خطاب حضور انور

جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2025ء کے موقع پر اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب

’’مَیں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدائےتعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک مَیں دوربین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحتِ اقدام دیکھتا ہوں اورقریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اَور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے‘‘ (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

آج دنیا بھر میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنا،اسلام کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لیے جان، مال اور وقت کو قربان کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی وہ شخص ہیں جنہیں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشأة ثانیہ کے لیے بھیجا ہے۔

آپ آج یہاں اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ چند دن دینی ماحول میں رہ کر اپنی روحانی اور علمی پیاس بجھائیں اور ان لوگوں میں شامل ہوں جو آخرین کی جماعت ہے جو مسیح موعود کے مشن کو پورا کرنے والے ہیں یا اسے پورا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں

ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم میں وہ خالص محبت اور دین کو حاصل کرنے کے لیے جستجو ہے۔ کیا ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کرتے ہیں اس کے لیے ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں یا صرف وقتی جوش کے تحت کبھی مال قربان کر دیا اور کبھی جان قربان کر دی اور پھر مستقل مزاجی سے ان باتوں پر عمل نہیں کرتے جو اسلام کی حقیقی تعلیم ہیں

جس شخص کا ہاتھ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے کے ہاتھ میں ہو وہ کبھی ضائع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی نسلیں ضائع ہوتی ہیں

ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس نے عہد بیعت کیا ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔ اپنے اعمال ایسے بنائیں جو خدا تعالیٰ کی رضااور اس کی تعلیم پر چلنے کا نمونہ ہوں۔ اپنی عبادتوں کے وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنیں

حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت ہے جو ترقی پر ترقی کرتی چلی جا رہی ہے۔ اگر کہیںحکومتوں کے قانون سے جماعت کو دبایا بھی گیا ہے تو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ترقیات سے نوازا ہے۔ ایک جگہ اگر روک ڈالی جا رہی ہے تو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ میدان کھولتا چلا جا رہا ہے۔اور پھر جہاں روک ڈالی جا رہی ہے وہاں بھی وہ اس جماعت کو ختم نہیں کر سکے، نہ ہی لوگوں کے ایمانوں کو ختم کر سکے ہیں

ایسے بہت سارے واقعات روزانہ ہمارے سامنے آتے ہیں کہ دشمن کسی نہ کسی طرح جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت کو ایسے ایسے سلطان نصیر عطا فرما رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے

ان نام نہاد مولویوں میں تو اتنی جرأت ہی نہیں ہے کہ مقابلہ کر سکیں اور دلائل دے سکیں اگر ان میں جرأت اور مقابلے کی طاقت ہوتی اور خود کو سچا سمجھتے تو حکومتوں کا سہارا لینے کے لیے یا ان کے ذریعے سے لوگوں کو مسلم اور غیر مسلم قرار دینے کے یا بعض تنظیموں کے ذریعے سے دینی کام میں روکیں ڈالنے کے بجائے یہ ہمارے مقابلے پر آتے، پبلک میں آتے، ٹی وی پر آتے، اخباروں میں آ کر مناظرہ اور مقابلہ کرتے

یہ مخالفت کرنے والے لوگ یقینا ًجھوٹے لوگ ہیں کیونکہ اگر سچے ہوتے تو دلیل سے کام لیتے، ظلم اور مار دھاڑ نہ کرتے۔ ان کا ظلم اور مار دھاڑ کرنا، احمدیوں کو قبرستانوں میں دفن نہ ہونے دینا، احمدیوں کی قبروں کو توڑنا اور ان کی جائیداد اور املاک کو نقصان پہنچانا یہ سب ان کے جھوٹے ہونے کی نشانیاں ہیں

آپ لوگ جنہوں نے اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ماناہے، آپؑ کی شناخت کی اور آپؑ کی بیعت میں داخل ہوئے ہیں آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ دنیا کو یہ پیغام پہنچائیں کہ جو مسیح اور مہدی آنے والا تھا وہ آ چکا ہے

جب خلافت کا نظام جاری ہوا تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان ترقیات کو بند نہیں کیا بلکہ ہر دَورِ خلافت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو یہ ترقیات مل رہی ہیں۔ دشمن روکیں بھی ڈال رہا ہے۔ دشمن ظلم و زیادتی بھی کر رہا ہے۔ نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ حکومتیں بھی ٹکر لینے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ترقی کرتی چلی جا رہی ہے اور پھیلتی چلی جا رہی ہے اور اب دنیا کے ہر کونے میں مختلف ذرائع سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچ رہا ہے

’’ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا تعالیٰ کی عظمت کو مدّنظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے کے لیے احمدیوں کو تبلیغ دین اور اپنے اندر عملی تبدیلی پیدا کرنے کی تلقین

جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2025ء کے موقع پر اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب

(فرمودہ مورخہ 31؍ اگست 2025ء بروز اتوار بمقام ایوانِ مسرور اسلام آباد (ٹلفورڈ) سرے یوکے)

(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

آج دنیا بھر میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنا، اسلام کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لیے جان، مال اور وقت کو قربان کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی وہ شخص ہیں جنہیں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشأة ثانیہ کے لیے بھیجا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا کہ یوں دنیا کے کونے کونے سے لوگ آپؑ کے حلقہ بیعت میں آ جاتے اور اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل اس لیے تھا کہ خود اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب لوگ اسلام کی تعلیم کو بھولنے لگ جائیں گے تو خدا تعالیٰ ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو اسلام کے پیغام کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا۔

پس آپ آج یہاں اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ چند دن دینی ماحول میں رہ کر اپنی روحانی اور علمی پیاس بجھائیں اور ان لوگوں میں شامل ہوں جو آخرین کی جماعت ہے جو مسیح موعود کے مشن کو پورا کرنے والے ہیں یا اسے پورا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ’’جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دو ہی زمانوں میں ہونی تھی ایک آپؐ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح و مہدی کا زمانہ یعنی ایک زمانے میں تو قرآن اور سچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس تعلیم پر فیج اعوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیحؑ کے زمانہ میں مقدر تھا… رسول ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تو …جماعت صحابہ کرام ؓکا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ(الجمعۃ:4) آیا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا تعالیٰ حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا آثار میں ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہوگی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو ان غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہو گئی ہوں گی۔‘‘

(ملفوظات جلد1صفحہ40، ایڈیشن1984ء)

