلے دن ظہر تک کی نمازیں ادا کر سکتا ہے یا کہ ایک دن ختم ہوتے ہی اسے نیا وضو کرنا چاہیے؟

٭… جنت میں ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ کیا ہماری روح کے لیے بھی ابدی موت ہو گی یا ایک موت سے گزر کر نئی زندگی کا آغاز ہو گا؟

٭… جہنم کیسے فنا ہو گی؟ کیونکہ قرآن کریم تو فرماتا ہےاس میں پڑنے والے اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے؟

سوال: جرمنی سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں سوال کیا کہ یہاں یورپین معاشرے میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ڈلیوری کے وقت عورت اپنے خاوند کو اپنے ساتھ لے کر جائے، ہسپتال کے عملہ کی طرف سے بھی اس پر زور دیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی معاشرہ میں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی احمدیوں میں ایسی کوئی روایت ملتی ہے۔ ہمیں اس بارے میں کیا کرنا چاہیے؟نیز یہ کہ عورتیں اپنی والدہ یا ساس کو ڈلیوری روم میں اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتی ہیں۔ لیکن بعض خاوند اصرار کرتے ہیں کہ وہ بھی ڈلیوری روم میں ساتھ جائیں گے تا کہ وہ خود اس مرحلہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، کیونکہ اس سے روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس پر عورت کو کیا کرنا چاہیے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان سوالوں کے بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: یہاں یورپین معاشرہ میں خاوند کو ڈلیوری روم میں بیوی کے ساتھ جانے کے لیے جو کہا جاتا ہے، اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ خاوند کو چاہیے کہ بےشک اس سے انکار کر دے اور ڈلیوری کے وقت ساتھ نہ جائے۔اس کی پابندی کرنا نہ تو قانوناً لازمی ہے اور نہ ہی مذہباً ضروری ہے۔ ہاں بیوی کی اس مشکل اور تکلیف کی گھڑی میں خاوند کو اپنی بیوی اور ہونے والے بچے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے رہنا چاہیے۔

باقی بچے کی پیدائش کے وقت خاوند کے ڈلیوری روم میں عورت کے ساتھ جانے کے بارے میں جو باتیں کہیں گئی ہیں، یہ تو سب فضول باتیں ہیں۔ ان پر عمل کرنا ہر گز ضروری نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ اس موقع پر خاوند کو اپنی بیوی اور ہونے والے بچے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنی چاہیے۔

سوال: مصر سے ایک خاتون نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کیا نماز عشاء کا وقت فجر تک ممتد ہے؟ نیز یہ کہ کیا ایک مقیم جرابوں پر مسح کر کے نماز ظہر پڑھ کر اسی مسح سے اگلے دن ظہر تک کی نمازیں ادا کر سکتا ہے یا کہ ایک دن ختم ہوتے ہی اسے نیا وضو کرنا چاہیے؟حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۲؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضور نے فرمایا:

جواب:حدیث میں آتا ہے کہ نمازوں کے وقت کے متعلق کسی کے سوال کرنے پر حضورﷺ نے اسے اگلے دو دن اپنے ساتھ نماز پڑھنے کی ہدایت فرمائی اور پھران دو دنوں میں آپؐ نے پانچوں نمازیں دو الگ الگ اوقات میں پڑھائیں اور پھر فرمایا کہ تمہاری نماز کا وقت ان دونوں اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا۔ اس موقع پر حضورﷺ نے پہلے روز نماز عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی اور دوسرے دن رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے پر آپ نے نماز عشاء پڑھائی۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب اوقات الصلوات الخمس)

اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے نماز عشاء کو نصف شب تک مؤخر فرمایا اور پھر نماز ادا فرمائی۔ (صحیح بخاری کتاب مواقيت الصلاة باب وقت العشاء الى نصف الليل)

