مکتوب

مکتوبِ ایشیا (مئی۲۰۲۶ء)

(ابو سدید)

بر اعظم ایشیا کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

ایران امریکہ تعلقات

مئی ۲۰۲۶ء کے دوران ایران اور امریکہ کے تعلقات مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک اہم موضوع رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، علاقائی سلامتی اور خلیج کی صورتحال جیسے مسائل بدستور کشیدگی کا باعث بنے رہے۔ اگرچہ براہِ راست سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوئے، تاہم مختلف بین الاقوامی فورمز اور ثالث ممالک کے ذریعے بالواسطہ رابطوں اور مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جبکہ امریکہ نے ایران کی جوہری سرگرمیوں اور علاقائی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

مئی کے دوران خلیج کے خطے، خصوصاً آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال نے دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا۔ امریکہ نے خطے میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی اور بحری تعاون کو جاری رکھا، جبکہ ایران نے اپنی دفاعی اور بحری صلاحیتوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا۔ دونوں ممالک کے سرکاری بیانات میں ایک دوسرے کی پالیسیوں پر تنقید دیکھنے میں آئی، جس سے باہمی اعتماد کی کمی واضح ہوئی۔جوہری پروگرام کے معاملے پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ پر زور دیا، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جوہری سرگرمیوں کی شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس مسئلے نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔اقتصادی اعتبار سے امریکی پابندیوں کا اثر ایران کی معیشت پر برقرار رہا، تاہم ایران نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ایران نے ایشیائی ممالک، خصوصاً چین اور بعض دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ دوسری جانب امریکہ نے اپنی پابندیوں کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران پر سفارتی دباؤ جاری رکھا۔غزہ، یمن، عراق اور شام کی علاقائی صورتحال بھی ایران اور امریکہ کے تعلقات پر اثرانداز ہوتی رہی۔ دونوں ممالک نے مختلف علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے کردار پر تنقید کی، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔ اس کے باوجود بعض بین الاقوامی مبصرین نے یہ رائے ظاہر کی کہ براہِ راست تصادم سے گریز اور سفارتی ذرائع کے استعمال کی کوششیں دونوں جانب موجود رہیں۔اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ اگر سنجیدگی کی فضا میں مذاکرات جاری رہے تو کشیدگی کا خاتمہ نزدیک آتا نظر آرہا ہے۔

ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (APEC) کا اجلاس

مئی ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونے والا ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (APEC) کا اجلاس خطے کی اقتصادی اور تجارتی صورتحال کے حوالے سے نہایت اہم ثابت ہوا۔ یہ اجلاس چین کے شہر سوجو میں منعقد ہوا جس میں ایشیا اور بحرالکاہل کے رکن ممالک کے وزرائے تجارت اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد عالمی تجارتی چیلنجز، سپلائی چین کے مسائل، سرمایہ کاری کے فروغ اور علاقائی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی معیشت کو درپیش غیر یقینی صورتحال، بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹیں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں ایشیا پیسیفک خطے کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں، اس لیے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔اجلاس کے دوران آزاد تجارت، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت(AI)، گرین انرجی اور پائیدار ترقی کے موضوعات خصوصی اہمیت کے حامل رہے۔ چین نے علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کثیرالجہتی تعاون پر زور دیا، جبکہ دیگر رکن ممالک نے سپلائی چین کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ شرکا نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ عالمی معاشی سُست روی اور بڑھتے ہوئے تجارتی تنازعات کے باوجود ایشیا پیسیفک خطہ عالمی اقتصادی ترقی کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔

رکن ممالک نے جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے اقتصادی بحالی اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ خوراک کی سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی زور دیا گیا۔اس اجلاس کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس نے امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی اختلافات کے باوجود اقتصادی مکالمے کے دروازے کھلے رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ماحولیاتی اور موسمیاتی کانفرنسیں

مئی ۲۰۲۶ء کے دوران ایشیا کے مختلف ممالک میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق متعدد اہم کانفرنسیں اور اجلاس منعقد ہوئے جن کا بنیادی مقصد موسمیاتی بحران سے نمٹنے، کاربن کے اخراج میں کمی، صاف توانائی کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کو آگے بڑھانا تھا۔ ان کانفرنسوں میں حکومتی نمائندوں، ماہرینِ ماحولیات، صنعت کاروں، سائنس دانوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، جیسے شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور سمندری طوفانوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ملائیشیا، سنگاپور، جاپان اور دیگر ایشیائی ممالک میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں کاربن کیپچر ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، گرین فنانس اور صنعتی شعبوں میں فاضل مادوں کے اخراج کو کم کرنے کے طریقوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ خاص طور پر کاربن کیپچر اور اسٹوریج کی جدید ٹیکنالوجی کو مستقبل میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ایشیائی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ان کانفرنسوں میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی کی پیداوار، ہائیڈروجن ایندھن اور صاف توانائی کے دیگر ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ کئی ممالک نے ۲۰۵۰ یا اس کے بعد ’’نیٹ زیرو اخراج‘‘ کے اہداف حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاسوں میں یہ بھی کہا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔موسمیاتی کانفرنسوں کے دوران قدرتی آفات سے نمٹنے، پانی کے وسائل کے تحفظ، جنگلات کے فروغ اور شہری علاقوں میں ماحولیاتی منصوبہ بندی جیسے موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر کاربن کے اخراج میں مؤثر کمی نہ کی گئی تو ایشیا میں زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے علاقائی تعاون، جدید تحقیق اور ماحول دوست پالیسیوں کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیا گیا۔

