خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۷؍دسمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: آج بھی بعض سرایاکا ذکرکروں گا۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سریہ زیدبن حارثہؓ کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ رِفَاعَہ بن زید جُذَامِی اپنی قوم کےپاس رسول اللہ ﷺ کا خط لے کر آئے۔ آپﷺ ان کواسلام کی دعوت دےرہےتھے۔ ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔اسی عرصہ میں حضرت دِحْیہ بن خَلِیفہ کَلْبِی قیصرشاہِ روم کےپاس سےواپس آرہے تھے۔ ان کورسول اللہ ﷺنےقیصرِروم کی طرف بھیجا تھا۔ قیصر نے آپؓ کو تحائف دیے اورپوشاک پہنائی۔آپؓ کو ھُنَید بن عُوص اوراس کا بیٹا عُوْص بن ھُنَید رستےمیں ملے۔ ابنِ سعد کے نزدیک ھُنَیدبن عَارِض اوراس کابیٹا عارض بن ھُنید صُلَیعِی ملےاورصُلَیع قبیلہ جُذام کی ایک شاخ ہے۔ان دونوں نے حملہ کر کے ہر چیز حضرت دحیہ سےچھین لی اور آپؓ کے پاس ایک پرانے کپڑےکےسوا کچھ بھی نہ چھوڑا۔یہ بات بنو ضُبَیب کوپہنچی جورِفاعہ بن زیدکاقبیلہ تھا۔یہ قبیلہ اسلام لاچکا تھا۔اس قبیلے کےلوگ ھُنیداوراس کےبیٹےکی طرف نکلے۔ انہوں نے ان دونوں کےساتھ لڑائی کی اورحضرت دِحیہ کا مال چھڑا لیا۔حضرت دِحیہ رسول اللہﷺکےپاس آئے۔ آپﷺکواپنے واقعہ کی خبردی اور رسول اللہﷺ سے ھُنَید اور اس کےبیٹےسےانتقام لینے کے لیے درخواست کی۔ رسول اللہﷺنےحضرت زیدبن حارثہؓ کوپانچ سو آدمی دےکربھیجا اورحضرت دحیہ کو بھی لشکرکےساتھ واپس بھیج دیا۔ حضرت زیدؓرات کو چلتے اور دن کو چھپ جاتےاوران کےساتھ بَنُو عُذْرَہ کا ایک رہبربھی تھا۔ ادھر بنو جُذَام کےکچھ قبائل اکٹھےہو گئے۔ان میں سے غَطَفَان قبیلہ سارا تھا۔قبیلہ وَائِل اور کچھ سَلَامَان سےاورسعدبن ھُذَیم تھے۔جس وقت رِفَاعَہ بن زیدرسول اللہﷺ کا خط لےکراپنی قوم کےپاس آئے تواس وقت وہ لوگ حَرَّةُ الرَّجْلَامیں تھے۔حرّة الرَّجْلَا جذام کےعلاقے میں سیاہ پتھریلی زمین تھی اور رِفاعہ کُرَاع رَبَّہ مقام میں تھے۔ کُرَاع رَبّہ کےبارےمیں لکھاہےکہ بنو جذام کےعلاقے میں ایک جگہ تھی۔ رِفاعہ کو اس واقعہ کےبارےمیں کچھ معلوم نہ تھا۔ بنو عُدْرَہ کےرہبرنےحضرت زید بن حارثہؓ اور آپ کےساتھیوں کو صبح کےوقت ھُنَیداور اس کے بیٹےاوران لوگوں کی رہائش گاہوںپر اچانک پہنچا دیا۔صحابہؓ نے ان لوگوں پر حملہ کرکے ان کوقتل کیا اورخوب خونریزی ہوئی اورھُنَیداور اس کےبیٹے کو قتل کردیا۔ ان کےجانوروں اور اونٹوں اورعورتوں کو اپنے قبضہ میں لےلیا۔ ایک ہزار اونٹ اور پانچ ہزاربکریاں تھیں۔ عورتوں اور بچوں میں سےسو قیدی بنائے۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بنوضبیب کےمدینہ آنےاورآنحضرتﷺکےحسن سلوک کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس حملے کے بعد قبیلہ جُذَام کی شاخ بنو ضُبَیب کے مدینہ آنے کا ذکر ملتا ہے۔ ’’ابھی زید مدینہ میں پہنچے نہیں تھے کہ قبیلہ بنو ضُبیب کے لوگوں کو جو قبیلہ بنو جذام کی شاخ تھے زید کی اس مہم کی خبر پہنچ گئی اور وہ اپنے رئیس رِفاعہ بن زید کی معیت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور ہماری بقیہ قوم کے لیے امن کی تحریر ہو چکی ہے۔‘‘ جو نہیں مسلمان ہوئے ان کے لیے بھی امن کی تحریر ہو چکی ہے جبکہ آپ کا جو بھیجا ہوا لشکر تھا اس نے حملہ کر کے ان میں سے بعضوں کو قتل کر دیا، کچھ کو قیدی بنا لیا، غنیمت حاصل کرلی اور ہم تو مسلمان ہو چکے ہیں اور ان کے بارے میں بھی امن کی تحریر ہے۔ ’’تو پھر ہمارے قبیلہ کو اس حملہ میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟‘‘ ہم پر کیوں حملہ کیا؟ ’’آپؐ نے فرمایا ہاں یہ درست ہے۔‘‘ آپؐ نے کوئی دلیل نہیں دی۔ آپ نے فرمایا تم ٹھیک کہہ رہے ہو ’’مگر زید کو اس کا علم نہیں تھا اور پھر جو لوگ اس موقع پر مارے گئے تھے ان کے متعلق آپؐ نے بار بار افسوس کا اظہار کیا۔ اس پر رِفَاعہ کے ساتھی ابو زید نے کہا یا رسول اللہ! جو لوگ مارے گئے ہیں ان کے متعلق ہمارا کوئی مطالبہ نہیں۔ یہ غلط فہمی کا حادثہ ہو گیا مگر جو لوگ زندہ ہیں اور جو سازو سامان زید نے ہمارے قبیلہ سے پکڑا ہے وہ ہمیں واپس مل جانا چاہیے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں یہ بالکل درست ہے‘‘ اور وہ جو ہزاروں بھیڑیں اونٹ اور سامان وغیرہ تھا سو قیدی بھی تھے ’’آپؐ نے فوراً حضرت علی کو زید کی طرف روانہ فرمایا اور بطور نشانی کے انہیں اپنی تلوار عنایت فرمائی اور زید کو کہلا بھیجا کہ اس قبیلہ کے جو قیدی اور اموال پکڑے گئے ہیں وہ چھوڑ دئیے جائیں۔ زید نے یہ حکم پاتے ہی فوراً سارے قیدیوں کو چھوڑ دیا اور غنیمت کا مال بھی واپس لوٹا دیا۔‘‘

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سریہ وادی القریٰ اورسریہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:یہ سریہ وادی القریٰ میں رجب چھ ہجری میں ہوا۔ سریہ حِسْمیٰ کے قریباً ایک ماہ بعد یہ ہوا اور آنحضرت ﷺ نے پھر زید بن حَارِثَہ کو وادی القریٰ کی طرف روانہ فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس جگہ قبیلہ مَذْحِجْ اور قُضَاعَہ کے لوگ جمع تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قبیلہ مُضَر کے کچھ خاندان وہاں جمع تھے مگر لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔لیکن ابن ہشام نے بیان کیا ہے کہ وَادِی القُرٰی میں بنو فَزَارَہ سے صحابہؓ کا مقابلہ ہوا اور کئی صحابہؓ شہید ہوئے اور زید بھی شدید زخمی ہوئے۔ مگر خداتعالیٰ نے انہیں بچا لیا اور سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ نے بھی اسی کو بیان فرمایا ہے کہ یہ مقابلہ ہوا تھا۔ پھر سریہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا ذکر ملتا ہے۔ یہ سریہ شعبان چھ ہجری کو دومۃالجندل کی جانب ہوا۔ ابن اسحاق اور محمد بن عمر نے حضرت عبداللہ بن عمر بن خطابؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو بلایا اور فرمایا کہ تم تیاری کر لو میں تمہیں آج یا کل ان شاءاللہ تعالیٰ ایک سریہ میں بھیجنے والا ہوں’’…اس سریہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ ’’اب بڑی سرعت کے ساتھ اسلامی اثر کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا اور عرب کے دوردراز کناروں میں بھی اسلام کی تبلیغ پہنچ رہی تھی مگر اس کے ساتھ دور کے علاقوں میں مخالفت بھی بڑھ رہی تھی اور جو لوگ اسلام کی طرف مائل ہوتے تھے انہیں اپنے ہم قبیلہ لوگوں کی طرف سے سخت مظالم سہنے پڑتے تھے اور ان مظالم سے ڈر کر بہت سے کمزور طبع لوگ اسلام کے اظہار سے رکے رہتے تھے۔ اس لیے اب جنگی مہموں کی اغراض میں اس غرض کا اضافہ ہوگیا کہ ایسے قبائل کی طرف فوجی دستے روانہ کیے جائیں جن میں بعض لوگ دل میں اسلام کی طرف مائل تھے مگر مظالم کے ڈر کی وجہ سے وہ اسلام کوقبول کرنے سے رکتے تھے۔ گویا ان دستوں کے بھجوانے کی غرض مذہبی آزادی کاقیام تھا جس پر اسلام خاص طور پرزور دیتاہے۔ اس غرض وغایت کے ماتحت آنحضرت ﷺ نے ماہ شعبان 6ھ میں ایک فوجی دستہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی کمان میں دومۃالجندل کے دوردراز مقام کی طرف روانہ فرمایا … اسی جگہ کی طرف آنحضرت ﷺ خود بھی 4 ھ میں قیامِ امن کی غرض سے تشریف لے گئے تھے اوراس طرح یہ علاقہ آج سے دو سال قبل اسلامی دائرہ اثر میں داخل ہوچکا تھا اور وہاں کے باشندے اسلامی تعلیم سے غیر مانوس نہیں رہے تھے بلکہ غالباً ان میں سے ایک حصہ اسلام کی طرف مائل تھا مگراپنے رؤوسا اور اہلِ قبیلہ کی مخالفت کی وجہ سے جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ بہرحال آپؐ نے ہجری کے چھٹے سال میں ایک بڑا فوجی دستہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی امارت میں جو کبار صحابہؓ میں سے تھے دومۃ الجندل کی طرف روانہ فرمایا …آپؐ اپنے مقرب صحابی عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا۔ ’’ابن عوف! میں تمہیں ایک سریہ پر امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں تم تیار رہو۔‘‘ چنانچہ دوسرے دن صبح کے وقت عبدالرحمٰن بن عوفؓ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے ان کے سر پر انہی کا عمامہ لے کر باندھا اور بلالؓ کو حکم دیا کہ ایک جھنڈا ان کے سپرد کر دیا جائے۔ اور پھر آپؐ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ماتحت صحابہؓ کا ایک دستہ متعین کر کے ان سے فرمایا : … ’’اے ابنِ عوف! اس جھنڈے کو لے لو اور پھر تم سب خدا کے رستہ میں جہاد کے لیے نکل جاؤ اور کفار کے ساتھ لڑو مگر دیکھنا کوئی بددیانتی نہ کرنا اور نہ کوئی عہدشکنی کرنا اور نہ دشمن کے مُردوں کے جسموں کو بگاڑنا اور نہ بچوں کو قتل کرنا۔ یہ خدا کا حکم ہے اور اس کے نبی کی سنت۔‘‘اس روایت میں غالباً راوی نے سہواً عورتوں کا ذکر چھوڑ دیا ہے ورنہ دوسری جگہ صراحت آتی ہے کہ آپؐ جب کوئی دستہ روانہ فرماتے تھے تویہ بھی تاکید فرماتے تھے کہ عورتوں کوقتل نہ کرنا اور نہ بوڑھے پیر فرتوت لوگوں کو قتل کرنا اور نہ ایسے لوگوں کو قتل کرنا جن کی زندگی مذہبی خدمت کے لیے وقف ہو۔ اس کے بعد آپؐ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو ہدایت فرمائی کہ وہ دومۃ الجندل کی طرف جائیں اور کوشش کریں کہ صلح صفائی سے فیصلہ ہو جائے کیونکہ اگر وہ لوگ جنگ وجدال سے دستکش ہو کر اطاعت قبول کر لیں تو یہ سب سے اچھی بات ہے اور آپؐ نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے فرمایا کہ اگر وہ قبول کرلیتے ہیں تو ’’ اس صورت میں مناسب ہوگا کہ تم ان لوگوں کے رئیس کی لڑکی سے شادی کر لو۔ اس کے بعد آپؐ نے اس سریہ کورخصت فرمایا اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سات سو صحابیوں کوساتھ لے کر دومۃ الجندل کی طرف جو عرب کے شمال میں تبوک سے شمال مشرق کی طرف شام کی سرحد کے قریب واقع ہے، روانہ ہو گئے۔ جب یہ اسلامی لشکر دومہ میں پہنچا توشروع شروع میں تو دومہ کے لوگ جنگ کے لیے تیار نظر آتے تھے اور مسلمانوں کو تلوار کی دھمکی دیتے تھے مگر آہستہ آہستہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے سمجھانے پر وہ اس ارادے سے باز آگئے اور چند دن کے بعد ان کے رئیس اَصْبَغْ بن عُمَر کَلْبِی نے جو عیسائی تھا عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی تبلیغ سے بطیبِ خاطر اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ اس کی قوم میں سے بھی بہت سے لوگ جو غالباً پہلے سے دل میں اسلام کی طرف مائل ہو چکے تھے مسلمان ہو گئے اور جو لوگ اپنے دین پر قائم رہے انہوں نے بھی بشرحِ صدر اسلامی حکومت کے ماتحت آجانا منظور کر لیا۔‘‘ زبردستی نہیں منایا کسی کو۔ بہت سارے لوگ تھے جنہوں نے قبول نہیں کیا۔ لیکن حکومت کی فرمانبرداری کا عہد کر لیا۔ ’’ اس طرح بڑی خیروخوبی کے ساتھ یہ مہم اختتام کو پہنچی اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق عبدالرحمٰن بن عوفؓ دومۃ الجندل کے رئیس اَصْبَغْ بن عمر کی لڑکی تُمَاضِر کے ساتھ شادی کرکے مدینہ میں واپس لوٹ آئے اور خدا کے فضل اور آنحضرت ﷺ کی توجہ کی برکت سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ہاں اسی تُمَاضِر کے بطن سے ایک ایسا لڑکا پیدا ہوا جو خاص فدائیان اسلام میں سے نکلا اور علم وفضل کے اس مرتبہ کو پہنچا کہ وہ اپنے وقت میں اسلام کے چوٹی کے علماء میں سے سمجھا جاتا تھا۔ اس کا نام ابوسلمہ زُہْرِی تھا۔ ‘‘

سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سریہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس کی تفصیل میں سیرت خاتم النبیینؐ میں لکھا گیا ہے کہ ’’مدینہ میں یہودی قوم پر ان کی اپنی غداریوں اور فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے جو تباہی آئی تھی وہ تمام عرب کے یہودیوں کے دل میں ایک کانٹا بن کر کھٹک رہی تھی اور غزوۂ بنوقریظہ کے بعد سے جب کہ مدینہ میں یہود کا خاتمہ ہو گیا۔ خیبر کی بستی جو حجاز کے یہودیوں کاسب سے بڑا مرکز تھی اسلام کے خلاف خفیہ سازشوں کا اڈہ بن گئی اور اس جگہ کے یہودی جو عادتاً سخت کینہ ور اور حاسد وظالم واقع ہوئے تھے اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کونیست نابود کرنے کی کوشش میں سرگرم رہتے تھے۔ شعبان ۶ھ میں آنحضرت ﷺ کویہ اطلاع موصول ہوئی کہ قبیلہ بنوسعد بن بکر اور خیبر کے یہودیوں میں مسلمانوں کے خلاف باہم سرگوشیاں ہو رہی ہیں اور یہ کہ بنو سعد اہل خیبر کی اعانت میں اپنی طاقتوں کو جمع کر رہے ہیں۔ اس اطلاع کے ملتے ہی آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کی کمان میں صحابہؓ کاایک دستہ روانہ فرمایا جو دن کو چھپتے اور رات کو سفر کرتے ہوئے فدک کے پاس پہنچ گئے جس کے قریب یہ لوگ جمع ہو رہے تھے۔ یہاں مسلمانوں کوایک بدوی شخص ملا جو بنو سعد کا جاسوس تھا۔ حضرت علیؓ نے اسے پکڑ کرقید کر لیا اور اس سے بنو سعد اور اہل خیبر کے حالات دریافت کیے۔ پہلے تو اس نے بالکل لاعلمی اور بے تعلقی کا اظہار کیا مگر آخر وعدہ معافی لے کر اس نے سارا راز کھول دیا اور پھر مسلمان لوگ اس شخص کواپنا گائیڈ بنا کر اس جگہ کی طرف بڑھے جہاں بنو سعد جمع ہورہے تھے اور اچانک حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملہ کی وجہ سے بنو سعد گھبرا کر میدان سے بھاگ نکلے اور حضرت علیؓ مالِ غنیمت لے کر مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے اوراس طرح یہ خطرہ وقتی طورپر ٹل گیا۔‘‘

مزید پڑھیں: جھنگ میں احمدیت ۔ تبصرہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button