متفرق مضامین

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سےعبدالسلام عالمی مرکز برائے نظریاتی فزکس اٹلی تک(قسط دوم۔ آخری)

(ڈاکٹر محمد احمد۔ مانچسٹر۔ یوکے)

یونیورسٹی کو آخری سلام

اگلے دن مَیں یونیورسٹی آیا۔ یونیورسٹی پر بہت پیارومحبّت سے نظر ڈالی۔ ہاسٹل، کیفے ٹیریا، رستے پگڈنڈیاں، فزکس ڈیپارٹمنٹ، بسوں کا یونیورسٹی میں اڈّہ، بینک، یوٹیلیٹی سٹور، مجیدہَٹس، یونیورسٹی کا داخلی دروازہ جہاں ایک Barrierلگا ہوتا تھا (محرابی گیٹ اس زمانے میں نہ ہوتا تھا)، یہ سب جگہیں جہاں جہاں میری زندگی کے چند لمحات گزرے تھے، سب کو باربار دیکھا کہ آئندہ دوبارہ دیکھنا شاید ممکن نہ ہو۔

مَیں نے چند ایک چیزیں لیں اور اسی رات راولپنڈی سے ربوہ کے لیےٹرین پکڑی اور اگلے دن ربوہ آیا۔ امّی ابّا بہت خوش ہوئے۔ اگلے دن مَیں اور ابّا جی فیصل آباد گئے۔ ۱۵۰۰۰روپے دے کر ۷۰۰ ڈالرحاصل کیے اور پھر ربوہ واپس آئے۔ ابّاجی نے کچھ اَور رقم بھی مجھے دی جو رفیع سے ہوائی جہاز کی ٹکٹ بنوانے کے لیے درکا رتھی۔

یوکے ویزا میں چند دن لگے اور ہماری کانفرنس کا وقت بھی قریب تھا۔ رفیع سے فیصل آباد، کراچی، استنبول، روم اور اسی طرح روم، استنبول، کراچی اپنی ٹکٹ بنوانے کے بعد مَیں فوراً راولپنڈی گیا اور وہاں سے کوٹ، پینٹ اور دو شرٹس خرید کر ربوہ آیا۔ اگلے دن فیصل آباد جاکر اپنی پھوپھی، چچا، ماموں، خالہ وغیرہ کو ملا۔ میرے ساتھ میرے ابّا بھی تھے۔ پھوپھی کے گھر ٹیلی فون تھا۔ ان کا نمبر لیا کہ اٹلی پہنچ کر پھوپھی کو فون کردوں گا اور وہ پھر ربوہ ابّا جی کو اطلاع کر دیں گی۔

فیصل آباد میں ابّا جی کے ساتھ جہانگیر مرغ پلاؤ

فیصل آباد سے ڈالر لینے مَیں ابّا جی کے ساتھ گیا۔ سٹیٹ بینک سے ڈالر ملے اور پھر ہم کچہری بازار آئے۔ ابّا جی نے کہا آج تمہیں جہانگیر مرغ پلاؤ کِھلاتا ہوں۔ مرغ پلاؤ کی دکان سے کچھ دوری پر ہی یخنی کی سی خوشبو قریب جانے سے زیادہ مسحورکن ہوتی جارہی تھی۔ سڑک کے کنارے پر ہی دیگیں پک رہی تھیں اور کافی پکانے والے کام کررہے تھے۔ ایک آدمی تھڑے پر بیٹھا پیسے لیتا اور پرچی دیتا۔ ہم نے پیسے دیے اور ایک کرسی میز پر آبیٹھے۔ ہمیں پلاؤ مِلا۔ بہت خوشبو سے معطّر۔ مرغ کی دو بوٹیاں فی پلیٹ۔ مِلتے ہی ابّا جی نے اپنی بوٹیاں مجھے دیں۔ مَیں نے ابّا جی کو اپنا شامی کباب دیا۔ اگرچہ ابّا جی کے دانت بہت مضبوط تھے مگر شفقتِ والد واضح تھی۔

مرغ پلاؤ بہت ہی مزیدار، نمک مرچ مناسب۔ مصالحہ الائچی بڑی، لونگ اور دارچینی۔ باسمتی چاول خوشبودار، لمبے لمبے اور الگ الگ، ہلکے زرد رنگ کے، بہت اعلیٰ۔ ساتھ کچھ رائتہ بھی تھا جس میں زیرہ اور پیاز کے چھوٹے ٹکڑے۔ نہایت بہترین امتزاج تھا۔