پس نماز عشاء کا افضل وقت شفق کے غائب ہونے سے شروع ہو کر نصف شب تک ہوتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں مستحسن یہی ہے کہ اس دوران نماز عشاء ادا کی جائے، لیکن اگر کوئی مجبوری ہو تو طلوع فجر سے پہلے تک بھی نماز عشاء پڑھی جا سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں: ’’اس(نماز عشاء) کا وقت ہندوستان کے اوقات کے لحاظ سے غروب آفتاب سے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ بعد سے شروع ہوتا ہے اور نصف شب تک اور بعض کے نزدیک اس کے بعد تک بھی چلا جاتا ہے۔‘‘( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ ۱۶۵، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء)

باقی جرابوں پر مسح کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر وضوء کر کے جرابین پہنی جائیں تو مقیم ایک دن رات(یعنی چوبیس گھنٹے) اور مسافر تین دن رات( یعنی ۷۲گھنٹے) وضوء کرتے وقت ان پر مسح کر سکتا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الوضوء بَاب إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ۔صحیح مسلم کتاب الطہارۃ بَاب التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ)

سوال: کینیڈا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ جنت میں ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ کیا ہماری روح کے لیے بھی ابدی موت ہو گی یا ایک موت سے گزر کر نئی زندگی کا آغاز ہو گا؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۷؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: دنیوی زندگی عارضی زندگی ہے اور اس میں انسان جس قسم کے اعمال بجالائے گا، ان کی جزا و سزا کے لیے ایک الگ عالم مقرر ہے، جس کا نام عالم آخرت ہے۔ اسی طرح اس دنیوی زندگی میں ملنے والا جسم یہیں رہ جائے گا اور روح اس جسم سے الگ ہو جائے گی، جسے جزا و سزا کے لیے ایک نیا جسم دیا جائے گا۔ اس دنیوی موت سے گزر کر ایک نئی زندگی کا آغاز ہوگا لیکن اُس زندگی میں پہلے اِس دنیا کے کرموں کا حساب ہو گا۔ ان تمام امور کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف لطیف ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ اس سوال کہ موت کے بعد انسان کی کیا حالت ہوتی ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں: ’’سواس سوال کے جواب میں یہ گذارش ہے کہ موت کے بعد جو کچھ انسان کی حالت ہوتی ہے درحقیقت وہ کوئی نئی حالت نہیں ہوتی بلکہ وہی دنیا کی زندگی کی حالتیں زیادہ صفائی سے کھل جاتی ہیں۔ جو کچھ انسان کے عقائد اور اعمال کی کیفیت صالحہ یاغیر صالحہ ہوتی ہے۔ وہ اس جہان میں مخفی طور پر اس کے اندر ہوتی ہے اور اس کا تریاق یا زہر ایک چھپی ہوئی تاثیر انسانی وجود پر ڈالتا ہے۔ مگر آنےوالے جہان میں ایسا نہیں رہے گا بلکہ وہ تمام کیفیات کھلا کھلا اپنا چہرہ دکھلائیں گی۔… اور اس دن ہمارے اعمال اور اعمال کے نتائج جسمانی طور پر ظاہر ہوں گے۔ اور جو کچھ ہم اس عالم سے مخفی طور پر ساتھ لے جائیں گے وہ سب اس دن ہمارے چہرہ پر نمودار نظر آئے گا۔ اور جیسا کہ انسان جو کچھ خواب میں طرح طرح کے تمثلات دیکھتا ہے اور کبھی گمان نہیں کرتا کہ یہ تمثلات ہیں بلکہ انہیں واقعی چیزیں یقین کرتا ہے ایسا ہی اُس عالم میں ہو گا بلکہ خدا تمثلات کے ذریعہ سےاپنی نئی قدرت دکھائے گا۔ چونکہ وہ قدرت کامل ہے۔ پس اگر ہم تمثلات کا نام بھی نہ لیں اور یہ کہیں کہ وہ خدا کی قدرت سے ایک نئی پیدائش ہے تو یہ تقریر بہت درست اور واقعی اور صحیح ہے۔…