جس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام مبعوث ہوئے اس وقت ہر وہ شخص جو اسلام کا درد رکھتا تھا یہ دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو بھیجے جو اسلام کی اس ڈولتی کشتی کو اس بھنور سے نکالے اور اسلام کی تعلیم کا دوبارہ بول بالا ہو اور اس کی خوبصورت اور روشن تعلیم دوبارہ دنیا پر ظاہر ہو اور جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ فکر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ہی تھی جنہوں نے عملی جہاد میں بھی حصہ لیا۔ آپ کے دل میں ایک غم تھا، ایک آگ سی لگی ہوئی تھی کہ کس طرح کوشش کر کے اللہ تعالیٰ کے اس خوبصورت پیغام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلاؤں۔ دنیا کو اس سے آگاہ کروں اور بتاؤں کہ آج اگر اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کا عرفان دلانے والا کوئی مذہب ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ چنانچہ اس زمانے میں آپ نے براہین احمدیہ تصنیف فرمائی۔ اس وقت کے علماء نے آپ کی اس کتاب کی بڑی تعریف کی اور بہت سو ںنے کہا کہ اسلام کی تائید میں ایسی کتاب آج تک نہیں لکھی گئی۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد1صفحہ172)اور یہ ان حالات میں تھا جبکہ اسلام پر تابڑ توڑ حملے ہو رہے تھے اور مسلمان اسلام چھوڑ کر عیسائیت کی گود میں گر رہے تھے یا بعض دہریہ ہو رہے تھے۔ پس یہ اعتراف اس زمانے میں لوگوں نے کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو یہ درد اس لیے تھا کہ آپؑ کو دین اسلام سے محبت تھی۔ آپؑ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اور خدائے واحد کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے ایک تڑپ تھی۔ پس آپؑ نے ایک کتاب لکھی تاکہ دنیا کو بتائیں کہ اس وقت ایک ہی دین ہے جو دنیا کے مسائل کا حل ہے۔ جو حق پر چلانے والا دین ہے۔ حق کی تعلیم دینے والا اور کامل اور مکمل دین ہے۔ آپ نے یہ کتاب لکھ کر جس کی دو تین جلدیں تھیں دنیا کو باور کرایا کہ اسلام ہی حقیقی دین ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو علم و عرفان اس حد تک عطا فرمایا کہ جس کی کوئی مثال نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا تھا کہ جس مسیح و مہدی نے آنا ہے جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور جس کی پیشگوئی خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی فرمائی وہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے شروع سے ہی آپ کی اس نہج پر تربیت کی اور آپ کو علم و عرفان عطا فرمایا کہ آپ نے ایسے دلائل پیش کیے کہ دشمن کا منہ بند کر دیا اور دشمن ہر جگہ سے آپ کے مقابلے سے بھاگنے لگا۔ یہ سب کچھ آپ نے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے کیا۔ آپ نے خود فرمایا ہے کہ میں تو گھر سے کچھ نہیں لایا، میں نے تو جو کچھ تعلیم حاصل کی، جو کچھ اعزاز مجھے ملا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ سے محبت میں ملا۔

(ماخوذ از حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد22صفحہ64)

آپؑ کی محبت کا یہ عالم صرف بڑی عمر میں ہی نہیں تھا بلکہ بچپن اور شروع جوانی سے ہی تھا۔ ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ ’’اوائل ایام جوانی میں ایک رات میں نے (رؤیا میں )دیکھا کہ میں ایک عالی شان مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور چرچا ہو رہا ہے۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضورؐ کہاں تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر چلا گیا۔اور جب میں حضورؐ کی خدمت میں پہنچا تو حضورؐ بہت خوش ہوئے اور آپؐ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔آپؐ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپؐ کی پُرشفقت و پُر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔ آپؐ کی محبت نے مجھے فریفتہ کر لیا اور آپؐ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس وقت آپؐ نے مجھے فرمایا کہ اے احمد! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔ میں نے عرض کیا حضورؐ یہ میری ایک تصنیف ہے۔آپؐ نے پوچھا اس کتاب کا کیا نام ہے تب میں نے حیران ہو کر کتاب کو دوبارہ دیکھا تو اسے اس کتاب کے مشابہ پایا جو میرے کتب خانہ میں تھی اور جس کا نام قطبی ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کا نام قطبی ہے۔ فرمایا: اپنی یہ کتاب قطبی مجھے دکھا۔ جب حضورؐ نے اسے لیا تو حضورؐ کا مبارک ہاتھ لگتے ہی ایک لطیف پھل بن گیا جو دیکھنے والوں کے لیے پسندیدہ تھا۔ جب حضورؐ نے اسے چیرا جیسے پھلوں کو چیرتے ہیں تو اس سے بہتے پانی کی طرح مصفّا شہد نکلا اور‘‘ اس طرح بہا کہ’’میں نے شہد کی طراوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ہاتھ پر انگلیوں سے کہنیوں تک دیکھی ۔ ‘‘یوں شِیرا بہ رہا تھا۔’’ اور شہد حضورؐ کے ہاتھ سے ٹپک رہا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گویا مجھے اس لیے وہ دکھا رہے ہیں تاکہ مجھے تعجب میں ڈالیں۔ پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ دروازے کی چوکھٹ کے پاس ایک مُردہ پڑا ہے جس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اس پھل کے ذریعہ مقدر کیا ہوا ہے اور یہی مقدر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زندگی عطا کریں۔ میں اسی خیال میں تھا کہ دیکھا کہ اچانک وہ مُردہ زندہ ہوکر دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا اور میرے پیچھے کھڑا ہو گیا مگر اس میں کچھ کمزوری تھی گویا وہ بھوکا تھا۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اس پھل کے ٹکڑے کیے اور ایک ٹکڑا ان میں سے حضورؐ نے خود کھایا اور باقی سب مجھے دے دیے۔ ان سب ٹکڑوں سے شہد بہہ رہا تھا اور فرمایا: اے احمد! اس مُردہ کو ایک ٹکڑا دے دو تا اسے کھا کر قوت پائے۔ میں نے دیا تو اس نے حریصوں کی طرح اسی جگہ ہی اسے کھانا شروع کر دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرسی اونچی ہوگئی ہے حتّٰی کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپؐ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعاعیں پڑ رہی ہیں۔ میں آپؐ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور ذوق اور وجد کی وجہ سے میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر میں بیدار ہو گیا اور اس وقت بھی میں کافی رو رہا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مُردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے ذریعے سےاسے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا ۔‘‘ فرمایا کہ ’’اور تمہیں کیا پتہ کہ شاید یہ وقت قریب ہو اس لیے تم اس کے منتظر رہو اور اس رؤیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اپنے پاک کلام سے اپنے انوار سے اور اپنے (باغ قدس) کے پھلوں کے ہدیہ سے میری تربیت فرمائی تھی۔‘‘

(ترجمہ عربی عبارت آئینہ کمالاتِ اسلام،روحانی خزائن جلد5صفحہ548-549 ازتذکرہ صفحہ1تا 3ایڈیشن ششم2023ء)

