حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

[گذشتہ سے پیوستہ۔ تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍مئی۲۰۲۶ء]

قرآن کریم سے محبت

حضرت مرزا عبدالحق صاحب لکھتے ہیں حضرت ملک مولابخش صاحب رضی اللہ عنہ کے بار ہ میں کہ ’’آپ کو قرآن کریم سے خاص عشق تھا اور قرآنی معارف و حقائق سننے کے لئے باوجود بیماری اور کمزوری کے تعہد کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ کئی ماہ تک موسم سرما میں صبح کی نمازمحلّہ دارالفضل سے آ کردارالرحمت میں اس لئے ادا کرتے رہے تاکہ مکرم مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ کے درس میں شریک ہوکر ان کے حقائق و معارف سے مستفیض ہوں۔ رمضان المبارک میں جو درس مسجد اقصیٰ میں ہوتا اس میں بھی التزام کے ساتھ شریک ہوتے … قرآن کریم کو کثرت سے پڑھتے اور غورسے پڑھتے۔ جہاں خود فائدہ اٹھاتے وہاں دوسروں کو بھی شامل کرتے۔ عمرکے آخری حصہ میں کہتے ہیں دن میں کئی کئی بارجب بھی دیکھو قرآن شریف پڑھ رہے ہوتے تھے۔ اورکاپی اورقلم پاس رکھتے۔ جب کسی آیت کی لطیف تفسیر سمجھ میں آتی اس کو نوٹ کرتے اوربعد میں اپنے اہل و عیال کو بھی سناتے…۔ (مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ) اس وقت (جب و ہ گھروالوں کو سنا رہے ہوتے تو) ان کے چہرہ سے یوں معلوم ہوتا کہ آپ کی دلی خواہش ہے کہ آپ کی اولاد قرآن کریم کی عاشق ہو۔‘‘ (اصحاب احمد۔ جلد ۱۔ صفحہ ۱۵۱-۱۵۲۔ مطبوعہ ۱۹۵۱ء)

گیمبیا کے ایک عیسائی نوجوان نے احمدیت قبول کی تو ماں نے اس کی شدید مخالفت شروع کردی۔ پہلے تو وہ برداشت کرتا رہا مگر جب اس کی ماں نے قرآن کریم کی توہین شروع کی تو گھر چھوڑ کر نکل گیا اور دوبارہ اس گھر میں نہیں گیا۔ (ضمیمہ ماہنامہ انصاراللہ۔ ستمبر۱۹۸۷ء۔ صفحہ۶)

پس اس زمانہ میں بھی افریقہ کے دور درازملکوں میں بھی یہ معجزے رونما ہورہے ہیں۔

اسلام میں چار شادیوں تک کی اجازت ہے جس کو بعض لوگ حکم بنا لیتے ہیں، بہرحال اجازت ہے۔ تو افریقہ میں رواج ہے کہ جتنا بڑا کو ئی آدمی ہو ، یا پیسے والا ہو یاچیف ہو تو بعض دفعہ بعض قبائل میں چار سے زیادہ نو دس تک شادیاں کرلیتے ہیں۔ سیرالیون کے علی روجرز صاحب نے جب احمدیت قبول کی تھی تو اس وقت وہ جوان تھے اور ان کی بارہ بیویاں تھیں۔ جماعت کے مربی مولانا نذیر احمد صاحب علی نے انہیں فرمایا کہ اب آپ احمدی ہوچکے ہیں اس لئے قرآنی تعلیم کے مطابق چار بیویاں رکھ سکتے ہیں۔ باقی کو بہرحال طلاق اور نان نفقہ دے کر رخصت کریں۔ انہوں نے نہ صرف اس ہدایت پر فوراً عمل کیا بلکہ ان کے کہنے پر جو پہلی چار بیویاں تھیں وہ اپنے پاس ر کھیں اور نوجوان بیویوں کو رخصت کر دیا۔ تویہ تبدیلی ایک انقلاب ہے۔

