حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ بالٹی مور امریکہ کی مجلس عاملہ کے ممبران کی ملاقات

تربیت کا اصل میں توبہت بڑا کام ہے۔ چھوٹا موٹا کام تو نہیں ہے۔ یہ کہہ دینا کہ نماز پڑھنے آگئے، قرآن پڑھ لیا، یہاں فارمfill کر دیا کہ اچھا! بھئی کتنے لوگوں نے خطبہ سنا ، یہ کر کےبھیج دیا تویہ تو کوئی کام نہیں ہے۔ اس قسم کے بڑے پلان، تبلیغ کے ساتھ ، تربیت کے ساتھ، رشتہ ناطہ کے ساتھ، اُمورِ عامہ کے ساتھ ، مال کے ساتھ بنانے چاہئیں ۔ جب پُورا سسٹم ہوگا، جب co-ordinated effort ہوگی تو پھر اس سے نتیجے بھی نکلیں گے

مورخہ ۱۴؍ جون ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ کی ایک جماعت بالٹی مور کے اراکینِ مجلس عاملہ کے چودہ(۱۴) افراد پر مشتمل وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شرکائے مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے اور اپنی مفوّضہ جماعتی ذمہ داریوں کے حوالے سے بیش قیمت راہنمائی حاصل کرنے کا بھی موقع ملا۔

سیکرٹری تربیت سے گفتگو فرماتے ہوئے حضورِ انور نے مسجد میں نمازوں، بالخصوص عشاء کی نماز میں حاضری کے بارے میں دریافت فرمایا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ کم از کم پچاس فیصد افراد کو نمازوں میں شامل ہونا چاہیے۔

جس پر حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا گیا کہ نمازِ عشاء پر چالیس احباب آتے ہیں۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ اس سے بڑھنے کی کوشش کریں۔

پھر حضورِ انور نے نماز کو تربیت کی بنیادی اساس قرار دیتے ہوئے دینی تعلیم و تربیت کے اہم ذرائع کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تربیت تو یہی ہے۔ اصل بنیادی چیز تو نماز ہے۔ پھر قرآن ہے۔ تربیت کے یہ دو کام ہیں ۔ پھر جماعتی لٹریچر ہے، حدیث ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں ہیں۔ اس طرف تربیت کو توجہ دینی چاہیے۔تو پھر جماعتی ممبر کی تربیت ٹھیک ہوگی۔آپ دس پندرہ بیس تو جماعت کی عاملہ میں ہیں۔اگر یہ لوگ ٹھیک ہو جائیں تو پھر اگلی نسل بھی ٹھیک ہو جائے گی۔

سیکرٹری وقفِ نَو سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے واقفینِ نَو کی کلاسوں میں شرکت کو یقینی بنانے، ان کی دینی تربیت کو مؤثر بنانے اور ان کے اندر وقفِ نَو کی ذمہ داریوں کا شعور پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ کوشش یہ کریں کہ وہ آئیں اور کم از کم ان کی دینی تربیت تو ہو جائے۔ واقفینِ نَو کو تو کم از کم سنبھال لیں۔ ان کو پتا ہونا چاہیے کہ وقفِ نَو کیا چیز ہے۔ وہ کیوں وقف ہیں۔ ان میں اور دوسروں میں کوئی فرق بھی ہونا چاہیے۔ فرق یہ نہیں ہے کہ ان کو وقف نَو کا کوئی ٹائٹل ہے ۔فرق یہ ہے کہ ان کے نمازوں کے معیار اچھے ہوں۔ ان کے قرآنِ کریم پڑھنے کے معیار اچھے ہوں۔دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی علم حاصل کرنے کے معیار اچھے ہوں ۔ تو اس طرف کوشش کرنی چاہیے۔

ایک عاملہ ممبر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ہماری جانب سے خدمتِ خلق کے مختلف پروگرام جاری ہیں۔ مسجد بیت الرحمٰن میں رضاکارانہ بنیادوں پر سوپ کچن چلایا جا رہا ہے، جہاں ہر ہفتہ تقریباً ۲۴۰ تا ۲۵۰؍افراد میں سینڈوچ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک فوڈ پینٹری بھی قائم کی گئی ہے جہاں ضرورت مند افراد کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ فوڈ پینٹری سے مراد ایسی جگہ یا نظام ہے جہاں ضرورت مند افراد کے لیے کھانے پینے کی بنیادی اشیا محفوظ کر کے رکھی جاتی ہیں اور پھر انہیں ضرورت کے مطابق فراہم کیا جاتا ہے۔]

اس پر حضورِ انور نے مادی غذا مہیّا کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو روحانی مائدہ فراہم کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ کھانا تو کھلا دیتے ہیں۔کوئی روحانی مائدہ بڑھانے کی کوشش کریں۔