اس فیصل آبادی پلاؤ کو کھاتے ہوئے مجھے منصور ڈھلوں کے ساتھ کِنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں جمعہ کو دوپہر کا کھانا یاد آگیا۔ لاہور کے پلاؤ میں آلو ہوتے تھے، یہاں فیصل آباد میں مرغ۔ لاہور کا پلاؤ اتنا چٹ پٹا نہ تھا جتنا جہانگیر پلاؤ۔ فیصل آبادی جہانگیری پلاؤ کی قیمت ۲۵ روپے فی پلیٹ تھی جوکہ اس وقت ایک ڈالر کے قریب تھی۔ بہرحال اس پلاؤ کی میرے لیے تاریخی اہمیت تھی کہ میرے ابّا جی نے میرے لیے اس بار دعوت کا سا اہتمام کیا۔

فیصل آباد سے کراچی پہلی ہوائی پرواز

میرے کچھ رشتہ دار فیصل آباد ایئرپورٹ جاتے ہوئے میرے ساتھ رسالے والا تک آئے۔ ایئرپورٹ سے میرا اگلا سفرِ تعلیم شروع ہونا تھا۔ ایئرپورٹ پر مجھے گورنمنٹ کالج لاہور کا فزکس کا ایک سینئر جو اعلیٰ عہدے پر تھا، ملا۔ جب اس کو علم ہوا کہ مَیں اٹلی ایک کانفرنس میں جارہا ہوں اور ربوہ سے تعلق ہے تو بہت خوش ہوا۔

فیصل آباد سے کراچی میری زندگی کی پہلی اڑان تھی۔ جہاز میں شام کے وقت بیٹھا اور ایک گھنٹہ میں کراچی کی روشنیوں اور شہر کا نظارہ پہلی مرتبہ بلندی سے کیا۔ بہت ہی دِلفریب اور سحرانگیز نظارہ تھا۔ ایئرپورٹ سے اپنے بھائی شوکت کے گھر آیا اور بتایا کہ رات کو چند گھنٹوں کے بعد میری فلائٹ ہے۔ بچوں سے کچھ دیر بات چیت کی، کچھ آرام کیا اور پھر کھانا کھایا۔ اس کے بعد اپنے بھائی کو ساتھ لیا اور کراچی جناح ایئرپورٹ آیا۔ بھائی جان سے الوداع کیا اور ٹرمینل کے اندر آیا۔ ٹرکش ایئرلائن کے کاؤنٹر پر آیا اور نوید کو سامنے پایا۔ وہ رات بارہ بجے کی نائیٹ کوچ پر کراچی پہنچا تھا۔ پھر ہم نے رات ایئرپورٹ پرہی گزاری۔ چائے اور کافی چلتی رہی۔

کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ

مَیں نے اپنے بھائی کو سلام و الوداع کیا اور ایئرپورٹ کے اندر آگیا۔ پھر نوید اور مَیں کاؤنٹروں پر آئے اور بورڈنگ پاس حاصل کیے۔ سامان جمع کروایا اور لاؤنج میں آئے۔ پھر کچھ ہی وقت میں ہم جہاز میں آبیٹھے۔ جہاز بہت ہی بڑا اور خوبصورت تھا اور کافی بھلی خوشبوؤں سے معطّر تھا۔ پھر جہاز مسافروں سے بھر گیا اور آہستہ آہستہ رینگتا ہوا ایک مقام پر آپہنچا اور پھر فرّاٹے مارتا ہوا دوڑا اور فضاؤں میں آپہنچا۔ صبح ہونے والی تھی۔ آدھ گھنٹے بعد صبحِ پاکستان کا سورج ہم نے فضاؤں میں دیکھا۔ ٹرکش ایئر لائن نے ہمیں اچھا ناشتہ دیا۔ چائے سب کچھ ٹھیک مگر جگہ کی بہت قلّت محسوس ہوئی۔ مَیں تو کراچی سے ربوہ اور کراچی ٹرین کے سفر کا شاہد تھا۔ اس میں کافی جگہ میسّر ہوتی تھی۔ پھر ہم صبح کو ہی استنبول آپہنچے۔ یہاں ہمارا ایک دن ایک رات کا ٹھہراؤ تھا۔ ہمیں ایئرپورٹ پر ہی ویزا جوکہ ۱۰ ڈالر کا تھا، مل گیا اور ہمیں ایئرلائن کی طرف سے Topkapiمیں ہوٹل بھی مل گیا۔ ہم نے سامان ہوٹل میں رکھا اور آس پاس کے تمام یادگار مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی۔ شام کو واپس ہوٹل آئے اور صبح ہوٹل میں خوب پیٹ بھرکر ناشتہ کیا اور ایئر لائن کی ویگن میں بیٹھ کر ایئرپورٹ آئے۔

اتاترک استنبول ایئرپورٹ سے لیونارڈوڈاونچی روم ایئرپورٹ اٹلی

استنبول ایئرپورٹ بہت ہی اچھا اور صاف ستھرا تھا اور ہر ایک سہولت میسّر تھی۔ ہمارا جہاز روم جانے کے لیے تیار تھا۔ وہ چلا اور پھر ہم چند گھنٹوں بعد اٹلی کے شہر روم آپہنچے۔ الحمدللہ

