نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم جولائی ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکر مہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم رانا عطا اللہ خان صاحب پٹواری مرحوم ( پٹنی۔یوکے)کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم رانا عطا اللہ خان صاحب پٹواری مرحوم (پٹنی۔یوکے)
۲۶؍جون کو ۸۵ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا تعلق خوشاب سےتھا۔ آپ کے میاں کو ایک لمبا عرصہ اسیر راہ مولیٰ رہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ کی فیملی ۲۰۰۱ء میں یو کے شفٹ ہوئی۔ مرحومہ پابند صوم و صلوٰۃ،غریب پرور، بڑی نیک اورمخلص خاتون تھیں۔ خوشاب میں ضلعی اور مرکزی مہمانوں کی ضیافت کا انتظام اکیلے بڑی بشاشت کےساتھ کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم رانا محمد ظفر اللہ صاحب مرحوم (مربی سلسلہ) دوران ڈیوٹی ہارٹ اٹیک سے وفات پاگئے تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک نواسے مکرم فاتح الدین احمد وقاص صاحب مربی سلسلہ ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم خواجہ مظفر احمد صاحب (بِلّو)ابن مکرم خواجہ عبدالرحمٰن صاحب (سیالکوٹ)
۸؍مئی ۲۰۲۶ء کو۷۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم خواجہ عبد الرحمٰن صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت پائی۔ اس کے بعد آپ نے اور آپ کے بھائیوں نے بیعت کی۔ آپ کے سب سے بڑے بھائی مکرم خواجہ سر فراز احمد صاحب کو بطور وکیل اور دوسرے بھائی مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب کو امیر ضلع سیالکوٹ کے طور پر خدمت کا موقع ملا۔ مرحوم ۱۹۸۳ء میں مولانا اسلم قریشی کیس میں اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ آپ نے سیکر ٹری صنعت و تجارت کے علاوہ امور عامہ اور قضاء کے شعبوں میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔ خلافت کے ساتھ انتہائی محبت کا تعلق تھا۔ ہر جماعتی تحریک میں بھر پور حصہ لینے والے تھے۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی ہر ایک کے کام آنا تھی۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑوں کو احسن طریق سے حل کروایا کرتے تھے۔آپ کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ میر اجب صدرلجنہ ضلع کی نامزدگی کا خط آیا تو میرا حوصلہ بڑھایا اورہرمعاملے میں میرا بھر پورساتھ دیا اور دورہ پر دعا کے ساتھ رخصت کیا کرتے تھے۔آپ نے میری والدہ کی بہت اچھی خدمت کی۔ آپ بہترین بھائی، بہترین باپ، بہترین خاوند تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی، دو بیٹے اورپوتے پوتیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرمہ نسیم رشید باجوہ صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری رشید محمود کاہلوں صاحب (لاہور)
۲۹؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۸۵سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند ایک نیک، مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی بھی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے شامل ہیں۔
۳۔مکرم فرمان احمد ناصر صاحب (دارالعلوم شرقی ربوہ)
۵؍مئی ۲۰۲۶ء کو مختصر علالت کے بعد بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے ایک خواب کی بنا پر ۱۹۷۴ء میں سولہ سال کی عمر میں بیعت کرکے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ آپ اپنے والدین کی اکلوتی نرینہ اولاد اور اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔ باوجو د سخت مخالفت کے ہمیشہ احمدیت پر وفا کے ساتھ قائم رہے۔ آپ کی والدہ کواپنے احمدی بیٹے سے ملنے کی وجہ سے طلاق ہو گئی تو پھروہ آپ کے پاس ہی کراچی میں رہیں۔ آپ کے والد جنہوں نے احمدی ہونے کی وجہ سے اپنی اہلیہ کو مارا اور گھر سے نکال دیا تھا۔