اسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں جنگ کے اسلامی اصول و آداب
حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جامع تعلیماتِ اسلامیہ نہ صرف ہدایت کا کامل سرچشمہ ہیں بلکہ عدل، رحمت اور اخلاقی بلندی کا بے مثال نمونہ بھی پیش کرتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ جیسے نازک حالات میں بھی انسانی حرمت، انصاف اور اصول پسندی کو ہر حال میں مقدّم رکھا، اور ایسا جامع ضابطۂ اخلاق قائم فرمایا کہ جو رہتی دنیا تک راہنمائی کا روشن مینار ہے۔ اسی عظیم اُسوۂ حسنہ کی عملی تفسیر ہمیں خلافتِ راشدہ کے مقدس دَور میں بھی نظر آتی ہے، جہاں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اسی منہجِ نبویؐ کو پوری دیانت، عدل اور استقامت کے ساتھ اپنایا
اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے دَور میں مبعوث فرمایا کہ جب دنیا ظلم، جبر، تعصّب اور قانونِ طاقت کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھی۔ انسانی معاشرہ سیاسی، اخلاقی اور مذہبی اعتبار سے شدید انتشار کا شکار تھا اور فتنہ و فساد انسانی زندگی کا ایک مستقل اور معمول بن چکا تھا۔ طاقت ور اقوام کمزور قوموں کو محکوم بنا لینا اپنا حق سمجھتی تھیں، جبکہ عرب، روم، فارس اور دیگر خطّوں میں تلوار ہی فیصلوں کی زبان تھی۔ جنگوں کا مقصد عدل و انصاف کا قیام نہیں، بلکہ اقتدار کی توسیع، زمینوں پر قبضہ، دولت کی ہَوَس اور انتقام کی تسکین تھا۔ فاتح خود کو ہر ظلم کا مجاز سمجھتا تھا، جبکہ مغلوب قوم کی جان، مال، عزت اور آزادی سب اس کی مرضی اور رحم و کرم کے تابع ہو جاتی تھیں۔
انسانی تاریخ کے طویل سفر میں شاید ہی کوئی ایسا دَور گزرا ہو کہ جب جنگ نے اپنے سیاہ سائے انسانیت پر نہ ڈالے ہوں۔ سلطنتوں کے عروج و زوال، تہذیبوں کی تعمیر و تخریب اور قوموں کی آزادی و غلامی کی داستانوں کا بڑا حصہ جنگوں ہی سے عبارت ہے۔ تاہم گہرے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں سے اکثر جنگیں حقّ و انصاف کے بجائے اقتدار کی ہَوَس ، دولت کی حرص، قومی تعصّب، نسلی غرور اور انتقام کے جذبات کے تحت لڑی گئیں۔ اس دَور میں عظمت کا معیار کردار نہیں ، بلکہ تلوار کی دھار تھی، اور مغلوب قوم کی حیثیت فاتح کے فیصلوں کے سامنے بے بس ہو کر رہ جاتی تھی۔
اسلام سے قبل دنیا میں جنگ کو کسی ایسے اخلاقی ضابطہ کا پابند نہیں سمجھا جاتا تھا کہ جو فاتح کے ہاتھوں ظلم و بربریت کو روک سکے۔ فتوحات کے بعد شہروں کو نذرِ آتش کرنا، کھیتوں اور باغات کو اُجاڑ دینا، کنوؤں کو بند کر دینا، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لینا، قیدیوں کو اذیتیں دینا اور مقتولین کی سرِعام بےحرمتی کرنا عام معمول تھا۔ انسانی وقار، رحم اور عدل کی کوئی حیثیت نہ تھی اور دشمن کی مکمل تباہی ہی کامیابی کی معراج سمجھی جاتی تھی۔
جزیرۂ عرب بھی اس صورتحال سے مستثنیٰ نہ تھا۔ قبائلی عصبیّت اس قدر غالب تھی کہ معمولی اختلافات بھی برسوں جاری رہنے والی خونریز جنگوں میں بدل جاتے تھے۔ جنگِ داحس و غبراء اور جنگِ بُعاث جیسی لڑائیاں اسی ذہنیت کی واضح مثالیں ہیں۔ ان معرکوں میں انسانی حدود و اخلاق کا کوئی تصوّر موجود نہ تھا۔ عورتیں، بچے، بوڑھے اور غیر مسلح افراد بھی محفوظ نہیں سمجھے جاتے تھے۔ بستیاں جلا دی جاتیں، کھیت اُجاڑ دیے جاتے، کنویں پاٹ دیے جاتے اور کھجوروں کے باغات کاٹ کر دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی۔ قیدیوں کو غلام بنا لینا یا ان پر ظلم ڈھانا معمول تھا، جبکہ مقتولین کی لاشوں کی بے حرمتی اور اعضا کاٹ دینا انتقام اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
یہ کیفیت صرف عرب تک محدود نہ تھی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب طاقت اخلاقی قیود سے آزاد ہو جائے تو تباہی پورے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بابل کے بادشاہ بخت نصر کے حملے نے بیت المقدس کو ویرانی میں بدل دیا، عبادت گاہیں مسمار ہو گئیں اور کھیت و باغات اُجڑ گئے۔ اسی طرح روم اور فارس کی طویل جنگوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں چھین لیں اور عام آبادی بھی اس تباہی سے محفوظ نہ رہ سکی۔ بعد کے اَدوار میں چنگیز خان اور ہلاکو خان کی یلغار نے بھی یہی حقیقت واضح کر دی کہ جب قوّت اخلاق سے آزاد ہو جائے تو انسان اپنی انسانیت کھو کر سفّاکی کی آخری حدوں کو چھو لیتا ہے۔
تاریخ کے یہ سیاہ ابواب محض ماضی کا حصہ نہیں بلکہ حال کی بازگشت بھی ہیں۔ جدید دنیا، جو خود کو تہذیب، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی علمبردار قرار دیتی ہے، جنگ کے میدان میں اکثر انہی مناظر کو دُہراتی دکھائی دیتی ہے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے کروڑوں انسانوں کو نگل لیا، جبکہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بم انسانی تاریخ کے ہولناک ترین سانحات میں شمار ہوتے ہیں۔ آج بھی مختلف خطّوں میں شہری آبادی، ہسپتال، سکول اور پناہ گزین کیمپ جنگ کی زد میں آ کر تباہ ہو رہے ہیں۔ یوں جدید اسلحے نے جنگ کو پہلے سے کہیں زیادہ مہلک بنا دیا ہے، مگر انسان کا اخلاقی شعور اس کے ساتھ ہم آہنگ ترقی حاصل نہ کر سکا۔
اس پسِ منظر میں یہ حقیقت نمایاں ہو جاتی ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں دنیا کے پاس کوئی ایسا جامع ضابطۂ اخلاق موجود نہ تھا کہ جو جنگ کو انسانی اقدار کا پابند بنا سکتا۔ ایسے تاریک اور پُرآشوب ماحول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو ایک ایسا ہمہ گیر نظام عطا فرمایا کہ جس نے جنگ کو ظلم و بربریت کے بجائے عدل، تقویٰ اور رحمت کے تابع کر دیا۔ اسلام نے یہ واضح اصول عطا کیا کہ جنگ نہ تو کوئی مقصد ہے اور نہ ہی اسلام کی اشاعت کا ذریعہ، بلکہ یہ صرف اس وقت جائز ہے کہ جب ظلم کا سدّباب، مظلوموں کا دفاع اور مذہبی آزادی کا تحفّظ ناگزیر ہو جائے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ ربّانی ہے کہ وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ۔ (البقرہ:۱۹۱) اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور (کسی پر) زیادتی نہ کرو (اور یاد رکھو) اللہ زیادتی کرنے والوں سے ہر گر محبّت نہیں کرتا۔
یہ آیت اسلامی قانونِ جنگ کی بنیادی اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں دو نہایت اہم اصول متعیّن کیے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ کا آغاز صرف ان لوگوں کے خلاف کیا جائے گا کہ جو خود جارحیت کا راستہ اختیار کریں، اور دوسرا یہ کہ میدانِ جنگ میں بھی ظلم، انتقام اور کسی بھی قسم کی حدّ سے تجاوز کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس طرح اسلام نے طاقت کے استعمال کو محض ایک عسکری عمل نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ایک مکمل اخلاقی اور قانونی نظام کا پابند بنا دیا، جہاں جنگ بھی عدل، توازن اور انسانی حرمت کے اصولوں کے تابع ہو جاتی ہے۔
حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جامع تعلیماتِ اسلامیہ کاایک انتہائی دلآویزاجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ“ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کے یہ معنے نہیں کہ تم دوسروں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لیے جنگ کرو۔ بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب کوئی قوم دین کے بارہ میں تم سے جنگ کرے اور تمہارا مقدّس مذہب تم سے زبردستی چھڑانا چاہے تو اس وقت تمہارا فرض ہے کہ تم محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور دینی مشکلات کو دُور کرنے کے لیے دشمن سے جنگ کرو۔ پس اس میں کفّار کو ز بر دستی مسلمان بنانے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ کفّار کے اس جبر کو دُور کرنے کا ذکر ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی تک باقی نہیں رہی تھی۔
