بوما ریجن، کونگو کنشاسا کا دوسرا جلسہ سالانہ
محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کونگو کنشاسا کے ریجن بوما کو اپنا دوسرا جلسہ سالانہ مورخہ ۱۱و۱۲؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ’’ہمارا بہشت، ہمارا خدا ہے‘‘ کے مرکزی موضوع پر کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ

تیاریاں اور وقار عمل:امسال جلسہ سالانہ کی انفرادیت یہ تھی کہ یہ پہلی بار جماعت کی اپنی ملکیتی زمین جو کہ شہر بوما میں ہے پر منعقد ہو رہا تھا۔ اس تاریخی موقع کی مناسبت سے تیاریاں ایک ماہ قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں۔ خدام الاحمدیہ نے سخت گرمی اور شدید موسم کے باوجود دن رات محنت کر کے اس قطعہ زمین کو ایک خوبصورت جلسہ گاہ میں تبدیل کیا۔
پہلا دن اور افتتاحی اجلاس:جلسہ کے مہمان خصوصی مکرم خالد محمود شاہد صاحب امیر و مبلغ انچارج کونگو کنشاسا تھے۔ ۱۱؍اپریل کو پہلے دن کا آغاز نماز تہجد، نماز فجر اور درس سے ہوا۔ بعد ازاں لوائے احمدیت لہرانے کی تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم امیر صاحب نے جماعتی پرچم جبکہ مکرم صدر صاحب مجلس انصار اللہ نے کونگو کا پرچم لہرایا۔

افتتاحی اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم ابوبکر نیات صاحب نے کی جس کے بعد مکرم کلیم اللہ بسمل صاحب ریجنل مبلغ بوما نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا کلام مع فرنچ ترجمہ پیش کیا۔ مکرم امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں جلسہ سالانہ کی اغراض و مقاصد بیان کیے اور پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی اور ان کی برکات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
اجلاس کی دیگر تقاریر درج ذیل رہیں: ‘‘لقاء الٰہی (مختلف واقعات کی روشنی میں)‘‘ از مکرم احمد بوبا صاحب لوکل معلم، ’’جلسہ سالانہ کا مقصد‘‘ از مکرم سلام علی صاحب ریجنل قائد خدام الاحمدیہ بوما اور ’’نور الٰہی سے وابستگی کا ذریعہ-خلافت‘‘ از مکرم جعفر دکوتے صاحب ریجنل مبلغ سلسلہMatadiو انچارج احمدیہ ریڈیو۔
دوسرا اجلاس اور ذیلی تنظیموں کی میٹنگز:نماز ظہر و عصر اور کھانے کے وقفے کے بعد دوسرا اجلاس مکرم انس موسو صاحب نیشنل صدر مجلس خدام الاحمدیہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ اس اجلاس میں مکرم عیسیٰ کتانو صاحب نے ’’دعا: خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق کا ذریعہ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی جبکہ اختتامی کلمات صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ نے کہے۔

نماز مغرب و عشاء کے بعد ریجن کی تینوں ذیلی تنظیموں (مجلس انصاراللہ، مجلس خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ) کے عہدیداران کے ساتھ الگ الگ میٹنگز کا انعقاد کیا گیا جس میں نومبائعین کو جماعت کے تنظیمی ڈھانچے اور نظام سے آگاہی دی گئی۔
دوسرا دن اور اختتامی اجلاس: ۱۲؍اپریل کو دوسرے دن کی کارروائی نماز تہجد و فجر کے بعد شروع ہوئی۔ جلسہ کے تیسرے اجلاس کی صدارت مکرم امیر صاحب نے کی۔ اس اجلاس میں درج ذیل تقاریر ہوئیں: ’’سیرت حضرت ابوبکر صدیقؓ‘‘ از مکرم نوید احمد صاحب ریجنل مبلغ سلسلہMbanza-Ngungu اور ’’اسلام میں نکاح و شادی کی اہمیت‘‘ از مکرم موسیٰ لیلے صاحب۔
بعد ازاں جلسے میں شامل غیر از جماعت مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور جماعت احمدیہ کی خدمات اور انتظام کو سراہا۔
اپنی اختتامی تقریر میں مکرم امیر صاحب نے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ’’تیسری جنگ عظیم کے خطرات اور اس سے بچاؤ کی تدابیر‘‘ پر روشنی ڈالی اور احباب جماعت کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار کی جانے والی دعاؤں کی تحریک کی طرف توجہ دلائی۔ جلسہ کا اختتام اجتماعی دعا سے ہوا۔
اللہ تعالیٰ ان مساعی کو جماعت احمدیہ کونگو کنشاسا کے لیے مثمر بثمرات حسنہ بنائے۔ آمین
(رپورٹ: شاهد محمود خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: احمدیہ سکول کنشاسا میں تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد




