نمازجنازہ حاضر وغائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ 22؍فروری 2016ء بروز سوموار قبل از نماز ظہر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکر مکرم عبداللطیف صاحب (آف بالہم ۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
مکرم عبد اللطیف صاحب (آف بالہم ۔یوکے)
آپ 18فروری کو90سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق ہوشیار پور سے ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔ جماعت کے ساتھ بڑا اخلاص ووفا کا تعلق تھا اوراپنی اولاد کو بھی جماعت سے مضبوط تعلق کی تلقین کیا کرتے تھے۔آپ 1990ء میں جرمنی اور بعد ازاں 2008ء میں یوکے آگئے تھے۔ 1984ء میں آپ پر فالج کا حملہ ہوا ۔ بیماری اور معذوری کا لمبا عرصہ بڑی ہمت اور صبرکے ساتھ گزارا۔ آپ مکرم مولانا چوہدری محمد شریف صاحب مرحوم (مبلغ بلادعربیہ) کے بھانجے تھے۔
اس موقع پر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ غائب بھی ادا کی گئی:
(1)مکرم وی اے محمد ماسٹر صاحب (آف جماعت احمدیہ کاکاناڈ۔صوبہ کیرالہ۔انڈیا)
آپ27دسمبر 2015ء کو 75سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم 1985ئمیں بیعت کر کے جماعت احمد یہ میں داخل ہوئے تھے۔ مرحوم عرصہ 30سال تک جماعت احمد یہ کاکاناڈ کے سیکرٹری مال کی حیثیت سے خدمت بجالاتے رہے۔ اس کے علاوہ سیکرٹری جائیداد ، سیکرٹری وصایا ، زعیم مجلس انصار اللہ ، اور قاضی ضلع ارناکلم کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم اپنوں اور غیروںمیں بے لوث خدمت کی وجہ سے مقبول تھے۔ جماعت احمدیہ کاکاناڈ میں بچوں کو قرآن کریم سکھانے کا کام بھی بخوبی انجام دیتے رہے۔ نماز باجماعت کے بہت پابند تھے اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ خلافت سے بے انتہا محبت اور وفا کا تعلق تھا۔ مرحوم کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ مرحوم موصی تھے۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم محمد نجیب خان صاحب قادیان میں بطور نائب ناظر دعوت الی اللہ جنوبی ہندخدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
(2)مکرم خالد سیف اللہ خانصاحب (ابن مکرم چوہدری صادق علی صاحب ۔ گائوں بہل پورضلع گجرات)
22دسمبر 2015ء کو وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نہایت ملنسار ،اچھے اخلاق کے مالک ، ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے والے نیک انسان تھے۔ جماعت بہل پور کے صدر تھے۔ اپنے چندہ جات کی بروقت ادائیگی کر تے۔ اپنی ساری زندگی ہر خاص و عام کو تبلیغ کی۔ خلیفۂ وقت کے احکامات کی خود بھی اطاعت کرتے اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔
(3)مکرم دائود احمد نعیم صاحب( ابن مکرم مولوی محمد احمد نعیم صاحب ۔ راولپنڈی)
5دسمبر 2015ء کو 59سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کورنگی کراچی میں قائد اور راولپنڈی میں نائب قائد خدام الاحمد یہ ، سیکرٹری وقف نو حلقہ پشاور روڈ اوراپنے زون کے نگران رہے۔ اس کے علاوہ چار سال تک زعیم ا علیٰ انصار اللہ کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق پائی ۔ وفات سے قبل سیکر ٹری دعوت الیٰ اللہ ضلع راولپنڈی کے طور پر خدمت بجالار ہے تھے۔ آپ ہمیشہ بڑے احسن طریق سے تمام جماعتی ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے۔ بڑے مخلص، باوفا اور نیک انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔
(4)مکرم محمد اسحاق گل صاحب( ابن مکرم چوہدری محمد علی صاحب ۔ مانگا ضلع سیالکوٹ )
13دسمبر 2015ء کو 80سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ 2005میں اسیر راہ مولیٰ رہے ۔ ہر سال وقف عارضی کرتے۔خاندان میں اکیلے احمدی تھے اوربڑے مخلص، نیک انسان تھے۔
(5) مکرم مبارک احمد صاحب ( کھوکھر غربی ضلع گجرات)
17دسمبر 2015ء کو 96 سال کی عمر میں وفا ت گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نماز باجماعت کے پابند ، مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ،مخلص اور باوفا انسان تھے۔
(6)مکرم ڈاکٹر طاہر احمد مرزا صاحب (میڈیکل آفیسر طاہرہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ)