دوسری شرط اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بیان کی ہے کہ لڑائی صرف انہی لوگوں سے جائز ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہتھیار اُٹھا چکے ہوں جیسا کہ يُقَاتِلُوْنَكُمْ کے الفاظ اس پر شاہد ہیں ۔
تیسری شرط جو يُقَاتِلُونَكُمْ میں بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ تمہارےلیے صرف انہی سے جنگ کرنا جائز ہے جو تم سے لڑتے ہیں ۔ یعنی جو لوگ باقاعدہ سپاہی نہیں اور لڑائی میں عملاً حصہ نہیں لیتے جیسے بچے بوڑھے عورتیں وغیرہ ان کو مارنا یا ان سے لڑائی کرنا جائز نہیں، گویا سِول آبادی کو لڑائی کے دائرہ سے کلیۃً باہر رکھا گیا ہے۔
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعلیم کی جو تشریح فرمائی ہے وہ ان احکام سے ظاہر ہے جو آپؐ اس وقت دیتے تھے جب آپؐ کسی کو کمانڈر بنا کر جنگ پر بھجواتے تھے۔ چنانچہ مسلم جِلد ۲ کتاب الجھاد میں لکھا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا دستہ فوج کا کسی کو افسر بنا کر بھجواتے تھے تو آپ اُسے اور دوسرے مسلمانوں کو نصیحت فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور پھر فرماتے: اُغْزُوْا بِسْمِ اللّٰهِ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اور اللہ تعالیٰ کی خاطر جنگ کے لیے جاؤ۔ قَاتِلُوْا مَنْ كَفَرَ بِاللّٰہِ: اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو اللہ تعالیٰ کا کفر اختیار کرے ۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ تم کافر سے لڑو بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جس شخص سے تمہاری لڑائی ہے اگر وہ مسلمان ہو جائے تو پھر تم نے اس سے لڑنا نہیں، تمہیں لڑائی کی صرف اس وقت تک اجازت ہے جب کفر باللہ کی شرط موجود ہے ۔ اگر کسی شخص نے لڑائی تو شروع کی مگر جب تمہارا لشکر پہنچا ، تو اس نے کہہ دیا کہ مَیں اسلام اختیار کرتا ہوں تو بس لڑائی ختم ہو جائے گی ۔ وَلَا تَغُلُّوْا: اور قطعی طور پر خیانت سے کام نہ لو۔ وَلَاتَغْدِرُوْا: اور بدّعہدی نہ کرو ۔ دھوکہ بازی سے کام نہ لو۔ اگر تم اپنے دشمن سے کوئی وعدہ کر لوتو بعد میں اُسے کسی بہانہ سے توڑنے کی کوشش نہ کرو۔ وَلَا تُمَثِّلُوْا: اور تم مُثلہ نہ کرو یعنی کفّار اپنی رسم کے مطابق اگر مسلمان مقتولین کے ناک کان بھی کاٹ دیں تو بھی تم ان کے مُردوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کرو۔ وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیدًا: اور کسی نابالغ بچے کو نہ مارو کیونکہ وہ جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ (مسلم کتاب الجهاد۔ باب تامير الامام الامراء على البعوث…)‘‘
پھر آپؓ فرماتے ہیں کہ ’’سیرتِ حلبیہ میں اس کےعلاوہ بعض اور نصائح بھی درج ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کو جنگ پر جاتے وقت یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ لَا تَقْتُلُوْا اِمْرَءَۃً کسی عورت کو نہیں مارنا ، وَلَا کَبِیْرًا فَانِیًا:اور کسی بُڈّھے شخص کو بھی نہیں مارنا۔ وَلَا مُعْتَزِلًا بِصَوْمَعَةٍ اور عبادت گاہوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی نہیں مارنا۔ کیونکہ گو وہ ایک ایسی قوم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو تمہاری مخالف ہے مگر وہ خدا کا نام لیتے ہیں۔ پھر فرماتے وَلَا تَقْرَبُوْا نَخْلًا:کیسی کھجور کے درخت کے قریب بھی نہ جانا یعنی کھجور کو نقصان پہنچانے کا خیال بھی نہ کرنا کیونکہ اس سے ان کے رزق پر اثر پڑتا ہے اور تمہارا حملہ ان کے حملے کو دُور رکھنے کی نیّت سے ہے، ان کو مستقل تباہ کرنے کی غرض سے نہیں ۔ وَلَا تَقْطَعُوْا شَجَرًا: بلکہ کوئی درخت بھی نہ کاٹنا ، کیونکہ وہ غریبوں اور مسافروں کو سایہ دینے کے کام آتا ہے اور تم لڑنے کے لیے جارہے ہو، اس لیے نہیں جارہے کہ وہ قوم سایہ سے بھی محروم ہو جائے ۔ وَلَا تَھْدِمُوْا بِنَاءً: اسی طرح عمارتوں کو مت گراؤ۔ قلعہ کا اِنہدام ایک علیحدہ چیز ہے وہ جنگ کے حملے کو روکنے کے لیےہوتا ہے۔ مگر یہ جائز نہیں کہ کسی ملک کے باشندوں کو بے گھر کر دیا جائے اور ان کے مکانوں کو گرادیا جائے یا انہیں آگ لگادی جائے۔ اسی طرح آپؐ کی دوسری ہدایات میں ہے کہ ملک میں ڈر اور ہراس پیدا نہ کیا جائے۔ دُنیوی حکومتیں جب کسی ملک میں داخل ہوتی ہیں تو اندھادُھند مظالم شروع کردیتی ہیں محض اس لیے کہ حکومت کا رعب قائم ہو جائے ۔ مگر اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح رسول ِکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مفتوحہ ممالک میں جاؤ تو ایسے احکام جاری کرو جن سے لوگوں کو آسانی ہو، تکلیف نہ ہو۔ ( السيرة الحلبية۔ باب سرايا و بعوثه) اور فرمایا جب لشکر سڑکوں پر چلے تو اس طرح چلے کہ عام مسافروں کا راستہ نہ رکے۔ ایک صحابیؓ کہتے ہیں: ایک دفعہ لشکر اس طرح نکلا کہ لوگوں کے لیے اپنے گھروں سے نکلنا اور راستہ چلنا مشکل ہو گیا، اس پر آپؐ نے منادی کروائی کہ جس نے مکانوں کو بند کیا یا راستہ روکا اس کا جہاد جہاد ہی نہیں رہے گا۔
غرض اسلام کہتا ہے کہ تم کو جنگ میں عورتوں کے مارنے کی اجازت نہیں ، تم کو بچوں کے مارنے کی اجازت نہیں، تم کو بُڈّھوں کے مارنے کی اجازت نہیں ، تم کو بدعہدی کرنے کی اجازت نہیں ، تم کو دھوکا دینے کی اجازت نہیں ، تم کو مقتولین کے ناک کان کاٹنے کی اجازت نہیں، تم کو پادریوں اور پنڈتوں اور گیا نیوں کو مارنے کی اجازت نہیں، تم کو کوئی باغ اور درخت کاٹنے کی اجازت نہیں، تم کو کوئی عمارت گرانے کی یا اُسے آگ لگانے کی اجازت نہیں اور اگر کبھی ان ہدایات کی خلاف ورزی ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔
عرب کے دستور کے مطابق عورتیں بھی لڑائی میں شامل ہوتی تھیں اور چونکہ وہ دوسروں کوقتل کرتی تھیں لازماًوہ خود بھی قتل کی جاتی تھیں مگر ایک موقعہ پر ایک لڑائی کے بعد جب ایک عورت کی لاش آپؐ نے دیکھی تو آپ کے چہرے پرغم اور غصہ کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ ؐنے فرمایا اسلام اس کوپسند نہیں کرتا، یہ فعل اسلامی تعلیم کے خلاف ہوا ہے۔ (مسلم كتاب الجهاد والسير ۔باب تحريم قتل النساء والصبيان في الحرب) اُحد کی جنگ میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تلوار پیش کی اور فرمایا یہ تلوار میں اس شخص کو دُوں گا جو اس کا حق ادا کرنے کا وعدہ کرے۔ بہت سے لوگ اس تلوار کو لینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے ابودُجانہؓ انصاری کو وہ تلوار دی۔ لڑائی میں ایک جگہ مکّہ والوں کے کچھ سپاہی ابودُجانہؓ پر حملہ آور ہوئے۔ جب آپ ان سے لڑ رہے تھے تو آپؓ نے دیکھا کہ ایک سپاہی سب سے زیادہ جوش کے ساتھ لڑائی میں حصہ لے رہا ہے۔ آپؓ نے تلوار اُٹھائی اور اس کی طرف لپکے۔ لیکن پھر اس کو چھوڑ کر واپس آگئے۔ آپ کے کسی دوست نے پوچھا: آپ نے اُسے کیوں چھوڑ دیا؟ آپؓ نے جواب میں کہا: مَیں جب اس کے پاس گیا تو اس کے منہ سے ایک ایسا فقرہ نکلا جس سے مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ مرد نہیں عورت ہے۔ ان کے ساتھی نے کہا: بہر حال وہ سپاہیوں کی طرح فوج میں لڑ رہی تھی پھر آپؓ نے اسے چھوڑا کیوں؟ ابودُجانہؓ نے کہا :میرے دل نے برداشت نہ کیا کہ مَیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تلوار کو ایک کمزور عورت پر چلاؤں۔ (السيرة النبوية ابن هشّام غزوة اُحد)
غرض آپؐ عورتوں کے ادب اور احترام کی ہمیشہ تعلیم دیتے تھے جس کی وجہ سے کفّار کی عورتیں زیادہ دلیری سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی تھیں مگر پھر بھی مسلمان ان باتوں کی برداشت کرتے چلے جاتے تھے ۔ صرف ایک ہی عورت تھی جس نے شروع سے لے کر آخر تک اسلام کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا اور مسلمان شہداء کے ناک اور کان کاٹ لینے میں بہت مشہور تھی یعنی ہندہ ۔ فتح ِمکّہ کے وقت آپؐ نے صرف اس کے قتل کا حکم دیا ، مگر وہ باقی عورتوں کے ساتھ آئی اور مسلمان ہو گئی اور پھر آپ ؐنے اُسے بھی کچھ نہیں کہا۔ کیونکہ آپ ؐنے فرمایا تو بہ نے اس کے سارے گناہوں کو دھو دیا ہے۔ (السيرة الحلبية۔باب ذکر مغازيةؐ فتح مكة شرفھا اللّٰه تعالىٰ )