جہاز سے اترے اور پھر امیگریشن والوں نے چند ایک سوالات کیے اور ہمیں اٹلی کی انٹری دے دی۔ ایئرپورٹ سے باہر آئے تو ہمارے لیے اٹلی کی زندگی بہت ہی نرالی اور عجیب تھی۔ بہت ہی زیادہ رَش، کراچی جیسا۔ مگر ہم تو اسلام آباد یا ربوہ کے واقف تھے جو نسبتاً پرسکون شہر تھے۔

ہمیں روم سے تریستے بذریعہ ٹرین جانا تھا۔ اٹلی کے روم کے ٹرین اسٹیشن پہنچے۔ وہاں ہمیں لاہور کے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر جناب مجاہد کامران ملے۔ انہوں نے چند ہدایات ہمارے گوش گزار کیں کہ ہم رات کی آخری ٹرین لیں جوکہ بہت سستی بھی ہے اور رات کو آرام دہ بھی اور صبح صبح ہمیں تریستے پہنچا دے گی۔ مگر وہ ہم سے قبل ٹرین کے لیے ٹکٹ لے چکے تھے۔ چنانچہ ہم نے رات کی آخری ٹرین لی جو صبح سات بجے تریستے پہنچنی تھی۔ رات کا سفر بہت اچھا اور آرام دہ تھا۔ ہمارے سامنے والی سِیٹ پر ایک اٹالین جوڑا مرد و عورت بھی روم سے جارہے تھے۔ ان کے پاس کھانے پینے کے لیے بہت زیادہ کھانا موجود تھا۔ انہوں نے ہمیں کچھ کھانے کودیا۔ نوید ان سے باتیں کرتا رہا جبکہ مَیں سوچکا تھا۔

عالمی مرکز برائے نظریاتی فزکس (ICTP)

صبح صبح ہم اٹلی کے انتہائی شمال میں واقع شہر تریستے میں آپہنچے تھے۔ پروفیسر مجاہد کامران نے ایئرپورٹ سے ICTPجانے کے لیے بس، بس کا نمبر، کرایہ اور حتیٰ کہ کہاں سے ڈالروں کو اٹلی کی اس وقت کی کرنسی“لیرا” میں تبدیل کروانا ہے اور کتنی کرنسی ایک ہفتہ کے لیے کافی ہوگی، سب معلومات ہمیں دے رکھی تھیں جو ہمارے بہت کام آئیں اور سب کام بہتر ہوگئے۔

ایئرپورٹ سے بس پکڑی۔ وہ ہمیں کچھ دیر شہر میں گھومتے گھماتے سمندر کے کنارے کنارے چلتی ہوئی ICTPلے آئی۔ ہم ICTPکے استقبالیہ پر آپہنچے۔ چند کاغذات اور پاسپورٹ دیکھنے کے بعد ہمیں ہوٹل، کانفرنس کی معلومات اور دیگر سیروسیاحتی معلومات فراہم کی گئیں۔ اپنے کمرے میں سامان رکھا اور کانفرنس میں حاضر ہوئے۔ چند دنوں تک کانفرنس-ہوٹل-کانفرنس کا ہی کام ہوتا رہا۔

کانفرنس کے بعد ہم نے پاکستان فون کیے۔ مَیں نے اپنی پھوپھی کو فون کرکے بتایا کہ مَیں اٹلی میں ہوں، ابّا جی کو ربوہ اطلاع کردیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سے ملاقات

ایک دن ہم پروفیسر عبدالسلام صاحب کے دفتر آئے۔ سیکرٹری سے معلوم ہوا کہ پروفیسر صاحب موجود ہیں۔ ہم نے ملاقات اور فوٹوگراف کی درخواست کی۔ چند منٹوں میں ہمیں اجازت ملی۔ ہم نے پروفیسر عبدالسلام صاحب سے ملاقات کی۔ چند ایک فقرے سلام صاحب کی مدح پر کہے اور فوٹو بنائی۔ آخر پر مَیں نے پروفیسر صاحب سے مزید ملاقات کا وقت لیا۔ اگلے دن قبل از ظہرانہ مجھے دوبارہ ملاقات کا موقع ملا۔