پھر اسی تناظر میں احبابِ جماعت کو روحانیت میں بڑھانے کے لیے نماز، قرآنِ کریم اور دینی تعلیمات کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سینڈوچ تو بنا دیتے ہیں اور لوگوں کا پیٹ بھر دیتے ہیں۔ اب روحانیت سے بھی پیٹ بھرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے نمازوں کی طرف توجہ دلائیں۔ قرآنِ کریم پڑھنے کی طرف توجہ دلائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنے کی طرف توجہ دلائیں ۔جماعت کا لٹریچر پڑھنے کی طرف توجہ دلائیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے جمعہ کے علاوہ باجماعت نمازوں میں حاضری بڑھانے اور مجلس عاملہ کے ممبران کو اس معاملے میں عملی مثال قائم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ جمعہ اور نمازوں کی طرف حاضری بڑھانے کی کوشش کریں۔ جمعے پر تو آپ کی حاضری ٹھیک ہےمگر نمازوں پر حاضری زیادہ ہونی چاہیے۔ اگر آپ کے عاملہ ممبران ہی آ جائیںتو ہر نماز پر چوبیس پچیس تو حاضری ہو سکتی ہے۔ اگر کام پر بھی جا رہے ہیں توکم از کم فجر اور عشاء پر تو حاضری ہو سکتی ہے۔ اور آجکل تو لمبے دن ہیں تو میرا خیال ہے کہ آپ لوگ مغرب عشاء جمع ہی کرتے ہوں گے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے جماعتی خدمت کے روحانی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ اصل چیز تو یہی ہے۔ باقی جماعت کا اور کام کیا ہے، سینڈوچ دنیا والے کھلا دیتے ہیں۔ ہمیں تو روحانی سینڈوچ کھلانے چاہئیں۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ حضور! ہم نے مقامی سطح پر ایک اقدام شروع کیا ہوا ہےجسے عاملہ کالنگ ٹری (calling tree)کہا جا سکتا ہے۔ ہر عاملہ ممبر کو خیریت دریافت کرنے کے لیے پانچ پانچ افراد تفویض کیے گئے ہیں۔ وہ انہیں فون کرتے ہیں اور ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا ایک تأثر یہ ملا ہے کہ بہت سے ایسے افراد جو جماعت سے منسلک نہیں ہیں یا کسی حد تک دُور ہیںوہ بہت دفاعی رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور کئی مرتبہ بالکل رابطہ نہیں ہوپاتا۔نہ فون اُٹھاتے ہیں اور نہ کوئی جواب دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پیار اور محبّت کے ساتھ کس طرح جماعت سے منسلک کیا جائے؟ نیز جب خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا جاتا ہے توجیسا کہ حضورِ انور کی ہدایت ہے اس میں چندے یا جماعتی انتظامی اُمور کی کوئی بات نہیں کی جاتی بلکہ صرف ان کے حالات دریافت کیے جاتے ہیں اور ان کی زندگی میں پیش آنے والے معاملات کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے۔

اس پر حضورِ انور نے جماعت سے نسبتاً کم وابستگی رکھنے والےاحباب سے رابطے میں صبر، مستقل مزاجی اور محبّت کے ساتھ کوشش جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ کوئی بات نہیں۔مسلسل کوشش کرتے رہیں، میسج بھیج دیں کہ آپ کا کیا حال ہے۔ آپ بس حال احوال پوچھتے رہا کریں۔ آخر آہستہ آہستہ قطرہ قطرہ کہیں سراخ ڈال ہی دیتا تھا۔پتھروں میں بھی ڈال دیتا ہے۔ تو آپ بھی مستقل کوشش کرتے رہیں۔ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کا دل تو نرم ہو ہی جائے گا۔ اگر سو فیصد نہیں تو کچھ نہ کچھ ہی سہی ۔

پھر حضورِ انور نے دنیاوی مصروفیات میں زیادہ مشغول افراد کے ساتھ بھی رابطے اور اصلاحی کوششوں کو مسلسل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو دنیا داری میں بہت زیادہ پڑ گئے ہیں ان کو بھی اس لیے کہ انہوں نے جواب نہیں دینا یا ایک دفعہ یا دو دفعہ یا پانچ دفعہ یا دس دفعہ کہنے سے جواب نہیں دیا تو ہم تھک جائیں۔ تھکنا ہمارا کام نہیں۔ مسلسل کوشش کرتے رہیں۔ یہی تواللہ تعالیٰ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا کہ نصیحت کرتے جاؤ ، کرتے جاؤ، کرتے جاؤ اور یہی ہمارا کام ہے۔ مسلسل کوشش ہو۔

اسی طرح حضورِ انور نے مذکورہ احباب سے تعلق بڑھانے کے لیے ایک عملی اور حکیمانہ طریق تجویز کرتے ہوئے فرمایا کہ اور کبھی کبھی کہیں کہ اچھا مَیں یہاں سے گزر رہا ہوں، جو دوست بنایا ہے، تو اگر تمہارے پاس وقت ہو تو مَیں ذرا السلام علیکم کرنے کےلیے تمہارے گھر کے قریب ہوں آجاؤں؟ اگر کہے آ جاؤ تو ٹھیک ہے، نہیں تو کوئی بات نہیں، بُرا منائے بغیر نہ جائیں۔ یہ تو قرآنِ شریف کی بھی تعلیم ہے۔ اگر کسی کے گھر میں تم جاؤ اور وہ تمہیں ملنے سے انکار کر دے کہ مَیں نے نہیں ملنا تو تم بغیر بُرا منائے واپس آ جاؤ۔

