الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ

حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ آف فیروزوالہ (ضلع گوجرانوالہ) کی چند یادیں اُن کی نواسی مکرمہ عفت چودھری صاحبہ کے قلم سے جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ برائے مارچ۲۰۱۴ء کی زینت ہیں۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے نانا حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ کا تعلق ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں فیروزوالہ سے تھا۔ آپؓ پیشہ کے اعتبار سے ایک وکیل تھے اور گوجرانوالہ شہر میں ذاتی پریکٹس کرتے تھے۔ خاندانی اعتبار سے آپ ایک بڑے زمیندار تھے اور خاندان کے اکثر افراد بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ چنانچہ دنیاداری کا عنصر نمایاں تھا۔ تاہم ان کے ننھیال میں خدا کے فضل سے احمدیت آچکی تھی اور آپؓ کی والدہ بھی پہلے سے احمدی تھیں تاہم آپؓ کے والد نے احمدیت قبول نہیں کی۔ ایسے حالات میں حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ نے اپنے ماموں حضرت چودھری غلام رسول صاحبؓ (آف گھٹیالیاں) کے ساتھ خفیہ طور پر قادیان جاکر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔ قبول احمدیت کی بات زیادہ دیر مخفی نہ رہ سکی اور جب ان کے والد کو معلوم ہوا کہ اُن کی بیوی کے بعد بیٹا بھی اسی راستے پر چل نکلا ہے تو غصے میں انہوں نے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ لیکن آپؓ کے والد چونکہ خود بھی پابند صوم و صلوٰۃ ، دانا اور حلیم الطبع تھے اس لیے لوگوں کے سمجھانے پر اور اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر جلد ہی بیٹے کو معاف کردیا اور گھر میں واپس آنے کی اجازت دے دی۔

نانا جان حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ کو اگرچہ حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت زیادہ میسّر نہیں آئی لیکن احمدیت کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ گھر میں نماز باجماعت اور تہجد کا اہتمام باقاعدگی سے کرتے اور اپنے بچوں کو بھی اس میں شامل کرتے۔ روزانہ قرآن کریم کا درس دینا بھی معمول بنالیا۔ بچپن کی اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ مَیں نے اپنی امّی اور خالاؤں کو بھی کبھی تہجد چھوڑتے نہیں دیکھا۔

نانا جانؓ نے حتّی المقدور اپنے گاؤں میں احمدیت کی تعلیم پہنچائی اور ایک چھوٹی سی احمدیہ مسجد بھی بنوائی۔ اگرچہ آپؓ کی شدید مخالفت بھی ہوتی مگر خاندانی وجاہت کی وجہ سے مخالفین حد سے آگے نہ بڑھ پاتے۔ آخر آپؓ نے اپنی برادری کو مناظرے پر راضی کرلیا اور دو مناظرے منعقد بھی کروائے جن کے لیے حضرت مولوی خادم حسین صاحب گجراتی اپنے دوستوں کے ہمراہ تشریف لائے۔ یہ مناظرے مخالفین کے واویلا کرنے کی وجہ سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے بلکہ مخالفت میں شدّت آگئی۔ اگرچہ نانا جان کی تبلیغ سے گاؤں میں احمدیت کا بیج کسی قدر بویا جاچکا تھا لیکن عمومی طور پر فیروزوالہ کی زمین سخت ہی تھی۔

ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نانا جانؓ کی وفات عین جوانی میں ہوئی۔ تب تک آپؓ کی جوان بیٹیوں میں تو احمدیت راسخ ہوچکی تھی لیکن کم عمر بیٹے یتیم ہونے کے بعد اپنے دادا کے زیرسایہ چلے گئے جو احمدی نہیں تھے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ آہستہ آہستہ احمدی بہنوں اور احمدیت قبول نہ کرنے والے بھائیوں میں مسلسل دُوری ہوتی چلی گئی۔

جب ناناجانؓ بیمار ہوئے اور بیماری شدّت اختیار کرگئی تو اپنی وفات سے ایک روز پہلے نانا جانؓ نے کہا کہ مَیں کل نہاؤں گا اور باہر شیشم کے درختوں کی چھاؤں تلے جاکر بیٹھوں گا۔ لیکن جب اگلے ہی روز صبح آپؓ کی وفات ہوگئی تو آپؓ کی بات، سننے والوں کو تب یاد آئی جب غسل دینے کے بعد میّت کو شیشم کے درختوں کی چھاؤں میں رکھ دیا گیا تھا۔

آپؓ کی وفات کے بعد جب آپؓ کے تکیے کے نیچے رکھے ہوئے کاغذات کا جائزہ لیا گیا تو اُن میں آپؓ کی یہ وصیت بھی نکلی کہ ’’مجھے قادیان میں دفنایا جائے۔‘‘ اس کے علاوہ حضرت مسیح موعودؑ کی یہ نظم بھی لکھی ہوئی پائی گئی کہ