پروفیسر سلام صاحب سے ملاقات کے لیے اگلے دن وقت سے پہلے پہنچا۔ سلام صاحب کو فیض احمد فیض کی شاعری اور الفضل ربوہ کا شمارہ جس میں عبدالسلام صاحب کے بارہ میں تفصیلی مضمون شائع ہوا تھا، نذرانہ کے طور پر پیش کیا۔ مَیں نے ایک عجیب چیز دیکھی کہ ان کی میز پر الفضل کا تازہ شمارہ اور ساتھ الفضل کا بنڈل جوکہ تازہ تازہ کھولا گیا تھا، پڑا ہوا تھا۔ میرا پیش کردہ نذرانہ فیروز سنز لاہور سے خریدی ہوئی فیض احمد فیض کی شاعری کی کتاب اور شکور بھائی سے خریدی ہوئی الیس اللہ کی انگوٹھی کوانہوں نے قبول کیا۔ کچھ منٹ بات چیت ہوئی۔

احمد:مَیں قائداعظم یونیورسٹی سے ہوں، احمدی ہوں اور ربوہ سے ہوں۔ اٹلی آنے سے قبل ربوہ اپنے گھر گیا تھا اور بہشتی مقبرہ بھی گیا۔ وہاں آپ کے والد محترم (چودھری محمد حسین صاحب مرحوم) کی قبر پر دعا کرکے آیا ہوں۔

سلام: میرے والد صاحب کی قبر پر دعا کرنے کا شکریہ۔ میرے والد صاحب کی قبر کے ساتھ کی جگہ خالی ہے۔

احمد: جی ایک قبر کی گنجائش ہے۔ ساتھ سیٹھ محمد صدیق بانی صاحب آف کلکتہ حال چنیوٹ لکھا ہے۔

سلام: ایک جگہ کی گنجائش میرے لیے ہے۔ (پھر کچھ غم زدہ، پر نم آنکھوں سے بولے:) آخر انجام قبر ہے۔

احمد: ICTPمیں بھی پی ایچ ڈی کا بندوبست ہونا چاہیے۔ پاکستان میں تو حالات ہی نہیں جہاں ریسرچ کا کام ہوسکے۔

سلام: کوشش کررہے ہیں۔ چند سال میں ہوجائے گا۔ اور سب ٹھیک ہے۔

سیکرٹری آئی۔ ملاقات شاید اختتام کو پہنچی۔

احمد: اچھا پروفیسر صاحب۔ آپ کا شکریہ۔ آپ نے ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ السلام علیکم

عظیم سائنسدان لوڈویک بولٹزمین کی آخری جگہ

پروفیسر سلام صاحب سے ملاقات کے بعد ہماری کانفرنس کا آخری دن تھا۔ شام کو ہم سمندر کے کنارے سیر کو جاتے تھے۔ کوئی ۲ یا ۳ میل پیدل چلتے۔ ایک دن ہم نے ایک خستہ حال عمارت کے باہر ایک بورڈ لگا دیکھا۔ پڑھا تو حیران رہ گئے کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں ایک بہت بڑے فزکس کے سائنسدان Ludwig Boltzmann جس کا تعلق آسٹریا سے تھا، نے ۱۹۰۶ء میں خودکشی کی تھی۔ یہ تو بہت بڑا آدمی تھا جس نے Statistical Mechanicsمیں بہت قابلِ قدر کام کیا مگر اس کے کام کی کوئی خاطرخواہ پذیرائی نہ ہوئی۔ اس دکھی جگہ کو دیکھنے کے بعد ہم واپس ہوٹل آئے اور آرام کیا۔ اگلے دن جمعہ اور ہمارا ICTPمیں آخری دن تھا۔ ہم نے لندن کی ٹکٹیں بک کروائیں اور اگلے دن تریستے کے قریب وینس شہر سے ہماری روانگی بذریعہ برٹش ایئرویز تھی۔

پانیوں میں موجود شہر وینس آمد

ہم نے تمام خوشیوں اور ایک غم زدہ زیارت کے ساتھ ICTPکو الوداع کیا اور تریستے سے ایک نئے نرالے شہر وینس (Venice)کے لیے بذریعہ ٹرین روانہ ہوئے۔ ٹرین سے ہم نئے شہر آئے۔ عجب طرز کا شہر تھا۔ ۱۹۹۱ءجولائی کا مہینہ وینس شہر سیاح حضرات سے بھرا پڑا تھا۔ اکثر لوگوں کی زبان انگلش، فرنچ اور جرمن تھی۔ ان زبانوں کے چند لفظوں کو مَیں جانتا تھا۔ اٹالین زبان تو لوکل لوگوں کی تھی ہی۔ نہروں کا جال تھا۔ گلیاں کوئی نہیں تھیں۔ سڑکیں غائب تھیں۔ گاڑیاں بھی نہیں تھیں بلکہ گاڑیوں کی جگہ چھوٹی بڑی کشتیوں نے لے رکھی تھی۔ نہروں کے کنارے لوگوں کے چلنے پھرنے کے لیے کافی جگہ موجود تھی جہاں لوگوں کے چلنے پھرنے اور آئس کریم اور دیگر اشیائے خورونوش کی خریدو فروخت ممکن ہوسکتی۔ نہروں کے کافی پل بھی تعمیر تھے جہاں سے لوگ گلیوں کی طرح ایک طرف سے دوسری جگہ آجارہے تھے۔