حضورِ انور نے اسی تناظر میں ایک صحابیؓ کے عملی نمونے کا ذکر کرتے ہوئے مسلسل رابطے، صبر اور حُسنِ سلوک کے ساتھ اصلاحی کوشش جاری رکھنے اور ردّعمل کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی اہمیت واضح فرمائی کہ ایک صحابیؓ کا واقعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے قرآن کریم کے سارے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ ہر حکم کی مَیں نے تعمیل کر لی۔ لیکن یہ جو حکم ہے کہ مَیں کسی کے گھر جاؤں اور وہ مجھے کہے کہ واپس چلے جاؤ اور مَیں خوشی سے واپس آ جاؤں، یہ نہیں ہو سکا۔ مَیں نے بہت کوشش کی کہ کہیں جاؤں کوئی تو انکار کرے اور مَیں کہوں کہ مَیں نے اللہ کی بات مان لی اور خوشی سے واپس آگیا ۔ تو یہ اگر ہو تو پھر آپ بُرا بھی نہیں منائیں گے، مسلسل تعلق بھی رکھیں گے اور کبھی نہ کبھی تو ان پراثر ہو ہی جائے گا۔

ایک اَور عاملہ ممبر نے عرض کیا کہ ہماری مسجد میں ہر جمعہ کے دن چالیس پچاس غیر احمدی دوست آتے ہیںجو مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہوتے ہیں۔ مربی صاحب باقاعدہ خطبے کے دوران ان کو جماعت کا تعارف بھی کرواتے ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کا ذکر بھی کرتے ہیں لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ ان کو زیادہ سمجھ نہیں آتی۔ بعد میں جب انفرادی طور پر ان سے رابطہ اور گفتگو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس میں بھی زیادہ کامیابی نہیں ہو رہی اور ان کی دلچسپی بھی زیادہ نہیں ہوتی۔ حضور! اس حوالے سے ہم کیا عملی اقدام کریں کہ ہم ان کے دل جیت سکیں اور حقیقی اسلام کا پیغام مؤثر طریق پر پہنچا سکیں؟

اس پر حضورِ انور نے ایسے غیر احمدی افراد کے ساتھ بغیر کسی اصرار کے محض حُسنِ اخلاق، تعلق اور مسلسل دینی ماحول کے ذریعے تدریجی اثر پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ وہ آپ کے پاس نماز پڑھنے آتے ہیں۔ آپ کی تو کوشش نہیں ہے کہ آپ نے کوئی تبلیغ کی ہو۔ اگر وہ نماز پڑھنے آتے ہیں اور نماز پڑھ کے باتیں سن لیتے ہیں، ہم اللہ اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی باتیں کرتے ہیں ، میرا خطبہ تو آپ کے صبح صبح آ جاتا ہے اس کا اگر کوئی خلاصہ مربی صاحب پیش کر رہے ہوتے ہیں تو بھی ان کو پتا لگ جاتا ہے کہ کیا اللہ رسول کی باتیں کی ہیں۔ اور اگر وہ اپنے طور پر دس پندرہ منٹ کا خطبہ دے رہے ہوتے ہیں ، اس میں بھی اللہ اور رسول کی باتیں ہیں، تو وہ سنتے ہیں۔ یہ ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ ہاں! احمدی مسلمان ہیں اور اسی کو سمجھ کے ہی وہ آپ کی مسجد میں آتے ہیں۔ اگر ان پر غیروں کی باتوں کا اثر ہو کہ یہ مسلمان نہیں ہیں تو وہ آپ کی مسجد میں نہ آئیں۔ تو جو اس طرح نماز پڑھنے آتا ہے اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت کوئی نہیں۔ اپنے اخلاق دکھائیں۔ آپ کی مسلسل تعلیم اور اچھے اخلاق ان سے ملنا جُلنا، السّلام علیکم، وعلیکم السّلام کرنا ، آخر ان کو خود ہی اس طرف مائل کرے گا کہ سوال پوچھیں۔