چوقی شرط وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ کے الفاظ میں یہ بیان فرمائی کہ باوجود دشمن کے حملہ میں ابتداء کرنے کے لڑائی کو صرف اس حدّ تک محدود رکھنا چاہیے جس حدّ تک دشمن نے محدود رکھا ہے اور اسے وسیع کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ نہ علاقہ کے لحاظ سے اور نہ ذرائع جنگ کے لحاظ سے اور فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حدّ سے زیادہ گذر جانے والوں سے محبّت نہیں کرتا یا یوں کہو کہ جو لوگ حدّ سے گذر جانے والے ہوں وہ کبھی خدا تعالیٰ سے محبّت نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا شخص طبعی طور پر اللہ تعالیٰ سے محبّت کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ حقّ کا مطالبہ کرنے میں حدّ سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ … اس زمانہ میں بڑی بڑی طاقتیں اس بات کی مدّعی ہیں کہ انہوں نے عدل و انصاف کو کمال تک پہنچا دیا ہے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ لڑائی میں ہر قسم کے جھوٹ اور ظلم اور دھوکا اور فریب سے کام لیتی ہیں اور جب تک دشمن کو پیس نہ لیں ان کے دل کی آگ ہی نہیں بجھتی ،کہیں گیسیں استعمال کی جاتی ہیں تو کہیں قیدیوں کو پکڑ کر لڑائی کے وقت اپنے آگے رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح اور کئی ظالمانہ طریق اختیار کیے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ بھی اعتداء میں داخل ہے کہ دشمن کا لباس پہن کر یا اس کا نشان دکھا کر حملہ کر دیا جائے یا صلح کے بہانہ سے حملہ کیا جائے، یہ تمام اُمور ناجائز اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں۔” (تفسیرِ کبیر۔ جلدسوم،صفحہ۲۲۸تا۲۳۱)
اسلام کی نظر میں انسانی جان انتہائی مقدّس ہے، اسی لیے قرآنِ کریم ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔
مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا۔ (المائدہ:۳۳)جس نے بھی کسی ایسے نفس کو قتل کیا ، جس نے کسی دوسرے کی جان نہ لی ہو یا زمین میں فساد نہ پھیلایا ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔
یہ تعلیم اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام جنگ کو بھی انسانی جان کے احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی جارحانہ جنگ کی ابتدا نہیں کی۔مکّہ مکرمہ میں تیرہ برس تک مسلمانوں نے بدّترین مظالم برداشت کیے، مگر انہیں قتال کی اجازت نہ دی گئی۔ جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی اور دشمن نے مسلسل حملے کیے، معاہدے توڑے اور مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کی کوشش کی، توتب اللہ تعالیٰ نے دفاع کی اجازت عطا فرمائی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ (الحج:۴۰) اُن لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے (قتال کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیےگئے۔ اور یقیناً اللہ اُن کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
اس آیت سے واضح ہے کہ اسلام میں قتال کی اجازت ظلم کے جواب میں دفاع کے لیے دی گئی، نہ کہ فتوحات، مالِ غنیمت یا قومی برتری اور جبر و استبداد کے لیے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اسی خوبصورت اسلامی تعلیم کی وضاحت میں نام نہاد مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئےفرماتے ہیں:“سارا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں، وہ لڑائیاں دین کو جبر اً شائع کرنے کے لیے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطورِ سزا تھیں یعنی ان لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہِ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفّار جنگ کر رہے ہیں بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے۔ اور یا وہ لڑائیاں ہیں جو بطور ِمدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لیے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبرا ًروکتے تھے ان سے بطور حفاظتِ خوداختیاری یا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لیے لڑائی کی جاتی تھی بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اور آپؐ کے مقدّس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی ۔” (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جِلد۱۹، صفحہ۷۴)
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ میں بھی اخلاقی اقدار کو کبھی نظر انداز نہیں فرمایا۔ آپؐ نے اعلان کیا کہ جنگ میں بھی عورت، بچہ، بوڑھا، راہب، کسان اور ہر وہ شخص محفوظ ہے کہ جو عملاً جنگ میں شریک نہیں۔ آپؐ نے درخت کاٹنے، کھیت جلانے، جانوروں کو بلاضرورت ہلاک کرنے، عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے اور لاشوں کی بے حرمتی سے منع فرمایا۔ اس طرح اسلام نے پہلی مرتبہ جنگ کو اخلاقی حدود کا پابند بنا کر انسانی تاریخ میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا کہ جس کے اثرات آج کے بین الاقوامی انسانی قوانین میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
یہ اسلامی تعلیمات اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ اسلام تلوار کا مذہب نہیں اور نہ ہی تلوار کے زور سے پھیلا ہے بلکہ امن، عدل اور رحمت کا دین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ کو بھی اخلاق، تقویٰ اور انسانیت کی درسگاہ بنا دیا اور ثابت فرمایا کہ حقیقی فتح دشمن کو تباہ کرنے میں نہیں بلکہ انسانیت کو ظلم سے بچانے میں ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام نے جنگ کو ایک ناگزیر دفاعی اقدام تک محدود رکھا ہے اور اس کے لیے ایسے جامع اخلاقی اصول مقرر کیے ہیں کہ جن کی مثال قدیم دنیا میں نہیں ملتی۔ قرآنِ کریم نے جنگ میں عدل، اعتدال، عہد کی پابندی اور صلح کو بنیادی اصول قرار دیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کر کے دکھایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے جنگ کا مطلب خونریزی، انتقام، لوٹ مار اور کمزوروں پر ظلم تھا۔ فاتح لشکر اپنی طاقت کے نشے میں ہر اس چیز کو تباہ کر دیتا جو دشمن سے تعلق رکھتی تھی۔ اسلام نے اس تصور کو یکسر بدل دیا اور جنگ کو سخت اخلاقی اصولوں کا پابند بنا دیا۔ آپؐ نے اپنے صحابہؓ کو یہ تعلیم دی کہ مسلمان کی تلوار ظلم کے لیے نہیں بلکہ ظلم کے خاتمے کے لیے اُٹھتی ہے، اور اگر جنگ ناگزیر ہو جائے تو بھی عدل، رحم اور تقویٰ ہر حال میں مقدّم رہیں۔
اسلام نے سب سے پہلے یہ اصول قائم فرمایا کہ جنگ صرف ان افراد سے ہوگی کہ جو عملاً جنگ میں شریک ہوں۔ عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار، مزدور، کسان، سفیر اور عبادت گاہوں میں مصروف عبادت گزار اس دائرۂ جنگ سے باہر ہیں، لہٰذا انہیں کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانا جائز نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کی رُو کے منافی ہے۔
آج دنیا بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کو جنگی اخلاقیات کا معیار سمجھتی ہے۔ ان قوانین میں شہری آبادی کا تحفّظ، قیدیوں کے حقوق، زخمیوں کی دیکھ بھال اور املاک کے تحفّظ جیسے اصول شامل ہیں۔قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےتو پندرہ صدیاں قبل ہی ان اصولوں سے بھی کہیں زیادہ جامع تعلیمات عطا فرما دی تھیں۔ اسلام نے نہ صرف انسانوں بلکہ درختوں، جانوروں، عبادت گاہوں، کھیتوں اور ماحول تک کے حقوق واضح طور پر متعیّن فرما دیے۔ اسی لیے اسلامی قانونِ جنگ محض ایک فوجی ضابطۂ اخلاق نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی اور روحانی نظام ہے۔
حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جامع تعلیماتِ اسلامیہ نہ صرف ہدایت کا کامل سرچشمہ ہیں بلکہ عدل، رحمت اور اخلاقی بلندی کا بے مثال نمونہ بھی پیش کرتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ جیسے نازک حالات میں بھی انسانی حرمت، انصاف اور اصول پسندی کو ہر حال میں مقدّم رکھا، اور ایسا جامع ضابطۂ اخلاق قائم فرمایا کہ جو رہتی دنیا تک راہنمائی کا روشن مینار ہے۔ اسی عظیم اُسوۂ حسنہ کی عملی تفسیر ہمیں خلافتِ راشدہ کے مقدس دَور میں بھی نظر آتی ہے، جہاں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اسی منہجِ نبویؐ کو پوری دیانت، عدل اور استقامت کے ساتھ اپنایا۔
چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں فتنۂ ارتداد کے خلاف سخت اقدامات کے باوجود جنگی اخلاقیات کی مکمل پابندی کی گئی اور غیر جنگجو افراد کے تحفّظ کو بنیادی اصول کے طور پر ملحوظ رکھا گیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں فتوحاتِ شام، عراق اور مصر کے دوران لشکروں کو بارہا یہ واضح ہدایات دی گئیں کہ عبادت گاہوں، کھیتیوں، درختوں اور عام شہریوں کو ہرگز نقصان نہ پہنچایا جائے، جیسا کہ ان کے معروف خطوطِ عسکری اور فرامین سے ثابت ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اگرچہ اسلام کی فتوحات کا سلسلہ مختلف محاذوں پر جاری رہا اور اسلامی سلطنت کے بعض دُور دراز علاقوں تک پیش قدمی اور استحکام حاصل ہوا، جن میں شمالی افریقہ، آرمینیا، آذربائیجان اور ایران و خراسان کے بعض حصے شامل تھے، اور بازنطینی قوتوں کے ساتھ مختلف مواقع پر جھڑپیں بھی پیش آئیں، تاہم اس پورے دَور میں داخلی سطح پر فتنہ و اختلاف کے آثار نمایاں ہونے لگے، مگر اس کے باوجود عدل، امان اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کا دامن کسی حال میں بھی ہاتھ سے نہ چھوڑا گیا۔
اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں، خصوصاً جنگِ جمل اور جنگِ صفین جیسے داخلی فتنوں کے انتہائی نازک مواقع پر، شدید اضطرابی حالات کے باوجود اصولِ اخلاق، ضبطِ نفس اور بے گناہوں کے تحفّظ کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا، یہاں تک کہ آپؓ اپنے لشکر کو بارہا اس اَمر کی تاکید فرماتے کہ جنگ کی ابتدا میں کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے اور غیر متعلق افراد کو ہرگز نقصان نہ پہنچایا جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے چودھویں صدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق اپنے فرستادہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دین کی تکمیلِ اشاعت کے لیےمبعوث فرمایا، جنہیں تمام اندرونی اور بیرونی اختلافات کے لیےحکم و عدل قرار دیا گیا، آپؑ کی بعثت محض ایک علمی یا اصلاحی تحریک نہ تھی بلکہ ایک ہمہ گیر روحانی انقلاب کی نوید تھی، جس کا سب سےروشن پہلو انسانیت کو جنگ و جدل کے اندھیروں سے نکال کر امن و سلامتی کے نُور میں داخل کرنا بھی تھا۔ آپؑ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مسیح موعود کا زمانہ تیر و تفنگ کا زمانہ نہیں بلکہ دلوں کی تطہیر، انصاف کے قیام اور باہمی محبّت و اخوت کے فروغ میں ترقی کا زمانہ ہے۔
چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں: “سو! اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے۔ اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمۂ اسلام میں کوشش کریں۔ مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔ دین ِمتین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلا دیں۔ آنحضرتؐ کی سچائی دنیا پر ظاہر کر یں۔ یہی جہاد ہے جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔” (رسالہ درود شریف ۔صفحہ۱۱۳؍مؤلفہ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب حلالپوریؓ)
اسی طرح آپؑ نے ایک اَور جگہ فرمایا: ’’اب کوئی مخالف اسلام کا اپنے مذہب کے لیے تلوار نہیں اُٹھاتا اور یہی حکمت ہے کہ مسیح موعود کے لیے یَضَعُ الْحَرْبَ کا حکم آیا یعنی جنگ کی ممانعت ہو گئی اور تلوار کی لڑائیاں موقوف ہو گئیںاور اب قلمی لڑائیوں کا وقت ہے اور چونکہ ہم قلمی لڑائیوں کے لیےآئے ہیں اس لیےبجائے لوہے کی تلو ار کے لوہے کی قلمیں ہمیں ملی ہیں۔‘‘ (چشمۂ معرفت ۔ روحانی خزائن جِلد۲۳، صفحہ۹۳)
پس اسلام کے دورِ اوّل میں لڑی جانے والی جنگیں سراسر دفاعی نوعیت کی تھیں، جنہیں جہادِ اصغر سے تعبیر کیا گیا، لیکن اسلام کے اس دورِ ثانی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرما کر جہاد کی حقیقی روح کو ازسرِنو دنیا پر آشکار فرمایا۔
آپؑ نے تلوار کی جگہ قلم کو اختیار کیا اور قرآنی معارف، توحیدِ باری تعالیٰ اور اُسوۂ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پُرحکمت تعلیمات کے ذریعے اسلام کا جھنڈا دنیا بھر میں سربلند کر دیا۔ علم و عرفان کے بے بہا خزانے پر مشتمل آپؑ کی ۹۳؍عظیم الشّان معرکۃ الآراءتصانیف رہتی دنیا تک حق کے متلاشیوں کے لیے ہدایت کا ایک لازوال سرچشمہ اور معرفت کا ایک بے کراں سمندر ہیں۔ اسی عظیم قلمی جہاد کے طفیل آج اسلام احمدیت کا پُرامن اور حیات بخش پیغام دنیا کے ۲۰۰؍سے زائد ممالک و خطّوں تک پہنچ چکا ہے، اور لاکھوں سعید روحیں اس چشمۂ زلال سے فیض یاب ہو کر اسلام کی حقیقی اور پُرامن تعلیمات سے آشنا ہو رہی ہیں۔
بعض نادانوں کی جانب سےاسلام کے متعلق یہ اعتراض اکثر کیا جاتا ہے کہ یہ تلوار کے زور سے پھیلا ہے، حالانکہ قرآنِ کریم، سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تاریخ کا غیرجانبدارانہ مطالعہ اس الزام کی مکمل نفی کرتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زمانے میں اسلام پر ہونے والے انہی اعتراضات کا مدلل جواب دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ اسلام نے کبھی کسی انسان کو محض اس کے عقیدہ کی وجہ سے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ آپؑ نے متعدد کُتب میں تحریر فرمایا ہےکہ اسلام میں قتال کا مقصد مذہب کی اشاعت نہیں بلکہ ظلم کو روکنا، مذہبی آزادی کا تحفّظ کرنا اور مظلوموں کی مدد کرنا ہے۔آپؑ نے اس حقیقت پر زور دیا کہ اگر اسلام تلوار کے ذریعے پھیلایا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتحِ مکّہ کے موقع پر اپنے تمام مخالفین کو بزورِ شمشیر مسلمان بنا دیتے، لیکن آپؐ نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہیں عام معافی عطا فرمائی۔
اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ اسلام ایمان کو دل کی باطنی کیفیت اور قلبی اختیار کا معاملہ قرار دیتا ہے، نہ کہ کسی جبر، دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ۔
لہٰذاحضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عصرِ حاضر کے حوالے سے بھی ایک نہایت اہم اصول وضع فرما دیاکہ اس زمانے میں اسلام کی خدمت کا ذریعہ تلوار نہیں بلکہ قلم، دعا، تبلیغ، اخلاقِ حسنہ اور علمی استدلال ہے۔ آپؑ نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ رسول الله ؐکے مبارک اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں اپنے کردار، عبادت، خدمتِ خلق اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کرائیں۔
اسی طرح اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کے عظیم مقصد کے متعلق راہنمائی عطا کرتےہوئے آپؑ ارشاد فرماتے ہیں: ’’مَیں یہ بھی کھول کر کہتا ہوں کہ جو جاہل مسلمان یہ لکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ سے پھیلا وہ نبیِٔ معصوم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افترا کرتے ہیں اور اسلام کی ہتک کرتے ہیں۔خوب یا درکھو کہ اسلام ہمیشہ اپنی پاک تعلیم اور ہدایت اور اس کے ثمرات انوار و برکات اور معجزات سے پھیلا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشّان نشانات آپؐ کے اخلاق کی پاک تاثیرات نے اسے پھیلایا ہے اور وہ نشانات اورتاثیرات ختم نہیں ہوگئی ہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود رہتی ہیں اور یہی وجہ ہے جو مَیں کہتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔ اس لیے کہ آپؐ کی تعلیمات اور ہدایات ہمیشہ اپنے ثمرات دیتی رہتی ہیں۔ اور آئندہ جب اسلام ترقی کرے گا تو اس کی یہی راہ ہوگی نہ کوئی اور۔ پس جب اسلام کی اشاعت کے لیے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی گئی تو اس وقت ایسا خیال بھی کرنا گناہ ہے کیونکہ اب تو سب کے سب امن سے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے کافی ذریعے اور سامان موجود ہیں ۔‘‘ (لیکچر لدھیانہ۔ روحانی خزائن جِلد ۲۰، صفحہ۲۷۳تا۲۷۴)