شہر وینس کی سیروسیاحت خوب کی اور پھر شام کو وینس ایئرپورٹ پہنچے۔ ایئرپورٹ شہر سے دور واقع ہے اور بس شہر سے ایئرپورٹ ایک بہت لمبے پل سے ہوتی ہوئی پہنچتی ہے۔ پل کے نیچے سمندر چند میٹر ہی گہرا ہے۔ سارا بس کا سفر ایک خیالی نظارہ ہی لگ رہا تھا مگر یہ خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقت تھی۔

وینس ایئرپورٹ کا نام مارکوپولو بہت مناسب طورپر مارکوپولو کی چین اپنے والد کے ساتھ کئی دفعہ سفر کی یاد دلاتا ہے۔ ہم بھی آج کی دنیا کے مارکوپولو تھے۔ مَیں جو ربوہ سے اٹھا اور کراچی، استنبول، روم اور تریستے سے ہوتا ہوا وینس مارکوپولو کی سرزمینِ بصورتِ سیاحت پہنچا تھا، یوں مَیں اپنے آپ میں کسی قدر مارکوپولو ہی تھا۔ وینس سے ہماری فلائٹ تیار تھی اور اب ہماری منزل لندن کا ہیتھرو ایئرپورٹ تھا۔

ہیتھرو ایئرپورٹ لندن آمد

شام کے وقت ہم لندن پہنچے۔ لندن اپنی پوری شان و آن سے روشنیوں سے پر تھا۔ بے حد وسیع شہر۔ جہاز سے لندن کا فضائی نظارہ سب شہروں سے انوکھا تھا۔ جہاز سے اترے اور امیگریشن کی تھوڑی سی بات چیت کے بعد ہم لندن ہیتھرو ایئرپورٹ سے باہر آئے۔ ہیتھرو ایئرپورٹ کے باہر نوید کے بہنوئی ہمیں لینے آئے ہوئے تھے۔ پھر ہم لندن سے ایک شہر Readingآئے۔ یہاں نوید کی بہن رہتی تھیں۔ نوید کی بہن نے بہت زیادہ کھانے بنائے تھے جو ہم نے خوب کھائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر اداکیا۔ ان کے ہاں رات گزاری۔ اگلے دن مَیں لندن مسجد فضل نوید اور نوید کے بہنوئی کے ساتھ آیا جہاں سے میرے دوست مجھے اپنے گھر لے گئے۔ یہاں میرے تین محلےدار رہتے تھے۔ ان میں مَیں بھی شامل ہوگیا۔ معین، انور اور شیخ محمود نے میری اچھی میزبانی کی۔ اللہ ان کو جزا دے۔ آمین

پاکستانی اسلام آباد سے برطانوی اسلام آباد آمد

یوں ربوہ سے شروع سفر لندن آکر ختم ہوا۔ لندن میں مسجد فضل میں نمازیں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی امامت میں پڑھتے اور ربوہ کے لوگوں سے آتے جاتے ملاقاتیں ہوتیں۔ کوئی گول بازار سے تھا، کوئی دارالرحمت سے، کوئی دارالصدر، کوئی دارالیمن اور کوئی ہمارے محلّہ دارالنصر سے۔ غرض ہر محلّے سے کوئی نہ کوئی موجود تھا۔ کبھی کبھی یوں لگتا کہ مسجد فضل کے اِردگِرد ربوہ کے ہر محلّہ سے کوئی نہ کوئی نمائندگی کررہا ہے۔ لندن آمد سے قبل جلسہ سالانہ تازہ بہ تازہ منعقد ہوا تھا لیکن جلسہ کے ایّام میں ہماری کانفرنس اٹلی میں جاری تھی۔ اس طرح مَیں جلسہ سالانہ یوکے میں تو شمولیت نہ کرسکا۔ مگر مَیں نے اپنے واقف زندگی دوست محمود احمد ملک کے ساتھ اسلام آباد (ٹلفورڈ) جاکر وہاں جلسہ سالانہ کی باقیات دیکھیں۔ ابھی چند نشانات موجود تھے۔ ارادہ کیا کہ ان شاءاللہ آئندہ جلسہ سالانہ میں ضرور شرکت کروں گا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒسے ملاقات