حضورِ انور نے حالیہ خطبات کے حوالے سے تبلیغ میں زبانی دعوت سے بڑھ کر عملی نمونے اور حُسنِ اخلاق کا کردار مؤثر ہونے کی بابت یاد دلایا کہ ابھی مَیں چند ہفتے پہلے ہی خطبات میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بیان کر رہا ہوں، اس میں بیان کیا تھا، اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی بیان تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے زیادہ آپؐ کا جو عمل تھا اور آپؐ کے جو اخلاق تھے، ان سے متأثر ہو کے بہت سارے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات مَیں نے بیان کیے تھے کہ بہت سے صحابہ ؓکہتے ہیں کہ ہم نے تو آپؑ کا چہرہ دیکھ کے، اخلاق دیکھ کے اسلام قبول کیا۔ تو کسی کے پیچھے پڑ کے آپ تبلیغ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کے عمل صحیح ہیں تو وہ خود سوال کرنے والا سوال کرے گا اور جب وہ سوال کرے گا تو پھر اس کے مناسب حال اس کو جواب دیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے مختلف افراد کے علمی و فکری پس منظر کے مطابق حکمت اور تدریج کے ساتھ تبلیغ و تربیت کرنے کی اہمیت واضح فرمائی کہ ایک پڑھا لکھا آدمی ہے، اس کی اپنی سوچ ہے ، ایک کم پڑھا لکھا آدمی ہے ، اس کی اپنی سوچ ہے۔ ہر ایک کو ایک ہی لاٹھی سے آپ نہیں ہانک سکتے۔ ایک ہی جواب نہیں جوہر ایک کو دیا جائے۔ مختلف لوگوں کی بیک گراؤنڈ کے مطابق،ان کیpsycheکے مطابق، ان کے علم کے مطابق، ان کو جواب دینا چاہیے۔ اس کی کوشش کریں۔

مزید برآں حضورِ انور نے غیر احمدی احباب کے ساتھ تدریجی، دوستانہ اور غیر رسمی تعلق قائم کرنے اور حکمت کے ساتھ ذہنی قربت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ بس یہی کافی ہے کہ اس وقت ان کو قریب لائیں اورتعلقات بڑھائیں۔ وہ آتے ہیں تو ان کو چائے پلائیں، ان کے ساتھ بیٹھیں۔ ان سے باتیں کریں کہ کیا حال ہے ، کیا نہیں۔ ان کے حال احوال پوچھیں، تو وہ خود ہی پھر آہستہ آہستہ سوال کرنے کا تجسس کریں گے ، بجائے اس کے کہ آپ پیچھے پڑ جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اس کو احمدیت کی تبلیغ کرنے لگ جائیں تو اگلے ہفتے وہ آپ کی مسجد جمعے پر آئے گا ہی نہیں۔ وہ کہے گا کہ یہ کہاں پھنس گیا ہوں۔ پھر جب آپ بتائیں گے کہ ایک وقت پر پہنچ کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا مقام کیا تھا، وہ آنے والا مسیح نبی اللہ کا درجہ رکھتا تھا تو اس سے بالکل ہی وہ دَوڑ جائیں گے۔ اس لیے پہلے تو ان کے دماغوں کو صاف کرنا ہوگا اور وہ اسی صورت میں ہوگا کہ جو وہ آپ کے بہت قریب ہو جائیں۔ ہاں! بعض دوسرے تبلیغی ذرائع ہیں، ان سے آپ لوگ ان مسجد آنے والوں کو تبلیغ کا کام کر سکتے ہیں۔

بعد ازاں حضورِ انور نے مختلف مساجد میں غیر احمدی احباب کے نماز میں شرکت کرنے اور بغیر براہِ راست تبلیغ کے تدریجی طور پر ان کے سوالات اور رجحانات پیدا ہونے کے عمل کی وضاحت فرمائی کہ ہمارے یہاں بہت سارے لوگ مختلف مسجدوں میں نماز پڑھنے آتے ہیں، لیکن کوئی ان کو تبلیغ نہیں کرتا۔آہستہ آہستہ وہ خود ہی سوال کرنے لگ جاتے ہیں۔ اور جب سوال کرتے ہیں تو پھر ان کا تجسس جو ہے ، اس سے پھر ان کو تسلّی بھی ہوتی ہے یا نہیں تسلّی ہوتی تو مزید سوال اُٹھتے ہیں اور یا تووہ دُور ہٹ جاتے ہیں یا وہ بہت زیادہ قریب آ جاتے ہیں۔

سائل نے اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ تین سال مجھے اِدھر گئے ہوئے ہو گئے ہیں اور میرے کچھ غیر احمدی دوست ایسے بھی ہیں جو تین سال سے دوست ہیں لیکن اس تعلق میں مزید پیش رفت نہیں ہو رہی۔

