نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۸؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ منصورہ شاہدہ صاحبہ اہلیہ مکرم حکیم محمد امین صاحب مرحوم (Farnborough۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ منصورہ شاہدہ صاحبہ اہلیہ مکرم حکیم محمد امین صاحب مرحوم (Farnborough۔یوکے)

۴؍جولائی۲۰۲۶ء کو ۷۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا تعلق بدوملہی ضلع نارووال سے تھا۔ ۲۰۱۵ء میں یو کے آئیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، صابرہ و شاکرہ، ملنسار، مہمان نواز،غریب پرور اور عمدہ اخلاق کی مالک ایک نیک اورمخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرمہ عذرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ محمد اکرم صاحب (فیصل آباد)

۸؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۸۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، اعلیٰ اخلاق کی مالک،ایک نیک اور سادہ مزاج خاتون تھیں۔ قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت کرتیں اور کچھ سورتیں زبانی حفظ کر رکھی تھیں۔ مرحومہ نے کافی تعداد میں بچوں بچیوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ مرحومہ چندہ جات کی ادائیگی میں با قاعدہ تھیں اور مالی قربانی میں دل کھول کر حصہ لیتی تھیں۔ خاوند کی وفات کے بعد بیوگی کا لمباعرصہ بہت حوصلے سے گزارا اور اس دوران ایک بیٹے کی وفات کا صدمہ بھی بڑے صبر و ہمت سے برداشت کیا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں چار بیٹے شامل ہیں۔

۲۔مکرم چودھری منیر احمد اختر صاحب (جرمنی) ابن مکرم چودھری غلام محمد صاحب مرحوم (واقف زندگی )

۲۲؍مئی ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت حافظ احمد دین صاحب رضی اللہ عنہ (آف چک سکندر ضلع گجرات) کے پڑ پوتے اور حضرت حافظ فضل الدین صاحب رضی اللہ عنہ (آف کھاریاں) کے پڑنواسے تھے۔ مرحوم نے ابتدائی تعلیم سندھ سے حاصل کی اور تعلیم الاسلام کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی۔۱۹۷۹ء میں جرمنی کے شہر کولون آئے۔ وہاں جماعت کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔ آپ نے لوکل، ریجنل اور نیشنل سطح پر مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو افریقہ اور پاکستان میں مساجد،سکولوں کی تعمیر اورپانی کے نلکے لگوانے اور دیگر فلاحی کاموں کی بھی توفیق ملی۔ یوگوسلاویہ کے مسلمانوں اور جرمنی کے سیلاب زدگان کی بھی دل کھول کر مدد کرتے رہے۔ آپ نے اس پر بعض حکومتی اداروں سے تمغے اور میڈلز بھی حاصل کیے۔مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، ملنسار، غریب پرور، مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے، بڑے ہر دلعزیز نیک، متوکّل علی اللہ اور مخلص انسان تھے۔خلافت کے ساتھ گہرا فدائیت کا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے، چار بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اورنواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے جرمنی میں ریجنل امیر اور ایک بیٹی ریجنل صدر لجنہ اماء اللہ کے طورپر خدمت کررہی ہیں۔ آپ مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب (مشنری انچارج بینن) کے بڑے بھائی اور مکرم اخلاق احمد انجم صاحب (مربی سلسلہ وکالت تبشیر یوکے) کی ماموں زاد بہن کے میاں تھے۔

۳۔مکرمہ امۃ القدوس بخاری صاحبہ اہلیہ مکرم سید نعیم ذکی بخاری صاحب مرحوم (سسکاٹون کینیڈا)

۱۳؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ۸۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ سکول ٹیچر تھیں۔ فضل عمر گر لز سکول ربوہ میں پڑھاتی رہیں۔ مرحومہ نے بطور جنرل سیکر ٹری لجنہ اماءاللہ ربوہ خدمت کی توفیق پائی۔ بعد ازاں لاہور میں بھی دینی اورتعلیمی خدمت انجام دی اور پھر ہجرت کرکے کینیڈا چلی گئیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار، صدقہ و خیرات کرنے والی،مہمان نواز، صلہ رحمی اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشارایک نیک اور با اخلاق خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔

۴۔مکرمہ توقیر خانم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد اختر خان صاحب (گراس گیراؤ۔جرمنی)

۸؍مئی۲۰۲۶ء کو ۵۹سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا نظام جماعت سے بہت عمدہ تعلق تھا۔ آپ اپنے چندہ جات باقاعدگی سے ادا کر تیں اور جب تک صحت نے اجازت دی جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، ہمدرد، ملنسار، مہمان نواز، بڑی خوش اخلاق اور صابرہ وشاکرہ خاتون تھیں۔ بچوں کی دینی تربیت کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ آپ کے میاں کو اسیر راہ مولیٰ ہونے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اورتین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم ادیب احمد خان صاحب جامعہ احمدیہ جرمنی میں زیر تعلیم ہیں اور بیٹیاں لجنہ اماءاللہ میں خدمت کی توفیق پار ہی ہیں۔

۵۔مکرم بشارت احمد صاحب ابن مکرم بہاول بخش صاحب (Göttingen۔جرمنی)

۸؍مئی ۲۰۲۶ء کو۶۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا نظام جماعت سے بڑا گہرا اور مثالی تعلق تھا۔ خلافت سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔ جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے اور جماعتی امور میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ مالی قربانی کے لحاظ سے بھی صف اول میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے لمبا عرصہ مقامی جماعت میں سیکرٹری مال کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم بڑے خوش اخلاق، ملنسار ہمدرد اور مخلص انسان تھے۔ عاجزی، انکساری، خدمت خلق آپ کی نمایاں خوبیاں تھیں۔ آپ کو احمدی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ایک جھوٹے مقدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا اور آٹھ سال اسیر راہ مولیٰ رہے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بچے شامل ہیں۔

۶۔مکرم رمیض احمد صاحب ابن مکرم منیر احمد صاحب (جرمنی)

۱۲؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۲۷سال کی عمر میں ایک قاتلانہ حملے میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو اپنے احمدی ہونے پر بڑا فخر تھا۔ آپ بڑے خوش مزاج اور نرم دل انسان تھے۔ ہر ملنے والے کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتے تھے۔ ہمیشہ لوگوں میں اچھائی تلاش کرتے اور سب کے ساتھ خلوص، عزت اور توجہ سے پیش آتے تھے۔ آپ کیریئر کے حوالے سے دوسروں کو بڑے دانشمندانہ مشورے دیتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ، والدین، ایک بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔ آپ مکرم سعید احمد صاحب (مربی سلسلہ۔ریسیپشن اسلام آباد۔یوکے) کی بھانجی کے میاں اورمکرم فطین انجم صاحب ( مربی سلسلہ مجلس خدام الاحمدیہ یوکے) کے نسبتی بھائی تھے۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button