25جنوری 2016ء کو بعارضہ کینسر 45سال کی عمر میں وفات پاگئے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو مجلس نصرت جہاں سکیم کے تحت لائبیریا میں 4سال تک خدمت کی توفیق ملی۔ وہاں سے حضور انور کی اجازت سے پاکستان واپس آگئے اور بقیہ عرصہ طاہر ہارٹ میں خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم نیک اور مخلص انسان تھے۔
(7)مکرم مولوی اللہ دتہ صاحب( معلم وقف جدید ضلع کوٹلی۔ آزاد کشمیر )
16نومبر 2015ء کو 78سال کی عمر میں وفات پاگئے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نہایت بردبار اور نرم طبیعت کے مالک تھے۔ عہد یداران اور واقفین سے بہت پیار کا سلوک کرتے تھے۔ خلافت سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔جنوری 1962ئمیں انہوں نے وقف کیا تھا ۔ بھابڑہ ،گوئی،میر پور اور ہزارہ میں خدمت سلسلہ بجالاتے رہے ۔
(8)مکرمہ امتہ الکریم صاحبہ( اہلیہ مکرم بشارت احمد سندھی صاحب ۔ناروے)
8نومبر 2015ء کووفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا چوہدری مولا بخش صاحب اور نانا چوہدری شہاب الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔کرسچن ساند (ناروے )میں صدر لجنہ، سیکرٹری تعلیم و تربیت کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ آپ سلسلہ سے محبت کرنے والی، مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی، نیک سیرت اور مخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔
(9)مکرمہ فہمیدہ بیگم صاحبہ( اہلیہ مکرم غلام سرور خان صاحب شہید آف ٹوپی ۔صوابی )
2فروری 2016ء کو 83سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ اپنے خاندان میں اکیلی احمدی تھیں۔ مرحومہ کے میاں کو 1974ء کے فسادات میں ان کے آبائی علاقہ ٹوپی ضلع صوابی میں شہید کردیا گیا تھا۔ آپ نے میاں کی شہادت کے وقت اور بعد میں بھی بڑی بہادری سے حالات کا مقابلہ کیا اور بڑے حوصلے اور صبر کے ساتھ وقت گذارا۔ خلافت کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا۔ آپ بہت خوش اخلاق، ہر ایک کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آنے والی، نیک اورمخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں تین بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔
(10)مکرمہ بشیر النساء صاحبہ (اڑیسہ۔ انڈیا)
15فروری 2016ء کو 70سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو لمبا عرصہ صدر لجنہ کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند، ہر ایک سے پیار اور محبت سے پیش آنے والی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اوردو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔
(11)مکرم مرزا فضل الرحمن صاحب( ابن مکرم حضرت مرزا برکت علی صاحب۔ کینیڈا)
15جنوری 2016ء کو 92سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم مرزا برکت علی صاحب صحابی حضرت مسیح موعود ؑکے بیٹے تھے۔ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا ۔ پاکستان ائیر فورس میں ملازمت کے دوران کھلے عام تبلیغ کرتے رہے۔ 1958ء میں جب ٹریننگ کے لئے امریکہ گئے تو وہاں بھی تبلیغ کا شوق غالب رہا۔ ریٹائر منٹ کے بعد کراچی میں ایک لمبا عرصہ تک اپنے حلقہ کے صدر کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ 1974ء کے حالات میں بڑی ہمت اور جوانمردی سے ہر مخالفت کا مقابلہ کیا۔ کینیڈا جانے کے بعدوہاں بھی اپنی جماعت کے صدر کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے۔ تہجدگزار اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کرتے اور چندوں اور مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔آپ غریب پرور، خلافت کے شیدائی ، بہت نیک اور مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ 2بیٹیاں اور 6بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔
(12) مکرمہ صغریٰ بشیر صاحبہ( اہلیہ مکرم بشیر احمد صاحب اٹھوال۔ربوہ )
2فروری 2016ء کو وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ بہت نیک ، مخلص اورباوفا خاتون تھیں۔ آپ نے اپنی ساری اولا د کی بہت اچھی تربیت کی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم کامران قیصر صاحب مربی سلسلہ کی حیثیت سے وکالت تصنیف ربوہ میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