اس جگہ واضح رہے کہ قرآنی تعلیم کی رُو سے تین عالم ثابت ہوتے ہیں۔اول :دنیا جس کا نام عالم کسب اور نشاء اولیٰ ہے۔ اسی دنیا میں انسان اکتساب نیکی کا یا بدی کا کرتا ہے۔…اوردوسرے عالم کا نام برزخ ہے۔… برزخ کی حالت وہ حالت ہے کہ جب یہ ناپائیدار ترکیب انسانی تفرق پذیر ہو جاتی ہے اور روح الگ اور جسم الگ ہو جاتا ہے۔ اور جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ جسم کسی گڑھے میں ڈال دیا جاتاہے اور روح بھی ایک قسم کے گڑھے میں پڑ جاتی ہے۔ جس پر لفظ زخّ کا دلالت کرتا ہے کیونکہ وہ افعال کسب خیر یا شر پر قادر نہیں ہو سکتی کہ جو جسم کے تعلقات سے اس سے صادر ہو سکتے تھے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہماری روح کی عمدہ صحت جسم پر موقوف ہے۔ دماغ کے ایک خاص حصہ پر چوٹ لگنے سے حافظہ جاتا رہتا ہے اور دوسرے حصہ پر آفت پہنچنے سے قوت متفکرہ رخصت ہوتی ہے اور تمام ہوش و حواس رخصت ہوجاتے ہیں اور دماغ میں اب کسی قسم کا تشنج ہو جائے یا ورم پیدا ہو یا خون یا کوئی اور مادہ ٹھہر جائے اور کسی سدّہ تام یا غیر تام کو پیدا کرے تو غشی یا مرگی یا سکتہ معاً لاحق حال ہو جاتا ہے۔ پس ہمارا قدیم کا تجربہ ہمیں یقینی طور پر سکھلاتا ہے کہ ہماری روح بغیر تعلق جسم کے بالکل نکمی ہے۔ سو یہ بات بالکل باطل ہے کہ ہم ایسا خیال کریں کہ کسی وقت میں ہماری مجرد روح جس کے ساتھ جسم نہیں ہے کسی خوشحالی کو پا سکتی ہے۔ اگر ہم قصہ کے طور پر اس کو قبول کریں تو کریں لیکن معقولی طور پر اس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ ہم بالکل سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ہماری روح جسم کے ادنیٰ ادنیٰ خلل کے وقت بیکار ہو کر بیٹھ جاتی ہے وہ اس روز کیونکر کامل حالت پر رہے گی جبکہ بالکل جسم کے تعلقات سے محروم کی جائے گی۔ کیا ہر روز ہمیں تجربہ نہیں سمجھاتا کہ روح کی صحت کے لیے جسم کی صحت ضروری ہے۔ جب ایک شخص ہم میں سے پیرفرتوت ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی روح بھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کا تمام علمی سرمایہ بڑھاپے کا چور چرا کر لے جاتا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا۔(الحج:۶)یعنی انسان بڈھا ہوکر ایسی حالت تک پہنچ جاتا ہے کہ پڑھ پڑھا کر پھر جاہل بن جاتا ہے۔ پس ہمارا یہ مشاہدہ اس بات پر کافی دلیل ہے کہ روح بغیر جسم کے کچھ چیز نہیں۔ پھر یہ خیال بھی انسان کو حقیقی سچائی کی طرف توجہ دلاتا ہے اگر روح بغیر جسم کےکچھ چیز ہوتی تو خدا تعالیٰ کا یہ کام لغو ٹھہرتا کہ اس کو خواہ نخواہ جسم فانی سے پیوند دے دیتا۔ اور پھر یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو غیر متناہی ترقیات کے لیے پیداکیا ہے۔ پس جس حالت میں انسان اس مختصر زندگی کی ترقیات کو بغیر رفاقت جسم کے حاصل نہیں کر سکا تو کیونکر امید رکھیں کہ ان نامتناہی ترقیات کو جو ناپیداکنار ہیں بغیر رفاقت جسم کےخودبخود حاصل کرلے گا۔