پھرہمارے ایک مربی تھے یونس خالد صاحب۔ وہ لکھتے ہیں کہ : وی وی کاہلو صاحب بذریعہ کشف احمدی ہوئے تھے مولانامحمد صدیق امرتسری صاحب کے زمانے میں۔ پھر بعد میں وہ جماعت احمدیہ سیرالیون کے امیر بھی رہے۔ احمدی ہونے سے پہلے بالکل آزاد ماحول تھا۔ اور ان کا ماحول تو اس حد تک آزاد تھا کہ ان کا پیشہ بھی، ویسے بھی وہ ڈانسر تھے۔ لیکن بیعت کے فوراً بعد اپنے اندر تبدیلی پیداکی۔ تقویٰ و طہارت، عبادت ، خدا خوفی اور دیانت میں ایک مقام بنالیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی ترقیات سے نوازا۔ اور آپ علاقہ کے پیرامائونٹ چیف بھی تھے۔ جس علاقہ کے پیرامائونٹ چیف تھے وہاں ہیروں کی بہت بڑی کانیں تھیں۔ آپ صاحب اختیار تھے۔ کیونکہ ان علاقوں میں چیف کافی اختیار والے ہوتے ہیں۔ آپ اگرچاہتے تو لاکھوں کروڑوں روپیہ کا فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن احمدیت کی حسین اور پاکیزہ تعلیم کی وجہ سے یہ دولت اپنے اوپر حرام سمجھی اور سادہ اور درویشانہ زندگی گزارتے رہے۔ اور اونچی سطح میں بھی مشہور تھا کہ مسٹر وی وی کاہلو ایک انتہائی دیانت دار پیرامائونٹ چیف ہیں۔ نہ خود رشوت لیتاہے اور نہ ہی عملہ کو لینے دیتاہے۔ تو کہتے ہیں کہ جب آپ بیمار ہوئے۔ ایک دن مَیں ان کی عیادت کے لئے گیا تو مجھے بلا کر کہتے ہیں کہ یونس! میری آنکھوں کے سامنے ہروقت سبزرنگ کا کلمہ طیبہ لکھاہوتاہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ مَیں نے انہیں کہا کہ چیف آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺسے محبت ہے اور عشق ہے۔ یہ اس کانتیجہ ہے۔ تو کہتے ہیں کہ مَیں دو ماہ تک جاتارہا اور وہ یہی کہتے رہے کہ کلمہ طیبہ سبز رنگ کی روشنی سے ہمیشہ لکھا ہوا نظرآتاہے۔

پھر جب آپ ہسپتال میں داخل ہوئے تو نزع کی حالت طاری ہوئی تو ایک احمدی دوست مسٹر کوجی نے ان کا بازو پکڑ کرکہا کہ چیف پڑھو ’لَااِلٰہَ اِلّااللّٰہُ‘۔ ’لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ‘ پڑھا۔ پھر مسٹرکوجی نے کہا ’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘ آپ نے ’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘ پڑھا اورپڑھتے ہی سر جھک گیا۔

فروتنی اور عاجزی

ساتویں شرط یہ بھی تھی کہ عاجزی اور خوش خلقی اور مسکینی وغیرہ کی طرف توجہ رہے گی۔ تو انبیاء کو تو زیادہ تر وہی لوگ مانتے ہیں جو غریب مزاج اور مالی لحاظ سے کم وسعت والے بھی ہوں لیکن قربانیوں میں امراء سے زیادہ حوصلہ کے ساتھ اپنا مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں بلکہ جان کی قربانی بھی دینی پڑے تو دریغ نہیں کرتے اور کبھی بھی بڑائی بیان کرنے والے یا تکبر ونخوت کا اظہارکرنے والے نہیں ہوتے بلکہ ہر چھوٹے بڑے کے سامنے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ رہتے ہیں اور انکساری اور عاجزی کے بڑے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور الٰہی جماعتوں کی ترقی کا راز اسی میں ہے کہ جتنے زیادہ سے زیادہ عاجزمسکین لوگ جو فروتنی اور عاجزی کے اعلیٰ نمونے دکھانے والے ہوں وہ نظر آئیںاتنی زیادہ ترقی کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے اور نبی کوماننے والے بھی ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جیسا کہ پہلے مَیں نے کہا۔ تو انبیاء کی نظر جب ایسے دلوں پر پڑتی ہے تو انہیں مزید جلا بخشتی ہے، انہیں مزید چمکا دیتی ہے۔ اور وہ جو عاجزی دکھانے والے لوگ ہوتے ہیں ان کو اگر دوسروں کی خاطر اپنی جگہ چھوڑ کر جوتیوں میں بھی بیٹھنا پڑے تو وہ بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن مامور زمانہ کی نظر اتنی قیافہ شناس ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کو پہچان لیتی ہے اور پھر اس عاجزی کا بدلہ دینے کے لئے اور اپنی جماعت کو سمجھانے کے لئے کہ میری جماعت میں عاجز اور مسکین کا مقام ہی سب سے اعلیٰ ہے۔ عاجز انسانوں کو وہاں سے اٹھا کر اپنے پاس بٹھا لیتے ہیں اورکھانے کے وقت بلا کر اپنے ساتھ اپنی پلیٹ میں کھانا کھلاتے ہیں۔ تو یہ قدر بھی انبیاء ان کی اس لئے کرتے ہیں کہ اس عاجزی کی وجہ سے ایسے لوگ دین کو جلد قبول کرتے ہیں اور دینی تعلیمات پر مکمل طورپر عمل پیرا ہونے والے ہوتے ہیں۔

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۳۴تا۲۳۷)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button