پس آپؑ کی تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمائی اور آپؐ کی تعلیم ہی سے آپؑ نے سب کچھ حاصل کیا تو اس طرح

اللہ تعالیٰ نے اپنے اس پیارے کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دنیا میں قائم کرنے کی تڑپ رکھنے والا تھا یہ خوشخبری دی کہ اے میرے پیارے اب یہ کام تمہارے سپرد ہے کہ اسلام کی اس کشتی کو باحفاظت کنارے پر پہنچاؤ اور تمام دنیا کو اس کے سائے تلے لے آؤ، اس میں بٹھا لو بلکہ اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح فرمایا کہ دنیا کی نجات اسی میں ہے۔

اب جو کوئی تمہارے مقابلے میں کھڑا ہوگا وہ تمہارے سے نہیں بلکہ مجھ سے لڑ رہا ہوگا اور جو تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا، جو تیری تائید کرے گا، جو تیری جماعت میں داخل ہوگا وہ میرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اور یہی لوگ ہوں گے جو میرا قرب پانے والے ہوں گے۔

دعویٰ سے پہلے، بیعت لینے سے بھی پہلے 1888ء کی بات ہے کہ آپؑ کو ایک الہام ہوا جس کا ذکر آپ نے ان الفاظ میں فرمایا کہ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لیے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لیے مجھ سے بیعت کریں۔ پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کے لیے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کے لیے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربانی شرائط پر چلنے کے لیے بدل و جان طیار ہوں گے۔‘‘ یہ شرط ہے کہ ربانی شرائط پر چلنا اور اس کے لیے بدل و جان تیار ہونا ضروری ہے نہ یہ کہ صرف زبانی بیعت کر لی جائے۔ فرمایا کہ ’’یہ ربانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچا دیا ہے اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے اِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللّٰه يَدُاللّٰهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۔ ‘‘

(سبز اشتہار،روحانی خزائن جلد 2صفحہ470)

کہ جب تُو عزم کر لے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر اور ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے ماتحت نظام جماعت کی کشتی تیار کر جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے جو لوگ تمہارے ہاتھ پر بیعت کریں گے وہ دراصل خدا کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہوگا۔

پھر 1888ء میں ہی آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جسے آپ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ’’اس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفان ضلالت برپا ہے۔ تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیار کر۔ جو شخص اس کشتی میں سوار ہوگا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اس کے لیے موت درپیش ہے اور فرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔ ‘‘

(فتح اسلام،روحانی خزائن جلد3صفحہ64-65)

پس آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ اعلان فرما دیا کہ اگر تم سچائی اور خدا تعالیٰ کی طرف جانے کا صحیح راستہ تلاش کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں مجھے اس کام کے لیے بھیجا ہے میرے پیچھے آؤ اور میری جماعت میں شامل ہو جاؤ تو تمہارا دین بھی سنور جائے گا، تمہاری دنیا بھی سنور جائےگی، تمہاری عاقبت بھی سنور جائے گی اور اس دنیا میں بھی تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنو گے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنو گے لیکن شرط یہی ہے کہ خالص محبت اپنے دلوں میں پیدا کرنی ہوگی اور سستیاں دور کرنی ہوں گی تبھی تم اس بیعت کا حق ادا کرنے والے بن سکو گے اور ان سب باتوں سے فیضیاب ہونے والے بن سکو گے۔

پس ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم میں وہ خالص محبت اور دین کو حاصل کرنے کے لیے وہ جستجو ہے۔ کیا ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کرتے ہیں اس کے لیے ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں یا صرف وقتی جوش کے تحت کبھی مال قربان کر دیا اور کبھی جان قربان کر دی اور پھر مستقل مزاجی سے ان باتوں پر عمل نہیں کرتے جو اسلام کی حقیقی تعلیم ہیں۔

پس اگر ہم نے فیض پانا ہے اور اگر ہم نے حقیقت میں ان تمام برکات سے حصہ لینا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آنے کے ساتھ وابستہ کی ہیں تو ہمیں بہرحال اپنے عملوں کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ آپؑ نے فرمایا تھا کہ میں تمہارا ایک پکّا ہمدرد ہوں، سچا ہمدرد ہوں۔

میں تمہیں ایسے راستے بتاؤں گا جو تمہارے گناہوں کا بوجھ ہلکا کریں گے۔ تمہارے لیے میں دعائیں کروں گا جو عرش پر انشاء اللہ قبول ہوں گی۔ عارضی طور پر مسائل بھی آئیں گے۔ آفات بھی آئیں گی۔ مشکلات بھی آئیں گی لیکن اللہ تعالیٰ تمہاری دین و دنیا اور آخرت سنوارنے میں میرے ساتھ جڑنے سے ہی ایک ایسی حالت پیدا کرے گا جو تمہیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوگی اور جو دنیا و آخرت سنوارنے کا ذریعہ بنے گی۔

پس جس شخص کا ہاتھ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے کے ہاتھ میں ہو وہ کبھی ضائع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی نسلیں ضائع ہوتی ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ذریعے سے ہی اب یہ فیض جاری ہوا ہے ورنہ روحانی موت تو دنیا کا مقدر بن چکی ہے۔ آج کل کے حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دنیا داری میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ روحانیت کا نام و نشان نہیں رہا اور دنیا نے دین کا مذاق اڑانا شروع کیا ہوا ہے۔ اس لیے آج

ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس نے عہد بیعت کیا ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔ اپنے اعمال ایسے بنائیں جو خدا تعالیٰ کی رضااور اس کی تعلیم پر چلنے کا نمونہ ہوں۔ اپنی عبادتوں کے وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنیں۔

جب ایسی صورت ہوگی تو پھر ہم اس بیعت سے بھی فیض پانے والے ہوں گے جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ہاتھ پر کی ہے۔ ہم ان برکات سے بھی فیض حاصل کرنے والے ہوں گے جو برکات اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ جڑنے سے مقدر کی ہیں۔