چند دن کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے ملاقات کا موقع ملا۔ حضور کو کانفرنس کا بتایا تو حضور نے فرمایا کہ یونیورسٹی میں مزید تعلیم کی یوکے میں ہی کوشش کریں۔ چنانچہ مَیں نے یوکے کی تمام یونیورسٹیوں میں داخلہ کے کاغذات جمع کروانے شروع کیے۔ ایک طرف پاکستان کے کمزور و ناتواں حالات اور دوسری طرف مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیم کی کوششیں۔ درمیان میں مَیں خود جو پاکستانی معاشرے، پاکستانی رسم و رواج و حالات اور سب سے بڑھ کر والدین سے دوری میرے لیے بہت بڑا چیلنج تھا۔

ان حالات میں کوشش تھی کہ والدین بھی ساتھ ہوں تو بہتر ہے۔ بہرحال یوکے تعلیم کی کوشش جاری رہی۔ قائداعظم یونیورسٹی اور اس کا ماحول بہت یاد آتا رہا۔ یونیورسٹی کے دوست اور سب سے بڑھ کر پروفیسر حضرات جن سے یونیورسٹی کی رونق برقرار تھی۔

ہر پل تبدیل ہوتی زندگی کا چشم دید نظارہ-فضلِ ربّی

میری زندگی کے اس ماہ میں اس قدر تبدیلیاں ہورہی تھیں کہ ان کو جذب کرنا میرے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضلوں کے شکر کرنے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ اسلام آباد سے ربوہ اور پھر فیصل آباد سے کراچی فلائٹ نیا انوکھا تجربہ۔ پھر کراچی کا فضائی نظارہ۔ استنبول آمد، نیا شہر، نئی دنیا، نئی کرنسی۔ روم آمد، خوبصورت ایئرپورٹ، قدیم شہر، نئی طرز کی مغربی زندگی۔ تریستے شہر اگرچہ اٹلی کا ہی شہر مگر بہت ہی امیر طرزِزندگی، نہایت صاف ستھرا شہر۔ وینس الگ طرز کا شہر، پانی کی گلیاں، کشتی ذریعہ نقل و حمل۔ اور پھر لندن جہاں کی زندگی پاکستان سے بہت ہی مختلف، صاف ستھری زندگی، عمارتیں ہی عمارتیں، زمین دوز ٹرین کا جال، ہر آدمی کسی نہ کسی طرح کی پڑھائی میں مصروف۔ وہ سفر میں بس، ٹرین یا ہوائی جہاز میں ہو یا ہوٹل یا کیفے میں بیٹھا کچھ کھا پی رہا ہو، اخبار اس کے پاس ہے۔

لندن فضل مسجد میں اکثر میرے اَور دوست بھی مل جاتے۔ کوئی بغرضِ ملاقات حضرت صاحب، کوئی تقریبِ نکاح و شادی اور کوئی حضور کی امامت میں نماز کی غرض سے فضل مسجد آتے تو ان سے میری ملاقات ہوجاتی کیونکہ میری رہائش مسجد فضل سے کوئی پانچ منٹ کی پیدل دوری پر تھی۔

برطانیہ میں موجود اسلام آباد میں چند دن

چند دوستوں نے مشورہ دیا کہ واپس پاکستان نہ جاؤ، یہاں ٹھہر جاؤ۔ مَیں نے اس بارے سوچا۔ میرا ایک دوست قائداعظم یونیورسٹی الیکٹرونکس ڈیپارٹمنٹ کا اور دارالصدر ربوہ کا رہنے والا تھا، اس نے میرا بہت خیال رکھا اور ٹھہرنے کا مشورہ دیا۔ مگر مَیں نے واپس پاکستان جانے کا پروگرام بنایا اور چند دنوں کے لیے اسلام آباد جہاں جلسہ سالانہ یوکے منعقد ہوا تھا، ایک دوست کے پاس ٹھہرا۔

پاکستان واپسی کا پروگرام حضور سے ملاقات کے بعد مَیں نے بنایا۔ اگرچہ اوّلین پروگرام میرا یہی تھا کہ یہاں برطانیہ میں رک جاؤں۔ واپسی کا سفر اس لیے کیا کہ مَیں اپنے تعلیمی سفر میں رک جانے والی کوئی بات نہ کرنا چاہتا تھا۔ خواہش تھی کہ تعلیمی کام نہ رکے۔ تاہم برطانیہ کی چند ایک یونیورسٹیوں سے برطانیہ میں رہ کر بات چیت کی اور طے کیا کہ واپس پاکستان جانا ہے اور پھر سیدھا کسی یونیورسٹی میں بغرض تعلیم واپس برطانیہ آؤں گا۔