ہانگ کانگ کاثقافتی اور مذہبی تہوار

ہانگ کانگ کے ثقافتی اور مذہبی تہواروں نے مئی ۲۰۲۶ء میں مقامی آبادی اور بین الاقوامی سیاحوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ ان تقریبات میں سب سے نمایاں تہوار Cheung Chau Bun Festival تھا، جو ہانگ کانگ کے جزیرے چیونگ چاؤ میں ہر سال بدھ مت اور تاؤمت کی روایات کے تحت منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کی تاریخ انیسویں صدی سے جڑی ہوئی ہے اور مقامی عقیدے کے مطابق یہ تقریب وباؤں، آفات اور بدروحوں سے تحفظ کے لیے شروع کی گئی تھی۔ تہوار کے دوران جزیرے کی سڑکوں کو رنگ برنگی سجاوٹ، روایتی جھنڈیوں اور مذہبی علامتوں سے آراستہ کیا گیا۔ مقامی مندروں میں خصوصی عبادات، دعائیہ تقاریب اور مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔ ہزاروں مقامی باشندے اور سیاح ان تقریبات میں شریک ہوئے، جس سے ہانگ کانگ کی ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔ تہوار کی سب سے منفرد اور مشہور سرگرمی ’’بن ٹاور کلائمبنگ مقابلہ‘‘ ہے، جس میں حصہ لینے والے افراد بنوں (روایتی مٹھائی نما روٹیوں) سے ڈھکے ہوئے بلند میناروں پر چڑھ کر زیادہ سے زیادہ بن حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مقابلہ خوشحالی، امن اور اچھی قسمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی روایتی پریڈ، شیر اور اژدہے کے رقص، موسیقی اور ثقافتی جلوس بھی تہوار کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ہانگ کانگ کی حکومت اور سیاحتی اداروں نے ان تقریبات کو محفوظ اور منظم انداز میں منعقد کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔ تہوار کے دوران نقل و حمل، سکیورٹی اور ہنگامی طبی خدمات کو بہتر بنایا گیا تاکہ مقامی افراد اور سیاح آسانی سے تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان سرگرمیوں نے مقامی معیشت، سیاحت اور ثقافتی صنعت کو بھی فائدہ پہنچایا۔

پاک چین دوستی کے ۷۵سال مکمل

پاکستان اور چین کے استوار ہونے والے سفارتی تعلقات کے ۷۵ سال مکمل ہو گئے۔ اس حوالے سےایوانِ بالا سینٹ اور ایوانِ زیریں قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی گئیں جن میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے متفقہ طور پر دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر جب چین کی نیشنل پیپلز کانگرس کا اعلیٰ سطحی وفد ایوانِ بالا میں آیا تو حکومت اور اپوزیش کے ارکان نے کھڑے ہو کر ڈیسک بجاتے ہوئے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ چئیرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصرعباس، نائب وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاک چین دوستی کے ۷۵ سال مکمل ہونے کو ایک یادگار مرحلہ قرار دیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے ۷۵؍سال مکمل ہونا ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ بعد ازاں وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم نے ہاؤس میں قرارداد پیش کی جس میں پاک چین آہنی دوستی کو ہرآزمائش پر پورا اترنے والا اٹوٹ رشتہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ خواہشات پر مبنی ہیں۔ ایوان نے پاکستان کے بنیادی مفادات، خود مختاری اور سلامتی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا اور پاکستان کے اس اٹل مؤقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان، ون چائینہ پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے اور تائیوان کو چین کا اٹوٹ انگ تسلیم کرتا ہے۔ قرارداد میں سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین کے معاملات پر بھی چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ ایوان نے پاک چین اقتصادی راہداری( سی پیک) کے لیے مکمل حمایت جاری رکھنے اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر زور دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان چین شراکت داری خطے میں مشترکہ خوشحالی، ترقی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس میں دونوں ممالک کی لازوال دوستی کو نسل در نسل آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔یہ بھی کہا گیا کہ چین خطے کے تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تجاویز دے رہا ہے۔ اسی طرح گذشتہ روز چیئر مین سینٹ کی زیر اجلاس میں بھی چینی وفد کا ہاؤس میں آمد پر پْر تپاک استقبال کیا گیا اور متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔ پاک چین تعلقات کے ۷۵ سال مکمل ہونے پر چین کے اعلیٰ سطح کے وفد نے ایوان وزیراعظم میں وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی اور انہیں چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا۔

یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ پاک چین دوستی کے پچھتر برس پر محیط سفارتی تعلقات اعتماد، اخلاص، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک ایسی لازوال شراکت داری کی داستان ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ پاکستان چین تعلقات محض حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز ۲۱ مئی ۱۹۵۱ء کو ہوا تھا۔ پاکستان اْن ابتدائی مسلم ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ اس فیصلے نے بعدازاں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت عطا کی۔ ۱۹۶۳ء میں سرحدی معاہدے، ۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی جنگوں میں چین کی پاکستان کے لیے واضح حمایت، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر ایک دوسرے کی سفارتی معاونت، اور پھر اقتصادی، عسکری اور دفاعی تعاون نے اس دوستی کو آئرن برادرز کے رشتے میں بدل دیا۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کی حمایت کی جبکہ پاکستان نے بھی تائیوان، تبت، سنکیانگ اور جنوبی بحیرہ چین کے معاملات پر چین کے مؤقف کی غیر متزلزل تائید کی۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ دشمن قوتوں نے مختلف ادوار میں اس تعلق میں دراڑیں ڈلوانے کی سازشیں کیں مگر وہ ناکام رہیں کیونکہ پاکستان اور چین کے مابین اعتماد کی بنیاد محض وقتی مفادات کی نہیں بلکہ طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: قیامِ توحید کے لیےرسول کریم ﷺکی عظیم الشان جدوجہد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button