اِک نہ اِک دن پیش ہوگا تُو فنا کے سامنے

چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے

چھوڑنی ہوگی تجھے دنیائے فانی ایک دن

ہر کوئی مجبور ہے حکمِ خدا کے سامنے

مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا

رنج و غم ، یاس و الم ، فکر و بلا کے سامنے

بارگاہِ ایزدی سے تُو نہ یوں مایوس ہو

مشکلیں کیا چیز ہیں مُشکل کُشا کے سامنے

………٭………٭………٭………

محترم ڈاکٹر اعجاز قمر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم دسمبر۲۰۱۴ء میں مکرم زکریا ورک صاحب کے قلم سے محترم ڈاکٹر اعجاز قمر صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

مکرم ڈاکٹر اعجاز قمر صاحب نہایت نافع الناس اور بہت ہی پیارا وجود، بے لوث خدمت کا پیکر، دوسروں کا درد سمجھنے والا اور عالم باعمل انسان بقضائے الٰہی اس دنیائے ناپائیدار سے کینیڈا میں ۲۱؍جنوری ۲۰۱۲ء کو ۷۴؍سال کی کامیاب زندگی گزار کر رخصت ہو گیا۔ ایسے موقعوں پر ہی کہا جاتا ہے مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ۔ بلاشبہ وہ ایسا عالم شخص تھا جس کے علم سے ایک زمانہ فیض یاب ہو تا رہا۔

ڈاکٹر صا حب سے میری شناسائی گذشتہ ۳۵ سال پر ممتد تھی۔ ہمارا تعلق احمدیہ نیوز بلیٹن کینیڈا کے ذریعہ ہوا تھا جس کا مَیں ستّر کی دہائی میں نائب مدیر اور انتظامی امور کا ذمہ دار تھا۔ آپ مہینے میں کم از کم ایک بار مجھے ضرور خط لکھا کرتے تھے۔ ہم دونوں جب کسی نئی کتاب کا مطالعہ کرتے تو دوسرے سے اس کا ذکر کرتے۔

آپ صغر سنی میں ہی والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے تھے۔ والدہ نے بڑے نعم وناز سے پالا۔ وسکانسن امریکہ سے پی ایچ ڈی کرکے ۱۹۷۰ء میں واپس پاکستان گئے۔ لیکن ۱۹۷۳ء میں کینیڈا تشریف لے آئے اور ملازمت کی وجہ سے ونی پیگ شہر میں سکونت اختیار کی۔عرصہ دراز تک مقامی جماعت کے صدر رہے اور ۱۹۹۰ء میں وہاں پہلی احمدیہ مسجد تعمیر کروائی جو کہ آپ کے جملہ کارناموں میں سے سنہری کارنامہ تھاجس پر ہمیشہ فخر کرتے تھے۔ آپ نے ونی پیگ جماعت کی تاریخ بھی رقم فرمائی جو احمدیہ گزٹ کینیڈا کے صفحات کی زینت بنی۔ کئی سال جماعت احمدیہ کینیڈا کے سیکرٹری امور خارجہ بھی رہے۔ ۱۹۷۸ء میںجماعت احمدیہ کینیڈاکے دوسرے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہماری بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقعہ پر آپ نے مجھے اپنا بزنس کارڈ دیا جس پر لکھا تھا کہ آپ صوبائی حکومت میں اگرونومسٹ کے عہدہ پر فائز ہیں۔ قریباً ۱۹۸۱ء میں کچھ عرصہ اقوام متحدہ کے ماتحت زیمبیا میں ماہر زراعت کے طور پر برسر روزگار رہے۔

ایک بار کنگسٹن میں آپ سے اچانک ملاقات ہوگئی جب ایک ممبر آف پا رلیمنٹ کے والد کے گھر لبرل پارٹی کے سرکردہ افراد کی میٹنگ تھی۔ میں بھی وہاں پر موجود تھا کہ لوگوں کے ہجوم میں اچانک ڈاکٹر صاحب میرے سامنے آگئے۔ معلوم ہوا کہ آپ اٹاوہ میں مقتدر افراد سے ملاقات کے بعد واپس ٹورانٹو جا رہے تھے۔ یوں اس میٹنگ میں کئی ایک ممتاز افراد سے ملاقات اور جان پہچان کا موقع پیدا ہوگیا۔ بعدازاں آپ وفاقی حکومت میں دو سال (۲۰۰۷ء سے ۲۰۰۹ء تک) Criminal Injuries Compensation Board کے ممبر رہے۔ ۲۰۱۰ء میں آپ کو شہریت کی عدالت کا عہدہ تفویض کیا گیا جس پر آپ بوقت وفات بھی متعین تھے۔ رضاکارانہ خدمات کے عوض آپ کووفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ ہیومن رائٹس اینڈ ریس ریلشنز سینٹر نے بھی آپ کو گولڈمیڈل عطاکیا۔

بیس سال کی ملازمت کے بعد ۱۹۹۵ء میں ریٹائر ہوکر آپ نے ٹورانٹو میں سکونت اختیار کرلی۔ پھر میرے مشورے پر چین کا معلوماتی دورہ کیا۔ چین کے سفر کے بعد جو سفر نامہ لکھا وہ بھی ان کے رشحات قلم کی اعلیٰ مثال تھا۔ اسی طرح میری درخواست پر انگلش میں اپنی سوانح عمری بھی قلم بند کی۔