اس پر حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کی روشنی میں ہمدرد افراد کی حیثیت اور ان کے ساتھ تدریجی تعلق کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے تسلّی دی کہ ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں۔ وہ کم از کم ہمدرد تو ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہےکہ جو ہمدرد ہیں، جو ہمارے خلاف نہیں بولتے، ان کو تم احمدی ہی سمجھو۔ ٹھیک ہے کہ وہ آپ کے نظام میں باقاعدہ شامل نہیں ہیںلیکن آہستہ آہستہ ایک وقت آئے گا کہ وہ ہو جائیں گےتو باقی بیعت میں لانا کوئی اس طرح آسان کام نہیں ہے۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی الله عنہ کی ایک سبق آموز نصیحت کا حوالہ دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ چودھری ظہور باجوہ صاحب یہاں یوکے میں مبلغ رہے ہیں، پھر پاکستان میں نائب ناظر اصلاح و ارشاد تھے، تو وہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی الله عنہ ناظر اصلاح و ارشاد تھے۔ جب مَیں نائب ناظر بن کے ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ایک بات یاد رکھو کہ تم نے اپنے اخلاق دکھانے ہیں۔ لوگوں سے اچھے تعلقات رکھنے ہیں۔ چاہے وہ احمدی ہے یا دوسرا ہے، کیونکہ احمدیت میں لانا بہت مشکل کام ہے اور احمدیت سے دَوڑانا بڑا آسان کام ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ محترم چودھری ظہور احمد باجوہ صاحب مورخہ۲۰؍اپریل ۱۹۱۹ء کو چک نمبر ۳۳ جنوبی ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓکی تبلیغ کے ذریعہ خلافتِ ثانیہ کے ابتدائی عہدمیں آپ کے والد محترم چودھری شیر محمد صاحب نے احمدیت قبول کی اور یوں آپ کا خاندان احمدیت کے نور سے منور ہوا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی۔ نویں جماعت میں قادیان داخل ہوئے۔بعد ازاں والدہ کی وفات پر واپس گاؤں آ گئے اور مقامی طور پر تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۳۹ء میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے بی اے پاس کیا۔ ملازمت کا آغاز سیالکوٹ سے کیا۔پھردہلی میں ملازمت اختیار کر لی۔ ۱۹۴۴ء میں آپ کو زندگی وقف کرنے کی سعادت ملی۔آپ کی پہلی تقرری مورخہ۱۴؍جنوری ۱۹۴۶ء کو لندن مشن میں بطور نائب امام مسجد فضل لندن ہوئی۔ ۱۹۴۹ء میں وطن واپس آکر اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری مقرر ہوئے۔۱۹۵۰ء میں دوبارہ انگلستان تشریف لے گئے اور ۱۹۵۵ء تک امام مسجد فضل لندن کے طور پر خدمت انجام دی۔ بعد ازاں ربوہ میں مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دیں جن میں ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد، ناظر زراعت، ناظر صنعت و تجارت، ۱۹۶۶ء تا ۱۹۶۹ءپرائیویٹ سیکرٹری، ناظر امورِ عامہ، ناظر امورِ خارجہ وغیرہ شامل ہیں۔ حضورِ انور نے آپ کے حوالے سے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کی فرمودہ جس تلقین کا ذکر فرمایا ہے، اسی نوع کی ایک حکیمانہ نصیحت حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے بھی آپ کو اُس وقت فرمائی تھی جب آپ نے ١٩٧٠ء میں بطور ناظر اُمورِ عامہ اُن سے چارج لیا۔ انہوں نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اُمورِ عامہ میں کئی قسم کے معاملات کی فائلیں ہیں، مگر ہمیشہ کوشش کرنا کہ کسی کے اخراج کے لیے جلدبازی میں سفارش نہیں کرنی۔

آپ کوحضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ الله کے ہمراہ بطور پرائیویٹ سیکرٹری ۱۹۷۰ء میں دورہ مغربی افریقہ اور ۱۹۷۳ء میں دورہ یورپ کی توفیق ملی۔ ۷؍اگست ۱۹۹۵ء کو ایڈیشنل ناظرِ اعلیٰ مقرر ہوئے اور تا دمِ وفات اس عہدے پر فائز رہے۔ اسی طرح حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات کے بعد صدر،صدر انجمن احمدیہ مقرر ہوئےاور تاحیات اس منصب پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔۵۷؍سالہ طویل خدماتِ دین سرانجام دینے کے بعد یہ مخلص اور فدائی خادمِ سلسلہ۸۳؍سال کی عمر میں ۱۹؍فروری۲۰۰۲ء کو ربوہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگیا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز ( جو کہ اس وقت ناظر اعلیٰ و امیر مقامی تھے) نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین کے بعد دعا بھی کروائی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرّابع رحمہ الله نے آپ کی نمازِ جنازہ غائب مسجد فضل لندن میں پڑھائی تھی اور آپ کا ذکرِ خیر ان الفاظ میں فرمایا کہ وہ بڑے باوقار انسان تھےجن کی شخصیت بلند اخلاق کی حامل تھی، اور وہ اخلاص اور وفاداری جیسی نمایاں خوبیوں کا عملی نمونہ تھے۔]

جواب کے آخر پر حضورِ انور نے تربیت، تبلیغ اور دیگر جماعتی شعبوں کے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ تربیت کے شعبے کے ساتھ مل کے جو احمدی ہیںان کو پکّا احمدی بنا دیں۔ ان کو تبلیغ کے طریقے سکھا دیں ۔ان کا اپنے ماحول میں اُٹھنا بیٹھنا جوہوگا تو اس سے مزید رستے کھلیں گے۔ان کی تربیت ہو جائے گی تو وہ آگے تبلیغ کے کام بھی آپ کے آئیں گے۔ تو تربیت اور تبلیغ کا اور باقی شعبوں کا co-ordinated پروگرام ہونا چاہیے۔ جب یہ ہوگا تو اس سے نتائج نکلتے ہیں ۔ تھکنا نہیں۔ تھکنا تو ہمارا کام ہی نہیں۔