اسی دوران میرے دوست نوید کا فون میرے دوست ناصر کے گھر آیا۔ ناصر نے نوید کو بتایا کہ احمد اسلام آباد گیا ہے۔ نوید بہت پریشان ہوا کہ احمد نے ذکر تو کیا تھا کہ اس کا ارادہ واپس جانے کا ہے مگر اتنی جلدی؟ یہ تو اس نے نہیں بتایا۔ اس پر ناصر نے بتایا کہ وہ پاکستانی اسلام آباد نہیں گیا بلکہ ہمارا یوکے میں ایک علاقہ اسلام آباد کہلاتا ہے۔ احمد وہاں گیا ہے۔ ناصر قائداعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی الیکٹرونکس کرنے لندن آگئے تھے۔ پھر Canadaکے لیے امیگریشن کے منتظر تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ جرمنی چلے گئے تھے۔

مجھے پھر ناصر کا پیغام ملا اور پھر میں نے نوید کو بتایا کہ چند دنوں میں کراچی واپسی کی ٹکٹ پر تاریخ ڈلوا رہا ہوں۔ یوں میرا واپسی کا پروگرام لندن-میلان-روم-استنبول-کراچی بنا۔ مَیں نے اپنے گھر خط لکھ دیا اور کراچی میں اپنے بھائی جان کو بھی بذریعہ خط اطلاع دے رکھی تھی۔ اور ایک دن مَیں اسی روٹ سے ہوتاہوا کراچی پہنچا اور پھر بذریعہ چناب ایکسپریس ربوہ آیا۔

ربوہ آمد پر میرے والدین پہلے تو بہت خوش تھے مگر بعد میں افسوس میں تھے کہ پاکستان کے حالات تو خراب تر ہوتے جارہے ہیں ۔ مَیں نے والدین کو بتایا کہ ملاقات میں حضور کا ارشاد تھا کہ آپ امریکہ کی بجائے یوکے میں ٹھہریں اور یہاں ہی تعلیم حاصل کریں۔ اب مجھے امریکہ کا کوئی شوق نہیں۔ یوکے میں تعلیمی اخراجات کا اللہ مالک ہے۔ حضور نے کہہ دیا ہے تو انشاءاللہ جلد یوکے کا ویزا بھی مِل جائے گا۔

یونیورسٹی آمد

اکتوبر ۱۹۹۱ء میں قائداعظم یونیورسٹی واپس آیا۔ اب یونیورسٹی میں اپنے پی ایچ ڈی کورس کو سمیٹ کر بند کرکے پروفیسروں سے تعارفی خطوط لے کر برطانوی یونیورسٹیوں میں ستمبر ۱۹۹۲ء میں داخلے کی کوشش میں تھا۔ اگر ویزا کسی وجہ سے نہیں ملتا تو قائداعظم یونیورسٹی ہی میں Ph.Dکا ارادہ تھا۔ پھر ویزا اَپلائی کرنے کا موزوں وقت کرسمس کے قریب دسمبر میں تھا۔ مَیں نے دسمبر تک انتظار کیا اور اس اثناء میں اپنے Ph.D ریسرچ کے Problemکو اچھی طرح سمجھنے کی بھی کوشش کی۔

برٹش ویزا کا دوبارہ حصول

لندن میں جب مَیں نے پاکستان واپسی کی ٹکٹ بنائی تو معلوم ہوا کہ مجھے اٹلی کا ویزا بھی حاصل کرنا ہے۔ پہلا ویزا تو سنگل انٹری تھا تاہم انگریز ٹکٹ بنانے والے نے مجھے ٹکٹ اور اٹلی ایمبیسی جو سنٹرل لندن میں تھی، کا مکمل ایڈریس، ہر چیز واضح یعنی کون سا ٹیوب اسٹیشن اور کتنا پیدل چلنا ہے، لکھ دیا۔ ایک اَور بات بھی بتائی کہ اگر جلد ہی واپس آنا ہو تو اسلام آباد میں برٹش ایئرویز کے دفتر جانا۔ وہ تمہارا ویزا فری لگوادیں گے۔ لہٰذا مَیں دسمبر کے شروع میں اسلام آباد امریکن سنٹر کے سامنے برٹش ایئرویز کے دفتر گیا۔ تمام ضروری کاغذات بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے ایک سادہ سا فارم پُر کروایا اور پاسپورٹ جمع کرلیا۔ تین دن کا وقت دیا کہ ویزا لگنا ہے یا نہیں۔ مَیں چوتھے دن گیا۔ پاسپورٹ لیا۔ جس یونیورسٹی بس پر گیا تھا وہی بس گھوم گھما کر واپس یونیورسٹی جارہی تھی، اسی میں آبیٹھا۔ یونیورسٹی آیا۔ ہاسٹل کمرہ میں گیا اور آرام سے پاسپورٹ کھولا تو برطانیہ کا ویزا لگاپایا۔ الحمدللہ