پس آپؑ نے اپنی عمرِ مبارک اسی حقیقی جہاد میں صَرف فرما دی۔ آپؑ کی وفات کے بعد قدرتِ ثانیہ کے مظاہر، خلفائے احمدیت نے بھی ہر دَور میں آپؑ کی کامل پیروی میں انہی عظیم الشّان قرآنی تعلیمات اور بے مثال اُسوۂ نبویؐ کو دنیا کے سامنے نہایت مؤثر انداز میں پیش فرمایا، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے تاریخِ اسلام میں جن نئے ابواب کا اضافہ ہوا ان میں ایک اہم سنگِ میل اسلام میں خلافتِ خامسہ کے مبارک دَور کا بھی آغاز ہے۔ آپؑ ہی کی نمائندگی میں اور آپؑ ہی کے اسلوب سے مزیّن حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اقوامِ متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، برطانوی پارلیمنٹ، امریکی کانگریس کے اراکین اور دنیا کے مختلف سیاسی و مذہبی راہنماؤں سے اپنے خطابات میں بارہا اس حقیقت کو اُجاگر فرمایا ہے کہ دنیا میں حقیقی اور پائیدار امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے کہ جب انصاف، دیانت، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔ آپ نے ہر قسم کی دہشت گردی، مذہبی انتہاپسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتلِ ناحقّ کی واضح الفاظ میں مذمت فرمائی ہے کہ یہ تمام افعال اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔
آج کی دنیا جدید اسلحہ، ایٹمی ہتھیاروں، ڈرون حملوں، کیمیائی جنگ اور وسیع پیمانے پر شہری آبادی کی تباہی جیسے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں اُسوۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیّبہ کا ہر پہلو نہ صرف راہنمائی کا مینار ہے بلکہ ہر دَور کے لیے عدل، رحمت اور توازن کا کامل نمونہ بھی پیش کرتا ہے۔ آپؐ نے جنگ کے دوران غیرجنگجو افراد کے تحفّظ، قیدیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک، ماحول اور املاک کی حفاظت، معاہدات کی پابندی اور حتّی الامکان صلح کو ترجیح دینے کی تعلیم دی۔ اگر عالمی طاقتیں ان اعلیٰ اخلاقی اور انسانی اصولوں کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنائیں تو دنیا کے بہت سے تنازعات کو پُرامن طریق سے حل کیا جا سکتا ہے اور انسانیت کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بڑی حدّ تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
آپؐ کے عاشقِ صادق اور غلامِ کامل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بھی انہی اسلامی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اَزسرِنو اُجاگر کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی سربلندی تلوار یا جبر سے نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق، دعا، تبلیغ، خدمتِ انسانیت اور مضبوط علمی و عقلی دلائل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آپؑ نے اسلام کی حقیقی اور پُرامن تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور ہر قسم کی مذہبی انتہاپسندی اور بے جا تشدد کی نفی فرمائی۔ اسی مبارک مشن کو خلفائے احمدیت نے بھی جاری رکھا اور وہ دنیا کے ہر فورم پر امن، انصاف، بین المذاہب احترام، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے فروغ کا پیغام پیش کرتے ہوئے اسلام کی حقیقی، رحمت و شفقت سے لبریز تعلیمات کو اُجاگر کرنے میں ہمہ وقت مصروفِ عمل نظرآئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیّبہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اسلام امن، عدل، رحمت اور شفقت کا دین ہے۔ اگرچہ اسلام نے مظلوم کے دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی، لیکن اسے اخلاقی حدود، عدل اور رحم کا پابند بنایا۔ آپؐ نے اپنی تعلیم اور عملی نمونے سے ثابت کیا کہ حقیقی قوّت ظلم کرنے میں نہیں بلکہ ظلم کو روکنے، معاف کرنے، عدل قائم کرنے اور انسانیت کی خدمت کرنے میں ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور یہی پیغام اسلام کو تمام مذاہب میں منفرد اور عالمگیر بناتا ہے۔
آج اکنافِ عالم میں جماعتِ احمدیہ ہی وہ واحد جماعت ہے کہ جو ایک امام کے ہاتھ پر مجتمع ہے، اور یہی وہ خوش نصیب جماعت ہے کہ جسے پاکیزہ اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جامع تعلیماتِ اسلامیہ کی روشنی میں حقیقی جہاد کی عملی توفیق عطا ہو رہی ہے۔
پس اے غافلو! اگر تمہیں جہاد کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو جماعتِ احمدیہ کی تاریخ کا ایک ایک ورق اس کا روشن اور بیّن ثبوت پیش کرتا ہے، جب کہ جس جہاد کے تم راگ اَلاپتے ہو، اس کے بارےمیں حکم و عدل کی طرف سے متنبّہ فرمانے کے بعد ہمیشہ تمہیں ناکامی اور نامرادی ہی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور حسرت و یاس ہی تمہارا مقدّر ٹھہرے گا۔
یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا
کیا گذشتہ صدی کی تاریخ ایک کھلا نوشتۂ دیوار نہیں کہ اسلام کے نام پر لڑی جانے والی مسلح تحریکیں اور خود ساختہ جہاد کس طرح تباہی، انتشار، ذلت اور ہزیمت کا شکار ہوئے؟ سیاسی جنگوں اور ریاستی تنازعات کا معاملہ اس سے جُدا ہے، لیکن اسلام کے مقدّس نام پر تلوار اُٹھانے والوں نے نہ اسلام کو عزت بخشی اور نہ مسلمانوں کو امن نصیب ہوا۔ ایسے واضح تاریخی شواہد کے بعد اب اس الٰہی آواز پر لبیک کہنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں۔
اب چھوڑ دو جہاد کا اَے دوستو خیال
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
چونکہ آج اسلام پر حملے تلوار سے نہیں بلکہ قلم، فکر، میڈیا، ابلاغ اور فکری اعتراضات کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ لہٰذا یہ قلمی جہاد کا زمانہ ہے، اور جو بھی اس دَور میں اسلام کی خدمت کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرے گا، وہ لازماً ناکام ہوگا۔
الحمدلله ثمّ الحمدلله! آج دنیا بھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اُسوۂ حسنہ کی روشنی اور حضرت خلیفۃ المسیح ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مبارک روحانی قیادت میں غِلمانِ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر میدان میں دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہمہ جہت جہاد کی توفیق مل رہی ہے، خواہ وہ قلم و فکر کا جہاد ہو، علم و تحقیق کا جہاد ہو، مال و جان کی قربانی کا جہاد ہو، اسلام کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کرنے کا جہاد ہو، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کا جہاد ہو، قرآنِ کریم کی تعلیمات کے فروغ کا جہاد ہو، سُنّتِ نبویہؐ کے احیاء کا جہاد ہو، تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ حق کا جہاد ہو، یا اخلاقِ حسنہ اور سیرتِ طیّبہ کو اپنے عملی نمونوں کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے کا جہاد ہو۔ حتّیٰ کہ امن، رواداری اور انسانیت کی خدمت کے ہر میدان میں یہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، اور جہاں کہیں بھی دین کی خاطر قربانی، صبر یا استقامت درکار ہو، وہاں یہ جماعت ہر لمحہ پیش پیش نظر آتی ہے۔