ایک عاملہ ممبر نے سوال کیا کہ جماعت میں متعدد بار رشتہ نہ ملنے پر دل برداشتہ ہونے والے نوجوان احمدیوں کو ہم کیا مخصوص راہنمائی فراہم کر سکتے ہیں اور پھر وہ اس کے نتیجے میں جماعت سے باہر شادی کرنے کی اجازت طلب کر رہے ہوتے ہیں یا اس پر غور کر رہے ہوتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے شادی کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کے مطابق دینداری کو بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کو کہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہمیں شادی کا اصول بتایا ہے وہ اصل اصول ہے کہ اگر تم دیندار ہو تو تمہیں پھر دیندار لڑکی تلاش کرنی چاہیے۔ اور لڑکیوں کی تربیت کریں کہ ان کو دیندار خاوند تلاش کرنا چاہیے۔ اگر یہ چیز ہو تو پھرٹھیک ہے۔

حضورِ انور نے رشتوں کے معاملات میں پیش آنے والی بعض رکاوٹوں اور ان کے پسِ پردہ عوامل کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ لیکن آپ دیکھ لیں کہ بہت سارے ایسے ہیں کہ جن کو جب rejection ہوتی ہے تو ان کے بیک گراؤنڈ میں کوئی نہ کوئی ایسی باتیں ہوئی ہوتی ہیں کہ جو ان کے مخالفین یا ان سے jealousy رکھنے والے یا کسی اور لڑکی والے جن کا خیال ہوتا ہے کہ ہم اس لڑکے سے رشتہ کریں، وہ جہاں رشتہmatureہونے لگتا ہے تو اس کو کانوں میں ڈال دیتے ہیں اور پھرrejection ہو جاتی ہے۔ تو یہ دیکھنا چاہیے کہcausesکیا ہیں، جب آپ اس کی root cause پر چلے جائیں گے تو تب آپ اس کی اصلاح بھی کر سکیں گے۔ لیکن کوشش یہ ہو کہ تربیت صحیح ہو تو ٹھیک ہے۔

اسی طرح جواب کے آخر میں حضورِ انور نے تربیتی کام کی وُسعت اور بہتر نتائج کے حصول کے لیے مختلف شعبہ جات کے باہمی تعاون پر مبنی جامع اور مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تربیت کا اصل میں توبہت بڑا کام ہے۔ چھوٹا موٹا کام تو نہیں ہے۔ یہ کہہ دینا کہ نماز پڑھنے آگئے، قرآن پڑھ لیا، یہاں فارمfill کر دیا کہ اچھا! بھئی کتنے لوگوں نے خطبہ سنا ، یہ کر کےبھیج دیا تویہ تو کوئی کام نہیں ہے۔ اس قسم کے بڑے پلان، تبلیغ کے ساتھ ، تربیت کے ساتھ، رشتہ ناطہ کے ساتھ، اُمورِ عامہ کے ساتھ، مال کے ساتھ بنانے چاہئیں ۔ جب پُورا سسٹم ہوگا، جب co-ordinated effort ہوگی تو پھر اس سے نتیجے بھی نکلیں گے۔

ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ ایسے لوگوں کی کس طرح مدد کی جا سکتی ہے، جو مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے معاشرتی و تربیتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مستحق افراد کی تعلیمی معاونت کی اصولی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ان لوگوں کی مدد کرنی چاہیے کہ جنہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کےلیے کچھ مالی معاونت کی ضرورت ہو۔

پھر حضورِ انور نے اعلیٰ تعلیم کے باوجود لازماً متعلقہ شعبے میں ملازمت نہ ملنے اور عملی حالات کے باعث مختلف کام کرنے کی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ ضروری نہیں کہ اگر آپ اچھی تعلیم حاصل کر لیں اور بہت اعلیٰ قابلیت کے حامل ہوں تو آپ کو لازماً مناسب ملازمت مل جائے یا اپنے ہی شعبے میں ملازمت مل جائے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن وہ غیر متعلقہ نوعیت کے کام کر رہے ہیں۔ مَیں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں کہ جو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم ہے مگر اسے اپنے شعبے میں ملازمت نہیں مل سکی۔وہ ایک مختلف نوعیت کا کام کر رہا ہے اور وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والا مگر ٹیکسی ڈرائیور ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نے موجودہ عالمی معاشی حالات اور روزگار کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود تعلیم کے حصول میں ثابت قدم رہنے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور ہر جائز ذریعۂ روزگار اختیار کر کے خود کفیل بننے کی تلقین فرمائی کہ لہٰذا یہ صورت حال ہر جگہ پائی جاتی ہے ، کیونکہ دنیا اقتصادی بحران کا شکار ہے اور آجکل جنگوں اور دنیا بھر میں معاشی بے چینی کی وجہ سے لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لیے بات یہ ہے کہ آپ اپنی تعلیم اس خیال سے ترک نہ کریں کہ آپ کو اچھی ملازمت نہیں مل سکے گی۔ آپ کو ضرور تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ آپ کو ایک اچھی ملازمت عطا فرمائے ، لیکن ساتھ ہی گھر میں فارغ بیٹھے نہ رہیں کہ چونکہ آپ کو اپنے شعبے میں ملازمت نہیں ملی، اس لیےآپ کوئی کام ہی نہیں کریں گے۔ لہٰذا جو بھی ملازمت آپ کو ملے اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں اور خود کفیل بننے کی کوشش کریں، اس کے بجائے کہ آپ دوسروں پر انحصار کریں یا کسی سے مانگنے کی ضرورت پیش آئے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے روزگار کے عالمی سطح پر پائے جانے والے عمومی مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے تسلسل کی حوصلہ افزائی اور مستقبل میں بہتر مواقع کی امید دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ مسئلہ پوری دنیا میں موجود ہے۔ یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر جگہ ایک عام مسئلہ ہے ۔لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اس کے باوجود ہمیں اپنے لوگوں کی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ہرگز حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے۔ایک وقت آئے گا کہ جب انہیں بہتر ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے۔