بہرحال اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو یہ حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کرو کہ میری بیعت میں آؤ تاکہ نجات پاؤ تو آپ نے 1889ء میں پہلی بیعت لی اور اس میں خاص طور پر اس طرف توجہ دلائی کہ یہ عہد کرو کہ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھو گے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عشق اور وفا کا تعلق رکھو گے اور میرے ساتھ بھی ایک خاص تعلق وفا کا پیدا کرو گے۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 1صفحہ159-160)تب تم اس کشتی میں سوار ہو جاؤ گے جو ان طوفانوں سے تمہیں بچا کر لے جائے گی اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوگی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے یہ واضح اعلان فرمایا کہ مَیں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اس لیے تم میری بیعت کرو۔ یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جو انسانی بس میں نہ تھا کیونکہ کوئی اَور ایسا دعویدار پیدا نہیں ہوا جس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہو، اتنی عمر بھی پائی ہو اور اس کی جماعت نے ترقی بھی کی ہو۔ آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ دنیا کے 215 بلکہ اس سے بھی زیادہ ممالک میںپھیل گئی ہے، اور دنیا کے ہر ملک میں احمدی موجود ہیں۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت ہی ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ سب کچھ نظر آ رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں جو جھوٹے دعویدار تھے انہیں تو اللہ تعالیٰ نے پکڑا اور تباہ و برباد کر دیا بلکہ جو مقابلے میں بھی آئے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی ختم کر کے رکھ دیا۔ اگر کہیں کسی حکومت یا گروہ کو عارضی کامیابی مل رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تائید ان کے ساتھ ہے کیونکہ ان کے خلاف انہی میں سے لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور چند سال بعد وہی لوگ جو اپنی طرف سے بڑے زعم میں اٹھے ہوتے ہیں آخر کار تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ۔

لیکن حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت ہے جو ترقی پر ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔ اگر کہیںحکومتوں کے قانون سے جماعت کو دبایا بھی گیا ہے تو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ترقیات سے نوازا ہے۔ ایک جگہ اگر روک ڈالی جارہی ہے تو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ میدان کھولتا چلا جارہا ہے۔اور پھر جہاں روک ڈالی جا رہی ہے وہاں بھی وہ اس جماعت کو ختم نہیں کر سکے، نہ ہی لوگوں کے ایمانوں کو ختم کر سکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ اپنے ایمانوں پر قائم اور مضبوط ہیں۔ آج بھی مجھے پاکستان سے اور دوسری جگہوں سے جہاں مخالفت ہے خط آتے ہیں کہ کوئی ہمارے ایمانوں کو ہلا نہیں سکتا۔ ٹھیک ہے کہ چند کمزور بھی ہوتے ہیں لیکن اکثریت ایمانوں میں پختہ ہے۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ جب یہ سارے الہام مجھے جماعت قائم کرنے کے لیے ہوئے اس وقت مجھے فکر دامن گیرہوئی کہ ہر مامور کے لیے سنت الٰہیہ کے موافق ایک جماعت کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس کا ہاتھ بٹائیں۔ بغیر مددگاروں کے نبی کام نہیں کرتے نہ کر سکتے ہیں۔ انبیاء کی جماعتیں ہوتی ہیں اور اس کے مددگار بھی ہوتے ہیں اور مال کا ہونا بھی ضروری ہے تادینی ضروریات میں، جو پیش آتی ہیں، خرچ ہو سکے۔ اخراجات بھی ہوتے ہیں اور سنت اللہ کے موافق اعدا ء کا ہونا بھی ضروری ہے یعنی دشمنوں کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ انبیاء کی ہمیشہ دشمنی ہوتی ہے اور پھر ان پر غلبہ بھی ضروری ہے تاکہ ان کے شر سے محفوظ رہیں اور امر دعوت میں تاثیر بھی ضروری ہے تا سچائی پر دلیل ہو۔ دعوت اور تبلیغ کا بھی اثر ہونا چاہیے تاکہ سچائی بھی قائم ہو اور تا اس خدمت مفوضہ میں ناکامی نہ ہو۔

(ماخوذ ازنصرۃ الحق،روحانی خزائن جلد21 صفحہ67)

پس دیکھ لیں الٰہی جماعتوں کے لیے جو باتیں ضروری ہیں وہ آج ہمیں جماعت احمدیہ کے علاوہ اَور کہیںنظر نہیں آتیں۔ آپؑ کو فکر ہوئی کہ اگر میں مامور ہوں تو مامور کے لیے جماعت بھی ہوتی ہے، وہ کہاں ہے، میرے پاس تو کوئی جماعت نہیں۔ میں تو اکیلا آدمی ہوں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت دی اور ایسے مخلصین کی جماعت دی کہ جنہوں نے قربانیاں بھی کیں۔ اعلیٰ معیار بھی قائم کیے اور اپنی جانوں کےنذرانے پیش کیے اور آج تک اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے چلے جا رہے ہیں صرف دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لیے۔ اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مشن کو پورا کرنے کے لیے۔ اپنے دین پر اس عہد کے ساتھ قائم رہے کہ ہم نے جو عہد بیعت باندھا ہے ہم اس پر قائم رہیں گے اور تادم آخر اپنے دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ جماعت احمدیہ میں اس کی مثالیں آج ہر جگہ پاکستان میں، افریقہ میں اور بعض دوسرے ممالک میں ملتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جہاں احمدی شہید کیے جاتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا بہتر تعارف ہوتا ہے اور پھر جماعت پھیلتی ہے۔ اسی طرح ان الٰہی جماعتوں کی یہ بھی نشانی ہے کہ ان کے ایسے مددگار ہوں جو مالی قربانیاں کرنے والے ہوں۔ چنانچہ دیکھ لیں آج روئے زمین پر صرف اور صرف حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کے ماننے والے ہی ہیں جن کی جماعت قربانیاں کرتی چلی جا رہی ہے اور ہر سال مَیں اپنی رپورٹوں میں بھی ان قربانیوں کا ذکر کرتا ہوں کہ کس طرح لوگ قربانیاں کرتے ہیں اور کس طرح لوگوں میں یہ روح پیدا ہو گئی ہے کہ ہم نے دین کی خاطر قربانیاں کرنی ہیں۔ افریقہ میں دیکھ لیں، ہندوستان میں دیکھ لیں، یورپ میں دیکھ لیں، روس میں دیکھ لیں، عرب ممالک میں دیکھ لیں ہر جگہ ہمیں مالی قربانیوں کی مثالیں نظر آتی ہیں۔

انڈیا

سے ایک رپورٹ مَیں دیکھ رہا تھا۔ ایک شخص نے لکھا کہ میں نے 2014ء میں بیعت کی تھی اور مجھے احمدیہ جماعت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ اس وقت چندہ وقفِ جدید کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے کہا کہ میں چار ہزار روپے ادا کروں گا اور مَیں نے ادا کر دیا۔ میرے پاس وہی گنجائش تھی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے وعدہ تھا کہ ایسے گروہ پیدا ہوں گے جو تیری مدد کریں گے تو میں بھی ان کی مدد کروں گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے مال میں اتنی برکت ڈالی کہ وہ کہتے ہیں کہ وہی چار ہزار دینے والا شخص آج پانچ لاکھ روپے چندہ دے رہا ہے۔ اسی طرح دوسرے ممالک کی مثالیں ہیں۔ مثلاً

