متفرق مضامین

فلسفہ قربانی

قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دُور کرتی ہیں(حضرت مسیح موعودؑ)

(محمد اشرف کاہلوں۔آسٹریلیا)

جب اللہ تعالیٰ کی قدرتِ حقہ اور حکمت کاملہ سے انسان کی تخلیق معرض وجود میں آئی تو اس کے تمام فطرتی تقاضوں اور ضرورتوں کو اس کے خمیر اور اٹھان میں مادی اور روحانی طور پر یکجائی بھر دی۔انسان ارتقائی منازل طےکرتے ہوئے آگہی اور شعور کی بلوغت کو پہنچا۔ تب خاتم الشرائع اور خاتم الکتب یعنی قرآن مجید کا نزول ہوا۔اور حضرت خیرالبرایا و سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ ان کا زمانہ نبوت و رسالت قیامت تک ممتد ہے اوران کے روحانی فرزند جلیل امام آخرالزماں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ آدم اوّل اور ظل آدم ثانی کی پیدائش سے دور کی تکمیل ہوئی ہے تاکہ وحدت حق الوجو د پر روشن نشان کا مصداق ٹھہرائے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس شعر بلیغ میں اشارہ فرمایا ہے:

روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک

میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

یہ نسلِ انسانی ارتقائی مراحل عبورکرتے ہوئے جب سماج کی تمدنی زندگی کے دور داخل ہوگئی کیونکہ انسان فطرتاً مدنی الطبع ہے۔ نظم حکومت کا اجرا کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کو ردائے خلافت یعنی خلیفۃ اللہ کے مرتبہ پر فائز ہوئےاور حکومت کے چار فرائض متعین ہوئے ۔روٹی، کپڑا، مکان اور پانی۔(طہٰ: ۱۱۹ و ۱۲۰)

انسان کے مختلف الطبائع ہونے کے سبب نافذ العمل قانون پر انسانوں کے تین گروہ بن جاتے ہیں۔ایک قانون کے طوعاً پیروکار، دوسرےکرہا ًمتبع اور تیسرے قانون شکن عناصر۔ معاشرے میں دستور العمل کو بروئے کار لانے کے لیے حسبِ ضرورت و زمانہ آدمیوں کو قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔جو مادی اور روحانی ہوتی ہیں۔قربانیوں کا یہ سلسلہ ابتدا سے شروع ہے۔

قربانیاں مختلف النوع اقسام کی ہوتی ہیں۔قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی قربانی کا ذکر سورہ المائدہ ۲۸ میں ہے:وَاتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ ابۡنَیۡ اٰدَمَ بِالۡحَقِّ ۘ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَلَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ انہوں نے بارگاہ رب العزت میں اپنی قربانیاں پیش کیں اور اللہ تعالیٰ نے ایک کی قربانی قبول فرمائی، اور دوسرے کی رد کی۔ خدا تعالیٰ نے اس کا باعث یہ فرمایا کہ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ۔ یعنی اللہ صرف متقیوں سے قربانی قبول کرتا ہے۔ مُتَّقِیۡن پر الف لام کی جو تخصیص ہے کہ جو رضائے الٰہی اور خوشنودی مولیٰ اور ذوق اور شوق سے قربانی ہے وہی حقیقی قربانی ہے۔وہی حقیقی متقی ہیں۔دوسرے متقی تکلّف اور بےذوقی سے فریضہ ادا کرتے ہیں۔ قربانی کا معیار روح تقویٰ ہے۔

بائبل کتاب پیدائش میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی کا تفصیل سے ذکر ہے۔ قرآن مجید کا اسلوب بیان اور انداز روحانی ہے۔ نفس مضمون کے مطابق واقعہ کا وہی حصہ بیان کرتا جو نفس مضمون کے موافق ہے اورجزئیات ترک کردیتا ہے۔

قربانی کی ایک نوعیت نادرالوقوع ہے جو سیرت ابراہیمی علیہ السلام سے علاقہ اور تعلق رکھتی ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ کو بت شکنی پر چتا میں ڈالنے لگے۔فرشتے حاضر ہوئے اور عر ض کی کہ تمہاری مددکرنے کو حاضر ہیں۔ فرمایا کہ آپ کی نصرت کی ضرورت نہیں۔انہوں نے درخواست کی کہ خدائے قادر و غالب اور توانا کے حضور دعا کریں؟کہا کہ نہیں۔خدا تعالیٰ خود میرے حال سے واقف ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ ۹۱)آپؑ اللہ کی رضا پر راضی تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام باپ اور بیٹا کا مکالمہ بھی قربانی کی روح کو خوب روشن اور عیاں کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے خواب کا ذکر اسماعیل علیہ السلام سے کیا کہ آپ کو ذبح کرنے والا ہوں۔بیٹے سے پوچھا کہ آپ کی رائے کیا ہے؟اس نے کہا کہ اے میرے باپ !جو حکم الٰہی ملا ہے وہی کر انشاء اللہ مجھے صابر پائے گا۔ان کی رضامندی پر اسماعیل کو ماتھے کے بل گرادیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو نے رویاء پورا کر دیا۔ہم اسی طرح محسنوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔(سورہ الصافات:۱۰۳تا۱۰۶) خدا تعالیٰ نے بنی اسماعیل علیہ السلام کو دعاہائے ابراہیمی کا وارث بنا دیا۔ حضرت سید فخر الانبیاء والاصفیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی میں مبعوث فرمایا اور وعدہ ‘‘امامت’’ تا قیامت انہی میں پورا ہوتا چلا جائے گا۔قریش یہ ابراہیمی وراثت کے حامل ہوںگے۔جو قریشی النسل ہوں یا روحانی نسل سے تعلق رکھنے والے ہوں۔یعنی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوںگے۔