اگر نظر دَوڑائیں توانسانی تاریخ میں بے شمار فاتح پیدا ہوئے۔ بعض نے وسیع سلطنتیں قائم کیں، بعض نے اپنی عسکری قوت سے دنیا کو حیران کیا اور بعض نے اپنی تلوار کے زور پر قوموں کو زیرِ نگیں کیا۔ مگر جب تاریخ ان فاتحین کے کردار کا محاسبہ کرتی ہے، تو ان کے قدموں کے نشانوں کے ساتھ خون کی ندیاں، جلتے ہوئے شہر، یتیم بچوں کی آہیں اور مظلوم انسانوں کی چیخیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ ان کی فتوحات زمینوں کی تسخیر تھی، دلوں کی نہیں، ان کی طاقت خوف پیدا کرتی تھی، محبّت نہیں۔مگر ساتویں صدی عیسوی میں ایک ایسا عظیم فاتح بھی دنیا نے دیکھا کہ جس کے ہاتھ میں تلوار تھی مگر دل میں مجسّم رحمت، جس کے پاس قوّت توتھی مگر مزاج میں انکسار، جسے دشمن پر غلبہ حاصل تھا ، مگر انتقام کی بجائے عفو و درگزر اس کا شعار تھا۔ وہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمینؐ بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپؐ نے صرف امن کے زمانے میں ہی نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں بھی انسانیت، عدل اور رحم کی ایسی مثالیں قائم کیں، جن کی نظیر تاریخ ِ عالَم میں بہت کم ملتی ہے۔
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی کامل حیاتِ طیّبہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ آپؐ نے جنگ کو کبھی مقصد نہیں بنایا، بلکہ ہر موقع پر امن، اصلاح، رواداری اور انسانیت کی فلاح کو مقدّم رکھا۔ جب بھی مخالفین نے صلح کی طرف ہاتھ بڑھایا، آپؐ نے فراخ دلی سے اسے قبول فرمایا۔اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے یوں بیان فرمایاہے: وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔ (الاَنفال: ۶٢)اور اگر وہ صلح کے لیے جُھک جائیں، تو تُو بھی اُس کے لیے جُھک جا اور اللہ پر توکّل کر، یقیناً وہی بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
یہ آیتِ کریمہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کی اصل منشاءجنگ کا تسلسل نہیں بلکہ امن کا قیام ہے۔ اگر دشمن بھی جنگ ختم کرنے اور صلح اختیار کرنے پر آمادہ ہو جائے، تو مسلمانوں کو بھی لڑائی جاری رکھنے کی اجازت نہیں، بلکہ امن کو اختیار کرنا ہی اسلامی تعلیم ہے۔
اسی قرآنی تعلیم کی عملی تفسیر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی بصیرت اور امن پسندی کا سب سے روشن نمونہ صلح حدیبیہ ہے۔ بظاہر اس معاہدے کی بعض شرائط مسلمانوں کے لیے نہایت کڑی محسوس ہوتی تھیں، حتیٰ کہ بعض جلیل القدر صحابۂ کرام رضوان الله علیہم بھی ان پر متفکّر تھے، لیکن رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے وقتی جذبات پر مستقبل کی مصلحت، دعوتِ دین اور انسانی جانوں کے تحفّظ کو ترجیح دی۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ یہی معاہدہ اسلام کی عظیم فتوحات کا پیش خیمہ بنا۔ امن کے ماحول میں اسلام کا پیغام تیزی سے پھیلا، دلوں کے دروازے کھلے، اور وہ لوگ بھی حلقۂ بگوشِ اسلام ہوئے کہ جن کے بارے میں شاید گمان کرنا بھی ممکن نہ ہو سکتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی ترقی کی بنیاد جنگ نہیں بلکہ امن، تبلیغ اور حُسنِ اخلاق ہے۔یہی وہ اصول ہے کہ جس نے ہزاروں دشمنوں کو اسلام کا شیدائی بنا دیا اور وہ لوگ بھی اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
اس عظیم حقیقت کا سب سے درخشاں مظہر فتح مکّہ ہے۔ یہی وہ شہر تھا ،جہاں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابۂ کرامؓ پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، آپؐ کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، مسلمانوں کو اذیتیں دی گئیں، اور برسوں تک اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔جب آٹھ ہجری میں مکّہ تقریباً بغیر کسی خونریزی کے فتح ہوا ، تو وہی لوگ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے ، جو کل تک آپؐ کے بدّترین دشمن تھے۔ عرب کی قدیم روایت کے مطابق یہ بظاہر انتقام کا دن ہو سکتا تھا۔ فضا میں انتقام کی صدائیں گونج رہی تھیں اور زبانوں پر یہ نعرہ تھا کہ اَلْيَوْمُ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ یعنی آج جنگ اور خونریزی کا دن ہے۔
لیکن اسی لمحے رحمتِ عالم، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم نے انتقام کے ان نعروں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا اور آپؐ کی زبانِ اقدس سے عفّو، رحمت اور درگزر کی ایسی صدا بلند ہوئی کہ جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ اِذْهَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ۔ یعنی تم پر کسی بھی قسم کی کوئی گرفت نہیں ،جاؤ! تم سب آزاد ہو۔
یہ صرف چند الفاظ ہی نہ تھے ، بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی منشور تھا، جس نے انتقام کی صدیوں پُرانی روایت کو ختم کر کے یہ اعلان کر دیا کہ حقیقی فاتح وہ نہیں جو دشمن کو زیر کر دے، بلکہ وہ ہے جو اقتدار اور غلبہ حاصل ہونے کے باوجود معاف کر دے۔
رحمتِ نبوی صلی الله علیہ وسلم کا ایک اور بے مثال منظر حضرت ابوسفیانؓ کے ساتھ پیش آیا۔ ابوسفیان بن حرب وہ شخص تھا ، جو غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد اور غزوۂ خندق سمیت متعدد معرکوں میں قریش کی قیادت کرتا رہا۔ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں اس نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا، بارہا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے قتل کی سازشیں کیں اور ہر مرحلے پر اسلام کے بدّ ترین دشمن کے طور پر سامنے آیا۔
لیکن جب فتحِ ٔ مکّہ کے موقع پر وہ حضرت عبّاس رضی الله عنہ کی معیّت میں بارگاہِ رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو اس کی گذشتہ زندگی کے تمام جرائم گویا اس کے خلاف گواہی دے رہے تھے اور بظاہر وہ سخت سزا کا مستحق تھا۔ مگر رحمتِ عالم صلی الله علیہ وسلم کی سیرت انتقام سے نہیں بلکہ عفو و درگزر سے عبارت تھی۔ آپؐ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا ، بلکہ اس کے اعزاز میں عام اعلانِ امان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مَنْ دَخَلَ دَارَ اَبِیْ سُفْيَانَ فَھُوَ اٰمِنٌ، وَمَنْ اَلْقَى السِّلَاحَ فَھُوَ اٰمِنٌ، وَمَنْ اَغْلَقَ بَابَهُ فَھُوَ اٰمِنٌ۔ (صحیح المسلم۔کتاب الجہاد والسیر، باب فتح مکّہ)
یعنی جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امن میں ہے، جو ہتھیار ڈال دے وہ امن میں ہے، اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ بھی امن میں ہے۔
اسلام سے قبل جنگی قیدیوں کے ساتھ نہایت وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ انہیں غلام بنا کر بازاروں میں بیچا جاتا، طویل عرصے تک بھوک اور پیاس کی اذیت میں رکھا جاتا، یا معمولی سی مصلحت پر قتل کر دیا جاتا تھا۔ انسانی وقار اور رحم و انصاف کا کوئی تصور موجود نہ تھا، اور قیدی مکمل طور پر فاتح کے رحم و کرم پر ہوتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ظالمانہ رواج کا بھی خاتمہ فرمایا اور جنگی قیدیوں کے لیے واضح اور باوقار حقوق متعیّن کیے۔ آپؐ نے ان کے ساتھ حسنِ سلوک، خوراک و لباس کی فراہمی، اور حتّیٰ کہ ان کی آزادی کے مختلف باعزت طریقے مقرر فرمائے۔ اس طرح قیدی کو محض شکست خوردہ دشمن کے بجائے ایک قابلِ احترام انسان کی حیثیت دی گئی، اور پہلی مرتبہ تاریخ میں جنگی قیدیوں کے حقوق ایک منظّم اخلاقی و قانونی اصول کے طور پر دنیا کے سامنے آئے۔
ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے بدری صحابہؓ کی سیرتِ مبارکہ پر ایک نہایت مفصل اور بصیرت افروز خطباتی سلسلہ ارشاد فرمایا۔ بعدازاں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں غزوات و سرایا کے موضوع پر بھی خطباتِ مبارکہ ارشاد فرمائے، جن میں دورانِ جنگ اسلامی تعلیمات کے اعلیٰ اصول مثلاً عدل و انصاف، رحم و شفقت، عہد کی پاسداری، انسانی جان و مال کا احترام اور اخلاقی پاکیزگی کو نہایت جامع، مدلل اور مؤثر انداز میں اُجاگر فرمایا۔