جارجیا

میں ایک صاحب ہیں جو فلسطینی ہیں۔ اس وقت جب انہوں نے یہ واقعہ لکھا تھا وہ میڈیکل سٹوڈنٹ تھے۔ کہتے ہیں مجھے فکر ہوتی تھی کہ میرے پاس پیسے نہیں۔ بعض دفعہ ایسے موقعےآتے تھے اور میں سوچتا کہ کس طرح اپنے چندے ادا کروں گا لیکن اللہ تعالیٰ ایسے موقعوں پہ بھی ایسی برکت ڈالتا تھا کہ میں حیران ہو جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقع پر مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، میں نے چندہ دینا تھا۔تو حکومت کی طرف سے مجھے ایک ہزار ڈالر ٹرانسفر ہو گئے جس کی مجھے کوئی توقع نہیں تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہی مالی قربانیوں کی وجہ سے جو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے لیے کرنا چاہتا ہوں اور کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے میرے مال میں برکت ڈالی۔

پھر انڈونیشیا ہے، افریقہ ہے اور بہت سارے ممالک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مالی قربانیاں کرنے والے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے اپنا مال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پورا کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں تاکہ تبلیغِ اسلام اور تکمیلِ اشاعتِ اسلام کا کام ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کو اس طرح نوازتا ہے جیسے کہ کئی لوگ لکھتے رہتے ہیں۔ میں نے کچھ بیان بھی کیا۔ مجھے لوگ لکھتے ہیں کہ جب ہم مالی قربانیاں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں غیر معمولی غیر محسوس طور پر اور عجیب و غریب طریقوں سے مال فراہم کر دیتا ہے اور ہمارے مال میں کشائش پیدا ہو جاتی ہے جس سے ہم پھر دوبارہ ایک نئے جوش کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو بڑھانے کے لیے مالی قربانی کرتے ہیں۔

پس جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور فرمایا اور یہ وعدہ کیا تو آپ کی اس فکر کو بھی دور فرما دیا کہ اس کام کے لیے مال بھی ہونا چاہیے جو اشاعتِ اسلام اور دین کی سربلندی کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ وہ مال اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مہیا فرما دیا۔

آج آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں دیکھ لیں کہ آج سے چالیس سال یا پچاس سال پہلے بلکہ دس پندرہ بیس سال پہلے آپ یہ تصوّر بھی نہیں کر سکتے تھے کہ جرمنی میں بیٹھ کر آپ اتنے وسیع مجمع کی صورت میں جمع ہو سکیں گے اور آپ کے جلسے کے انتظامات پر ہی کئی ملین یورو خرچ ہو جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے ذرائع پیدا فرما دیے کہ مالی قربانیاں کرنے والے لوگ موجود ہیں جو کئی ملین یورو بھی دے دیتے ہیں اور اس کے ذریعے سے تبلیغ اسلام کا کام بھی جاری ہے۔

یہاں بہت سارے غیر مسلم اور اسلام پر تنقید کرنے والے لوگ بھی آتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ آپ لوگ کس طرح خلوص کے ساتھ روحانی علم سیکھنے اور اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے جمع ہیں اور اس مقصد کے لیے خود قربانی کر کے ایک جنگل کو شہر میں تبدیل کر دیا۔ تو انہیں حیرت ہوتی ہے اور پھر ان میں بھی خدا تعالیٰ پر یقین کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اب دو سال سے جرمنی والے بھی باہر جلسہ منعقد کر رہے ہیں اور وہاں بھی انہوں نے عارضی انتظامات کیے ہیں اور یہ جنگل کو شہر میں تبدیل کرنے والی بات ہی ہے۔ تو یہ وہ ذرائع ہیں کہ

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کو بھیجا تو اس کے لیے وسائل بھی مہیا فرما دیے۔

اسی طرح آج ہم دیکھتے ہیں کہ

ایم ٹی اے کے ذریعے سے دنیا کے کونے کونے میں تبلیغ اسلام کا کام ہو رہا ہے

جس پر ملینز ڈالر اور پاؤنڈ خرچ ہو رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک مثلاً افریقہ میں، انڈونیشیا میں، امریکہ میں اور یورپ میں ہمارے ایم ٹی اےاسٹوڈیوز قائم ہو چکے ہیں جن کے ذریعے سے پروگرام بن کر دنیابھر میں پھیل رہے ہیں اور تبلیغِ اسلام اور تبلیغِ احمدیت ہو رہی ہے۔ یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے ہو رہے ہیں ورنہ یہ انسانی بس کی بات تو نہیں تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا جو اس نے فرمایا تھا کہ میں تجھے مقرر کر رہا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی وعدہ فرمایا تھا کہ

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔‘‘

(تذکرہ صفحہ281 ایڈیشن ششم 2022ء)

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کا پاس بھی کرنا تھا اور اس نے اس کا پاس کیا اور اسے پورا بھی کیا۔

پھر آپؑ نے فرمایا کہ

الٰہی جماعتوں کے لیے دشمنوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔

یہ بھی ایک سچائی کی نشانی ہے اور الٰہی جماعتوں کی صداقت کی نشانی ہے کہ ان کے دشمن ہوں۔ آج دیکھ لیں کہ بحیثیت جماعت اگر کسی کی مخالفت کی جاتی ہے تو وہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کی جاتی ہے۔ آپس میں بیشک یہ لوگ لڑ بھی رہے ہوں۔ کافروں کی نشانی خدا تعالیٰ نے یہی بتائی ہے کہ قُلُوبُهُمْ شَتّٰى۔(الحشر:15) یعنی ان کے دل پھٹے ہوئے ہوتے ہیں لیکن جب احمدیت کا معاملہ آتا ہے تو یہ سب ایک ہو کر ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال آج ہمیں صرف جماعت احمدیہ کے مخالفین میں نظر آتی ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عجیب طریقوں سے مدد فرماتا ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ دشمنوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ دشمنیاں آج تک چل رہی ہیں اور ان دشمنیوں ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جماعت کو ترقی دیتا چلا جا رہا ہے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ ہم نے احمدیت کی مخالفت کر کے ان کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ دشمنی کا یہ حال ہے۔ حالانکہ اگر پاکستان میں مخالفت کرتے ہیں اور ہمیں تبلیغ کے کھلے وسائل اور ذرائع میسر نہیں ہیں تو دنیا میں اور جگہوں پر تبلیغ ہو رہی ہے۔ بلکہ پاکستانی مولویوں کے اسی عمل کی وجہ سے اسلام اور احمدیت کا تعارف دنیا میں پھیل رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی جگہوں پر بھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے نظارے دکھاتا ہے۔