قربانی کی روح کا تعلق تقویٰ سے ہے۔حقیقی تقویٰ کا مفہوم اس آیہ کریم میں بیان کیا گیا ہے ۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ۔(نحل۔۱۲۹)ترجمہ: کہ اللہ تعالیٰ یقیناً ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ(کا طریق) اختیار کیا اور وہ محسن ہیں یعنی تقویٰ کے دو پہلو ہیں۔ایک ترک شر اور دوسرا افاضہ خیرہے۔دفع شر ہی کافی نہیں قدموں کو اور آگے بڑھانا ہے۔تب انسان تقویٰ شعاری کے زیور سے آراستہ ہوتا ہے۔

عید الاضحیہ کے موقعہ پر مسلمانان عالم صاحب استطاعت فی سبیل اللہ قربانی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن رب العالمین کی بارگاہ میں وہی مقبول ہوتی ہیں جو روح تقویٰ کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ فرمان الٰہی ہے کہ لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ۔(الحج۔۳۸)۔اللہ کو ہرگز تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ اس سے سند قبولیت پاتا ہے۔ گویا قربانی کی اصل روح اتقاء ہے۔

خشیت ایزدی سے انسان گناہوں سے دامن کو آلودہ نہیں کرتا۔جانور کو راہ خدا میں ذبح کرنا یہ مقصود ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ اپنی ناقہ نفس امّارہ کا ذبیح ہے ۔اپنے وجود کو مرتبہ فنا پہ لانا ہے۔باقی مراحل سلوک موہبت الٰہیہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘‘و بعدذالک جذبات و نفحات و تجلیات من حضرت الاحدیتہ ۔لیقطع بعض بقایا عروق البشریۃ۔و بعد ذالک احیاء و ابقاء وادناء للنفس المطمئنتہ الراضیتہ المرضیتہ الفانیتہ۔’’ اور اس کے بعد حضرت احدیت کے جذبات ہیں اور خوشبوئیں ہیںاور تجلیات ہیں تا وہ بعض ان روگوں کو کاٹ دے کہ جوبشریت میں سے باقی رہ گئی ہوں اور بعد اس کے زندہ کرنا ہے اور باقی رکھنا اور قریب کرنا اس نفس کا جو خدا کے ساتھ آرام پکڑ چکا ہے جو خدا سے راضی اور خدا اس سے راضی اور فنا شدہ ہے۔( خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۳۹)

اسی لیے قربانی کے لیے لفظ ‘‘نسک’’ مستعمل ہے۔جس کے معنی طاعت اور عبادت ہیں جو قربانی کے حقیقی مفہوم کو ادا کرتا ہے ۔قرآن کریم میں بیان ہے کہ قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ۔(الانعام:۱۶۳) ان لوگوں کو کہہ دے کی میری نماز اور میری عبادت اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اس خدا کے لئے ہے جو پروردگار عالمیاں ہے۔ ( خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۴۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ‘‘فانظر کیف فسر النسک بلفظ المحیا والممات۔و اشاربہ الی حقیقۃ الاضحاۃ ’’ پس دیکھ کہ کیونکر نسک کے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ سے تفسیر کی ہے۔اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔( خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۴۳)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بزبان سیدنا مصطفیٰ، مجتبٰی، امام المتقین، خاتم النبیین صلوات و سلام علیہ فرمایا ہے کہ ‘‘ان الضحایا ھی المطایا۔توصل الی رب البریا۔وتمحو الخطایا۔و تدفع البلایا۔بہ تحقیق قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں۔( خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۴۵) یہ قربانی کے ثمرات حسنہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ قربانی کی حقیقی روح کے ساتھ اس فریضہ کوبجالانے کی توفیق عطا فرمائے اور قبول کرے۔ روحانی پر حلاوت و شریں اثمار سے نوازے۔آمین

مزید پڑھیں: احمدی عورت کا اہم کردار اور اس کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button