ایک عاملہ ممبر کی جانب سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ امریکہ میں نئے آنے والے مہاجر احمدی خاندانوں کو جماعت اور مقامی معاشرے میں بہتر طور پر ضمّ ہونے میں مدد دینے کے لیے اگر ہر نئے آنے والے خاندان کو پہلے سے مقیم کسی ایک خاندان کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔

اس پر حضورِ انور نے مؤاخات کے تصوّر کو عملی طور پر مربوط کرنے، ایک ماڈل جماعت کے قیام اور باہمی تعاون کے ذریعے تبلیغی و تربیتی اثرات کو وسیع کرنے کی اہمیت کو واضح فرماتے ہوئے یاد دلایاکہ یہ تو پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں، مؤاخات کا سلسلہ اگر جوڑیں تو بڑی اچھی بات ہو جاتی ہے۔ اگر آپ بالٹی مور کو ایک ماڈل جماعت بنا دیں۔ اس میں یہ سلسلہ شروع کر دیں، initiativeآپ لے لیں۔ اس کوappreciateکریں تو اس کے بعد جو آپ کا رول ماڈل ہے، باقی اس کوfollow کر لیں گے۔

اس پر سائل نے نہایت مؤدّبانہ انداز میں اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئےعرض کیا کہ آپ کی بہت مہربانی، آپ نے یہ بات خود ہی ارشاد فرما دی، یہی مَیں پوچھنا چاہ رہا تھا کہ اگر اس کی منظوری عطا ہو جائے تو ہم اس پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ مَیں تو پہلے بھی ایک دفعہ کہہ چکا ہوں، آپ نے میری پچھلی کوئی کلاس یا ملاقات سنی ہو کہ مؤاخات کا سسٹم شروع ہونا چاہیے۔

سائل نے اثبات میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے مزید عرض کیا کہ صرف اس میں ایک سوال یہ تھا کہ جماعت کے نظام کے اندر کس شعبے کے تحت اس کو لے کے آیا جائے؟

اس پر حضورِ انور نے تربیت اور اُمورِ عامہ کے باہمی تعاون کی ضرورت اور اُمورِ عامہ کے کردار کو محض تادیبی معاملات تک محدود سمجھنے کے بجائے جماعتی افراد کی عملی، معاشی اور معاشرتی معاونت تک وسعت دینے کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تربیت اور اُمورِ عامہ دونوں کاکام ہے۔ دونوں مل کے ایک پروگرام بنا لیں ۔ اُمورِ عامہ کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ کبھی جھگڑا ہو گیا تو اس کو سزا دلوا دی ، اس کا اخراج کروا دیا اس کا کہہ دیا کہ جی! بڑا بدمعاش ہے، اس کو آپ جماعت سے نکال دیں، اس نے فلاں بُرائی کی، اس کو نکال دیں۔ اُمورِ عامہ صرف یہی سمجھ کے بیٹھی ہے۔ یہ تو اس کے کام کا ایک aspect ہے۔ اُمورِ عامہ کے بہت سارے دوسرے کام ہیں جن میں major کام یہی ہیں کہ جماعت کے جو ممبران ہیں ان کو settle downکرنا۔ ان کو economically settleکرنا کہ کس طرح وہ بہتر طور پر اپنے معاشرے میںsurviveکر سکتے ہیں اور کس طرح نئے ماحول میں آکےadjustکر سکتے ہیں اور آپ لوگ ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔

پھر حضورِ انور نے صحابہ کرامؓ کے عہدِ مؤاخات کے عملی اور راہنما نمونے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ صحابہؓ کو، جب مہاجرین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں کے سپرد کیا، تو بعض جو باغیرت مہاجرین تھے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے، ہمیں تو تم بازار کا راستہ بتا دو اور ایک اوزار دے دو، کلہاڑا دے دو یا فلاں اوزاردے دو تو ہم لکڑیاں کاٹ کے لائیں۔ آہستہ آہستہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کے لائے، بازار جا کے بیچیں اور پیسے بنتے رہے اور ایک وقت میں آ کے وہ کروڑپتی بھی بن گئے۔ کچھ ایسے تھے کہ جنہوں نے فنانشل مدد بھی لی۔ کچھ ایسے تھے کہ جو کھانے پینے کی مدد بھی لیتے تھے۔ لیکن اس میں مختلف گروپ تھے ۔