سو ان تمام دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ روح کے افعال کاملہ صادرہونے کے لیے اسلامی اصول کے رُو سے جسم کی رفاقت روح کے ساتھ دائمی ہے۔ گو موت کے بعد یہ فانی جسم روح سے الگ ہو جاتا ہے مگر عالم برزخ میں مستعار طور پر ہر ایک روح کو کسی قدر اپنے اعمال کا مزہ چکھنے کے لیے جسم ملتا ہے۔ وہ جسم اس جسم کی قسم میں سے نہیں ہوتا بلکہ ایک نور سے یا ایک تاریکی سے جیسا کہ اعمال کی صورت ہو جسم تیار ہوتا ہے۔ گویا کہ اس عالم میں انسان کی عملی حالتیں جسم کا کام دیتی ہیں۔…انسان کی یہ غلطی ہوگی اگر وہ ان نہایت باریک معارف کو صرف عقل کے ذریعہ سے ثابت کرنا چاہے۔ بلکہ جاننا چاہیے کہ جیسا کہ آنکھ شیریں چیز کا مزہ نہیں بتلاسکتی اور نہ زبان کسی چیز کو دیکھ سکتی ہے۔ ایسا ہی وہ علوم معاد جو پاک مکاشفات سے حاصل ہو سکتے ہیں صرف عقل کے ذریعہ سے ان کا عقدہ حل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے اس دنیا میں مجہولات کے جاننے کے لیے علیحدہ علیحدہ وسائل رکھے ہیں۔ پس ہر ایک چیز کو اس کے وسیلہ کے ذریعہ سے ڈھونڈو تب اسے پالو گے۔…پھر برزخ کے بعد وہ زمانہ ہے جس کا نام عالمِ بعث ہے۔ اس زمانہ میں ہر ایک روح نیک ہو یا بد، صالح ہو یا فاسق ایک کھلا کھلا جسم حاصل کرے گی۔ اور یہ دن خدا کی ان پوری تجلیات کے لیے مقرر کیا گیا ہے جس میں ہر ایک انسان اپنے رب کی ہستی سے پورے طور پر واقف ہو جائے گا اور ہر ایک شخص اپنی جزاء کے انتہائی نقطہ تک پہنچے گا۔ یہ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ خدا سے یہ کیونکر ہو سکے گا کیونکہ وہ ہر ایک قدرت کا مالک ہے جو چاہتاہے کرتا ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۹۶ تا ۴۰۶)

سوال: سیریا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ جہنم کیسے فنا ہو گی؟ کیونکہ قرآن کریم تو فرماتا ہےاس میں پڑنے والے اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس استفسار کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہنم کے متعلق اُمّ یعنی ماں کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرمایا فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ۔(القارعہ:۱۰) یعنی اس کی ماں ہاویہ ہو گی۔اور ماں کے پیٹ میں انسان ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔ بلکہ جب جنین مکمل ہو جاتا ہے تو وہاں سے دنیا میں آ جاتا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ہاویہ کو اُمّ کہنے میں یہ مطلب ہے کہ جب تک تربیت یافتہ نہ ہو ماں سے تعلق رہتا ہے۔ بعد تربیت پالینے کے ماں سے علیحدگی ہو جاتی ہے۔ اس لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد طول مکث کے دوزخی دوزخ سے نکال دئیے جائیں گے۔(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ ۴۴۶)

اسی طرح حدیث میں بھی آتا ہے کہ جہنم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی آدم زاد باقی نہیں رہے گا اور ہوا اس کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔ (کنز العمال جلد ۱۴ حدیث نمبر ۳۹۵۰۶)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بارے میں فرماتے ہیں: ’’ہمارا ایمان ہے کہ دوزخ میں ایک عرصہ تک آدمی رہے گا پھر نکل آوے گا۔ گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہو سکی ان کی اصلاح دوزخ کرے گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ دوزخ پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ اس میں ایک آدمی بھی باقی نہ رہے گا اور نسیم صبا اس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔

اس کے علاوہ قرآن شریف نے بہشت کے انعامات کا تذکرہ کر کے عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ (ھود:۱۰۹) کہہ دیا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو امید نہ رہتی اور مایوسی پیدا ہوتی۔ بہشت کے انعامات کی بے انتہا درازی کو دیکھ کر مسرت بڑھتی ہے اور دوزخ کے ایک متعین عرصہ تک ہونے سے خدا تعالیٰ کے فرض پر امید پیدا ہوتی ہے۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۵،۱۴ ایڈیشن۲۰۲۲ء )

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۵)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button