کس طرح اللہ تعالیٰ یہ نظارےدکھاتا ہے۔ تنزانیہ کے ایک ریجن میں ایک شخص ہماری مسجد میں آیا، جنگینی غالباً نام ہے۔ وہ سُنّی مسلمان تھا۔ احمدی نہیں تھا۔ کہنے لگا کہ آپ لوگ اسلام کی تعلیم سے دور ہیں اور مخالفت شروع کر دی۔ اس نے کہا کہ چونکہ آپ لوگ احمدی ہو کر اسلام سے ہٹ گئے ہیں اس لیے دوبارہ اسلام میں داخل ہوں۔ اس نے ہماری مسجد میں آکرشور مچانا شروع کر دیا۔ فسادی تھا۔ بعض فتنہ پرداز ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ اس پر معلم صاحب نے اسے جماعتی تعلیم کے حوالے سے بتایا کہ ہم کیا مانتے ہیں؟ یہی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور جس مسیح موعود نے آنا تھا وہ آ چکا ہے اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپؐ کی غلامی میں امتی نبی آ سکتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آپؐ کی غلامی میں ہی امتی نبی ہیں ،کوئی شرعی نبی نہیں۔ آپؑ کا تو دعویٰ ہی یہی ہے کہ میں نے جو کچھ پایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے ہی پایا۔ آپؐ کے عشق اور آپؐ کی محبت سے پایا۔ جس پر اس سنی شیخ نے، جو مولوی تھا مباحثے کا اعلان کر دیا۔ جب معلم صاحب نے اسے مباحثے کے لیے بلایا تو اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ خود ہی مکر گیا۔ کہنے لگا کہ اسے مناظرے کی اور مباحثے کی اجازت نہیں ملی اور اس کے لیے اسے اپنی تنظیم کو کچھ رقم دینی پڑے گی،جو اس کے پاس نہیں ہے، بہانے بنانے لگا۔ معلم صاحب نے اسے کہا کہ تم نے جو فیس دینی ہے وہ رقم مَیں ادا کر دیتا ہوں۔ جس پر اس سنی شیخ نے پھر اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں اور فرار کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ جب اس بات کا علم دوسرے لوگوں کو ہوا جو غیر احمدی مسلمان تھے تو انہوں نے کہا کہ ان دلیلوں سے جو یہ احمدی معلم دے رہا ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پا چکے ہیں اور جو باتیں یہ کررہا ہے وہ صحیح ہیں۔ اب ہمیں سمجھ آئی ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں تو وہ آکر ہماری مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ تم کہتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام مدد کرنے آئیں گے اور پھر اسلام کابول بالا ہوگا اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔ مہدی بھی اس کے ساتھ ہوگا۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم احمدیت کے ساتھ ہیں کیونکہ احمدیت کی دلیل بڑی واضح ہے کہ کوئی انسان ہمیشہ زندہ نہیں رہتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک انسان تھے اور وہ فوت ہو گئے۔ قرآن بھی یہ ثابت کرتا ہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ یہاں کوئی احمدی کو تبلیغ سے نہیں روک سکتا اور نہ ہی کوئی ان کو یہ کہہ سکتا ہے کہ تم دوبارہ مسلمان ہو جاؤ۔ یہ تو خود مسلمان ہیں اور مسلمانوں والی باتیں کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے مسلمان احمدی ہوگئے اور انہوں نے کہا یہ تو مسلمانوں والی باتیں کرتے ہیں۔ ہم ان کو تنگ نہیں کریں گے اور نہ کسی کو تنگ کرنے دیں گے۔ ان غیروںمیں سے خود ہی ہماری حفاظت کے لیے بھی کھڑے ہو گئے۔

ایک احمدی بشیر صاحب ہیں انہوں نے اس سنی شیخ سے کہا کہ قرآن کریم کی ایک آیت سے بھی ثابت کر دو کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ اگر کوئی ایسی دلیل لے آؤ جس سے حیاتِ مسیح ثابت ہو جائے تو میں اپنے دو گھر اور دو ملین تنزانین شلنگ تمہیں دے دوں گا۔ بہرحال اس پر اس شخص نے معذرت کی اور دوڑ گیا اور کہا نہیں مَیں نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت کا ایک نیک اثر قائم ہوا اور جماعت مضبوطی سے وہاں پھیل رہی ہے۔ تو اس طرح دشمن مخالفتیں کر رہے ہیں۔

ایسے بہت سارے واقعات روزانہ ہمارے سامنے آتے ہیں کہ دشمن کسی نہ کسی طرح جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت کو ایسے ایسے سلطان نصیر عطا فرما رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔

دور دراز علاقوں میں جہاں ابھی تک صحیح طرح لٹریچر نہیں پہنچا اور لوگ اردو نہیں پڑھ سکتے ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے جو کچھ پڑھا اور سیکھا ہے اسی سے ان کے پاس ایسے دلائل ہیں کہ انہوں نے دشمنوں کا منہ بند کر کے رکھ دیا ہے اور دشمن اس بات پر مجبور ہے کہ وہ ہمارے سامنے نہ ٹک سکے۔ اس وقت جن جن مختلف ملکوں میں جماعت موجود ہے وہاں احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی روشنی میں ایسے دلائل اور براہین سے پُر ہیں کہ جن کا مقابلہ دشمن کر ہی نہیں سکتا۔

ان نام نہاد مولویوں میں تو اتنی جرأت ہی نہیں ہے کہ مقابلہ کر سکیں اور دلائل دے سکیں۔ اگر ان میں جرأت اور مقابلے کی طاقت ہوتی اور خود کو سچا سمجھتے تو حکومتوں کا سہارا لینے کے لیے یا ان کے ذریعے سے لوگوں کو مسلم اور غیر مسلم قرار دینے کے یا بعض تنظیموں کے ذریعے سے دینی کام میں روکیں ڈالنے کی بجائے یہ ہمارے مقابلے پر آتے، پبلک میں آتے، ٹی وی پر آتے، اخباروں میں آ کر مناظرہ اور مقابلہ کرتے۔

صرف یکطرفہ نعرے لگا دینا اور اعتراض کر دینا اور گالیاں دے دینا تو کمال نہیں ہے۔ باقاعدہ بحث ہو تو پھر پتالگتا ہے۔ پھر لوگوں کو فیصلہ کرنے دیتے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔

مساجد بنانے میں بھی مخالفت کی جاتی ہے۔

جماعت احمدیہ جہاں بھی ہے وہاں یہ کوشش ہوتی ہے کہ مسجد بن جائے تاکہ لوگ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ سکیں۔

