خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳؍جنوری۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: بِرّ اعلیٰ قسم کی نیکی اور کامل نیکی کو کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ کامل نیکی تم اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربان نہ کرو اور ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ نہ کرو۔ پس ایک حقیقی مومن جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں رہتاہے، نیکیوں کے وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اور اسے کرنی چاہئیں جو اس کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے والی ہوں۔… پس یہ وہ راز ہے جسے آج جماعت احمدیہ کے افراد نے صحیح طور پر سمجھا اور حضرت مسیح موعودؑ کی تربیت کا یہ اثر ہے کہ آج تک یہ قربانی کے معیار ہم دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ معیار جو صحابہؓ نے قائم کیے پھر جن کو حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانے میں آپؑ کے قریب رہنے والوں نے اور آپؑ کے صحابہ نے قائم کیا۔ پھر اس کے بعد خلافت کے دور میں ہر زمانے میں ہم یہ قربانیاں دیکھتے چلے آتے ہیں اور آج تک یہی قربانیاں ہمیں نظر آ رہی ہیں۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حقیقی نیکی کے حصول کے لیے مالی قربانی کرنے کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: آپؑ فرماتے ہیں’’مال کے ساتھ محبت نہیں ہونی چاہیے‘‘ آجکل کے زمانے میں تو خاص طور پہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔ فرمایا ’’مال کے ساتھ محبت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جن سے تم پیار کرتے ہو۔… فرمایا کہ ’’بیکار اور نکمی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ نص صریح ہے لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔… ‘‘پھر آپؑ فرماتے ہیں ’’دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ اسی واسطے علمِ تعبیر الرؤیا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے‘‘ خواب میں ’’کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دے دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایما ن کے حصول کے لیے فرمایا۔ لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے کیونکہ مخلوقِ الٰہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے …اور ابنائے جنس‘‘ یعنی اپنی قوم کے لوگوں ’’اور مخلوقِ خدا کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بدوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔ جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔‘‘ نفع پہنچانے کے لیے تو قربانی کرنی پڑتی ہے۔ ’’دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لیے ایثار ضروری شئے ہے اور اس آیت میں لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔ پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔’’آپؑ نے فرمایا کہ‘‘ابوبکر ؓکی زندگی میں للہی وقف کا معیار اورمحک وہ تھا جو رسول اللہ ﷺنے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البیت لے کر حاضر ہو گئے۔‘‘گھر کا سارا سامان لے کے حاضر ہو گئے۔ پھر آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’مال سے محبت نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ یعنی تم بِرتک نہیں پہنچ سکتے‘‘ اس حقیقی نیکی تک، کامل نیکی تک نہیں پہنچ سکتے ’’جب تک وہ مال خرچ نہ کرو جس کو تم عزیز رکھتے ہو۔‘‘

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےمالی قربانی کی اہمیت کی بابت کونسی روایات بیان فرمائیں ؟

جواب: فرمایا: آنحضرت ﷺنے مالی قربانی کی بہت زیادہ تحریک فرمائی تھی اور اس بات کو آپؐ کے صحابہ نے سمجھا اور اس پر خوب عمل کیا۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا: دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہیے۔ ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔ دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ، دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔ پس یہ معیار تھا جو آنحضرت ﷺنے اپنے صحابہؓ میں قائم فرمانے کے لیے نصیحت فرمائی اور یہ قائم ہوا۔ ایک روایت میں آتا ہے جو حضرت ابومسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا، وہاں محنت مزدوری کرتا، اسے اجرت کے طور پر ایک مُد اناج وغیرہ ملتا (یہ مُد ایک پیمانہ ہے چند کلو کے برابر) یا جو چیز بھی ملتی وہ اسے صدقہ کر دیتا۔ یہ کوشش ہوتی کہ ہم نے اس تحریک میں حصہ لینا ہے جو آنحضرت ﷺنے فرمائی ہے اور کما کے حصہ لینا ہے۔ یہ نہیں کہ کسی سے مانگ کے حصہ لینا ہے بلکہ محنت کر کے، کما کے حصہ لینا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے اب بعضوں کا یہ حال ہے، اللہ تعالیٰ نے ان قربانیوں کا اتنا ان کو اجر دیا کہ اب ایک ایک لاکھ درہم ان کے پاس موجود تھے۔ جو مزدوری کر کے چندے دیا کرتے تھے وہ اب لاکھوں کے مالک ہیں۔تو یہ ہے قربانی کی وہ برکت۔ پس یہی وہ راز ہے جو آنحضرت ﷺنے ہمیں بھی اپنانے کی تلقین فرمائی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں نصیحت فرمائی کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اس میں سے خرچ کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آنحضرت ﷺبعض دفعہ چندوں کی تحریک کرتے تھے تو صحابہؓ گھر میں جو کچھ ہوتا لے آتے اور مختلف چیزوں کے وہاں ڈھیر لگ جاتے … ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا، اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماءؓ کو یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔ اپنے روپوؤں کی تھیلی کا منہ بند کر کے کنجوسی سے نہ بیٹھ جاؤ ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔ فرمایا کہ جتنی طاقت ہے کھول کر خرچ کرو۔ اللہ پر توکل کرو اللہ دیتا چلا جائے گا۔پھر آپؐ نے ایک موقع پر فرمایا حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے سخی کو اَور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اَور پیدا کر۔ دوسرا کہتا ہے کہ اللہ روک رکھنے والے کنجوس کو ہلاک کر دے اور اس کا مال و متاع برباد کر دے۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی مالی قربانی کے میعار کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس بارے میں حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کا نمونہ دیکھیں وہ کیا تھا۔ کس طرح آپؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے آپ کے مشن کو پورا کرنے کے لیے قربانی کی۔ حضرت مسیح موعود ؑنے حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘‘اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔‘‘ پھر آپؑ نے لکھا کہ ’’ان کے بعض خطوط کی چند سطریں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں‘‘ انہوں نے لکھا یعنی حضرت خلیفہ اوّلؓ نے حضرت مسیح موعود ؑکو لکھا کہ ’’میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔ …حضرت پیرو مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔ اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں۔‘‘ یعنی اگر خریداروں کی کمی کی وجہ سے یا ان کے پیسے نہ دینے کی وجہ سے کتاب کی اشاعت میں کوئی روک آ رہی ہے۔ ’’تو مجھے اجازت فرمایئے کہ یہ ادنیٰ خدمت بجا لاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کر دوں‘‘ اور جو آمد آئے وہ بھی واپس کر دوں۔ اور بڑے درد سے آپؓ نے فرمایا کہ ’’…میری سعادت ہے۔‘‘ بلکہ آپؓ نے فرمایا کہ ’’میرا منشاء ہے…‘‘ حضرت مسیح موعود ؑکو یہ عرض کیا کہ ’’میرا منشاء ہے کہ براہین کی طبع کا تمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے۔ ‘‘ یہ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کی قربانی کا معیار تھا۔

سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صحابہ حضرت مسیحِ موعودؓ کی مالی قربانی کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ نے ’’حضرت مسیح موعود ؑکا دعویٰ سنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعویٰ کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا۔‘‘ پس مجھے کوئی دلیلوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ دعویٰ ہی اتنا بڑا ہے کہ مجھے کسی اَور دلیل کو سننے کی ضرورت نہیں۔ مَیں مانتا ہوں کہ وہ مسیح موعود ؑہی ہیں ‘‘اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت کر لی۔ حضرت صاحب نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لیے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں‘‘ گو وہ قربانیاں تو کرتے رہے لیکن حضرت مسیح ؑ نے اس طرح خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود ؑ کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپؑ پر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔ حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔‘‘حضرت مسیح موعود ؑکی موجودگی کی وجہ سے وہاں بھی لوگ آتے تھے اور کھانا بھی انہیں دیا جاتا تھا۔ فرمایا ’’اور اس کے علاوہ مقدمہ پر بھی خرچ ہو رہا ہے۔ لہٰذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔‘‘ یعنی اخراجات کے لیے چندہ دیں۔ ’’جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ تقریباً چار سو پچاس روپے ملی تھی۔‘‘ جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ ’’وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دی۔ ایک دوست نے سوال کیا‘‘ ڈاکٹر صاحب سے کہا ’’کہ آپ گھر کی ضروریات کے لیے کچھ رکھ لیتے تو انہوں نے‘‘ڈاکٹر صاحب نے ’’کہا کہ خدا کا مسیح لکھتا ہے کہ دین کے لیے ضرورت ہے تو پھر اَور کس کے لیے رکھ سکتا ہوں۔ غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لیے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔‘‘…حضرت صوفی نبی بخش صاحبؓ مہاجر قادیان کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں سالانہ جلسے پر حاضر ہوا تو میں نے عرض کی کہ میں نے خلوت میں، علیحدگی میں حضرت مسیح موعود ؑ کو کچھ عرض کرناہے۔حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اندر آ جاؤ۔ کہتے ہیں اتفاق سے وہ کھڑکی کھلی رہی جس دروازے سے اندر داخل ہوئے تھے وہ کھلا رہا اور میرے ساتھ اَور کئی احباب بھی اندر آگئے۔ میں نے عرض کیا کہ والد صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے لڑکے کو اچھی اور اعلیٰ تعلیم دی ہے جب سے ملازم ہوا ہے ہماری کوئی خدمت نہیں کی۔ والد صاحب کا شکوہ ہے کہ بیٹے کو اتنی تعلیم میں نے دلوائی ہے ہماری خدمت کوئی نہیں کر رہا۔ مالی مدد کرنی چاہیے، نہیں کرتا۔ تو یہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود ؑکو عرض کیا کہ باپ یہ کہتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم دی اور خدمت کوئی نہیں کر رہے اور بیوی کہتی ہے کہ اچھا احمدی ہوا ہے کہ جو کچھ میرے پاس زیور تھا وہ بھی بک گیا۔ ہر چیز جا کے چندے میں دے دیتا ہے۔ شاید گھر کو چلانے کے لیے ان کو زیور بیچنا پڑتا ہو یا ضرورت کے وقت کوئی ایسی بات آ جاتی ہو جہاں زیور بیچنا ہو۔ اس بات پر بیوی کو شکوہ تھا۔ کہنے لگے کہ باپ کو بھی شکوہ ہے، بیوی کو بھی شکوہ ہے اور پھر حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اب میں قادیان آیا ہوں تو یہاں میں دیکھتا ہوں، یہاں کے نظارے دیکھ رہا ہوں کہ اس سلسلہ کی خدمت کے لیے آپ کے مرید ہزاروں روپیہ قربان کر دیتے ہیں اور آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دوگنی تگنی تنخواہ دے تو میں آپ کی خدمت کر سکوں۔ ان شکووں کا ذکر کر کے پھر آپ کہتے ہیں کہ لوگوں کے نمونے جب دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں اس سے بڑھ کر دوں اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ ان کو دوسرے ملک میں ملازمت مل گئی اور تنخواہ بھی بڑھ گئی اور انہوں نے مالی مدد بھی کی اور اپنے گھر والوں کی مدد بھی کی … حضرت قاضی قمر الدین صاحبؓ سائیں دیوان شاہ کے بارے میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں میں بھی سائیں صاحب سے کبھی کبھی دریافت کیا کرتا تھا کہ آپ کو قادیان تشریف لے جانے کی کوئی خاص وجہ ہے۔ بہت زیادہ قادیان جایا کرتے تھے کیونکہ جہاں ان کا گاؤں تھا سائیں صاحب وہاں سے گزر کر جایا کرتے تھے۔ قاضی صاحب کے گاؤں سے گزر کر جاتے تھے اور رات وہیں بسر کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں سائیں دیوان شاہ نارووال کے رہنے والے تھے اور پیدل سفر کر کے قادیان جاتے تھے اور یہ کئی میل کا سفر تھا جو یہ طے کیا کرتے تھے۔ نارووال سے قادیان تک۔ وہ کہتے ہیں اگر بیچ میں سے بھی جائیں، شارٹ کٹ (short cut) کر کے بھی جائیں تب بھی قریباً سو میل کا فاصلہ ہو گا جو وہ پیدل سفر کرتے تھے۔ تو انہوں نے سائیں صاحب سے کہا۔ قادیان جانا کسی خاص وجہ سے ہے یا صرف شوقِ ملاقات میں جا رہے ہیں کہ جاؤں اور حضرت مسیح موعود ؑ سے مل لوں۔ تو سائیں صاحب کہتے ہیں کہ میں غریب آدمی ہوں۔ ایک تو یہ ہے کہ شوقِ ملاقات ہے حضرت مسیح موعودؑ کا۔ دوسرا یہ کہ میں غریب ہوں اور چندہ دے نہیں سکتا جس طرح امیر لوگ دیتے ہیں ہزاروں سینکڑوں میں۔ اس لیے جا رہا ہوں کہ مہمان خانہ کی چارپائیاں بناؤں گا اور میرے سر سے چندہ اتر جائے گا۔ یعنی چارپائیاں مفت بناؤں گا اور چندے کا بوجھ اتر جائے گا۔

مزید پڑھیں: عقل مندی و حاضر دماغی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button