انہیں بھی آپ آخری عمر میں بیماری کے دوران گاؤں سے اپنے پاس کراچی لے گئے اور وفات تک ان کی بھر پور خدمت کرتے رہے۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، چندوں میں باقاعدہ، نظام جماعت کے ساتھ پختہ تعلق رکھنے والےایک بااخلاق اور اچھے انسان تھے۔ آپ کی بڑی خواہش تھی کہ کبھی لاکھ روپے چندہ دے سکیں۔ چنانچہ والد کی وفات پر جب ایک لاکھ روپے ان کے حصہ میں آئے تو آپ نے وہ ساری رقم تحریک جدید میں ادا کر دی۔ خلافت کے ساتھ گہری عقیدت کا تعلق تھا۔ آپ نے کراچی میں سیکرٹری اصلاح وارشاد کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کی اہلیہ مکرمہ امۃ المتین صاحبہ لجنہ اماءاللہ ربوہ میں انچارج شعبہ وقف عارضی کے طور پر خدمت کی توفیق پارہی ہیں۔آپ کا بیٹا اللہ کے فضل سے حافظ قرآن ہے۔ آپ مکرم ناصر احمد کاہلوں صاحب (مربی سلسلہ لائبیریا) کے بہنوئی اور مکرم امین الرحمٰن صاحب …اور اسی طرح مکرم نعیم احمد باجوہ صاحب (مربی سلسلہ برکینافاسو) کے خالو تھے۔
۴۔مکرم منور احمد آصف صاحب ابن مکرم محمد دین صاحب مرحوم (جرمنی)
۲۸؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۷۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا حضرت اللہ دتہ صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آئی۔تقسیم ہند کے بعد آپ کا خاندان ربوہ میں آکر آباد ہونے والے ابتدائی خاندانوں میں سے تھا۔ ۱۹۷۷ء میں جرمنی آئے اور پھر جرمنی میں آنے والے اکثر احباب کی ہر طرح سے راہنمائی اور مدد کیا کرتے تھے۔مرحوم کا نظام جماعت کے ساتھ بہت پختہ تعلق تھا۔ ہر پروگرام میں بر وقت شامل ہوتے اور بڑی باقاعدگی سے اپنے چندہ جات ادا کیا کرتے تھے۔ آپ نے اپنے حلقے میں زعیم انصار اللہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ کچھ عرصہ تک اپنا گھر نماز سنٹر کے طور پر پیش کئے رکھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا، دو بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
۵۔مکرم سلمان احمد صاحب ابن مکرم چودھری اسلم منصور صاحب (شعبہ HR بیت السبوح۔ جرمنی)
۶؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۳۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ واقف زندگی تھے اور جماعت جرمنی کے مرکزی دفتر HR میں خدمت انجام دے رہے تھے۔مرحوم کا خلافت اور نظام جماعت کے ساتھ بڑا گہرا اور مضبوط تعلق تھا۔ بڑے فعال اور اطاعت گزار نوجوان تھے۔ جماعتی اورتنظیمی پروگراموں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے اور چندوں اوردیگر مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ عہدیداران کا بہت احترام کرتے اورہر ایک سے بڑی محبت سے پیش آتے تھے۔ ایک دفعہ جب قائد مجلس نے تنظیمی اجلاس میں خدام کو باقاعدگی سے شامل ہونے کی طرف توجہ دلائی تو آپ نے باقاعدہ کھڑے ہو کر عہد کرتے ہوئے کہا کہ میں ا ن شاء اللہ اس ہدایت پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان کے اس عمل کا وہاں بیٹھے دوسرے خدام پر بھی بڑا اچھا اثر ہوا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں والدین، دو بھائی، ایک بہن، اہلیہ،ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے والدین اور دو بھائی آسٹریلیا میں مقیم ہیں جبکہ بہن کینیڈا میں رہتی ہے۔
۶۔مکرمہ محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ نور الدین صاحب مرحوم (اسلام آباد۔ پاکستان)
۲۵؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۹۰ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکر م خواص خان صاحب آف پشاور کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ بہت مخلص، نیک،دعا گو خاتون تھیں اور غرباء کی امداد میں ہمیشہ پیش پیش رہتی تھیں۔ آپ مکرم ڈاکٹر حامد اللہ خان صاحب (آف یوکے) کی خالہ تھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