نائیجر

میں ایک جگہ جماعت نے ایک چھوٹا سا قطعہ زمین خریدا بلکہ یہ شہر کی انتظامیہ نے دیا تھا کہ مسجد بنا لیں۔ اس وقت انہوں نے مخالفت نہیں کی لیکن اس پر وہاں کے بعض اہلِ سنت لوگوں نے اور دیگر فرقوں نے بلکہ مقامی قبائلی چیف نے اور جہاں شہر کی جامع مسجد تھی اس کے امام نے بھی شہری انتظامیہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا کہ تم نے ان کو مسجد بنانے کے لیے زمین کیوں دی ہے لیکن انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی۔ بہرحال جب مسجد کی تعمیر کے لیے شہر کی انتظامیہ سے اجازت طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ پہلے شہر والوں سے اجازت نامے پر دستخط کراؤ۔ شر پسندوں نے انتظامیہ کو اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ فتنے سے بچنے کے لیے پہلے شہر والوں سے دستخط کروائے جائیں۔ بہرحال اس پر علاقے کے مقامی قبائلی چیف اور امام مسجد نے تو دستخط کر دیے۔ امام مسجد شریف النفس معلوم ہوتا ہے۔ اس نے پہلے تو مخالفت کی تھی لیکن بعد میں دستخط کر دیے۔ شہر کے چیف نے مخالفین سے ڈرتے ہوئے دستخط نہیں کیے۔ بلکہ اسی طرح جس طرح آج کل پاکستان میں حکومت اور انتظامیہ تحریک لبیک والوں سے ڈر کر احمدیوں کے بہت سارے حقوق پامال کر رہی ہے اور انصاف سے کام نہیں لیتی ان لوگوں نے بھی ایسی حرکت کی۔ بہرحال وہاں بھی کچھ لوگوں کا ایسا ہی اثرو رسوخ ہوگا جس طرح پاکستان میں مولویوں کا ہے۔ جس کی وجہ سے چیف گھبرا گیا اور اس نے دستخط نہیں کیے لیکن قبائلی چیف جو کہ ایک جرأت مند شخص تھا اور وسیع علاقے کا چیف تھا اسے یہ بات بہت بری لگی کہ مسجد تو اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔ اس پر وہ قبائلی چیف، جس کے تحت دو سو سے زیادہ قصبے اور دیہات تھے، انتظامیہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو مسجد تعمیر کرنے دو۔ بے شک شہر کا چیف راضی نہ ہو۔ بہرحال اس پر شہر کے میئر نے پھر دستخط کر دیے اور مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے وہاں مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔

اس طرح کے بے شمار واقعات روزانہ پیش آتے ہیں اور رپورٹوں میں اس بات کا ذکر ہوتا ہے کہ کس طرح مختلف جگہوں پر لوگ کھلم کھلا مخالفت کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پھر اپنی تائید بھی فرماتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ وہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کر رہا ہے

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’جب تُو بیعت لے رہا ہے تو میرا ہاتھ تیرے ہاتھ کے اوپر ہے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ پھر مدد بھی کر رہا ہے۔

اگر کہیں بعض لوگ کمزوری ایمان کی وجہ سے پیچھے ہٹ بھی جاتے ہیں تو بعد میں بہت سارے ایسے بھی ہیں جو معافی کے خطوط بھی لکھتے ہیں لیکن جو کمزور ایمان والے ہٹتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی جگہ دوسرے مقامات پہ مضبوط ایمان والے لوگ عطا فرماتا چلا جاتا ہے اور ہر سال لاکھوں لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی علامت ہے کہ وہ کس طرح لوگوں کے دلوں کو پھیر پھیر کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں لا رہا ہے۔

یہ مخالفت کرنے والے لوگ یقینا ًجھوٹے لوگ ہیں کیونکہ اگر سچے ہوتے تو دلیل سے کام لیتے۔ ظلم اور مار دھاڑ نہ کرتے۔ ان کا ظلم اور مار دھاڑ کرنا، احمدیوں کو قبرستانوں میں دفن نہ ہونے دینا، احمدیوں کی قبروں کو توڑنا اور ان کی جائیداد اور املاک کو نقصان پہنچانا یہ سب ان کے جھوٹے ہونے کی نشانیاں ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ایمان کو ثریّاسے لے کر آئے اور اسلام کی حقیقی تعلیم کو دوبارہ دنیا میں رائج کر رہے ہیں، دنیا میں پھیلا رہے ہیں اور ہم اس مقصد کے لیے ہر ممکن وسیلہ اختیار کر رہے ہیں۔ آج کل اس پیغام کی اشاعت کے لیے ٹی وی ہے، سوشل میڈیا ہے، پرنٹ میڈیا ہے اور لٹریچر ہے۔ یہ تمام ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ ہی ہے جو دنیا میں اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ(الجمعۃ:4) کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پس ہمیں اس بات پر گھبرانے کی ضرورت نہیں کہ دشمن ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے یا جماعت احمدیہ کی فلاں جگہ بظاہر ترقی نہیں ہو رہی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ ترقی کررہی ہے اور لاکھوں لوگ ہر سال دنیا میں جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ بعض جگہ جہاں لگتا ہے کہ نہیں ہے وہاں بھی خاموشی سے کام ہو رہا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ دعوت کی تاثیر ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ سچائی پر دلیل ہو۔ وہ تاثیر بھی ظاہر ہو رہی ہے اور اگر ان مولویوں کو اس قدر یقین ہے کہ ہم جھوٹے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا مولوی ہمیں کھلی اجازت کیوں نہیں دیتے کہ ہم تبلیغ یا مناظرہ کریں اور پھر لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔پس

آپ لوگ جنہوں نے اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ماناہے، آپ کی شناخت کی اور آپؑ کی بیعت میں داخل ہوئے ہیں آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ دنیا کو یہ پیغام پہنچائیں کہ جو مسیح اور مہدی آنے والا تھا وہ آ چکا ہے۔

جو پہنچا سکتے ہیں وہ مسلمانوں کو خاص طور پر یہ پیغام پہنچائیں۔ جن جگہوں پر کھل کر تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہے وہاں کے لوگ کم از کم دعائیں تو کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے سینے کھولے اور ان کو مسیح موعود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔

آج کل دنیا اور بالخصوص مسلمانوں کی کس قدر بے بسی کی حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ بعض مسلمان ملکوں کے پاس دولت ہے اور پیسہ ہے، مسلمان دنیا میں اس طرح ڈوبے ہوئے ہیں، اس طرح دنیاوی کاموں میں پڑے ہوئے ہیں کہ غیر مسلم اور اسرائیلی حکومت ان پر ظلم پر ظلم کرتی چلی جا رہی ہے اور مسلمانوں کو بچانے والا کوئی نہیں۔ اگر جنگ اور جہاد کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس کی بھی ہمت نہیں ہے۔ بہرحال ہم تو اس بات کے قائل ہی نہیں ہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ دعاؤں اور اپنے عملوں سے اسلام کا خوبصورت پیغام پہنچاؤ تو تبھی یہ کام ہوں گے۔ اگر ہمارے اعمال نیک ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہمارے لیے وہ وسائل اور سامان پیدا فرمائے گا جو اسلام اور احمدیت کی فتوحات کا پیش خیمہ ہوں گے۔ بہرحال