اسی طرح حضورِ انور نے مختلف حالات و ضروریات کے حامل افراد کی انفرادی ضروریات کے مطابق معاونت اور جماعتی و مالی وسائل کے مؤثر استعمال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تو اسی طرح آپ بھی یہاں مختلف گروپ میں لیں گے تو مختلف حالات کے مطابق ان کی مدد کرنی ہوگی۔ اس کےلیے آپ کے بعض جگہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو فنڈ کی ضرورت بھی ہو، تو آپ کے مقامی فنڈ اتنے نہ ہوں، تو آپ اپنے جماعتی فنڈ سے کہہ سکتے ہیں، نیشنل جماعت سے اور وہاں بھی نہ ہوں تو مجھے بھی لکھ سکتے ہیں کہ اگر ایسے لوگ واقعی potential لوگ ہیں اور ان میں اتناpotentialہے کہ وہ کام بڑھا بھی سکتے ہیں اور ان کی کچھ مدد بھی ہو جائے ، تو اس کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے، پھر آپ کو ہم بتا سکتے ہیں ۔

نیز جواب کے آخر میں فنڈز کی بابت اس توقع کا اظہار فرمایا کہ اوّل تو میرا خیال ہے کہ آپ کی امریکہ جماعت کے پاس اتنے فنڈ ہیں کہ وہ آپ کو تھوڑی بہت مدد کر دیں گے ۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ ہماری بالٹی مور جماعت میں بہت سے نئے امیگرنٹس امریکہ آئے ہیں۔ان کی فیملیاں ماشاءاللہ بہت وفادار اور تعاون کرنے والی ہیں لیکن ان کے حالات اقتصادی طور پر ایسے ہیں کہ انہیں طویل اوقاتِ کار میں باہر کام کرنا پڑتا ہے، بعض ٹرک وغیرہ بھی چلاتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا جماعت سے تعلق جیسے نمازوں میں باقاعدگی اور جماعتی کاموں میں شمولیت، اس سے متأثر ہو رہا ہے۔ حضور! اس حوالے سے ان کے لیے کیا ہدایت ہے، وہ کیا کریں کہ ان کی دنیاوی مصروفیات اور دینی و جماعتی وابستگی میں توازن قائم رہ سکے؟

اس پر حضورِ انور نے امیگرنٹس کی طویل اوقاتِ کار اور مسلسل بیرونی مصروفیات کے نتیجے میں بالخصوص بچوں کی تربیت اور خاندانی زندگی پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ صرف یہی نہیں کہ ان کا اپنا اثر پڑ رہا ہے بلکہ اصل فکر کی بات یہ ہے کہ ان کے گھروں میں اثر پڑ رہا ہے، ان کے جو بچے ہیں ان کی تربیت نہیں ہو رہی۔ مائیں اکیلی رہتی ہیں۔باپ ٹرک چلا رہا ہے۔بزنس میں ہے تو وہ بعض دفعہ کئی کئی دن ہفتہ ہفتہ دس دس دن باہر رہتے ہیں۔اس کی وجہ سے بچے جو ہیں وہ صحیح طرح سنبھالے نہیں جاتے اور سوائے اس کے کہ کوئی خاص اللہ کا فضل ہو یا ماں بہت زیادہ تربیت کرنے والی ہو، دیکھنے والی ہو اور نظر رکھنے والی ہو۔ بعض دفعہ بچے بگڑ بھی جاتے ہیں اور بگڑ رہے ہیں۔

پھر حضورِ انور نے معاشی مصروفیات کے باوجود دینی و خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور مستقل تربیت و راہنمائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تو اس کی طرف تو جہ دلانی چاہیے، ان کو کہنا چاہیے کہ پیسہ کماؤ، لیکن اپنے دین کی بھی فکر کرو۔ تو یہ مستقل تربیت کا کام ہے۔ وہی تربیت کا معاملہ پھر آ جائے گا اور سنبھالنے کا کام ہے اور ان کو اگر دوسرے کوئی بہتر مواقع کاموں کے مل سکتے ہیں تو ان کی طرف گائیڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے اُمورِ عامہ اور تربیت کے باہمی اشتراک کے ذریعے ایک مربوط اور عملی پروگرام تشکیل دینے، اور محدود جماعتی وسائل کو مؤثر طور پر استعمال کرتے ہوئے بالٹی مور جماعت کو ایک ماڈل جماعت کے طور پر پیش کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اُمورِ عامہ کا بھی کام ہے، تو یہ پروگرام ایسا consolidatedہو کہ جو سارے اسے مل کے بنا رہے ہوں اورپھر اس کو implement کریں۔ آپ کی جو تھوڑی سی جماعت ہے، چھوٹی سی صرف چھ سو آدمی ہیں ، اس کو اگر آپ امریکہ میں ماڈل جماعت بنا دیں تو باقی پھر آپ کو follow کریں گے۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله ویسٹرن نیویارک ریجن کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button