اسی تناظر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ “جنگِ بدر کے حوالے سے ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح آپؐ نے قیدیوں کو سہولتیں مہیا فرمائیں۔ قیدی خود کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق کہ قیدیوں سے بہتر سلوک کرو۔ صحابہؓ اپنی خوراک سے بہتر خوراک ہمیں دیا کرتے تھے۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب ان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ آیا تو بڑی آسان شرائط پر ان کو رِہا کر دیا۔ بعض کا فدیہ تو صرف اتنا تھا کہ جن کو لکھنا پڑھنا آتا ہے وہ مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔
یہ سب اس لیے تھا کہ آپؐ کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، یعنی آپؐ کے دل میں ان کے لیے کسی ذاتی دشمنی کے جذبات نہیں تھے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کو مٹانے والوں کے خلاف جنگ تھی۔ جو اللہ تعالیٰ کے دین کو مٹانا چاہتے تھے ان کے خلاف جنگ تھی۔بعض لوگ دشمن کی طرف سے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے شامل ہوتے تھے۔ ایسی بھی کئی مثالیں ہیں۔ نہیں چاہتے تھے کہ وہ مسلمانوں سے لڑیں لیکن مجبوری تھی۔ ان کو آپؐ نے بہت سی سہولتیں مہیا فرمائیں۔ بعد میں ان میں سے بہت سے مسلمان بھی ہو گئے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے اصول و قواعد مقرر فرمائے۔ معاہدوں کا بھی پاس کیا اور ان چیزوں پر انتہائی درجہ تک عمل بھی کیا۔ آجکل کی دنیا کی طرح نہیں کہ اصول و ضوابط تو بےشمار بنائے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں بلکہ دُہرے معیار ہیں۔ آپؐ کی زندگی تو قرآنِ کریم کے احکام کی عملی تفسیر تھی، جہاں عدل و انصاف اور امن کا قیام بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم ؍دسمبر۲۰۲۳ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۲۲؍دسمبر۲۰۲۳ء)
زمانۂ جاہلیت میں مقتولین کی نعشوں کا مُثلہ کرنا، ناک، کان یا دیگر اعضا کاٹ لینا انتقام اور فخر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ غزوۂ اُحد کے بعد جب حضرت حمزہؓ کی شہادت کا دلخراش واقعہ پیش آیا اور آپؐ نے اپنے محبوب چچا کی مسخ شدہ لاش دیکھی تو وہ منظر یقیناً جذبات کو ہلا دینے والا تھا۔ اس شدید غم اور اضطراب کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو کسی بھی قسم کے انتقامی عمل یا مُثلہ کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں صادر ہوا جب دل غم و غصے سے لبریز تھے، مگر اس کے باوجود اخلاقی حدود کو مقدم رکھا گیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جو یہ حقیقت پوری قوت سے واضح کرتا ہے کہ اسلام محض نظریہ نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی اخلاق کی بالادستی قائم کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ مبارک یہ درس دیتا ہے کہ جنگ کے سب سے سخت ترین حالات میں بھی عدل، رحم اور انسانی وقار کو ترک نہیں کیا جا سکتا، اور یہی وہ اعلیٰ ترین اخلاقی معیار ہے کہ جو اسلام نے انسانیت کے سامنے پیش کیا۔
حالاتِ جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی جان کے احترام اور عدل و انصاف کے بھی ایسے اعلیٰ نمونے قائم فرمائے کہ جو قیامت تک کے لیے راہنما ہیں۔ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک سریہ میں قبیلہ حرقہ کی طرف روانہ فرمایا۔ دورانِ جنگ جب ایک شخص نے گرفت میں آنے کے بعد لَآ اِلٰه َاِلَّا اللّٰهُ کہا، تو انصاری صحابی نے اسے چھوڑ دیا، لیکن آپؓ نے اسے قتل کر دیا۔ جب یہ واقعہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آیا تو آپؐ نے شدتِ ناراضگی کے ساتھ فرمایا! اَے اُسامہ! تم نے اسے اس کے بعد قتل کر دیا کہ اس نے لَآ اِلٰه َاِلَّا اللّٰهُ کہا؟ آپؓ نے اپنی صفائی میں عرض کیا کہ وہ محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا تھا، مگر رسول الله صلی الله علیہ وسلم بار بار یہی جملہ دُہراتے رہے، یہاں تک کہ حضرت اُسامہؓ شدتِ ندامت سے یہ تمنّا کرنے لگے کہ کاش ! وہ اس سے پہلے اسلام ہی نہ لائے ہوتے۔ (صحیح البخاری ۔کتاب المغازی؍ باب بعث النبیؐ اسامہ…)
بمطابق ایک اَور روایت آپؐ نے فرمایا: اَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتّٰى تَعْلَمَ اَقَالَھَا اَمْ لَا۔یعنی تم نے کیوں نہ اس کا دل چیرا تاکہ تم جان لیتے کہ اس نے یہ دل سے کہا تھا یا نہیں؟ (صحیح المسلم۔کتاب الایمان)
یہ واقعہ اسلامی قانونِ جنگ کے اس بنیادی اصول کو واضح کرتا ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی ظاہری ایمان کے اظہار اور انسانی جان کے احترام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کسی شخص کے باطن کے فیصلے کا اختیار انسانوں کو نہیں دیتا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہے، اور مسلمانوں کو عدل، احتیاط اور ظاہر کے مطابق طرزِ عمل اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جنگی حالات میں بھی رواداری اور انسانی جان کے احترام کا یہ معیار تاریخِ انسانی میں اپنی مثال آپ ہے، جس کی نظیر اسلامی تعلیمات کے علاوہ کہیں اور ملنا مشکل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل طرزِ عمل یہ تھا کہ اگر دورانِ جنگ کسی بے گناہ کا خون ناحق بہہ جاتا یا کسی مسلمان سے اجتہادی خطا سرزد ہو جاتی تو آپؐ نہ صرف اس ناحق اقدام سے براءت کا اظہار فرماتے بلکہ متاثرین کے حقوق کی فوری بحالی، مظلوموں کی دلجوئی، ان کے نقصانات کے ازالے اور جہاں شرعاً لازم ہوتا وہاں دیّت کی ادائیگی کا بھی کامل اہتمام فرماتے۔ اس سلسلے میں بنو جذیمہ کا واقعہ آپؐ کے اس عظیم الشّان اخلاقی شعار کی ایک روشن، مستند اور نمایاں مثال ہے۔
معاندینِ اسلام کی طرف سے یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اسلامی جنگوں کے دوران مالِ غنیمت کا حصول بھی ایک محرّکِ جنگ تھا، اور اس ضمن میں بالخصوص غزوۂ خیبر کا ذکر کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی دعویٰ ہے۔ اسی حوالے سے اگر اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ غزوۂ خیبر کے لیے مدینہ سے روانہ ہونے سے پہلے ہی آپؐ نے اعلان فرما دیا تھا کہ جو مالِ غنیمت کی اُمّید یا طمع لے کر شامل ہونا چاہے، وہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گا۔(سبل الھدیٰ والرشاد۔جِلد پنجم ، صفحہ۱۱۵؍ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اسی تناظر میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےحالاتِ جنگ میں اُسوۂ حسنہ کا ایک نہایت خوبصورت عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ “ وہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اموالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے جنگیں کیں۔ اور خاص طور پر خیبر کے حوالے سے بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہود کے اَموال پر ناجائز قابض ہونے کے لیے یہ ظلم کیے گئے تھے۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو عین جنگ کی حالت میں دشمن کی بکریوں کا ایک ریوڑ اور خیبر میں صحابہؓ کی بھوک سےجو حالت تھی کہ بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے ، کھانے کو کچھ نہیں تھا تو یہ بکریاں تو مفت کا مالِ غنیمت تھا، استعمال کر سکتے تھے لیکن نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی حالت میں بھی امانت کا حق ادا کرتے ہوئے بکریاں واپس کرنے کا ارشا د فرمایا۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ ۴؍ اپریل ۲۰۲۵ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۲۵؍اپریل۲۰۲۵ء)