ہمیں ان کے لیے جو مظلوم مسلمان ہیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر قسم کے غم سے نکالے اور مسلمان صرف اپنی فکر نہ کریں بلکہ اس فکر میں رہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کس طرح حاصل کرنی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ’’ كَتَبَ اللّٰهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي۔‘‘کہ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے ۔

(تذکرہ صفحہ482ایڈیشن ششم 2022ء)

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کووہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي۔ (المجادلہ:22)اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے۔‘‘ غلبہ سے کیا مراد ہے؟ مراد یہ ہے کہ جیسا کہ نبیوں کا رسولوں کا منشا ہوتا ہے ’’کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے ‘‘مطلب یہ کہ دلائل ایسے ہونے چاہئیں جن کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے۔’’ اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔‘‘ (رسالہ الوصیت،روحانی خزائن جلد20صفحہ304) اور یہ تخم ریزی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ہاتھ سے ہوئی اور 1908ء میں آپؑ کی وفات کے بعد

جب خلافت کا نظام جاری ہوا تو اللہ تعالیٰ نے پھر ان ترقیات کو بند نہیں کیا بلکہ ہر دَورِ خلافت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو یہ ترقیات مل رہی ہیں۔ دشمن روکیں بھی ڈال رہا ہے۔ دشمن ظلم و زیادتی بھی کر رہا ہے۔ نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ حکومتیں بھی ٹکر لینے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ترقی کرتی چلی جا رہی ہے اور پھیلتی چلی جا رہی ہے اور اب دنیا کے ہر کونے میں مختلف ذرائع سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچ رہا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ’’خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جاتا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ ان کو نیست و نابود کر یں مگر وہ روز بروز ترقی پاتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جاتے ہیں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ۔ یعنی خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔‘‘

(ملفوظات جلد5صفحہ302)

پھر آپؑ نے فرمایا :

’’مَیں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدائےتعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک مَیں دوربین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے

اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہریک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں؟ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کااحساس نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام،روحانی خزائن جلد3صفحہ403)

پس آپؑ نے یہ دعویٰ فرمایا کہ میں ان شاء اللہ کامیاب ہوں گا اور دنیا دیکھ لے گی کہ آخر میں ہی کامیاب ہوں گا۔ جماعت احمدیہ کی گذشتہ 136 سالہ زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے وعدوں کے مطابق ترقیاں ہی ترقیاں دیتا چلا جا رہا ہے اور ہماری بھی یہ ذمہ داریاں ہیں کہ اس ترقی کا حصہ بننے کے لیے اپنے فرض ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:

’’ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا تعالیٰ کی عظمت کو مدّنظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہے۔

نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔ جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الٰہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو’’اس سے‘‘بچو ۔‘‘

(ملفوظات جلد5صفحہ303)

ہر بدی سے بچنا ضروری ہے۔

ایک جگہ آپؑ نے بڑے واضح طور پر فرمایا کہ

’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کرے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٰ بیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔ وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور وہ بدبختی اسے جہنم تک پہنچائے گی۔ اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لیے اچھا تھا ۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے، وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے، ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتحیاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔ ‘‘

(رسالہ الوصیت،روحانی خزائن جلد20صفحہ309)

پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا دعویٰ ہے اور ہم ہر روز اس دعوے کو پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ مختلف حالات میں مدد اور تائید و نصرت فرماتا ہے اور باوجود ان آزمائشوں کے جو لوگ سچائی پر قائم ہیں ان پر اپنے فضلوں کی ایسی بارش فرماتا ہے اور ان کے ایمانوں کو اتنا مضبوط کر دیتا ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر مضبوط ہوتے ہیں اور پھر آگے سے آگے قدم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کی نشانیاں اور آثار بھی ہمیں نظر آ رہے ہیں کہ دنیا میں جس طرح جماعت پھیل رہی ہے یہ کسی جھوٹے کا دعویٰ نہیں ہو سکتا۔ یہ بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی دلیل ہے۔ پس اس بات پر زور دیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارے غالب آنے کے ہتھیار دعائیں ہیں۔

دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہیے اور جب ہم دعاؤں کی طرف توجہ دیں گے تو تب ہی اللہ تعالیٰ کامیابیاں بھی عطا فرمائے گا۔

اسی طرح آپؑ نے فرمایا کہ دینی علم حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو اور نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرو۔ جب ہم ان سب چیزوں کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضلوں کا وارث بنائے گا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم یہ حق ادا کرنے والے ہوں اور اپنی زندگیوں میں جماعت احمدیہ کی ترقی کے نظارے دیکھتے چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو بھی اور مجھے بھی اس کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم نیکیوں پر قائم ہوں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے ہوں، اپنے ایمانوں میں ترقی کرتے چلے جانے والے ہوں۔ آمین۔ اب دعا کر لیں۔ ’’دعا ‘‘۔آمین

٭…٭…٭

(دعا کے بعد حضورِانور نے فرمایا:)

اچھا مجھے حاضری بتانے دیں، نعرے بعد میں لگائیں۔ وہاں کی اطلاع کے مطابق کُل حاضری جو ان کی سکین ہوئی ہے وہ 44 ہزار 484ہے یعنی قریباً ساڑھے چوالیس ہزار لیکن کچھ ایسے ہیں جو ان کے مطابق سکین نہیں ہوئے اس طرح چھیالیس ہزار سے کچھ اوپر حاضری بنتی ہے۔ ان کا مقابلہ کیونکہ یوکے سے رہتا ہے، یہاں میں نے بتایا تھا، تو اس لیے میرا خیال ہے کہ اس وقت یہاں موجود یوکے کی جو حاضری ہے وہ دو ہزار پانچ سو پچاسی تقریباً دو ہزار چھ سو ہے۔ وہ شامل کر لیں تو آپ کی حاضری تقریباً ساڑھے اڑتالیس ہزار ہو گئی۔ اس لحاظ سے قریب قریب پہنچ گئے ہیں اور اگر میں وہاں جاتا تو امید ہے چار پانچ ہزار اَور زیادہ ہو جاتی۔

بہرحال اللہ تعالیٰ سب شاملین کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آپ لوگوں کو خیریت سے گھروں میں لے کے جائے اور جلسے کی جو برکات آپ نے حاصل کی ہیں ان کو ہمیشہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: 130ویں جلسہ سالانہ قادیان (2025ء) کے اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا معرکہ آرا، بصیرت افروز اور دل نشیں خطاب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button