نوید اصغر کا ذکر

جب میرا ویزا دوبارہ لگ گیا تو مَیں نے کوشش کی کہ اس کو خفیہ ہی رکھوں کیونکہ ویزا والے پاسپورٹ کی حفاظت پیش نظر تھی۔ پھر مَیں نے نوید اصغر کے گھر کا پروگرام بنایا۔ ایک دن صبح کو گیا اور نوید کا حال احوال معلوم کیا۔ نوید کے والدین بہت خوش ہوئے۔ معلوم ہوا کہ نوید اٹلی اور انگلستان سے ہوتاہوا اپنی خالہ کے ہاں ڈنمارک میں ہے۔ پھر انہوں نے فون پر میری بات بھی کروائی۔ نوید بہت خوش تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ شاید پاکستان کچھ دیر سے آئے گا، ایک دو سال کے بعد۔ ابھی وہ کوئی کام وغیرہ کررہا ہے۔ کچھ سیکھ سکھا رہا ہے۔ لیکن افسوس ۱۹۹۴ء میں اس کے دماغ میں ٹیومر کا انکشاف ہوا اور پھر تھوڑے عرصہ کے بعد وہ پاکستان میں وفات پاگیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے۔ آمین

میری والدہ کی قائد اعظم یونیورسٹی آمد

ویزا لگنے کے بعد مَیں ربوہ آیا۔ والدین کو ویزے کا بتایا اور والدہ، بہن اور خالہ کو اسلام آباد یونیورسٹی دِکھانے لے آیا۔ میری خواہش تھی کہ میری والدہ فزکس ڈیپارٹمنٹ دیکھیں کیونکہ وہ اکثر میرے پرانے سکول، کالج اور ڈگری کالج ربوہ اور گورنمنٹ کالج لاہور کو میرے زمانہ طالبعلمی میں دیکھنا چاہتی تھیں۔ مگر انہوں نے کبھی اس خواہش کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی مجھے توفیق ہوئی کہ اپنے والدین کو وہ جگہیں دِکھاؤں جس نے میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم اب میرے پاس فرصت بھی تھی اور ایک رشتہ دار بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے تو موقع اچھا تھا۔

میری والدہ قائداعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ آئیں۔ عمارت کو ہاتھ لگایا اور بہت خوش ہوئیں اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ چونکہ اتوار کا دن تھا اس لیے یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات تو کم تھے مگر چند اساتذہ کرام کو دیکھا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پروفیسر عبدالسلام پر فِلم

میری بیٹی ۲۰۱۸ء میں قازقستان میں مجھے ملنے آئی اور اسی وقت نیٹ فلیکس میں فِلم آئی جو پروفیسر عبدالسلام کی زندگی پر بنائی گئی تھی۔ اس فِلم میں اکثر پروفیسرز قائداعظم یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ تمام پروفیسر میرے ٹیچر رہے تھے۔ جب میری بیٹی نے مجھے یہ فِلم دِکھائی تو مجھے اپنے ٹیچروں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور ایک لمبے عرصہ کے بعد فِلم کے روپ میں دیکھنے سے مجھے رونا بھی آیا جوکہ عملِ تعظیم تھا۔

دوبارہ لندن سفر

نیا سال ۱۹۹۲ء میرے لیے خوش آئند تھا۔ برطانیہ کی متعدد یونیورسٹیوں سے تسلّی بخش جواب مِلنا شروع ہوئے۔ ان میں گلاسگو، برمنگھم، مانچسٹر اور کیمبرج شامل تھے۔ آکسفورڈ اور امپیریل سے کوئی جواب نہیں آیا۔ بالآخر مَیں مارچ ۱۹۹۲ء میں لندن واپس آیا۔ اس سال پاکستان نے کرکٹ میں عالمی کپ بھی جیتا تھا۔ عمران خان ٹیم کے کیپٹن تھے۔

اپریل میں مجھے مانچسٹر، برمنگھم اور گلاسگو سے ستمبر ۱۹۹۲ء میں داخلے کے کاغذات ملے۔ مانچسٹر مجھے زیادہ بہتر لگا چنانچہ مَیں نے مانچسٹر جانے کا فیصلہ کیا۔ مارچ سے ستمبر تک مسجد فضل میں وقفِ عارضی کے تحت وکالت تبشیر لندن میں ہادی علی صاحب، ماجد طاہر صاحب، اخلاق انجم صاحب اور عبدالحمید عبدالرحمٰن صاحب کے ساتھ کام کیا۔ اکتوبر ۱۹۹۲ء میں مکرم عطاءالمجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کے ساتھ لندن سے مانچسٹر آیا اور پھر مبشر خالد صاحب کے گھر ایک سال تک قیام کیا۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں مَیں نے ۲۰۰۲ء تک کئی پوزیشنوں میں کام کیا اور ۱۸ پیپرز لکھے۔ الحمدللہ

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سےعبدالسلام عالمی مرکز برائے نظریاتی فزکس اٹلی تک(قسط اول)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button