ڈاکٹر صا حب موصوف صاحب علم، صاحب فن، صاحب دانش اور قلم کے شہسوار تھے۔علم و کتاب، تصنیف و تالیف اور فکر ی اندازآپ کو دوسروں سے ممتاز بنا دیتا تھا۔ ظاہری تصنّع، خوشامد اور خودغرضی کا شائبہ تک نہ تھا۔ کتاب کا آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے مطالعہ کرتے تھے۔ ایک زمانہ ان کے رشحات اور ان کی ادبی خدمات کا معترف تھا۔ چونکہ خود صاحبِ علم تھے اس لیے صاحبانِ علم کے قدردان تھے۔ گفتگومیں ظرافت حسب موقع ہوتی ۔ زبان دانی قابل رشک تھی۔ شستہ انگریزی میں بلاتکلف لکھتے تھے۔ ایک عرصہ دراز تک روزنامہ ونی پیگ فری پریس میں آپ کے ناقدانہ و عالمانہ مضامین اور ایڈیٹر کے نام خطوط شائع ہوتے رہے۔ ونی پیگ ٹیلی ویژن کے کمیونٹی چینل پر آپ نے مختلف امور پر قریباً ڈیڑھ صد پروگرام نشر کیے۔ آپ کے خطوط گلوب اینڈ میل اور ٹورانٹو سٹار میں شائع ہوتے رہے۔ ٹورانٹو سٹار کے کمیونٹی ایڈیٹوریل بورڈ کے بھی کچھ سال ممبر رہے۔ ماہانہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا کے ایڈیٹوریل بورڈ میں فرائض بھی انجام دیے۔ کسی زمانے میں آپ کے مضامین ہفت روزہ لاہور میں بھی شائع ہوتے رہے تھے۔ ۲۰۱۰ء میں ہفت روزہ لاہور کے ایک شمارے کے سرورق پر جج بننے کے بعد آپ کی تصویر اور خبرشائع ہوئی تھی۔ اپنی اہلیہ بشریٰ صاحبہ کی وفات کے بعد اپنی بقیہ زندگی یعنی قریباً دس سال آپ نے علمی اور ادبی مضامین لکھنے کی طرف توجہ رکھی۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹوں سے نوازا جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر طاہر اعجاز (ایم ڈی) جب ایک بار کنگسٹن کے جنرل ہسپتال میں ٹر یننگ کے لیے آیا تھا تو مَیں نے اس کی رہائش کا انتظام کیا تھا۔جب ہوٹل میں مَیں اس کو چھوڑنے گیا تو دیکھا کہ سوٹ کیس میں سب سے اوپر جائے نماز رکھا تھا جس کو اس نے سب سے پہلے با ہر نکالا۔ میرے استفسار پر کہنے لگا کہ میری والدہ نے نصیحت کی تھی Don‘t leave home without it۔ یعنی جائے نماز کے بغیر سفر کے لیے نہ نکلنا۔ اس زمانے میں ٹیلی ویژن پر اشتہار آتا تھا کہ امیریکن ایکسپریس کارڈ کے بغیر گھر سے باہر مت جاؤ۔ تو اس مناسبت سے والدہ کی نصیحت بہت ہی موزوں اور اچھی تھی۔ نیک ماں نے بچے کی کتنی اچھی تربیت کی تھی اور بچہ بھی کتنا تابعدار تھا کہ والدہ کی نصیحت کو حرز جاں بنا لیا۔ دوسرے بیٹے عزیزم طاہر احمد کے حیات مسیح ناصری اور عیسائیت پرمدلّل، سکّہ بند انگلش مضامین ریویو آف ریلجنز میں شائع ہوچکے ہیں اور بعض ایک کی افادیت کے پیش نظر ان کو پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کیا جاچکا ہے۔

………٭………٭………٭………

جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ مئی و جون ۲۰۱۴ء میں مکرمہ بشریٰ جمیل صاحبہ کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو انہوں نے اپنی والدہ محترمہ ناصرہ محمود صاحبہ اہلیہ مکرم محمود احمد بشیر صاحب (سابق امیر جماعت ضلع جھنگ) کی یاد میں کہی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

وہ نفیس اور مطہر وہ نظافتوں پہ واری
وہ محبتوں کی خوگر اور امن کی پجاری
روشن صبیح چہرہ، دل اس سے سِوا تھا روشن
محفل میں جانِ محفل، طبیعت میں انکساری
قرآں سے تھی محبت خلافت پہ تھیں وہ قرباں
اللہ کے دیں کی خدمت میں زندگی گزاری
کبھی زندگی میں اُن کی جو کٹھن مقام آیا
دی ربّ کے در پہ دستک، کسی اُس سے آہ و زاری
دعا کا میٹھا چشمہ، وفا کا ٹھنڈا سایہ
خدایا فیض اُن کا ہم پر رہے یہ جاری

مزید پڑھیں: اسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں جنگ کے اسلامی اصول و آداب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button