اسی غزوہ کے ضمن میں اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں مالِ غنیمت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی نہایت واضح اور عملی تصویر اُبھر کر سامنے آتی ہے، جو اس حقیقت کو بخوبی عیّاں کرتی ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی خیانت یا ناجائز تصرف کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خیبر فتح کیا، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ میں آئے۔ آپؐ کے ہمراہ آپؐ کا ایک غلام تھا، جسے مِدْعَم کہا جاتا تھا، جسے بنو ضِبَاب میں سے کسی نے آپؐ کو بطور ہدیہ پیش کیا تھا۔ اس اثنا میں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اُتار رہا تھا، اس کی طرف ایک نامعلوم شخص کا تیر آیا اور وہ اس غلام کو جا لگا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔ لوگ کہنے لگے کہ اسے شہادت مبارک ہو۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں! اس ذات کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ چادر اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے، جو اس نے خیبر کے دن غنیمت کے مال سے لے لی تھی، جبکہ ابھی وہ تقسیم بھی نہیں ہوا تھا۔چنانچہ جب ایک شخص نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا کہ یہ تو بڑی خطرناک بات ہے اور اس چادر کے سبب وہ آگ میں جا رہا ہے، تو وہ ایک یا دو تسمے لے کر آیا اور عرض کیا کہ یہ وہ چیز ہے کہ جو مَیں نے بھی لے لی تھی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک یا دو تسمے بھی آگ میں لے جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔(صحیح البخاری کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خیبر)
یہ واقعہ نہ صرف عدل و دیانت کے اعلیٰ معیار کو واضح کرتا ہے، بلکہ اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ مالِ غنیمت کے معاملے میں معمولی سی بے احتیاطی بھی سخت بازپرس کا موجب بن سکتی ہے، اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کس قدر باریک بینی اور سخت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔
حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اَور نمایاں جوہر بھی فقید المثال ہے کہ جب بھی آپؐ کسی قوم کے پاس رات کو تشریف لاتے، تو جب تک صبح نہ ہو لیتی، تو ان پر حملہ نہ کرتے۔جبکہ آج کی جدید جنگوں میں بعض اوقات رات کی تاریکی میں اچانک حملوں اور فوری عسکری کارروائیوں کو حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جہاں انسانی جانوں اور اخلاقی حدود کے احترام سے زیادہ عسکری برتری اور سُرعت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اُسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ حتیٰ کہ حالتِ جنگ میں بھی اخلاقی اصول، اطمینان، اور انسانی جان کے احترام کو مقدّم رکھا جائے، اور کسی بھی ایسی کارروائی سے اجتناب کیا جائے جو بے خبری یا ناانصافی کا سبب بنے۔ یہی وہ امتیاز ہے جو اسلامی جنگی ضابطۂ اخلاقیات کو دنیا کے دیگر نظاموں سے ممتاز اور منفرد بناتا ہے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ یہی وہ شمائلِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ جنہوں نے سنگ دل سے سنگ دل دشمنوں کے دلوں کو مسخر کر لیا، نفرتوں کو محبتّوں میں بدل ڈالا، بدّترین مخالفوں کو بھی جاں نثاروں میں تبدیل کر دیا، اور فتح و ظفر کو تاریخِ انسانیت میں رحمت و شفقت، عفو و درگزر اور اخلاقِ کریمانہ کا ایسا ابدی استعارہ بنا دیا کہ جس کی مثال پیش کرنے سے تاریخِ عالَم قاصر ہے۔ یہی اسلام کا حقیقی اور تابندہ چہرہ ہے، یعنی ایک ایسا دین کہ جو قوت کو ظلم و جبر کے لیے نہیں ، بلکہ عدل و انصاف کے قیام کے لیے بروئے کار لاتا ہے۔ اور فتح کو انتقام، خونریزی اور غلبۂ نفس کا ذریعہ نہیں بلکہ رحمت، امن، عفو، مصالحت اور بنی نوعِ انسان کی عزت و سربلندی کا پیامبر بناتا ہے۔
مختلف غیر مسلم مؤرخین اور مستند مصنفین بھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیّبہ اور آپؐ کے غزوات و جنگی حکمتِ عملی کے بارے میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں قابلِ ذکر اعترافات کرتے ہیں، جو اس اَمر کی روشن دلیل ہیں کہ سیرتِ نبویؐ کی عظمت محض اہلِ ایمان تک ہی محدود نہیں بلکہ غیر مسلم اہلِ علم بھی اس کی صداقت، عدل اور اخلاقی برتری کو تسلیم کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ایک امریکی مصنفہ اور صحافیRuth Cranston (روتھ کرینسٹن) اپنی ۱۹۴۹؍ میں شائع ہونے والی ایک کتاب World Faith (ورلڈ فیتھ) میں رقمطراز ہوئیں کہ’’محمدِ عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کا آغاز نہیں کیا۔ ہر جنگ جو انہوں نے لڑی، مدافعانہ تھی۔ وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کےلیےاور ایسے اسلحے اور طریق سے لڑے جو اُس زمانے کا رواج تھا۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ چودہ کروڑ عیسائیوں میں سے،جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کر دیا ہو، کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں ، جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے، جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو تہ تیغ کیا ہو۔ عرب کے نبی کے ہاتھوں ساتویں صدی کے تاریکی کے دَور میں جب لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہوں، ہونے والی ان ہلاکتوں کا آج کی روشن بیسویں صدی کی ہلاکتوں سے مقابلہ کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اس بیان کی تو حاجت ہی نہیں جو قتل inquisitionاور صلیبی جنگوں کے زمانے میں ہوئے، جب عیسائی جنگجوؤں نے اس بات کو ریکارڈ کیا کہ وہ ان بےدینوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے درمیان ٹخنے ٹخنے خون میں پھر رہے تھے۔‘‘(World Faith by Ruth Cranston, Haper and Row Publishers, New York, 1949, page 155)
پس اَمرِ واقعہ یہ ہے کہ جب دنیا جنگ کو غلبہ اور تسلط کا ذریعہ سمجھتی تھی، قرآنِ کریم نے اسے ظلم کے ازالے اور عدل کے قیام کا ذریعہ قرار دیا۔ جب دنیا اپنے دشمن کو مٹانے کے درپے تھی، اسلام نے مظلوم کے تحفّظ اور انسانی جان کے احترام کا درس دیا۔ اور جب دنیا نے طاقت کو ہی قانون سمجھ لیا تھا، اسلام نے قانون کو طاقت پر غالب کر دیا۔ یہی وہ الٰہی تعلیم ہے جس نے میدانِ جنگ کو بھی عبادتِ الٰہی، خدمتِ انسانیت اور قیامِ عدل کا وسیلہ بنا دیا، اور یہی وہ نورِ ہدایت ہے جس کی روشنی آج بھی بارود سے بھری اس دنیا کو امن، انصاف اور سلامتی کی منزل دکھانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
الغرض آپؐ کی بعثت محض عقائد و عبادات کی اصلاح تک محدود نہ تھی بلکہ انسان کی اجتماعی زندگی، معاشرت، سیاست اور حتیٰ کہ جنگ جیسے نہایت حساس معاملات کو بھی الٰہی ہدایت کے تابع کرنا اس کا بنیادی مقصد تھا۔ آپؐ نے ابتدا ہی میں یہ حقیقت واضح فرما دی کہ اسلام جنگ کا خواہش مند نہیں بلکہ امن و سلامتی کا داعی ہے۔ جنگ کی اجازت بھی محض اس وقت دی گئی کہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے اور امن و مصالحت کے تمام راستے عملاً مسدود ہو جائیں۔
لہٰذایہی وہ آفاقی پیغام ہے کہ جو پندرہ صدیوں قبل صحرائے عرب سے طلوع ہوا، مگر آج بھی اپنی تازگی، صداقت اور انسان دوستی کے ساتھ دنیا کے زخمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ آج بھی جب دنیا کے اُفق پر جنگ کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں، جب طاقت کو حق اور اسلحے کو انصاف سمجھ لیا گیا ہے، اور جب معصوم بچے، خواتین اور بزرگ جنگوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، تو تاریخ کے شور و غوغا میں ایک آواز پہلے سے کہیں زیادہ واضح سنائی دیتی ہے اور وہ آواز حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازِ حقّ ہے، جو یہ اعلان کرتی ہے کہ جنگ میں بھی انسانیت زندہ رہنی چاہیے، فتح میں بھی رحم باقی رہنا چاہیے، اور طاقت کا حقیقی حُسن انتقام میں نہیں بلکہ عفو و درگزر میں مضمر ہے۔ یہی وہ پیغام ہے کہ جو ریگستانِ عرب سے اُٹھ کر دنیا کے ضمیر کو بیدار کر گیا، اور یہی وہ چراغ ہے کہ جو آج بھی انسانیت کو امن، عدل اور محبت کی روشن منزلوں کی طرف راہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ الله تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ آمین ثمّ آمین!
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍوَ بَارِكْ وَسَلِّمْ اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اسلام۔ حقوقِ انسانی کا علمبردار




